سیاسیات حاضرہ

مدارس میں جنسی استحصال کی چار بنیادی وجوہات

  2021-06-22 09:47:55
  1648

 

کیتھولک چرچ کو ایک ہزار سال لگے یہ تسلیم کرنے میں کہ چرچ اور اس سے ملحقہ اداروں بالخصوص تعلیمی اداروں میں جنسی استحصال اور زیادتی ایک شرمناک اور کربناک حقیقت ہے اور یہ بھی کہ چرچ کے ذمہ داران ہمیشہ سے اس پر پردہ ڈالتے چلے آئے ہیں تاکہ مسیحیت پر حرف نہ آئے۔ سن 2001 میں پوپ جان پال دوئم کا اس حوالے سے اقرار، سن 2009 میں پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کی معافی اور سن 2018 میں پوپ فرانسس کی عوامی شرمندگی اور پھر ان کے اظہار معذرت سے کلیسائی اصلاحات کا ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ چرچ کو یہ اقرار بھی کرنا پڑا کہ ایسے واقعات کے ثبوت گیارہوں صدی سے ذمہ داران کلیسا کے پاس ہیں لیکن مسیحیت کے دفاع کے لیے ان کو چھپائے رکھنا ہی بہتر سمجھا گیا پر اب چرچ اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ یہ حکمت عملی نہ صرف غلط تھی بلکہ یہ ان تمام لوگوں کے ساتھ بھی شدید ظلم تھا جو اس ایک ہزار سال میں پادریوں، ننز اور کلیسا کے عہدیداران کے ہاتھوں جنسی استحصال کا شکار ہوئے۔ جنسی استحصال کے ایسے ہی قصے ہندو مندروں اور بدھ خانقاہوں کے حوالے سے بھی منظر عام پر آئے۔ تحقیق کا در کھلا تو معلوم ہوا کہ چھوٹے بڑے اکثر مذاہب میں یہ کہانی عام ہے ، سب اس سے واقف ہیں اور سب اس سے چشم پوشی برتتے ہیں۔ 

2014 میں تھیکلا شنائڈر نے پانچ اور محققین کے ساتھ مل کر جرمنی میں مذہبی اداروں میں ہونے والے جنسی استحصال پر ایک مقالہ تحریر کیا جس کا نتیجہ یہ تھا کہ مذہبی اداروں کی ساخت اور معاشرے کی بچوں کے حقوق کے حوالے سے کم علمی گو اہم عوامل ہیں لیکن سب سے بڑا مسئلہ مذہب کا وہ بنیادی رویہ یا تعلیم ہے جو جنسی حوالے سے معروف اور قابل قبول سمجھی جاتی ہے۔ یہ ہمارے یہاں موجود اس نظریے سے بالکل متضاد ہے جہاں مذہبی تعلیم کے بجائے فرد کو قصوروار سمجھا جاتا ہے اور ایسے کسی بھی واقعے کو محض ایک انفرادی فعل قرار دے کر گردن ریت میں دے کر "سب اچھا ہے" کا صدیوں پرانا راگ پھر سے چھیڑ دیا جاتا ہے۔

اسلام میں بوجوہ پاپائیت یا مرکزیت کا تصور اس نہج تک نہیں پہنچ سکا جہاں اسے کیتھولک چرچ سے تشبیہہ دی جا سکے۔ مرکزی خلافت بھی چند ایک ادوار کے علاوہ سیاسی اور انتظامی حوالے سے ہی مصروف کار رہی تاہم خلافت کا ایک قبیلے، نسبی عصبیت اور پھر خاندان سے خاص ہونے کے نتیجے میں طاقت کے اور مراکز کا ظہور ناگزیر ہو گیا تھا۔ مختلف ادوار میں طاقت کے ان مراکز نے مختلف روپ دھارے۔ حدیث سے لے کر فقہہ اور فقہہ سے لے کر تصوف تک متوازی تشریحات اور گروہی تشکیلات کی تہہ میں ایک ہی مقصد کارفرما تھا اور وہ تھا بے پایاں قوت اور اختیار کا حصول۔ اس کا تجزیہ کریں تو بڑی آسانی سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ اس تمام قصے میں ہمارے پیش نظر پاپائیت کا ہی ماڈل تھا۔ اس میں کبھی پوپ کی جگہ کسی امام کو بٹھا دیا گیا، کبھی کسی شیخ الحدیث کو، کبھی کسی پیر کامل کو تو کبھی کسی قطب دوراں کو۔ ساتھ ساتھ تقدس کا لبادہ اوڑھا کر ان تحریکوں سے جڑے ہر شخص کو انبیاء کا وارث، معصوم عن الخطا اور علم کا سمندر بنا دیا گیا۔ اساطیر کا ایک لامتناہی سلسلہ ہر اس شخصیت سے جوڑ دیا گیا جس کے کندھوں پر رکھ کر فتوے اور حجت کی بندوق چلانا مقصود تھا۔ 

