ثقافت اور سیاحت

کیا یہ کوئ گیم ہے؟ایڈونچرہے؟ ریسرچ ہے؟ یاجہاد ہے؟-

  2021-02-23 06:05:01
  4603

قارئین سے پیشگی معذرت کہ اس مضمون کی وجہ  سے بہت لوگوں کی آزردگئ خاطر کا امکان ہے تاہم، خاکسار نے اس بات کو اسی موقع پرواضح کرنا ہی ضروری سمجھا ہے- آپ سے بس ایک تعاون کی درخواست ہے- عین ممکن ہے کہ معاملہ کو ایک رخ سے دیکھا گیا ہواوراسکا کوئ مثبت پہلو بھی موجود ہو جومضمون نگار کی آنکھ سے اوجھل رہ گیا ہو- قارئین، اس بارے رہبری فرمائیں تومجھے اپنا مضمون واپس لینے میں اور معذرت کرنے میں بخیل نہیں پائیں گے-

 

دیکھئے، قدرت نے زمین میں صحرا، پہاڑ، جنگل اور سمندرپیدافرمائے- آسمان میں ستارے وسیارے پیدا فرمائے اور قرآن میں انسان کی حوصلہ افزائ فرمائ کہ کائنات کوتسخیرکرو- تسخیرمطلب یہ کہ زمین میں موجود، خیر اور شرکا پتہ لگاؤاورانسانیت کوفیض یاب کرو- 

 

کسی ملک میں سب سے گھنے جنگل، سب سے گہرے سمندر، سب سے اونچے پہاڑ یا سب سے وسیع صحرا کا پایا جانا، اس ملک کا کمال نہیں ہوتا- ایسی جگہیں، سب باہمت انسانوں کی مشترکہ وارثت ہوتی ہیں تاکہ انکو کھوجا جائے- 

 

آمدم برسرمطلب، سمندرکی اتھاہ گہرائیوں میں کیا ہے؟ اس اسرارکو حل کرنے کئی ایڈونچرکئے گئے- فلپائن کے قریب، سمندرکا سب سے گہرا پوائینٹ "چیلنجرڈیپ" ہے( 11ہزار میٹر)جو1875ء میں دریافت ہوا تھا اور پہلی بار انسان 1960ء میں یہاں سمندرکی تہہ تک پہنچا تھا۔ وہاں چند ہی ایسی معلومات ملیں جو انسانیت کیلئے مفید تھیں- بہرحال، جدیدترین آبدوزوں سے سمندروں کی کھوج جاری ہے اور جاری رہنی چاہئے-

 

مگرفرض کریں کسی فلپائنی گل خان کوایک شوق ہے کہ وہ اکیلا ہی غوطہ لگا کر، سمندرکی تہہ کو ہاتھ لگا آئے گا- سوال یہ ہے کہ اسکے اس فعل کوہم کیا نام دیں گے؟- 

 

انسان گیم کھیلتا ہے تاکہ کچھ جسمانی یا ذہنی تفریح کا بندوبست ہوسکے- اس میں ضررکا اندیشہ بھی ہوسکتا ہے مگرگیم چندگھنٹوں کیلئے ہواکرتی ہے-غیرمعینہ مدت کیلئے، بغیرآبدوزکے سمندرکی تہہ کو ہاتھ لگا آنا، کیا "گیم" بولی جاتی ہے؟- 

 

انسان ایڈونچر کرتا ہے کسی خوش امیدی کی بنیاد پر- وسیع صحرا میں چلا جاتا ہے کہ شاید ہیرے جواہرات برآمد ہوں- یہ ایک بار ہی ہوتا ہے- جب معلوم ہوگیا کہ یہاں سوائے خواری کے کچھ حاصل نہیں توباربار صحراکوکھوجنا، کیا "ایڈونچر" کہلاتا ہے؟-

 

انسان ریسرچ کرتا ہے علم حاصل کرنے- وہ خوفناک جنگلوں میں چلاجاتا ہے تاکہ انوکھی اور مفید جڑی بوٹیاں حاصل کرے- یہ بھی ایک منطقہ میں ایک ہی بار ہوا کرتا ہے- البتہ ایسا ہوسکتا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں کوئ زیادہ اہل علم ہو تو اسی منطقہ کی دوبارہ کھوج کرے- مگرایک ہی جیسا بندہ، باربار جان جوکھوں میں ڈال کر، خوفناک جنگل کو پارکرنے کا شغل اختیار کرے تو کیا اسکو"ریسرچ"کہا جاتا ہے؟ -

