جدید مسائل اوراسلام

شوہرکے پاس طلاق دینے کی اتھارٹی نہیں

  2022-05-26 06:33:37
  4804

 

ابتدائی گذارش:

 

بیزن خیل (بنوں) میں ایک وزیرنوجوان نے اپنے  کزن بہنوئ کو قتل کردیا- اسکی جوان بہن عرصہ چارسال سے اسکے گھرروٹھی بیٹھی تھی جسکی وہ دوسری جگہ شادی کرانا چاہتے تھے- اسکا بہنوئ جو اسلام آباد میں ملازمت کرتا تھا ، وہ خود دوسری شادی کرچکا تھا مگرانکو اذیت دینے کیلئے طلاق کا لفظ منہ سےنکالنے کو تیار نہیں تھا – مولوی صاحبان کے مطابق جبتک شوہرطلاق کا فرمان جاری نہ کرے تو طلاق نہیں ہوسکتی ، پس یہ بیچاری چار سال سے لٹکی ہوئ تھی- کئی جرگے ناکام ہوچکے تھے- اس دوران کسی نے اس لڑکی کے بھائ کو سمجھایا کہ اگر تمہاری بہن بیوہ ہوتی تو صرف چار ماہ تک ہی انتظار کرنا ہوتا- چنانچہ ا س نے بہنوئ کو انجام تک پہنچادیا تاکہ اس کی بہن دوسری شادی کیلئے بغیرکسی منت ترلے کے" آزاد "ہوسکے-

ہم عرض کرتے ہیں کہ  قرآن میں شوہرکے ہاتھ میں طلاق کا اختیار ہے ہی نہیں- نہ تو اسکے کہنے پرطلاق واقع ہوتی ہے اورنہ ہی اسکے انکار پریہ رک سکتی ہے-

دنیا کے کسی سماج میں ایسا رواج نہیں ہوگا کہ دوبندے، جو باہمی رضامندی سے آپس میں کسی معاملے میں پارٹنر بنے ہوں، ان میں سے ایک پارٹنر کویہ اختیار حاصل ہوکہ وہ دوسرے پارٹنر پر کوئ الزام  لگائے، پھر خود ہی اسکی تفتیش  کرے اور پھر خود ہی  اسکو سزا سنا دے-

 

خاکسار یہ سمجھتا ہے کہ کسی بندے کےقتل کے بعد ،شاید دوسرا بڑا جرم کسی عورت کو طلاق دینا ہے –طلاق کے بعد اس عورت کی روح قتل ہوجاتی ہے-ایک آزاد انسان کی عزت اور جان ومال سے جڑے اتنے بڑے فیصلے کا اختیار ، ایک دوسرے فرد کے مکمل اختیارمیں دے دیا جائے؟ یہ تومنطق کے ہی خلاف ہے تو اسلام جیسے معقول دین کو یہ بات کیونکر قبول ہوسکتی ہے--

 

اسلام ایسا دین ہے جو کمزور کی حمایت کرتا ہے- غورکیجئے کہ شریعت میں ایک والد، اپنے نافرمان بیٹے کو ازخود اپنی جائیداد سے عاق کرنے کا اختیار نہیں رکھتا حالانکہ وہ جائیداد ، اسی والدنے اپنی محنت سے بنائ ہوئ ہوتی ہے- جب ایک والد کو اپنی سگی اولاد کی حق تلفی کا اختیار نہیں دیاجاسکتا تو ایک دوسرےمردکے مزاج پر، کسی اورکی بیٹی کی زندگی کا مدارکیوں کررکھاجاسکتا ہے؟- 

 

چنانچہ، قرآن کا قانون یہ ہے کہ عورت اورمرد، شادی تبھی کرسکتے ہیں جب دونوں فریقین رضامند ہوں اور شادی ختم تبھی ہوسکتی ہے جب ایک جرگہ یا قاضی اسکومعاہدہ کو ختم کرنے کا فیصلہ کرے گا- اس مضمون میں ہم طلاق بارے قرآن سے اپنا فہم پیش کریں گے- عین ممکن ہے کہ ہمارا فہم ناقص ہو – لھذا قرآن ہی سے ہماری غلط فہمی دورکی جائے تو ممنون ہونگے مگرقرآن سے نیچے کسی اور کتاب کو رفرنس ماننے کو تیار نہیں- اس لئے کہ قرآن سے نیچے، کسی اور کتاب کو قانونی رفرنس مانا گیا تو شریعت اسلامی ایک کھلواڑ بن جائے گی جیسا کہ طلاق کے ایشو  پر بن چکی ہے-  