رفتہ رفتہ یہ تحریکیں اپنی اپنی جگہ طاقت کے متوازی مراکز میں تبدیل ہو گئیں اور چرچ ہی کی طرح ان کا سیاسی نفوذ اور انتظامی اثرورسوخ اس حوالے تک پہنچ گیا کہ ایک مسلم مملکت کے بنیادی خدوخال بھی انہی کی مرضی سے تشکیل پاتے چلے گئے۔ سنی شیعہ خلیج سے لے کر خوارج، معتزلہ اور باطنیہ کی قدیم بحث، فاطمیوں اور دعوت اسماعیلیہ سے لے کر سعودی عرب کی وہابی فکر، ایران کی ولایت فقیہہ اور پاکستان کی قرارداد مقاصد تک یہ سب ایک ہی بنیادی فکر کا تسلسل رہا ہے جس کا واحد مقصد تقدس کے پردے میں لامساوی طاقت کا حصول تھا۔ 

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ فقہہ سے جڑے مدارس کا باقاعدہ اور بڑے پیمانے پر ظہور گیارہوں صدی میں ہوا۔ یہ وہی وقت ہے جب کیتھولک چرچ کی شان وشوکت اپنے عروج پر پہنچی اور اس کا اثر اور نفوذ تمام دنیا کو نظر آنا شروع ہو گیا۔ چرچ سے جڑے تعلیمی اداروں کا جال مربوط ہوا اور چرچ ہی کے حالیہ اعتراف کے مطابق جنسی استحصال کی تاریخ بھی اسی دور سے شروع ہوئی۔ اس حسین اتفاق پر مزید لب کشائی شاید بہت سوں پر بہت گراں گزرے گی اس لیے فی الحال اس پر بحث موخر کر کے ہم وطن عزیز میں لوٹتے ہیں اور مدارس کی تاریخ پر تھوڑی سی نظر ڈالتے ہیں، ساتھ ساتھ اس تعمیر میں مضمر خرابی کو تھوڑا سا پرکھ لیتے ہیں۔ 

سن 1947 میں مغربی پاکستان کی کل آبادی تین کروڑ تیس لاکھ کے لگ بھگ تھی جس کے لیے 189 مدارس موجود تھے۔ یاد رہے کہ ہمارے اکابرین کے مطابق ہماری مذہبی وابستگی میں پچھلے ستر سال میں محض زوال کی کیفیت رہی ہے۔ یہ بات ہم مان لیتے ہیں پر اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مذہبی وفور سے لبریز ایک بہتر اسلامی معاشرے میں ہر پونے دو لاکھ لوگوں کے لیے مذہبی تعلیم کا ایک مدرسہ کافی تھا۔ یاد رکھیے کہ عمومی تعلیم ، صنعت یا زراعت کے حوالے سے ہمیں ایسا کوئ زوال مسلسل کا دعوی کہیں نہیں ملا تو اس حوالے سے موازنہ بیکار ہو گا۔ 

اب آجائیے سن 2021 میں جہاں ہماری آبادی 623 فی صد اضافے کی ساتھ 21 کروڑ کو پہنچ چکی ہے۔ اگر مدارس کی تعداد میں بھی ایسا ہی اضافہ ہوتا تو آج یہ تعداد کوئی بارہ سو مدارس تک محدود ہونی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہے ، مدارس کی تعداد میں 16,000 فی صد، جی سولہ ہزار فی صد، اضافے کے بعد یہ تعداد آج تیس ہزار سے زائد ہے۔ ایک طرف اضافہ چھ گنا ہے اور دوسری طرف ایک سو ساٹھ گنا۔ اور اس کے باوجود ہمارے مذہبی اکابرین ہی کے مطابق ہماری اخلاقی حالت، جو کہ دین سے دوری کی وجہ سے ہے، روز بہ روز پست سے پست تر ہو رہی ہے۔ اب یا تو اعدادوشمار غلط ہیں، ان کا دعوی غلط ہے، اخلاقی گراوٹ مذہب کی بڑھتی ہوئی تعلیم کے سبب ہے یا پھر شماریاتی لحاظ سے اخلاقی زبوں حالی یا اعلی اخلاقی قدروں دونوں کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ مشہور ادارے پیو نے کچھ سال پہلے ایک سروے کیا تھا جس کے مطابق اخلاقی لحاظ سے پست ترین ممالک وہ نکلے جہاں مذہب روزمرہ کے فیصلوں میں نوے فی صد سے زیادہ دخیل تھا اور اخلاقی لحاظ سے بہترین ممالک وہ تھے جہاں مکمل سیکولرمعاشرے اور سیکولر حکومت تھی اور انفرادی سطح پر آبادی کی اکثریت مذہب سے لاتعلق تھی۔ یعنی کہ قارورہ وہ بتا رہا ہے جو ہمارے مقدمے سے الٹ ہے۔ 

