ثقافت اور سیاحت

عورت مارچ اور "دھمتوڑدی کڑی"-

  2022-03-02 16:17:02
  2240

 

پاکستان میں اب ہرسال، 8 مارچ کو"عورت مارچ" منایاجارہاہے-(احتجاجی مظاہرہ، کسی ایشوکونمایاں کرنے کی ٹیکنیک ہوتی ہے)- گذرےبرس کے"عورت مارچ" میں کچھ ایسےنعرے لگائے گئے تھے جن پرسنجیدہ لبرل حضرات بھی برانگیختہ ہوگئے تھے- مسلم سیکولرزمگرایسے"عورت مارچ" کی بھی مخالفت نہیں کرتے- ("لو،میں ٹھیک سے بیٹھ گئی"جیسےڈائیلاگ ، فقط میدان گرم کرنے کا بہانہ ہوا کرتے ہیں)-

فیمنسٹ بتاتےہیں کہ ایشیاء کی عورت، یورپ کی خاتون سے زیادہ اورافریقہ کی خاتون سے کم مظلوم ہےمگریہ کہ مظلوم ہے- فیمنسٹ دوستوں نےعورت کی مظلومیت کا کوئ پیمانہ تو وضع کرہی رکھا ہوگا- اس پیمانےکو میدان میں لانے دیجئے تاکہ جوابی دلائل بھی سامنے آسکیں-ہم سمجھتے ہیں کہ جب دومخالف شدت پسند رویوں کوکھلےاظہارکا یکساں موقع دیا جائے توغلبہ ہمیشہ "اعتدال" کو حاصل ہوتا ہے- ہم تو"ملحدین" کو بھی اظہاررائے کا حق دینے کے حامی ہیں کہ یہی ہمارے اسلاف کا چلن رہا ہے- جب مسلمان قوم ،دنیا میں واحدسپرپاورمانی جاتی تھی تواسکےدارالخلافہ( بغداد) میں اس زمانے کے سب سے بڑے عالم دین (امام ابوحنیفہ) سے برسرعام مناظرہ کرتے ہوئے بھی کسی ملحد کواپنی گردن کٹنے کا خوف نہیں ہوتا تھا-

 

ہم تائید کرتے ہیں کہ پاکستان کے پدرسری معاشرے میں عورت ذات واقعی مظلوم ہے اورہرمظلوم کی حمایت کرنا، ہمارے اسلام کا تقاضہ ہے- عورت مارچ کے منتظمین کوانکی نیت مبارک مگر ہم انکے کاز کو سپورٹ کرتے ہیں- 

 

ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ "عورت مارچ"والی آنٹیاں سوچ بھی نہیں سکتیں کہ اس ملک کے تاریک گوشوں میں عورت کس قدرمظلوم ہے؟- 1995ء میں خاکسار راجن پورسے آگے ایک پراجیکٹ کررہا تھا- مزاری بلوچوں کی ایک ذیلی شاخ میں عورت کو چپل پہننے کی اجازت نہیں تھی، صرف مرد جوتی پہن سکتے تھے- کھانے میں گوشت صرف مرد حضرات کیلئے مختص تھا- میرے ایک بلوچ ڈارئیور نے ایک دن کہا کہ میری عورت تکلیف میں ہے مگرہسپتال نہیں لے جاسکتا،کیا کروں؟- پوچھنے پربتایا کہ پرسوں صبح پراٹھا بنارہی تھی کہ کسی بات پرغصے میں آکر،چولہے سے لکڑی اٹھا کراسکو ماری اوراب اسکی کلائ میں درد ہوتا ہے- میں اسکے ساتھ گاؤں گیا اوراپنی جیپ پرعورت کوراجن پورہسپتال لے گیا- ایکسرے پرپتہ چلا تین جگہ سے کلائ فریکچر ہوچکی تھی- شوہرخوداس لئے نہیں لے جاسکتا تھا کیونکہ بلوچ کی مرادنگی میں فرق پڑتا تھا کہ عورت کے آنسو سے پسیج گیا ہے- جنوبی وزیرستان میں محسودقبیلہ کی ایک ذیلی شاخ میں رواج تھا کہ شادی کی پہلی رات، اپنی بیوی کو ڈنڈے سے مارنا ضروری تھا(بلاوجہ ہی)- ہمارےشہرکلاچی میں، بیوی کے ساتھ کہیں آؤٹنگ تودرکنار، دن کے وقت بیوی سے بات کرنا بھی بے حیائ سمجھا جاتا تھا-

