سیاسیات حاضرہ

کشمیر و فلسطین ایشوز: جماعت اسلامی کو جماعت احمدیہ کی چھوڑی گئی وراثت

  2021-07-07 16:31:26
  2918

 

مذہب ہزارہا سال پرانا ہو یا حالیہ سائنسی انقلابی عہد کا(جیسے بہائیت، جسے اس مذہب کے پیروکار"امر جدید" کہتے ہے-... اس کے سنگ ہائے بنیاد ہمیشہ ماوراء عقل اور دیومالائی mythological ہیں)، احمدیت بطور مذہب کوئی استثناء نہیں. احمدی روایات کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام فلسطین میں گولگتا Golgatha کے مقام پر صلیب پر چڑھنے کے بعد نہ فوت ہوئے نہ اسمان پر چڑھے بلکہ انہوں نے ھندوستان کا رخ کیا اور کشمیر آئے. 

 

سابق امیر جماعت احمدیہ کے پی ارشاد احمد صاب نے کئی نشستوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کافلسطین سے کشمیر سفر اور یہاں ان کی وفات پر طویل گفتگو کے بعد "مقدس کفن" نامی ایک کتاب 2003 میں پڑھنے کیلئے دی تھی. جماعت احمدیہ میں ارشاد احمد کی ذمہ دار حیثیت اور کتاب کے محتوی و موضوع پر ان کی تاکید سے میں مطمئن ہوں کہ حضرت یسوع ناصری یا عیسی مسیح علیہ السلام کی زندگی اور مشن کی یہ روایت جماعت احمدیہ کا افیشل ورژن ہے. کتاب "مقدس کفن" کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام ہزاروں میل طویل سفر طے کرتے ہوئے کشمیر تشریف لائے اور یہاں فوت اور دفن ہوئے. ان کا کفن گزشتہ صدی میں ملا جو لیبارٹری ٹیسٹس کیلئے جرمنی لے جایا گیا... کفن میں چہرے کی جگہ واضح ہے اور چہرے مہرے قد وغیرہ سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ یہ حضرت عیسٰی علیہ السلام ہی کا کفن ہے.... ایک طویل پیچیدہ نیم سائینسی، نیم افسانوی بحث اور استدلال کے بعد "مقدس کفن" کے مصنف یا مصنفین یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام قادیان میں بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد کے شکل میں دوبارہ ظہور کر گئے...... 

 

مرزا غلام احمد کا پورا لقب "مسیح موعود اور مہدی معہود" ہے، یعنی وہ عیسی جس کے آنے کا وعدہ کیا گیا اور وہ مہدی جس کے ظہور کا عہد کیا ہے. صحاح ستہ کی کتاب "ابن ماجہ" کے ایک حدیث "لا مہدی الا عیسی ابن مریم، مہدی کوئی نہیں مگر عیسی ابن مریم ہی ہے" ، سے استنباط کرکے جماعت احمدیہ نے بانی جماعت، مرزا غلام احمد کو عیسی و مہدی دونوں کے مقام پر فائز کیا.... قابل ذکر ہے کہ احمدیوں کا ایک فرقہ" لاہوری گروپ" مرزا غلام احمد کو صرف مصلح مانتا ہے. اس غیر مشہور دھڑے لاہوری گروپ کے بانی مولانا محمد علی لاہوری قران کے ایک شاہکار ادبی انگریزی ترجمے کیلئے زیادہ مشہور ہیں.... اپنی تفسیر القرآن کے اخر میں مولانا عبدالماجد دریابادی نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں مولانا محمد علی لاہوری کی ترجمہ قران سے استفادہ کیا ہے. 

 

حضرت مسیح علیہ السلام کا فلسطین سے کشمیر کا یہ افسانوی سفر اور اسلامی دنیا میں سیاسی، سماجی اور خصوصاً مذہبی لیجٹیمیسی religio-political legitimacy کی ضرورت نے جماعت احمدیہ کو کشمیر اور فلسطین ایشوز دونوں کے چیمپئن بننے کی تحریک دی.

