اردو ادب اور سماجیات

مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کو منہ توڑ جواب دینے احباب کی مدد درکار ہے-

  2021-03-06 12:58:07
  4517

 

فیس بک کھولی توہرطرف ، عورت کی مظلومیت بارے جلالی پوسٹوں کا طوفان نظر آیا-

 

معلوم ہوا کہ 8 مارچ کو بطور"عورت مارچ" منایا جاتا ہے اوریہ سب آہ فغاں، اسی سلسلے کی کڑی ہے-

 

اپنی بے خبری پردوگونہ افسوس ہوا کیونکہ بطور مسلم سیکولرز، ہم خود کو بدرجہ اولی، فیمنسٹ باور کراتے ہیں( اس لئے بھی کہ کمزورعورت کے حق میں آواز بلند کرنا، قرآن کی سنت ہے)-

 

 موجودہ پدرسری معاشرے میں( جس میں لیڈی ڈیانا کے بےوفا شوہرپرنس چارلس اور ہیلری کلنٹن کے بے وفا شوہرصدر کلنٹن کا ملک بھی برابرشمار ہے) خواتین کے ایشوز اورانکے حل کی خاطر ایک زوردارمضمون لکھنے کیلئے خاکسار نے اپنے لبرل فیمنسٹ دوستوں کی والز کا چکرلگایا تاکہ جلدی میں کچھ سنجیدہ مواد مل میسر ہوسکے-

مگریہ کیا؟

 

وہاں تو بجائے عورت کے ایشوزکا حل پیش کرنےکے، صرف اسلام اور مولوی کو ہی رگیدا جارہا ہے- یعنی 14 فروری کی طرح،  8 مارچ کا اصل موضوع بھی "اسلام کے مظالم"  ٹھہرے؟-

 

 بہرحال، میرے ایک بہت عزیزدوست نے اس موقع پرمولانا اشرف علی تھانوی صاحب کی ایک تحریرکا اقتباس لگایا ہے– مولانا کی یہ تحریرچونکہ ہمارے جیسے فیمنسٹ لوگوں پربہت بھاری پڑی ہے تو اب یہ خاکسار، اس کا منہ توڑ جواب لکھنا چاہتا ہے- بس اس سلسلے میں اپنے لبرل، سیکولر اور فمینسٹ دوستوں کی مدد درکار ہے- 

 

پہلے تھانوی صاحب کا متذکرہ پیراگراف ملاحظہ کرلیجئے- عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 

"یہ خوب یاد رکھو کہ مردوں کو خدا نے شیر بنایا ہے۔ دباؤ اور زبردستی سے ہرگز زیر نہیں ہو سکتے۔ ان کے زیر کرنے کی بہت آسان ترکیب خوشامد اور تابعداری ہے۔۔۔۔۔۔ لکھنئو میں ایک بیوی کے میاں بہت بد چلن ہیں، دن رات باہر ہی بازاری عورتوں کے پاس رہا کرتے تھے، گھر میں بالکل نہیں آتے اور طرہ یہ کہ وہ بازاری فرمائشیں کرتی ہیں کہ آج پلاؤ پکے آج فلانی چیز پکے اور وہ بیچاری دم نہیں مارتی جو کچھ میاں کہلا بھیجتے ہیں، روز مرہ برابر پکا کر کھانا باہر بھیج دیتی ہے اور کبھی کچھ سانس نہیں لیتی ہے۔ دیکھو ساری خلقت اس بیوی کو کیسی واہ واہ کرتی ہے اور خدا کے یہاں اس کو جو رتبہ ملے گا وہ الگ رہا اور جس دن میاں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور بد چلنی چھوڑ دی، اسی دن سے اس بیوی کے غلام ہی ہو جائیں گے"۔

 

اس پیراگراف کو پڑھ کر، ہم نے بھی مولانا کو خوب کوسا مگرجب ٹھنڈے دل سے ذرا تجزیہ کیا توجو صورتحال سامنے آئ ہے وہ آپ سے شیئرکرلیتا ہوں-

 

ایک صدی قبل کے ایک اوسط مسلمان گھرانے کا تصور کیجئے – اس لوفر مرد کو چونکہ اپنی بیوی پسند نہیں ہے تووہ چٹکیوں میں اسے طلاق دے کراللے تللے کرنے کیلئے آزاد ہوسکتا ہے-طلاق دینے پراس مرد کو کوئ مالی یا جانی تاوان بھی نہیں ہے(صرف ایک سماجی اخلاقی پریشر نے اسے روک رکھا ہے)- یہ عورت ( جو اس وقت ایک بدتر زندگی گذاررہی ہے ) اسے اگرطلاق مل جائے تو بدتر سے بدترین زندگی کی طرف ہی جائے گی کہ یہ ہندوستان ہے- 

