ثقافت اور سیاحت

وادئی الائی۔ شمال کی ان دیکھی جنت

  2020-09-01 07:15:05
  2316

 

وادئ الائی اس دلکش دوشیزہ کی مانند ہے جس کا حسن چند خوش نصیب مہمانوں یا گھر والوں کے کسی نے نہیں دیکھا ۔

 نیلم کے نیچے اترتے بادل، بلتستان کی جھیلیں،ناران کا موسم، دیوسائی کی چراگاہیں، کمرات کا جنگل اور لیپہ کے تہہ در تہہ کھیت اگر کسی ایک ہی خطہ زمین پہ نازل کر دئے جائیں تو بٹگرام کی وادئ الائی بنتی ہے۔

 

شاہراہ قراقرم پہ رقصاں کتنے ہی سیاح تھا کوٹ کے پل سے گزرتے اس سے بے خبر رہتے ہیں کے دریائے اباسین کے اس پار پہاڑ کے ساتھ بل کھاتی سڑک کتنی ہی جنت نظیر چراگاہوں، پری زاد جھیلوں، گرتے جھرنوں اور دیو قامت آبشاروں کو جاتی ہے۔

 

 

الائی کا نام شاید آپ نے پہلی بار سنا ہو مگر یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ کوئی چھوٹا سا گاؤں نہیں بلکہ ضلع بٹگرام کی تحصیل ہے اور یہاں تک آپ تھاکوٹ سے کسی بھی گاڑی، موٹرسائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ پہ با آسانی پہنچ سکتے ہیں۔ تھاکوٹ سے الائی تک ٹوٹل سفر ایک سے دو گھنٹے کا ہے۔یہاں کے بازار سے ضروریات زندگی کی ہر چیز مل جاتی ہے، پیراڈائز گیسٹ ہاؤس یہاں کا سب سے اچھا ہوٹل اور عبید ملنگ بہترین ٹورسٹ گائیڈ ہے۔ عبید ملنگ الائی ویلی کا چلتا پھرتا انسائیکلو پیڈیا ہے جو آپ کو ٹریک کرواتے ہوئے اس وادی کی صدیوں پرانی تاریخ، حدود اربع، جھیلوں کی اونچائی ، پہاڑی چوٹیوں کی ہیبت، میڈوز کی تعداد اور ٹریکس کی کہانیاں سناتا ہے۔ان کے علاوہ بھی یہاں مختلف ہوٹلز اور ٹورسٹ گائیڈز ہیں جوٹریکنگ، کیمپنگ اور کلائمبنگ میں آپ کو مکمل مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

 

الائی شہر سے قریب ترین مقام گلئی میدان ہے جہاں جانے کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ سے لے کر روڈ اور پیدل ٹریک موجود ہے، موجودہ سیاسی نمائندگان اور وادئ الائی کی عوام گلئی میدان میں ٹوورازم کے فروغ کے لئے بہت اچھے معیار کے کیمپنگ پوڈز اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں، کیمپنگ پوڈز کا کام کافی حد تک پورا ہو چکا ہے جع عنقریب سیاحوں کے لئے کھول دیے جائیں گے۔ دریں اثنا مقامی لوگوں نے گلئی میں بہترین ہوٹلز اور ٹینٹ ویلیج بنائے ہیں جہاں با آسانی رات گزاری جا سکتی ہے۔ گلئی میدان میں گزاری گئی ایک رات کنکریٹ کے کمرے میں گزاری گئی ہزاروں راتوں پہ افضل ہے۔ صبح اٹھتے ہی جب سبزے سے ڈھکے گلئی میدان اور ارد گرد کی چوٹیوں پہ سورج کی پہلی کرنیں پڑتی ہیں تو ایک خوابناک منظر ترتیب پاتا ہے۔

 

گلئی میدان بنیادی طور پہ ایک میڈوز ہے جہاں سے آگے کئی وادیوں کی طرف پیدل راستے جاتے ہیں جن میں سب سے منفرد چوڑ میڈوز ہے جہاں جانے کے کئے جیپ ٹریک اگلے سال تک مکمل ہو جائے گا۔

 

دوسری اہم جگہ شمشیر ویلی ہے جس کا راستہ بھی گلئی کی طرح گنتڑ سے ہی جاتا ہے جو مختلف آبشاروں اور کس خوڑ کے میدان سے ہوتا ہوا وادی الائی کی سب سے خوبصورت جھیل فیری لیک (خپیرو ٹانڈہ) تک جاتا ہے۔ اس جھیل تک جانے کا ایک او نسبتاً شارٹ راستہ چوڑ میڈوز والی سائیڈ سے بھی ہے لیکن اس کا ٹریک ذرا مشکل ہے۔ فیری لیک کا ٹریک اس قدر خواب ناک ہے جیسے ابھی قدرت کی جانب سے کن فیکون کہا گیا ہو، اور یہ مناظر ترتیب دئے جا رہے ہوں۔ بادل ہر وقت نیچے ہوتے ہیں جو مناظر کو نو بنو تبدیل کرتے رہتے ہیں۔اس کے کچھ  گلیشیر پورا سال نہیں پگھلتے۔ بہار آتے ہی سبزے پہ اتنے رنگوں کے پھول کھل آتے ہیں کے تخیل بھی حیران رہ جاتا ہے۔