 

آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی بنیاد 1929/30 میں بانئ جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد کے بیٹے، دوسرے خلیفہ حکیم نورالدین کے بعد جماعت احمدیہ سربراہ اورخلیفہ مسیح الثانی مرزا بشیر الدین محمود نے رکھی. قرارد داد پاکستان کے حقیقی خالق اور پاکستان کے اولین وزیر خارجہ چوہدری سر ظفراللہ خان 1920 کے دہائی میں اسی مرزا بشیر الدین محمود کے سیکرٹری تھے. سردار شوکت حیات نے اپنی یاد داشتوں کی کتاب:

The Nation that Lost Its Soul

میں لکھا ہے کہ بانئ پاکستان مسٹر جناح نے ایک رات ان کو خلیفہ قادیان مرزا بشیر الدین محمود کے پاس جناح اور پاکستان کیلئے دعا کرنے کی غرض سے بھیجا...... مذہبی وابستگی سے ہٹ کر یہ ایک حقیقت ہے کہ مرزا بشیر الدین محمود نابغہ روزگار شخصیت تھے. ماڈرن سائینسی چیلنجز اور جدید دور کے تقاضوں کے تناظر میں لکھی گئی دس جلدوں پر مشتمل ان کی تفسیر قران "تفسير کبیر" حیران کن علمی وسعت، جدید سائینسی اور کلامی امور پر ان کی دسترس کی بین ثبوت ہے...... گزشتہ صدی کے غیر روایتی unorthodox اسلامی دنیا میں تین شخصیات کے کچھ کتابیں واقعی قابل مطالعہ ہیں : احمدی خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین کی "تفسیر کبیر"، غلام احمد پرویز کے" لغات القران" اور "انسان نے کیا سوچا" اور مسلم لیگ کے بانی اسماعیلی نزاری شاخ کے اڑتالیسویں امام سر سلطان محمد شاہ آغاخان سوم کی اٹوبائیوگرافی.

مرزا بشیر الدین محمود 1929 میں کشمیر گئے. کیا دیکھا کیا مشاہدہ کیا وہ تاریخ کا حصہ ہے. واپسی پر کشمیر کی سیاسی صورتحال کی اصلاح کیلئے" آل انڈیا کشمیر کمیٹی" کی بنیاد رکھی. وقت کے بڑے بڑے نام اس کمیٹی کے ممبر بنیں جن میں اقبال کا نام خصوصاً قابل ذکر ہے. ایک زمانے میں سیالکوٹ میں اقبال ہی کے محلے میں بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد سکونت پذیر تھے جہاں اقبال کے فیملی ممبرز ان کے درس میں شریک رہتے . اقبال کے کافی فیملی ممبرز احمدی تھے. ہمارے دوست، ادیب، مصنف اور ماہر اقبالیات پروفیسر امجد علی شاکر نے اپنی مختصر مگر فاضلانہ کتاب "اقبالیات کے پوشیدہ گوشے" میں اقبال کے قادیانی بھتیجے اعجاز احمد کا ذکر کیا ہے.

 

احمدی بھتیجے اعجاز کے حوالے سے اقبال کا لکھا گیا ایک متنازعہ خط اقبال کے وفات کے بعد مسلمانوں کے احساسات کے پیش نظر ان کے خطوط کے مجموعے سے نکالا گیا ہے.... اقبال کا دوسرا نکالایا دبایا گیا متنازعہ خط اسماعیلی امام و بانئ مسلم سر سلطان محمد شاہ اغا خان سوم کے نام ایک درخواست ہے کہ اقبال کو ملنے والا وظیفہ اقبال کی وفات کے بعد ان کے بیٹے جاوید اقبال کے نام جاری رکھا جائے......( دلچسپی رکھنے والے احباب کو مزید مطالعہ یا سوالات کیلئے مصنف کتاب پروفیسر امجد علی شاکر کو ٹیگ کیا ہے. ان سے رجوع کریں..). خود اقبال کبھی قادیانی رہے یا نا؟ تھے تو کب اور کیوں احمدیت چھوڑ دی؟ دلچسپ اور متنازعہ تاریخی سوال ہیں . ان پر بھی پروفیسر امجد علی شاکر صاب بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں. انگریزی کالم نگار و مورخ اور مارکسسٹ سکالر استاد محترم ڈاکٹر صولت ناگی صاب نے چند دن قبل دوران گفتگو راقم کو بتایا کہ اقبال نے احمدیت 1932 میں بطور احتجاج چھوڑی تھی. وجہ احتجاج یہ تھا کہ مرزا بشیر الدین محمود نے اقبال کی جگہ سر فضل حسین کو کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنایا تھا. میرا اقبالیات کا مطالعہ بہت کم ہے اور خود کوئی ایسا حوالہ نظر سے نہیں گزرا. مجھے اقبال بطور شاعر بہت پسند ہے. شہنشاہِ ایران رضا شاہ پہلوی کے بعد دوسرا شخص ہوں جو کلیات اقبال فارسی سرہانے رکھتا ہے. اقبال احمدی یا غیر احمدی سے کوئی سروکار نہیں رکھتا. پروفیسر امجد علی شاکر اور ڈاکٹر ناگی فاضل مصنف اور قابل استناد حوالے ہیں دونوں اس پر بہتر رہنمائی کرسکتے ہیں.