 

ہندومت میں ، اسی طرح کے جانور نما خاوند سے بھی عورت کو طلاق لینے کا حق نہیں ہے بلکہ اسکے مرنے پر، اسکی بیوی کواسکے ساتھ جل کرمرنا ضروری ہے- اسلام میں اگرچہ ایسا کچھ نہیں ہے مگر اکثریتی ہندوکلچر کا سائیڈ ایفیکٹ مسلمان گھرانوں پربھی پڑا ہے اور مسلمان گھرانوں میں بھی مطلقہ کے سائے سے کنواری بچیوں کو بچایا جاتا ہے-

 

 بیوہ اور مطلقہ کی زندگی جب آج بھی خواروزبوں ہے تو ایک صدی قبل کا حال مت پوچھئے- 

 

بہرحال، تھانوی صاحب کے مشورے کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے اپنے دوستوں سے مدد کا خواہاں ہوں- مجھے دوسوالوں کا جواب عطا کیجئے گا تاکہ میرا مقدمہ مضبوط ہوسکے-

 

1- میرا پہلا سوال: 

 

مولانا تھانوی کے زمانے کو گولی ماریئے- آجکل بھی اپکے محلے میں ایسی مجبورو مظلوم خواتین مل جائیں گی- آپ ایسی خاتون کیلئے کونسا حل تجویزکرتے ہیں جسکی بنا پراس عورت کی آئندہ زندگی بہترین گذرسکے؟- کیا وہ طلاق لے لے؟- کیا پولیس میں جاکرکہے کہ میرا خاوند مجھ سے محبت نہیں کرتا؟ - کیا غنڈوں کی مدد سے خاوند کی پٹائ کروائے؟ جیسا کہ پچھلے دنوں ایک پراپرٹی آئیکون کی بیٹی نے کیا؟ -(اس بارسوخ عورت نے بھی مگراپنےمرد کو کچھ نہیں بولا بلکہ اپنی ہی ہم جنس کو ہی پٹوایا)- بہرحال،  بتایئے کہ وہ عورت  کیا کرے؟-

 

 میرا دوسراسوال: 

 

2- میرا یہ مضمون پڑھنے والا ہر مرد( چاہےعمر کے جس حصے میں بھی ہے)، اپنے دل پرہاتھ رکھ کربتایئے کہ اگر ایسی مظلوم عورت، اپنے خاوند سے طلاق لے لے تو کیا وہ اس عورت سے شادی کرنے کو تیار ہے؟-

 

ان دوسوالات کا جواب مل جائے تو میں تھانوی صاحب کے دئے گئے مشورے کا منہ توڑ جواب دے سکوں گا- اگر محسوس نہ فرمائیں تو اپنے گھر کی سمجھدار خواتین سے میرے مضمون پررائے مانگ لیجئے –کیونکہ یہ عورت کا ایشو ہے تو عورت ہی اسکا بہتر حل بتاسکتی ہے؟- 

 

یاد رکھئے کہ پرسوں ہونے والے "عورت مارچ"  کے دن تک  ہم اگر مولانا تھانوی صاحب کو لاجواب کرسکیں تو بڑا کام ہوجائے گا- 

 

آخری بات اپنے فیمنسٹ دوستوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہم مسلم سیکولرز، مولوی صاحبان کے مخالف ضرور ہیں مگراپنے تعصب کی خاطر میرٹ اور انصاف کا قتل نہیں کرسکتے-

 

ہمارے خیال میں مولانا تھانوی کا مشورہ، ہندوستان کے کلچرکے تناظر میں میرٹ پرپورا اترتا ہے( ایک صدی قبل بھی اور آج بھی)- تاہم، اگر ہمارے لبرل دوست، مذکورہ بالا کیس میں کوئ زیادہ اچھا مشورہ عنایت کرسکیں تو ہمیں خوشی ہوگی – ایک صدی کی تعلیمی ترقی نے انسان کا آئ کیو-لیول بہت بلند کردیا ہے- جواب کا انتظار رہے گا- امید ہے مختصر اور ٹو-دی پوایئنٹ متبادل مشورہ عطا ہوگا- بہت شکریہ 

 

مصنف کا تعارف:

جناب سلیم جاوید صاحب ایک پروفشنل انجنیئر ہیں جو بسلسلہ روزگارعرصہ درازسے سعودی عرب میں مقیم ہیں- خود کو قرآن کا طالبعلم قراردیتے ہیں اور" اسلامک سیکولرزم" کے داعی ہیں-چارعدد کتب کے مصنف ہیں- اپنا یو-ٹیوب چینل"Pak Seculars" کے نام سے چلاتے ہیں- فیس بک پربھی ایکٹیورہتے ہیں-

 

 


سلیم جاوید کی دیگر تحریریں