اس کے جواب میں بن بیاہی ماؤں، ناجائز بچوں، ریپ کے اعداد و شمار اور جنسی آزادی والے گھسے پٹے اعتراضات رکھنے سے پہلے یہ سوچ لیجیے کہ آپ کی کم عمر بیٹی یا بیٹا رات کو اوسلو کی ایک سڑک پر زیادہ محفوظ ہو گا یا کراچی میں۔ جواب مل جائے گا، اگر آپ آنکھیں بند اور ذہن استعمال نہ کرنے پر بضد نہ ہوئے۔ ان حوالوں سے ہماری غلط فہمیوں یا خوش فہمیوں کا دائرہ بہت وسیع ہے لیکن اس پر بات پھر کبھی۔ 

مدارس کی اس روزافزوں ترقی کا جائزہ لیں تو پتہ لگتا ہے کہ اس میں سب سے زیادہ تیزی مرد مومن کے دور میں آئی جب سرکاری سرپرستی میں دیوبندی مکتبہ فکر کو فروغ دینا مقصود تھا۔ اس حوالے سے لازمی زکات فنڈ کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ غربت کے خاتمے کے لیے اکٹھی کی گئی رقم کا بیشتر حصہ پنجاب اور صوبہ سرحد میں سینکڑوں مدارس کے قیام میں خرچ کر دیا گیا۔ 1980 کی دہائی میں سعودی عرب اور ایران کی پراکسی وار کے نتیجے میں بھی دونوں مخالف فقہی گروہوں کے ان گنت مدارس ملک کے طول وعرض میں غیر ملکی امداد سے وجود میں آئے۔ انہی مدارس کے ساتھ جڑے لوگ اس کے بعد ایک پر تشدد مسلکی جنگ میں الجھے رہے جس کے شعلے اب بھی سرد نہیں پڑے۔ سن 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے بعد اگلے اٹھارہ سال میں یعنی ضیاء صاحب کے مارشل لاء کے اختتام تک مدارس کی تعداد 900 سے بڑھ کر پچیس ہزار تک جا پہنچی۔ اب یار لوگ اس عظیم الشان ترقی کو سیاسی پس منظر سے الگ دیکھنے پر بضد رہیں تو یہ ان کی مرضی ہے۔ افغان "جہاد" اور کشمیر کی حریت پسندی کا ایندھن کہاں سے فراہم کیا جاتا رہا، کون نہیں جانتا۔ 

اسلام کے بارے میں یہ بات بھی بار بار سننے کو ملتی ہے کہ یہ دین فطرت ہے ،اس میں خدا اور بندے کے بیچ کوئی پردہ نہیں ہے اور اسے سمجھنا انتہائی آسان اور اس پر عمل کرنا اس سے بھی آسان ہے۔ اس کے مقابلے میں اگر ہندوازم یا مسیحیت کو دیکھیں تو وہاں بنیادی دعوی ہی یہ ہے کہ مذہبی متن کو سمجھنا اور اس کی کی تشریح کرنا تو دور، اس کو درست پڑھنا بھی محض ایک خاص طبقے کا استحقاق ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس کے سب کو پیر چھونے ہوں گے، یہی وہ طبقہ ہے جو جنت کے سرٹیفیکیٹ تقسیم کرے گا اور یہی وہ طبقہ ہے جس کے بتائے گئے اصول حتمی تسلیم کیے جائیں گے۔ ہم انہی موضوعات کو لے کر جہاں ان مذاہب کو ہدف تنقید بناتے ہیں وہاں یہ بھول جاتے ہیں کہ فقہی فکر، علم الحدیث، صرف، نحو ، مذہبی منطق اور تجوید جیسے "علوم" کو مذہب کی بنیاد بنا کر ہم نے بعینیہہ یہی روش اختیار کر لی ہے۔ مذہب کو تخصیص کا پیرایہ پہنانے یعنی اسے ایک سپیشلائزیشں بنانے کا لامحالہ نتیجہ یہ نکلا کہ اس سپیشلائزیشن کی تعلیم کے لیے مدارس کا ایک خصوصی نظام وجود میں آ گیا جس کی کوئی مثال اُس دور میں نہیں ملتی جسے ہم اسلام کا سنہری دور گردانتے ہیں۔ 