قیام پاکستان کے بعد مملکت خداد میں نہ قادیانی خلیفہ کی جگہ رہی نہ اسماعیلی امام کی. البتہ اقبال و کشمیر دونوں کو پر جوش انداز سے ایڈپٹ کیا گیا. اقبال کی شاعری جہادی لٹریچر، خون گرمانے اور جذبہ ایمانی کو ابھارنے کے ترانوں کی خاطر.... اور کشمیر ایشو ملکی وزرات دفاع کیلئے بطور شہ رگ اور مذہبی جماعتوں کیلئے بطور وسیلہء آمدنی اور مذہبی ڈرامہ بازی کے سٹیجز کی خاطر. پاکستانی پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی جس کے سربراہ بیس، پچیس سال تک قائد جمیعت رہے اور اب ڈاکٹر عامر لیاقت ہیں، اسی احمدی کشمیر کمیٹی کا تسلسل ہے جس کی بنیاد احمدی خلیفہ مسیح دوم مرزا بشیر الدین محمود نے رکھا. تلک الایام نداولھا بین الناس.

تاہم کشمیر ایشو کو سب سے زیادہ جس پارٹی نے سینے سے لگایا اور سینے سے دودھ بھی پلایا وہ جماعت اسلامی ہے. جماعت اسلامی کی تاریخ اور مطالعات پاکستان کے ماہرین اس پر قطعاً متفق ہیں کہ 1940 کی دہائی کے آغاز میں جماعت کی سنگ بنیاد سے دہائی کے اواخر تک جماعت اسلامی اور بانی جماعت مولانا مودودی رحمہ اللہ تحریک پاکستان، قیام پاکستان اور کشمیر جنگ تینوں کے شدید مخالف تھے. لاھور سے نکلنے والے پاکستانی تاریخ کے سلسلے "مطالعہ تاریخ" کے ایک جلد کے ابتدائی ابواب میں جماعت سے وابستہ رسالوں "تسنیم" اور "کوثر" کے شماروں کے حوالوں سے فاضل مصنفین نے مولانا مودودی کی 1948 میں کشمیر جنگ کی مخالفت میں لکھے ہوئے مضامین اور کئے گئے تقاریر کو نقل کیا ہے. ایک جگہ اگست 1948 میں مولانا مودودی کی پشاور امد اور "جہاد کشمیر" کو "فساد کشمیر" کہنے کا دلچسپ واقعہ نقل کیا ہے.

 

مرور ایام سے جماعت اسلامی اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سمبندھ ہوگئی. اور جماعت اسلامی پاکستان مخالف جماعت سے نظریہ پاکستان، اور پاکستان کے نظریاتی، اسلامی، ایمانی اور جسمانی حدود کی امین اور جانثار فدائی. احمدیت کی اٹھائی گئی اسی کشمیر ایشو کو جماعت اسلامی نے اپنایا اور پھیلایا اور نئی روح پھونکی. دلچسپ واقعیت یہ کہ بانی جماعت اسلامی مولانا مودودی رحمہ اللہ کے زبان و قلم سے وجود میں ائی ہوئی کشمیر فساد مخالف لٹریچر زیادہ معقول اور منطقی ہے. جب کہ مابعد کی کشمیر جہاد دور کی جماعتی لٹریچر جذباتی، گرم اور پرجوش.