 

انسان جہاد کرتا ہے تاکہ ظلم کو ختم کرے اورامن ومعیشت کوعام انسانیت کی دسترس میں لائے- اسکے لئے وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالتا ہے- پہاڑوں میں بیٹھ گوریلا وار کرتا ہےاور فاقہ وسردی برداشت کرتا ہے- اگرایسا کوئ ہدف سامنے نہ ہو تو خواہ مخواہ، جان جوکھوں میں ڈالنے کو کیا"جہاد" کہا جاتا ہے؟- 

 

واپس اپنے فپائینی گل خان غوطہ خورکی طرف آتے ہیں- 

 

عین سمندری طغیانی کے دنوں میں اسکو شوق چڑھا کہ ڈبکی لگاؤں گا- اس مہم کووہ نام دیتا ہے کہ "سمندرکو سر" کرنے نکلا ہوں- (سمندر"سر" کرنا یعنی چہ؟- دوسرے الفاظ میں سمندر کو فتح کرنے نکلا ہوں- جنگ عظیم ہورہی ہے کیا؟)-  یہ بھی کہا جاتا ہے "قدرت کو شکست دینے کا عزم لئے نکلا "- (قدرت یعنی چہ؟ - دوسرے الفاظ میں کیا خدا کوچیلنج دینے نکلا ہے؟) –

 

خیر، گل خان صاحب بغیرکسی آبدوزکے( اور بغیرکسی مقصد کے) عین طوفان کے وقت، سمندر میں کود پڑا اورکچھ وقت بعد ہی سمندر اسکو بہا لے گیا- یہ بندہ توخیرجان سے گیا ہی گیا مگرحکومت فلپائین کی دانش کی داددیجئے کہ اسکو قومی ہیروبنادیا- میڈیا کو اسکی مدح میں لگادیا گیا اور فوج، اسکی تلاش میں لگادی گئی- گلوکاراسکے لئے نوحے پڑھنے لگ گئے اورسیاسی لیڈر، اسکوخراج تحسین پیش کرنے لگ گئے- (گویا پوری نوجوان نسل کوگل خان بنانے کا پروگرام شروع کردیا گیا)-

 

سنا ہے خلیفہ ہارون رشیدکے دربار میں ایک فنکارپیش کیا گیا جوزمین میں ایک سوئ گاڑدیتا اور دورسے ایک دوسری سوئ کے ساتھ اسکا نشانہ لیتا جوکہ پہلی سوئ کے ناکے سے پار ہوجاتی تھی- خلیفہ نے وزیرسے کہا کہ اسکوایک سودینار انعام دو، اسکے فن کی قدردانی میں اوراسکوایک سوجوتے لگاؤ کہ اپنی زندگی، ایسے فضول شوق میں برباد کردی- 

 

ابتک کی گفتگوسے آپ اصل بات سمجھ گئے ہونگے مگرمیراخیال ہے کہ اب کھل کراپنا مدعا بیان کرنا چاہیئے- 

 

محمدعلی سدپارہ، موسم سرما میں، کےٹوکی پہاڑی چوٹی سرکرنے کی مہم کے دوران جان سے ہاتھ دھوبیٹھے-اللہ تعالی، محمدعلی سدپارہ کوجنت میں جگہ عطا فرمائے- ایسے حوصلہ مند لوگ بہت کم دستیاب ہوتے ہیں- کےٹوسرکرنے والی "مہم جو" ٹیموں کے قلی کے طورپراپنا کیئریرشروع کیا اور خودکو لیڈرکے منصب تک لے آیا- مگرسوال یہ ہے کہ ایک پہاڑکی چوٹی تک پیدل پہنچنا، وہ بھی سردیوں کے موسم میں، کس اعلی یا ادنی مقصد کے حصول کی خاطر ضروری ہے؟- کیا یہ ورزشی گیم ہے؟ کیا یہ قیمتی خرانہ پانے کیلئے ایڈونچر ہے؟- کیا یہ انسانیت کے مفید علوم کی ترقی کیلئے کوئ ریسرچ پروگرام ہے؟- کیا یہ انسانیت کو امن وآشتی مہیا کرنے کیلئے جہاد ہے؟-میں نے جنرل جاویدناصرصاحب کی سرگذشت پڑھی ہے جب وہ کپیٹن تھے( اورتبلیغی جماعت سے دورکا بھی تعلق نہیں تھا) توجی ایچ کیو میں ایک ضروری انٹرویودینے کیلئے، دودن مسلسل پیدل چلتے ہوئے، گلگت سے پہاڑوں کو کراس کرکے راولپنڈی پہنچے تھے-مگراس مہم جوئ کا توبہرحال ایک مقصد تھا- 