مذہب کو اگر تخصیصی مان لیا جائے تو ہر ایک سے اس کا تقاضا ویسے ہی فضول ہو جاتا ہے۔ طب سپیشلائزیشن ہے اس لیے یہ مطالبہ صرف ڈاکٹر سے ہو گا کہ وہ مرض کی درست تشخیص کرنے کے قابل ہو، دوائیوں کا علم رکھتا ہو، انجکشن گھونپنے کا ہنر جانتا ہو یا نشتر سے انسانی جسم کھول کر ایسی قطع برید کرنے کے قابل ہو جس سے صحت مقصود ہو۔ اگر مذہب بھی ایسی ہی سپیشلائزیشن ہے، تو پھر عام شخص کو اس کے اخلاقی تقاضوں پر پرکھنا، اس سے درست عبادت کی توقع رکھنا، اس سے مذہبی قانون کی پاسداری کا خیال سب کچھ باطل ہو جاتا ہے۔ اگر فقہہ، حدیث، صرف، نحو، قواعد زبان اور عربی تمرین کے بغیر مذہب سمجھنا ممکن ہی نہیں تو پھر عام آدمی سے اس اسوہ پر چلنے کی توقع جو کہ ایک مثالی مسلمان کے لیے طے کر دیا گیا ہے، ایسی ہی ہے جیسا کہ مچھلی سے درخت پر چڑھنے کی امید۔ 

دل چسپ امر البتہ یہ بھی ہے کہ برصغیر میں خاص طور پر پچھلے سو ڈیڑھ سو سال میں سب سے غیر اختلافی متن یعنی قرآن کی بھی نئی نئی تشریحات قائم ہونا شروع ہو گئیں کیونکہ بدلتے ہوئے زمانے اور سائنس کی ترقی کے ساتھ قرآن سے اخذ کردہ کئی تصورات کی نئی تفہیم نہ ہونے کی صورت میں بہت سے ایسے سوال اٹھنے کا اندیشہ تھا جن کا کوئی جواب اہل مذہب کے پاس نہیں تھا۔ موجودہ پاکستان میں پرویزی فکر، فراہی فکر یا اب جاوید احمد غامدی صاحب اس کی بڑی واضح مثالیں ہیں۔ ان متجددین نے تیرہ سو سالہ طے شدہ فکر کے کئی زاویے یکسر مسترد کر دیے۔ جن باتوں کو واضح حقیقت کہا جاتا رہا، وہ تمثیل کے زمرے میں ڈال دی گئیں اور بے شمار اخلاقی اور معاشرتی احکامات کی ایک دورازکار تاویل وضع کر لی گئی۔ ہمارے ایک دوست تو اس کا دفاع کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ گئے کہ انہوں نے قرآن کو دیوان غالب سے تشبیہہ دے ڈالی کہ اس کے معنی بھی انہی پر کھلتے ہیں جن کی فکر ایک خاص مقام تک پہنچ جاتی ہے۔ اس پر ہم انہیں غالب کا "نہ سہی گر میرے اشعار میں معنی نہ سہی" والا مصرع سناتے پر حد ادب میں خاموش رہ گئے۔ اچھا، دل چسپ بات یہ ہے کہ متجددین فقہی اصولوں پر استوار مدارس کے بھی خلاف ہیں اور صدیوں کی فقہی روایت کے بھی لیکن اپنی نئی تشریح کے لیے وہ اسی جواز کا سہارا لیتے ہیں جس کے سہارے یہ مسلکی مدارس صدیوں سے کھڑے ہیں۔ اس سے بھی دل چسپ امر یہ ہے کہ کلاسیکی مذہب کے مقلدین اور ان متجددین کے درمیان ایسا کڑا اختلاف ہے کہ یہ ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے روادار نہیں۔ 

صدیوں سے یہی دلیل کہ "دین سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں" ، مدارس کے دفاع میں استعمال کی جاتی رہی ہے۔ اس دلیل کا عَلم اٹھانے والے قرآن کے اپنے بیان کے مخالف سمت کھڑے ہو جاتے ہیں جس کے مطابق یہ متن پوری انسانیت کے لیے ہے۔ جبکہ علمبرداروں کا کہنا یہ ہے کہ یہ متن محض تقی عثمانی، اویس نورانی، ہشام الہی ظہیر یا ساجد نقوی کے لیے اترا ہے۔ عام انسان خدا کا پیغام سمجھنے کے لیے ان کی ترجمانی کا محتاج ہے جو اسی متن کی تشریح میں ایک دوسرے کو کافر سمجھتے ہیں۔ اس پر جب ہم کہیں کہ مذہب نہ طب ہے نہ مہندسی بلکہ اپنے ہی دعوے کے مطابق زندگی گزارنے کا وہ طریق ہے جس پر ہر ماننے والے کو خود سمجھ کر، نہ صرف عمل کرنا ہے بلکہ حساب بھی دینا ہے کہ عمل ٹھیک کیوں نہیں کیا تو سب خفا ہو جاتے ہیں۔ وہ بضد ہیں کہ متن کو سمجھنا محض چند لوگوں کا خاصہ ہے تاہم اس پر عمل نہ کرنے کا حساب سب کو اپنی اپنی جگہ دینا ہے۔ اگر تو قیامت کے دن اپنی کم فہمی کا خسارہ قاسم نانوتوی، احمد رضا خان ، سیستانی یا احسان الہی ظہیر کے حساب میں منتقل کرنے کا انتخاب دیا جاتا تو شاید ہم اس دلیل سے اتفاق کر لیتے پر ظاہر ہے ایسے معاملے میں شریعت خاموش ہے۔ اس پر منٹو کا ایک مشہور فقرہ یاد آ رہا ہے لیکن میں لکھوں گا نہیں۔ آپ خود ڈھونڈ کر پڑھ لیجیے، بات سمجھ میں آ جائے گی۔ 