 

مذہبی دنیا کے لیڈران میں فلسطین ایشو کو بھی سب سے اول اٹھانے والے مرزا بشیر الدین محمود تھے اور عالمی فورمز پر فلسطین ایشو کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ جس کمیونٹی کے سفارتکاروں اور انٹرنیشنل ڈپلومیسی سٹیج کے پہلوانوں نے اٹھایا اور لڑا وہ بھی احمدی ہی تھے. فلسطین کاز کے سب سے بڑے چمپئن خلیفہ مسیح الخامس مرزا بشیر الدین محمود کے پرسنل سیکرٹری چوہدری سر ظفر اللہ خان تھے..... احمدیت نے دو نابغے پیدا کئے ہیں . علمیت میں مولوی اللہ دتہ ابوالعطاء جالندھری... جن پر تفصیل ان کی اور "دو قران" کے مصنف ڈاکٹر غلام جیلانی برق کی تقابلی جائزہ میں کبھی لکھوں گا. برق نے احمدیت پر تنقیدی کتاب "حرف محرمانہ" لکھی تو احمدی کورٹ سے ابوالعطاء جالندھری نے "جواب عارفانہ" کے نام سے مدلل جواب دیا. پڑھ کر بندہ دنگ رہ جاتا ہے. ایسی علمیت، ایسی مطالعہ، ایسی منطقیت کہ معجزہ لگتا ہے....... اردو میں مناظرانہ ادب میں چند جوابات واقعی شاہکار ہیں : برق کی "حرف محرمانہ" کے جواب میں ابوالعطاء جالندھری کا "جواب عارفانہ"، مولانا مودودی کے" خلافت و ملوکیت" کے جواب میں مفتی تقی عثمانی کے جواب ملک غلام علی کی کتاب، پرویز کے جانشین ڈاکٹر سید عبدالودود خان کی انکار حدیث کی جواب میں مولنا مودودی کی "سنت کی ائینی حیثیت"، علی عباس جلالپوری کے "عام فکری مغالطے" اور" اقبال کا علم الکلام" کے جواب میں پروفیسر محمد ارشاد کا احمد ندیم قاسمی کے مجلے "فنون" میں انہیں ناموں سے سلسلے، اور پروفیسر حسن عسکری کے "روایت و جدیدیت" کے جواب میں پروفیسر محمد ارشاد کا اسی "فنون" میں اسی نام سے ایک اور سلسلہ.... تنقید، علمیت، منطقیت وسعت علم کے ایسے شاہکار نمونے فارسی اور عربی میں کم ہی نظر سے گزرے ہیں ...... نوجوان اہل مطالعہ ان کو پڑھ کر سیکھ لیں کہ تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ اور منطقی اپروچ کیا ہوتے ہیں.

 

احمدیت نے جو دوسرا نابغہ پیدا کیا تھا وہ چوہدری سر ظفر اللہ خان تھے. عالمی سیاست اور ڈپلومیسی میں چوہدری سر ظفر اللہ خان اسلامی دنیا کے ھنری کسنجر سمجھ لیں. چوہدری صاب کی خودنوشت سوانح حیات "تحدیث نعمت" پڑھنے کی چیز ہے...... جب پی ایل او PLO اور فتح اور یاسر عرفات کا نام تک نہ تھا تب چوہدری ظفر اللہ خان مسئلہ فلسطین کے عالمی وکیل منتخب ہوئے تھے. اور ان کو عرب دنیا اور خود فلسطینیوں نے منتخب کیا.....یہاں تک کہ... اسی احمدی... چوہدری سر ظفر اللہ خان کو خود فلسطینیوں نے اقوام متحدہ میں اپنا پہلا رسمی سفیر مقرر کیا. کہتے ہیں چوہدری صاب نے اقوام متحدہ میں فلسطین کا مقدمہ موثر انداز سے لڑا.

اسرائیل کی خشت اول 1916 میں برٹش ایمپائر نے بالفور ڈکلئریشن سے رکھی. چوہدری سر ظفر اللہ خان نے فلسطین کا مقدمہ لڑا لیکن فلسطینیوں کی خاطر، اسی برطانوی استعمار کا دیا گیا "سر" کا خطاب احتجاجا واپس کرنے کا نہ کبھی سوچا، نہ کبھی جرات نہ کی. واقعی ڈپلومیسی کے دنیا کے جینئس تھے.

 

پاکستان سے وہی فلسطینی مقدمہ مذہبی جماعتیں اور اسی خصوصاً اسی انداز سے اور انہیں اصطلاحات کا سہارا لے جماعت اسلامی لڑ رہی ہے. یوں جماعت اسلامی کو کشمیر و فلسطین ایشوز جماعت احمدیہ سے سیاسی سرمایہ کاری کیلئے بطور میراث ملے. 

جماعت احمدیہ، جماعت اسلامی اور فلسطین ایشو الگ تفصیل کے متقاضی ہیں لہذا یہ پھر کبھی. 

 


رشید یوسفزئ کی دیگر تحریریں