 

پس عورت مارچ ہوتا رہنا چاہیئے- نعرے لگتے رہنے چاہیئں- مگرسوال یہ ہے کہ پاکستان کی اس مظلوم عورت کو"رواجات" کی ان دیکھی زنجیروں سے نکالے گا کون؟ اورکیسے؟-

 

خاکسارکے خیال میں، ملک کے پسماندہ علاقوں میں مندرجہ ذیل، تین عملی اقدامات کرنا ہونگے-

 

1-گھروں میں مستقلا" بند، سائیکوبنتی عورت کوایمرجنسی ریلیف درکار ہے- کوئ فوری نظام ایسا بنانا ہوگا کہ گھرمیں بند عورت، اپنے شوہرکے ساتھ کچھ آؤٹنگ کرسکے-

2- خود عورت ،ثقافت ومذہب کے نام پرسمجھوتہ کرچکی ہے- عورت کو ایجوکیٹ کرنا ہوگا کہ خودکوپرکھے، تولے اور بدلے-یہ تبھی ممکن ہے جب وہ کسی دوسرے کلچرکوخود جاکردیکھے-

3-اسی نیم مذہبیت وجاہلانہ ماحول نے مرد کوان جانے میں ظالم بنا رکھا ہے-  مرد کو بھی ایجوکیٹ کرنا ہوگا کہ عورت کو انسان سمجھے- یہ تبھی ہوگا جب اسکو "نارمل" گھرانوں کی معاشرت سے عملا" آگاہ کیا جائے-

 

یہ اوپرمیں نے تین کام گنوائے ہیں- یہ تینوں کام، بڑی خاموشی اورپرامن طریقے سے کئے جانےضروری ہیں- پاکستانی سماج میں یہ تینوں کام کون کرے گا؟ کیسے کرے گا؟ اور کب کرے گا؟-

 

میں عرض کرتا ہوں کہ مذکورہ بالا تینوں کام، تبلیغی جماعت کررہی ہے- تبلیغ میں ایک ٹرمینالوجی ہے" مستورات کی جماعت"- پاکستان میں 8 لاکھ افراد ایسے ہیں جنہوں نے تبلیغ میں چارماہ لگائے ہوئے ہیں- ان تبلیغیوں کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ اپنی بیویوں/محرمات کو لے کر، ہرتیسرے مہینے تین دن کیلئے اپنے گھر سے نکل کرکسی دوسرے کے گھر میں جاکررہیں- ہر دوسرے سال، چالیس دن کیلئے اپنی مستورات کو لے کر، پاکستان کے کسی اورشہر میں جاکر"آؤٹنگ " کریں- اور جن کے پاس ذرا بھی مالی گنجائش ہو، وہ تین چارماہ کیلئے دوسرے ملکوں میں اپنی مستورات کے ساتھ جائیں-

 

تبلیغ والے بڑے شاطرلوگ ہیں- کلچر ٹوکلچر، سوشل انٹرمکسنگ کے داؤسے خوب آشناہیں- خالص ان پڑھ پٹھان بلوچ عورتوں کولاہور وکراچی کی ڈیفنس کالونیوں میں تشکیل کردیتے ہیں- لاہور وکراچی کی"برگر" بیبیوں کواندرون سندھ کے گاؤں گوٹھوں میں تشکیل کردیتے ہیں(نیچے والوں کو اوپرلانا اور اوپروالوں کونچے لانا، اس کواعتدال کہتے ہیں)-

 

تبلیغی جماعت کی اس حکمت عملی کی بدولت اوپرمذکورتینوں اہداف بڑی آسانی سے حاصل ہوجاتے ہیں- برسہابرس سے گھرمیں بند عورت کو"آؤٹنگ" توفورا" ہی میسر ہوگئی، ساتھ ہی مختلف المزاج سماج کے اختلاط سے شعوری ترقی بھی زوجین کو حاصل ہوجاتی ہے- 

 