 

فیری لیک سے متصل وادی کی سب سے بڑی چوٹی سکائی سر کی کشش ایک حیرت کدہ تعمیر کرتی ہے۔ پہلی دفعہ اس جھیل کو دیکھنے والا مہبوت ہو کے رہ جاتا ہے کے قدرت اپنے آوراہ گردوں کو کیسے کیسے مناظر سے نوازتی ہے۔ یعنی سکائی سر ہت اور اس کے دامن میں رنگ ہا رنگ سے گھری فیری لیک ہے۔اس چوٹی کو ابھی بہت کم لوگ سر پائے ہیں جس کی خاص وجہ اس کی پتھریلی چڑھائیاں ہیں۔ روائتی سیاحوں کی نظروں سے اوجھل رہنے کی وجہ سے یہ جھیل ابھی تک کچرے دان بننے سے بھی بچی ہوئی ہے اور سطح سمندر سے چار ہزار میٹر بلند ہونے کی وجہ سے یہاں کا موسم بھی ہمیشہ دلفریب رہتا ہے۔

 

فیری لیک جغرافیائی اعتبار سے بھی اس وادی کی اہم جگہ پہ واقع ہے۔ اس کے ایک سائیڈ پہ کوہستان پالس کا علاقہ غازیان، دوسری سائیڈ چوڑ میڈوز اور سامنے کاغان اور شاران کہ طرف راستے اترتے ہیں۔ یوں آپ ستاروں سے آگے واقع دوسرے جہان دیکھنے کے لئے بھی راستے بنا سکتے ہیں۔

یہ وادی جغرافیائی اعتبار سے جس قدر خوبصورت ہے یہاں کے باشندے اس سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت اور مہمان نواز واقع ہوئے ہیں۔ آپ کسی بھی مقامی باشندے سے بات کریں وہ سب سے پہلے گھر چلنے اور ساتھ کھانے کی دعوت دے گا۔ کسی اور قسم کی مدد چاہئے ہوگی تو اس کے لئے ہر طرح کی کوشش کرے گا۔ یہاں کے لوگ بطور ٹورسٹ نہیں بلکہ بطور مہمان سیاحوں سے برتاؤ کرتے ہیں جس کی مثال شاید ہی کسی اور سیاحتی علاقے میں مل سکے۔ مقامی لوگوں میں مذہبی عنصر دیگر علاقوں کی نسبت کچھ زیادہ ہے لیکن وہ عنصر اب ایک خوبصورت اخلاقی روایت میں ڈھل چکا ہے کیونکہ پوری وادی کے لوگ ایک ہی مذہبی خیال سے وابستہ ہے اس لئے یہاں امن و امان کا کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے۔ 

 

میرا ذاتی خیال ہے کہ جس قدر یہ وادی خوبصورت ہے بہت زیادہ عرصہ سیاحوں کی نظر سے اوجھل نہیں رہے گی۔ عین ممکن ہے مستقبل میں روایتی سیاح اس کا وہی حال کر دیں جو اب ناران اور مری وغیرہ کا ہو چکا ہے لیکن ابھی خالص فطرت پسندوں کے لئے وادئ الائی میں بہت کچھ ہے۔ آپ یہاں ضرور آئیں مگر سیاحتی روایات کا پاس رکھیں، ایکو ٹورزم کو ترجیح دیں، مقامی ثقافت کا احترام کریں اور کچرا پھیلانے سے ہر ممکن گریز کریں۔

 

 آخر میں خاکسار اپنا اور عبید ملنگ ٹورسٹ گائیڈ کا فون نمبر شئیر کرنا چاہے گا تاکہ اگر آپ کو اس وادی کی میڈوز، جھیلوں، آبشاروں یا ٹریکس کے بارے میں معلومات چاہئے ہوں تو وہ با آسانی مہیا ہو سکیں۔

 

عبید ملنگ 03469639496

احسن رسول 03461114499

 

(شمالی علاقہ جات کیلئے اسلام آباد ٹورآپریٹر کمپنیوں کی خدمات لینا زیادہ موزوں پڑتا ہے- خاکسار کو حافظ محمدبھٹی صاحب کی بھٹی ٹریولززیادہ بہتر معلوم ہوئ- قیام وطعام کے لحاظ سے بھی اور سفری خدمات کے لحاظ سے بھی- افادہ عامہ کیلئے جناب بھٹی صاحب کا فون نمبر بھی لکھ دیتا ہوں- سلیم جاوید)-

Hafiz Muhammad Bhatti( MD Bhatti Travels)- 03469729141

 


رانا احسن رسول کی دیگر تحریریں