سیاسیات حاضرہ

امریکیت

  2022-04-23 10:19:30
  509

 

یہ سوچ ہمارے معاشرے میں بہت عام ہے کہ اگر ہم کسی کے ساتھ کوئی تعاون یا بھلائی کرتے ہیں تو اس کی غیرت، خودداری اور عزت نفس ہمارے پاس گروی ہو جاتی ہے۔ میں اس سوچ اور روش کو امریکیت کہتا ہوں۔ یہ احساس خدائی صرف ہم تک نہیں رہتا بلکہ ہم اسے آنے والی نسلوں کو منتقل کرتے رہتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ جملے بہت عام ہیں کہ میرے والد نے فلاں کے والد کے ساتھ یہ اچھائی کی اور آج اس احسان فراموش سے سب بھول گیا ہے یا میرے دادا نے اس کے دادا کے ساتھ فلاں بھلائی کی وغیرہ۔ ہماری اس معاشرتی اور سماجی دنیا میں بھی چھوٹے چھوٹے امریکہ بکثرت پائے جاتے ہیں

۔

 

حالیہ سیاسی صورتحال نے جہاں ایک طرف ہماری عوام کو ایک سیاسی شعور دیا ہے وہاں اس نے ہمیں اس بات کا بھی احساس دلایا ہے کہ قرض دینے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ قرضہ دینے والا قرضہ دار کی غیرت، خودی یا انفرادیت کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لے۔ ہمارے معاشرے میں یہ سوچ بدرجہ اتم غالب آ چکی ہے کہ جب ہم کسی کے ساتھ کوئی بھلائی کر لیتے ہیں تو وہ شخص ہمارا مقروض ہو جاتا ہے۔ اس بھلائی کولٹانے کا اختیار ہم اپناسمجھ بیٹھتے ہیں، کہ کس صورت میں اور کس ٹائم پہ لٹائی جائے اور کتنے سود پہ طلب کی جائے یہ سب اختیار ہمارا ہوتا ہے۔ ہم واپسی کا مطالبہ کرتے وقت اس بات کو یکسر نظر انداز کر بیٹھتے ہیں کہ اس دوران ہم دوسرے شخص کی عزت نفس کو کتنا مجروح کر رہے ہوتے ہیں۔ اکثر اس وقت ہمارے الفاظ سے غرور اور خودپرستی جھلک رہی ہوتی ہے اور ہم بار بار اس شخص کو احساس دلاتے ہیں کہ میں نے خود پر کتنا ظلم کر کے تمھارے ساتھ اچھائی کی۔ اپنے انداز بیاں سے اپنی بھلائی کو کئ گنا بڑھا کر پیش کرتے ہیں اور اپنے الفاظ سے یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس وقت میرے مطالبے کا پلڑا آپ کی تمام مجبوریوں،خواہشوں اور ضرورتوں کے پلڑے سے زیادہ بھاری ہے۔اگر ہم اس مرحلے میں کامیاب ہو جائیں تو بجائے ہم اس شخص کے شکرگزار ہوں کہ اس نے میری ضرورت کو اپنی تمام خواہشات اور ضروریات پہ ترجیح دی اور میری مرضی کے وقت اور صورت میں مجھے میری بھلائی لوٹائی، ہمارا رویہ مزید حاکمانہ اور مغرور ہو جاتا ہے تاکہ اس کو اس بات کا احساس دلایا جا سکے کہ یہ کام کوئی جوئے شیر لانے کے مترادف نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم اس کو بھلائی لوٹانے پہ قائل نہ کر سکے تو پھر ہم اس کو اپنے معاشرے کی جنرل اسمبلی میں بدنام کرنے کی کوئی قصر نہیں چھوڑتے، ہم اس کے اس عمل کو کیمیائی ہتھیار بنا کر پیش کرتے ہیں، لوگوں کی سکیورٹی کونسل میں ایک پراپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں اور اپنی سماجی حیثیت کو استعمال کر کے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں میں اس کو اتنا بدنام کر دیا جائے کہ لوگ اس سے متنفر ہو کر اس کا ایک غیر محسوس سوشل بائیکاٹ کر دیں۔ کچھ لوگ تو اس امریکیت میں اس حد تک آگے نکل جاتے ہیں کہ وہ اپنی اس اچھائی کے قرضے کے ساتھ اپنی دشمنی کا بوجھ بھی آپ پر لاد دیتے ہیں۔ اور اگر آپ کہیں ان کے اس سماجی روس کے ساتھ کوئی سلام دعا کرتے پائے گئے تو پہلے آپ کو غیرسفارتی انداز میں تنبیہ ملتی ہے اور پھر آپ کے ہاں رجیم چینج کا کھیل کھیلا جاتا ہے۔ اور اگر آپ کے گھر میں کوئی اپوزیشن اس کھیل کا حصہ نہ بنے تو پھر آپ کو سماجی سکیورٹی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قرادادوں اور سوشل بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

رمضان کا مہینہ ختم ہونے کو ہے، اکثر لوگ اسی مہینے میں اپنے مال کی زکات دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی لوگ اس مہینہ میں صدقہ و خیرات زیادہ کرتے ہیں۔ عیدالفطر سے پہلے فطرانہ بھی لوگ اکثر زکات کیساتھ ہی دے دیتے ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ جاننے والوں میں یہ رقم بانٹتے ہیں، اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے۔ لیکن ہم نے اکثر یہ بھی دیکھا ہوتا ہے کہ پھر پورا سال ان زکات لینے والوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ہم ان کو اس زکات و خیرات کے بوجھ تلے پورا سال گھسیٹتے ہیں۔ ان میں سے اکثر ہمارے باقاعدہ ملازم نہیں ہوتے اور ہم انہیں ضرورت کے وقت کام میں مدد کی غرض سے بلاتے ہیں۔ اور چونکہ مدد کی غرض سے بلاتے ہیں تو اکثر معاوضہ نہیں دیتے اور اگر دیتے بھی ہیں تو اپنی دی ہوئی زکات کا رعب جھاڑ کر یا اگلے سال کی زکات پر بلیک میل کر کے پچاس سو روپے تھما دیتے ہیں۔ اور وہ بیچارہ خاموش ہو جاتا ہے۔ اس روش کو کچھ Beggars can't be choosers کا محاورہ بول کہ ٹھیک ثابت کرتے ہیں اور خود کو تسلی دیتے ہیں۔

 

عمران خان نے قومی سطح پر اس عالمی امریکیت کے خلاف آواز اٹھائی تو مجھے لگا کہ میں اس سماجی امریکیت کے بارے میں بھی کوئی شعور پیدا کروں۔ یہ روش ہمارے سماجی رشتوں کو نفع نقصان کے ترازو میں تول کر کھوکھلا کر رہی۔ جس طرح ہر سرمایہ کاری کا نفع ہماری مرضی کے وقت اور مقدار میں نہیں ملتا اسی طرح  ہماری کی ہوئی ہر بھلائی کا بدلہ بھی ہماری مرضی کے وقت اور صورت میں نہیں ملتا۔ انسان وعدہ توڑتا ہے، رب العالمین نہیں۔ اور یہ اسی کا وعدہ ہے کہ ھل جزاء الاحسان الا الاحسان۔ 

 

ایک بُلبل ہے کہ ہے محوِ ترنّم اب تک

 

اس کے سینے میں ہے نغموں کا تلاطم اب تک 

 

وہ پُرانی روِشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں

 

ڈالیاں پیرہنِ برگ سے عُریاں بھی ہوئیں

 

قیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی

 

کاش گُلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی!


ڈاکٹرذیشان صبور کی دیگر تحریریں