تبلیغ میں مستورات کے"سفر"کا مطلب ،پاکستان سے باہرکسی اورملک میں تین چارماہ گذارنا ہوتا ہے- عورتوں میں سوشل نیٹ ورکنگ کمال کی ہوتی ہے-  میری ایک ہمشیرہ کے چھ سفر ہوچکے ہیں- چنانچہ لبنان کا مشہورسابق گلوگار"سید ہانی" مجھے اس لئے خصوصی طورپر جدہ میں آکر ملا کیونکہ اسکی بیوی میری بہن کے لبنان سفرمیں سہیلی بن گئی تھی- ہماری ایک ہمشیرہ سفیدپوش لوگ ہیں- جب ہم نے والدکی وراثت تقسیم کی توبہن اپنے خاوند کے ساتھ تبلیغ میں ساڑھےچارماہ لگانے چلی گئی- خاکسار اس پرگرجتا برستا رہا مگروہ دونوں لندن میں چارماہ گذاربھی آئے اوربچوں کے رشتے وغیرہ بھی بخوبی ہوگئے- میری والدہ کے تین ملکوں میں سفر ہوئے ہیں- اپنی والدہ کو ویزہ پرجدہ میں چھ ماہ کیلئے اپنے گھرٹھہرایا مگر تیسرے مہینے تنگ آکرواپس ہوگئیں- سوچتا تھا کہ عرب امارات میں غیروں کے گھروں میں تشکیل ہوئ تو چارماہ میں بھی دل تنگ نہیں ہوا مگراپنے بیٹے کے گھرمزہ نہیں آیا- انسان کوایک جگہ محدود کردیا جائے تو تنگ ہوہی جاتا ہے- 

 

اپنے گھرکی مستورات کی کہانی میں نے آپ سے بیان کردی ہے- اچھا تونہیں لگتا مگر"عورت مارچ" کے"مقدس موقع" پریہ بتانا شاید مناسب ہوکہ خاکسار نے سعودی عرب کی کمائ سے اپنے پسماندہ علاقہ کی بچیوں کیلئے ایک گرلز کالج بمعہ رہائشی ہاسٹل بنایا ہواہے- ڈیرہ اسماعیل خان میں واقع "فاطمیہ گرلزکالج " کے ہاسٹل کے لڑکیوں کی تربیت ونگہداشت یہی تبلیغی خواتین کررہی ہیں- "عورت مارچ" والی آنٹیوں کوطعنہ دینامقصود نہیں بلکہ فقط اطلاع دینا تھی- 

 

اچھا، عورتوں میں "سوشل گیدرنگ" اور"خدمت " کا بائ ڈایفالٹ مادہ موجود ہوتا ہے- میری ایک مرحومہ خالہ، جو شادی کے بعد تنزانیہ چلی گئی تھیں اورپاکستان میں بھی نوکروں کی فوج ظفر موج کی بنا پرشاہانہ زندگی گذاری تھی، عمرکے آخری حصہ میں شوہرکے ساتھ 15 دن کیلئے تبلیغ میں گئیں- خوشاب میں تشکیل ہوئ- جیسا کہ مردحضرات والی تبلیغی جماعت میں دوبندوں کو ایک دودن کیلئے باری باری کھاناپکانےوغیرہ کی ڈیوٹی دی جاتی ہے(جسے خدمت کہتے ہیں)، ویسے ہی مستورات کی جماعت میں بھی اپنی باری پردوعورتوں کی ڈیوٹی لگتی ہے- خالہ بہت خوش تھیں کہ زندگی میں پہلی بار لکڑیاں جلا کر، توے پرخود روٹی پکائ- میں نے پوچھا کہ مشکل تو ہوئ ہوگی؟- معلوم ہواکہ خدمت کیلئے چاہے کوئ بھی دوعورتیں مقررکی جائیں مگریہ سبھی ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانے پہنچ جاتی ہیں- 

 