 

نوجوان خون میں کچھ کرگذرنے کی تڑپ ہواکرتی ہے اوروہ اپنا نام بنانے کوبیتاب ہوتے ہیں- نوجوان، میڈیا سے تاثرلیاکرتے ہیں- آخرکیوں اس قوم کے نوجوانوں کو ایک بے فائدہ خطرناک مہم جوئ کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟- بڑے دھڑلے سے کہا جاتا ہے کہ کے-ٹوکی چوٹی پرپاکستان کا جھنڈا لہرانا، ایک بڑے فخرکی بات ہے- 

 

میرے عزیزو، ملک کا افتخار، کہیں جھنڈا گاڑنے سے نہیں ہوتا چاہے آپ مریخ پرجھنڈا گاڑ آؤ- ملک کا فخر یہ ہے کہ دنیا کے لوگ ایک دوسرے کو یہ بتائیں کہ" روزگار چاہتے ہو، امن وآشتی چاہتے ہو، مساوات وعزت چاہتے ہو تو پاکستان کی شہریت اختیار کرو"- دنیا کا سب سے بڑا اعزاز، نوبل پرایئز کو کہا جاتا ہے- بنگلہ دیش اور یمن کے شہری نوبل پرائزلے چکے ہیں- کیا اس سے ان ملکوں کو"قابل فخر" ملک جانا جاتا ہے؟- کیا آپ وہاں جاکررہنا پسند کریں گے؟- 

 

یہ خاکسار، وزیراعظم صاحب کا شکرگذار ہے کہ حکومت پاکستان نے محمدعلی سدپارہ کی خاطر، اسکے گاؤں میں ایک معیاری تعلیمی ادارہ قائم کرنے کااعلان کیا ہے- کاش یہ تعلیمی ادارہ، وہاں چالیس سال پہلے قائم کیا گیا ہوتا تو محمدعلی سدپارہ کو پیٹ پالنے کیلئے"پورٹر" کا کام نہ کرنا پڑتا اور اس جیسا پہاڑوں کا عاشق آدمی، آج عالمی طورپرجانا مانا "جیالوجسٹ" ہوتا- 

 

عین اس موقع پرجبکہ جناب سدپارہ کا غم ابھی تازہ ہے، اس قسم کا مضمون مجھے نہیں لکھنا چاہیئے تھا مگرمجھے یہ احساس ہوا کہ عین یہی موقع ہی مناسب ہے اپنی بات پہنچانے کیلئے-میں جناب سدپارہ مرحوم کے درجات عالیہ کیلئے دعاگوہوں اور ایکبار پھرانکے چاہنے والوں سے دلی معذرت کا خواستگار ہوں- مگرجس انداز میں ، کوہ پیمائ کو( اور وہ بھی سردی کے موسم میں) گلیمرائزکیا جارہا ہے، میں اسکو نوجوان نسل کیلئے مضرسمجھتا ہوں-میں سمجھتا ہوں کہ اس قوم کے اہل دانش کا اس موقع پرخاموش رہنا، اس لایعنی کام کو ہلہ شیری دینے کے برابر ہے-

 

تاہم ، اگر کوئ قاری، مجھے اس کام کی افادیت سمجھا سکیں توممنون ہونگا اوراپنی رائے پرضرورنظرثانی کروں گا- والسلام  

 

مصنف کا تعارف:

جناب سلیم جاوید صاحب ایک پروفشنل انجنیئر ہیں جو بسلسلہ روزگارعرصہ درازسے سعودی عرب میں مقیم ہیں- خود کو قرآن کا طالبعلم قراردیتے ہیں اور" اسلامک سیکولرزم" کے داعی ہیں-چارعدد کتب کے مصنف ہیں- اپنا یو-ٹیوب چینل"Pak Seculars" کے نام سے چلاتے ہیں- فیس بک پربھی ایکٹیورہتے ہیں-

 


سلیم جاوید کی دیگر تحریریں