یاد رہے کہ مذہب کے ادراک کا کچھ علوم یا ایک سند سے مخصوص ہونا وہی دلیل ہے جو غلام احمد پرویز، مولانا مودودی یا جاوید احمد غامدی کے خلاف استعمال ہوتی رہی ۔ دوسری طرف اسی کا رد کرنے والے انہی متجددین نے اپنی تشریح پر اٹھنے والے اعتراضات کے دفاع میں تقریبا یہی دلیل استعمال کی بس اس میں سے سند کی شرط نکال دی۔ ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا۔ 

چلیے صاحب، یہاں ابھی یہ نکتہ رکھا ہی جا سکتا تھا سو رکھ دیا گیا۔ آگے چلتے ہیں۔ مدارس کا نصاب فرسودہ ہے، یہ ہم سب جانتے ہیں اور اسی وجہ سے جدید دور سے اس کا ہم آہنگ ہونا ممکن نہیں ہے۔ یہ مسئلہ عصری علوم کی درسگاہوں میں نہیں ہے۔ پچھلی دو دہائیوں میں اس کو حل کرنے کے لیے مولانا قاسم نانوتوی اور احمد رضا خان کے سخت موقف کے برعکس عصری علوم کا کچھ پیوند لگانے کی مدارس میں کوشش کی گئی لیکن یہ تجربہ مکمل طور پر ناکام رہا۔ مدارس کے طلباء جدید معاشرے میں اسی طرح مس فٹ رہے جیسا کہ وہ پہلے تھے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ مدارس کے کارپرداز ایسی ہر کوشش کو دل میں اپنے اکابرین کے موقف کے برخلاف اور اپنی مملکت میں مداخلت سمجھتے ہیں۔ 

یہاں تک یہ بات تو واضح ہو گئی کہ مدارس اپنی ساخت میں محض طاقت کے مراکز اور سیاسی نرسریاں ہیں جہاں مسلک اور فقہہ کے تحفظ کے لیے ایک ایسی فوج تیار کرنا ہے جو فرسودہ ہوتے افکار کے تحفظ کے لیے ایک زومبی کی طرح مدارس کے کرتادھرتاؤں کے اشارے پر چلنے کو تیار ہوں۔ ایک سادہ، غیر پیچیدہ اور فطرت سے قریب تر مذہب کو مخالف تشریحات کے اس جمعہ بازار سے اصولا کوئی سروکار ہونا ہی نہیں چاہیے اور وہ بھی ایسے علوم پر مبنی تفاہیم جن کا وجود نہ رسول کے دور میں تھا نہ ان کے خلفائے راشدین کے دور میں۔ یہ بات بھی سامنے کی ہے کہ ان علوم کے فروغ کے ساتھ ساتھ مسلم معاشرے مسلسل زوال کا شکار ہوتے چلے گئے۔ علم کی دینی اور دنیاوی تخصیص نے ہمارے سوشل فیبرک سے لے کر ہماری عصری ترقی تک سب پر ایک جان لیوا ضرب لگائی ہے۔ 

برین واشنگ ہو یا شعوری ارتقاء جسے انگریزی میں کوگنیٹو ڈویلپمنٹ کہا جاتا ہے، کے لیے ایک کچے ذہن کی ضرورت ہے۔ یہ وہ ذہن ہے جو پانچ سے بارہ تیرہ سال کی عمر تک کسی بھی سانچے میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے مدارس کا زور کبھی بھی اختصاصی مذہبی تعلیم کے لیے جامعات کا قیام نہیں رہا۔ جامعات کا کردار اس منصوبے میں ہمیشہ ثانوی تھا۔ آج دنیا بھر میں اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ کم ازکم ابتدائی دس سے بارہ برس کی تعلیم ریاضی، زبان، آفاقی اخلاقیات، شہری ذمہ داریوں اور سائنس کی ہونی چاہیے۔ اس کے بعد ہر طالب علم کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے رجحان کے مطابق اختصاصی شعبے میں قدم رکھے جو طب، مہندسی، کمپیوٹر یا پھر مذہب کا ہو سکتا ہے۔ مذہبی متن آفاقی اخلاقیات کا داعی نہیں ہوتا بلکہ عقیدے کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کا قائل اور بلحاظ اقدار کا پرچار کرتا ہے۔ مذہبی سوچ اصولی طور پر ایک اختیاری سوچ ہے جس کے انتخاب کا حق ایک بالغ ذہن کو ہی کرنا چاہیے۔ تاہم اس اصول کو ماننے کی صورت میں مذہبی مدارس کے وجود کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ 