تبلیغ والے مرد حضرات، اپنے بیوی بچوں کوچھوڑ کر،ایک ایک سال کیلئے تبلیغ میں چلے جاتے ہیں- اپنےبیوی بچوں کو کسمپرسی میں چھوڑ جانے کی تو کوئ بھی ذی شعورحمایت نہیں کرسکتا مگرخاکسار، اسکے علاوہ بھی اس پریکٹس کا حامی نہیں ہے- تاہم یہ الگ قابل بحث موضوع ہے- جس ملک کے 20 لاکھ افراد، اپنی بیویوں کو برس ہا برس اکیلاچھوڑ کر، درہم وریال کمانے جانا ضروری سمجھتے ہوں، وہاں تبلیغ کیلئےایک سال گھرچھوڑنا ویسے بھی کوئ بڑا اعتراض نہیں بنتا- پھریہ کہ یہی ایک سال لگانے والے کٹرتبلیغی ہی توگاؤں گاؤں مستورات کی جماعتیں نکالا کرتے ہیں- چنانچہ،اگرپاکستان کی پسماندہ عورت کو ذرا سا سکھ کا سانس میسر کرنے والاہدف حاصل ہوتا ہو تو مردحضرات کےایک سالہ تبلیغی سفر کو" کولیٹرول ڈیمیج" مان کرگواراکیا جاسکتا ہے-

 

بہرحال، اسلام آباد کی پوش سوسائٹی کی آنٹیوں کواندازہ ہی نہیں کہ ہمارے پسماندہ علاقوں کی عورت کس قید وبند کا شکار ہے؟- مزید ظلم یہ کہ رواایات کے نام پر وہ بیچاری اس ظلم پہ راضی بھی رہتی ہے- تبلیغ والوں کا کمال یہ ہے کہ جس سماج میں اپنی سگی بیوی کے ساتھ ایک چارپائ پربیٹھنے کو" بے حیائ" سمجھاجاتاتھا ، وہاں اس بیوی کو ساتھ لےکر، ملک کے طول وعرض میں گھومنے پھرنے کو"باعث اجر وثواب" بنادیا- عورت مارچ والو! ایک نظر ادھربھی ڈال لیجئے-

 

میرے والد مرحوم تب تبلیغ میں لگے تھے جب میں انجنئرنگ یونیورسٹی میں داخل ہوچکا تھا- اس وقت تک، کبھی میرے والد نے میری والدہ کے ہمراہ ایک ساتھ بیٹھ کرسفرنہیں کیا تھا- میری والدہ نے بتایا کہ انکوجب اپنے میکے جانا ہوتا( یعنی کلاچی سے ٹانک کیلئے) توانکو دوسرے رشتہ دار پہنچاآتے کیونکہ اپنے شوہرکا بیوی کے ساتھ ایک سیٹ میں بیٹھ کرجانا بے شرمی گناجاتا تھا- ایک شوہرکی خاطر، اپنے ماں باپ کاگھرچھوڑ کرآنے والی لڑکیاں، ساری عمرایک میٹھے بول کو ترستے ہوئے،  غیروں کی خدمت کرتے، زندہ بیواؤں کی مانند زندگی بتا دیا کرتی تھیں-  خیبرپختونخواہ، اندرون سندھ اور بلوچستان کے علاوہ، سرائیکی بیلٹ کا بھی یہی حال تھا- کبھی کسی کو سروے یا ریسرچ کا موقع ملےتو"عورت مارچ" والوں کو بتایئے گا کہ تبلیغی جماعت نےپاکستان کی حقیقی مظلوم عورتوں کی زندگی میں کتنا خاموش انقلاب برپا کردیا ہے- غالبا" بیس برس پہلے، رائے ونڈ مرکزمیں ایک بزرگ تبلیغی سے ملاقات ہوئ جوضلع ایبٹ آباد کے گاؤں دھمتوڑ کے رہنے والے تھے- وہ مستورات کی جماعت میں کینیڈا سے ہوکرواپس رائے ونڈ آئے ہوئے تھے- بتانے لگے کہ پاکستان سے ٹیک آف کرتے ہوئے جب جہازمیں سیٹ بیلٹ باندھ لیا تو میں نے اپنی بیوی کے کان میں سرگوشی کی" دھمتوڑدئٰۓ کڑیئے- تبلیغ کو دعا کروکہ آج میرے ساتھ جہاز میں بیٹھ کرکینیڈا جارہی ہوورنہ تو تجھے سوزوکی میں ساتھ بٹھا کرہری پورتک نہ لے جاتا"- 

 


سلیم جاوید کی دیگر تحریریں