مذہبی فلسفہ اور علوم بہرحال اہم ابحاث کو جنم دیتے ہیں اور طب، قانون، مہندسی یا سائنسز کی طرح اس کی اعلی تعلیمی اداروں میں باقاعدہ فیکلٹیز ہونی چاہئیں تاکہ اس موضوع پر بہتر گفتگو بھی ہو سکے اور ہمیں اس حوالے سے بہتر ذہن بھی میسر آ سکیں جو روح عصر سے ہم آہنگ ہوں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ابتدائی تعلیم یا ایلیمنٹری ایجوکیشن آفاقی موضوعات پر ہو، معروضی ہو اور سب کے لیے ایک جیسی ہو۔ یہ تو ہو گئی مثالی صورت حال لیکن حقیقت اس کے بالکل برخلاف ہے۔ مذہبی تنظیموں اور مذہبی اکابرین کا زور ہمیشہ سے اس بات پر رہا ہے کہ مدارس ابتدائی تعلیم سے شروع ہوں گے یعنی بچے کا فطری رجحان لایعنی ہے اور یہ فیصلہ کچی عمر میں ہی ہو جانا ہے کہ اس نے عالم دین ہی بننا ہے۔ نصاب کے حوالے سے اگر ہم اپنے سکولوں اور مدارس کو ایک ٹوکری میں بھی رکھ لیں تو ان سے نکلنے والے بچے جاپان، سنگاپور یا ناروے کے بچے کے مقابلے میں انتہائی کمتر صلاحیتوں کے حامل ہوں گے۔ اس کی وجہ ضیاء صاحب کے دور میں کی گئی بے دریغ اسلامائزیشن ہے جس میں اخلاقیات کی جگہ اسلامیات، علاقائی زبانوں کی جگہ عربی اور خالص سائنس کے بجائے اسلامی سائنس رکھ دی گئی ہے۔ اس سب کے باوجود بھی ایک عام سکول کا بچہ کسی حد تک عصری علوم کی اہمیت کو سمجھتا ہے اور یہ انتخاب رکھتا ہے کہ وہ اپنے رجحان کے مطابق اپنی زندگی اور اپنے پیشے یا اعلی تعلیمی ڈگری کا انتخاب کر سکے۔ یہ انتخاب ایک مدرسے کے بچے کے پاس نہیں ہوتا اور اس سے بڑی محرومی ممکن نہیں۔ 

ہمارے یہاں خلط مبحث کے لیے مدارس کا موازنہ اعلی تعلیم کے لیے مخصوص جامعات سے شروع کر دیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں اگر ایک مذہبی جامعہ کا موازنہ ایک یونیورسٹی سے کیا جائے لیکن مدارس کا موازنہ پرائمری اور سیکنڈری سکولوں سے ہی کیا جا سکتا ہے۔

اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم اپنے موضوع پر لوٹتے ہیں جو کہ مدارس میں ہونے والا جنسی استحصال ہے اور اس استحصال کی بنیاد میں کارفرما چار اہم عوامل کا ایک مختصر تجزیہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

اس میں سب سے بڑا کردار اس معلم کا ہے جو بچوں کو پڑھاتا ہے۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ چھوٹے بچوں کو بالعموم اور مونٹیسوری میں بلا استثناء خواتین اساتذہ کو پڑھانے کی لیے بہتر خیال کیا جاتا ہے۔ چھوٹے بچوں کو نفسیاتی اور جسمانی لحاظ سے قربت، محبت اور شفقت کی ضرورت ہوتی ہے اور اس معاملے میں صدیوں کی فہم یہ طے کر چکی ہے کہ عورت مرد سے نہ صرف بہتر ہے بلکہ اس پر جنسی حوالے سے کہیں زیادہ اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ ہم کسی بھی عام گھر میں خواتین کے بچوں کو چھونے پر عام حالات میں معترض نہیں ہوتے لیکن مردوں کو یہ اجازت دینے پر تیار نہیں ہوتے۔ چھوٹے بچوں اور بچیوں والے گھر میں اگر ملازم رکھنا ہو تو بھی ایک خاتون کو ترجیح دی جاتی ہے۔ تعلیم میں بھی یہی روایت مناسب سمجھی جاتی ہے۔ عصری تعلیم کے ابتدائی اداروں میں نوے فی صد خواتین اساتذہ ہیں جبکہ مدارس میں یہی تناسب بالکل الٹ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم معاشرتی، عمرانی اور نفسیاتی تحقیق کے بالکل برعکس بچوں کو ایسے معلمین کے سپرد کر دیتے ہیں جو ان کو درکار محبت اور شفقت مہیا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور جنسی حوالے سے بھی وہ ایک محفوظ اور بااعتماد انتخاب نہیں ہیں۔

مدارس اور عام سکولوں میں دوسرا فرق مخلوط تعلیم سے گریز ہے۔ ہماری عمومی سوچ کے برعکس جنسی گھٹن کا ایک بڑا سبب مرد اور عورت کو ایک معاشرے میں برابر اظہار اور رسائی کے مواقع نہ دینا ہے۔ چھوٹے بچوں کی شعوری تربیت میں مخلوط طرز تعلیم کی وجہ سے صنفی امتیاز میں کمی ہوتی ہے۔ جنس ایک چبھتا ہوا سوال نہیں رہ جاتا۔ عورت سے تعارف محض فحش جنسی لطیفوں کے ذریعے نہیں ہوتا۔ ورنہ مردوں کے لیے عورت محض ایک خواہش اور ہوس بن جاتی ہے۔ وہ عورت کو اپنے جیسا ایک انسان نہیں سمجھ پاتے ۔ اسے عام نظر سے دیکھنا بھی ان کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ مرد اور عورت کے بیچ گھر کی حرمت کے باہر سوائے جنسی رشتے کے کوئی اور رشتہ ممکن نہیں رہ جاتا۔ جنس کو ایک شجر ممنوعہ اور گناہ بنانے سے اس کی کشش میں اضافہ ہوتا ہے ، کمی نہیں ہوتی۔ کیا وجہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل سے لے کر سب سے زیادہ بکنے والے کالم نگار عورت کے بارے میں صرف جنسی زاویہ آواز لگا کر بیچتے ہیں۔ معلمین بھی اسی چھلنی سے گزر کر اپنے عہدے پر فائز ہوتے ہیں جہاں انہوں نے محض جنسی گھٹن کی تربیت پائی ہوتی ہے۔ اسی تربیت کا شاخسانہ اور خمیازہ کبھی ان کے زیر تسلط مدرسے کے بچے بھگتتے ہیں ، کبھی بچیاں بھگتتی ہیں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ بہت سے عام سکول بھی غیر مخلوط ہیں اور اس میں یورپ کی قدیم روایتوں کے امین کچھ سکول بھی شامل ہیں۔ میں ان کو بھی درست خیال نہیں کرتا۔ پدر سری معاشروں کی سب روایات نے ابھی انتہائی ترقی یافتہ معاشروں میں بھی دم نہیں توڑا۔ جو غلط ہے، وہ ہر جگہ غلط ہے۔ تاہم جہاں سارے مدارس غیر مخلوط ہیں وہاں سکولوں میں یہ تعداد بمشکل دس فی صد ہے اس لیے مسئلے کی سنگینی بھی مدارس کے لیے کئی گنا ہے۔ غیر مخلوط اداروں میں جنس کی غیر متوازن نفسیاتی تربیت کا نتیجہ بھی اغلام کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ 

تیسرا اہم مسئلہ مدارس کا رہائشی ہونا ہے۔ میں ذاتی طور پر کسی بھی طرز تعلیم میں ، خواہ وہ عصری ادارے ہوں یا مدارس، ابتدائی درجوں کے بچوں بلکہ ثانوی درجوں میں بھی بورڈنگ سکول کا حامی نہیں ہوں۔ بچوں کو عاقل اور بالغ ہونے سے پہلے ایسے منتظمین کو کلی طور پر دن رات کے لیے سونپ دینا جن سے ان کے رشتے کی کوئی حرمت ہو نہ ان سے محبت اور شفقت کا کوئی تعلق ہو، صرف ظلم ہی نہیں، جرم بھی ہے۔ مدارس میں جنسی استحصال کی یہ سب سے بڑی وجہ ہے اور اس کا تدارک اس لیے ممکن نہیں کہ مدرسے میں پڑھنے والے بچوں کی اکثریت وہ ہے جسے والدین مذہبی روایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ معاشی مجبوریوں کی وجہ سے بھی مدرسے میں چھوڑنے پر راضی ہوتے ہیں کہ سر پر چھت اور پیٹ میں روٹی کا خرچ انہیں بچ جاتا ہے۔ اگر آج مدارس کو ڈے سکول میں بدل دیا جائے تو جنسی زیادتی کے واقعات بہت کم رہ جائیں گے۔ 

تاہم ان سب عوامل سے زیادہ چوتھا اہم ترین محرک وہ نفسیاتی کجی ہے جو ہمارے پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ میں اس کو مدارس سے مخصوص نہیں کر رہا لیکن اس کا سب سے اثرانگیز مظہر مدارس میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے تو کیا کیجیے۔ عصری تعلیم کے ادارے اخلاقی تعمیر و تطہیر کے دعوے پر استوار نہیں ہیں۔ ایک سپیس سائنسز کی ڈگری میں خلا بازی سکھائی جاتی ہے اور اس کا معلم بھی خلابازی کا ہی ماہر ہوتا ہے۔ طب سے لے کر آثار قدیمہ کی پڑھائی تک، ہر جگہ یہی معاملہ ہے۔ تاہم مدارس مذہب کو اخلاق کی اساس سمجھتے ہوئے یہ دعوی رکھتے ہیں کہ مدارس کی تعلیم بہترین اخلاقی وجود اور برتر اسوہ تشکیل دیتی ہے۔ یہ کہنے کے بعد وہ قبائلی معاشرت، رجعت پسندی اور ناقابل عمل اور ناقابل قبول اخلاقی قدروں پر اپنے نصاب اور تعلیم کے ذریعے مصر رہتے ہیں۔ ایسے کسی دعوے کی نظیر کسی عصری ادارے میں نہیں ملتی۔ عصری اداروں کے معلم انبیاء کے وارث نہیں ٹھہرائے جاتے۔ ان کو کوئی پاکیزگی اور تقدس کا لبادہ نہیں اوڑھاتا لیکن اس کے باوجود ان کے لیے معیار اس قدر سخت ہے کہ صرف سوشل میڈیا پر جنسی ہراسانی کے الزام میں ایک جامعہ کا استاد آٹھ سال کے لیے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور اس کی پوری برادری میں سے کوئی ایک اس کی تاویل نہیں دیتا۔ دوسری طرف مدارس کا مقدمہ تاویل در تاویل اور عذر در عذر پر کھنچتا چلا جاتا ہے۔ مدارس میں موجود اخلاقی گراوٹ کو انفرادی معاملہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ مدارس اسی اخلاق کی لاٹھی ٹیکے ہی تو کھڑے ہیں۔ یہ بھی نہ ہو تو ان کے وجود کی آخری دلیل بھی دم توڑ دے۔ مذہبی تعلیم میں اخلاقی جرائم اتنے عام ہو چکے کہ اب انہیں شاید کوئی جرم سمجھتا ہی نہیں ، رہا ان کے گناہ ہونے کا سوال تو وہی تعلیم یہ بھی بتاتی ہے کہ شرک کے علاوہ ہر گناہ معاف ہو جائے گا خواہ ریپ ہی کیوں نہ ہو۔ نہیں تو وظائف اور عبادات کے راستے توبہ کا در ہمیشہ کھلا ہی رہتا ہے۔ لیجیے کوتوال کا ڈر پہلے ہی نہیں تھا، خوف خدا کا بھی علاج کر لیا گیا۔ اب کوئی کیا اس پر بحث کرے۔ رہی عوامی جواب دہی کا خوف تو وہ شاید ہے اسی لیے جہاں ہر سکول میں سی سی ٹی وی کیمرے بھی موجود ہیں اور ہر کوئی موبائل بھی لیے پھرتا ہے وہاں یہی دونوں اشیاء اکثر مدارس میں شجر ممنوعہ نہ ہوتیں۔

پیو کا سروے آپ کے سامنے ہے۔ ایک کے بعد ایک مثال روز اخبار میں لپٹی چلی آتی ہے۔ ہم یہ مان کیوں نہیں لیتے کہ خرابی کی جڑ مدارس کے نظام، نصاب اور فکر میں پوشیدہ ہے۔ کہانی کہیں اور بگڑی ہے، ہم سرا کہیں اور ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم جنس پرستی کو گناہ کہنے والے سدومیت کے بغیر ایک دن نہیں گزار پاتے۔ عورتوں کی عزت کے دعوے کرنے والے بینگن اور بستر کی مثالیں منبر پر دیتے ہیں۔ مخلوط سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی تہذیب نفس کا ماتم کرنے والے صبح شام اغلام کے عادی نکلتے ہیں۔ جنسی رویوں کی تشریح اب سائنس اور نفسیات سے ہوتی ہے۔ اس کی تفہیم بلکہ قانون سازی تک مذہب سے کرنے پر بضد رہیں گے تو نتیجہ وہی نکلے گا جو نکل رہا ہے۔ 

ایک مہذب اور باشعور معاشرے میں مدارس جیسے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کے اختصاصی ادارے صرف بگاڑ ، محرومی اور استحصال کے کارخانے ہیں۔ مذہب کی تعلیم اعلی تعلیمی اداروں کا مضمون ہے اور وہیں پڑھایا جانا چاہیے۔ یہ حقیقت ہم جتنی جلدی سمجھ لیں، اتنا اچھا ہے۔ کتنی نسلیں برباد ہو چکی ہیں۔ اپنی اگلی نسل کو تو بچا لیجیے۔

 


حاشرابن ارشاد کی دیگر تحریریں