اس طلاق کے ایشو پر، دیوبندی اور اہلحدیث مسالک کے اختلاف کو ہی لے لیجئے- 

اہلحدیث حضرات کہتے ہیں کہ جبتک تین مختلف نشستوں میں شوہراپنی بیوی کوطلاق نہیں دیتا، ایک ہی مجلس میں اگرایک ہزارباربھی طلاق کہہ دے تویہ صرف "ایک طلاق"شمارہوگی-(یعنی انکی طلاق نہیں ہوگی)-

دیوبندی کہتے ہیں کہ ایک ہی مجلس میں اگرشوہرنے بیوی کو تین بارطلاق کا لفظ بول دیا(چاہےمذاق میں یاغصہ میں) توبرسوں پرانامیاں بیوی کا رشتہ بھی یوں ٹوٹ جاتا ہے جیسا کہ بجلی کا بٹن دبا دیا گیا ہو(یعنی فورا"طلاق ہوجاتی ہے)-

ذراسی بھی کامن سینس ہوتواس پرغورکیجئے گاکہ دیوبندی اوراہلحدیث دونوں ایک دوسرے کومسلمان کہتے ہیں- ایک عورت کواسکےشوہرنے تین بار طلاق کہہ دیا اوراسکے بعد بھی اسکے ساتھ میاں بیوی والا تعلق رکھے ہوئے ہے تو دیوبندی اسلام کے تحت، وہ ہررات زنا کا"گناہ کبیرہ"کرتا ہےجبکہ اہلحدیث اسلام کے مطابق وہ ہررات "عبادت" کیا کرتا ہے(کیونکہ اپنی بیوی سے صحبت کرنا بھی عبادت ہے)-

یعنی ایک ہی قسم کافعل کرنے پرایک مسلمان، دوزخی بھی قرارپاتا ہےاورجنتی بھی –(لاکھوں خاندان، انہی تشریحات کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں)-

ہم عرض کرتے ہیں کہ جب تک دینی قانون سازی کیلئے قرآن کے علاوہ دیگرکتب کو ریفرنس مانا جاتارہے گا، یہی صورتحال برقراررہے گی-

 

ہمارا یہ موقف ہے کہ اسلام میں شوہرکے پاس بیوی کو طلاق دینے کی اتھارٹی نہیں ہے بلکہ یہ اتھارٹی، کسی ثالث یا کورٹ کے پاس ہے-

 

چونکہ یہ ایک ایسا موقف ہے جو مسلم سماج میں صدیوں سے رائج رسم کے مخالف ہے تو عام مسلمان کیلئے اسے بآسانی قبول کرنا مشکل ہی ہوگا- چونکہ مسلمانوں کو دلیل کی بجائے شخصیات اورقرآن کی بجائے، دیگر کتب وافکار سے زیادہ وابستگی ہوگئی ہے توانکو ہر وہ بات ہضم نہیں ہوتی جو مشہور مولوی صاحبان کے موقف سے ہٹ کرہو-

بہرحال، ہمارے ذمہ بات کواحسن طریقہ سے پہنچانا ہے- کسی کو منوانے کے ہم مکلف نہیں ہیں- پس مضمون کو مندرجہ ذیل پیراگرافس میں تقسیم کیا ہے تاکہ بات ایک ترتیب سے آگے بڑھتی رہے-

 

1- طلاق مغلظہ اورطلاق معلقہ

2- حضرت خولہ کی طلاق

3- ٹیکنیکل ڈاکومنٹس کو پڑھنے کا طریقہ:

4- FIDIC والی مثال پراعتراضات

5- خلع کا"قانون" 

6- اختلاف کا حل- 

 

 

اب ہم ان عنوانات پرمختصر بحث کرتے ہیں-

 

1- طلاق "مغلظہ" اورطلاق "معلقہ"

 

دراصل یہ بات ہمارے مذہبی طبقہ کیلئے ہضم کرنا مشکل ہے کہ عورت بھی ایک انسان ہوتی ہے جسکی ایک عزت نفس بھی ہوتی ہے-

 

جب ہم نے اپنے مضمون میں عرض کیا کہ قرآن کی رو سے شوہرکے پاس طلاق دینے کی اتھارٹی نہیں ہے بلکہ یہ اتھارٹی کورٹ یا جرگہ کے پاس ہے تواس پرایک جدیدتعلیم یافتہ اہل علم دوست نے تبصرہ کیا کہ " آپ کسی کو یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ اپنا مال درست طریقے سے صرف کریں مگریہ کہنا کہ مال کی ملکیت ہی آپکے پاس نہیں، یہ ایک بڑا مغالطہ ہے"- 

 

دراصل، مذہبی لوگوں کے ہاں، بیوی ایک پراپرٹی کی حیثیت رکھتی ہے-(بلکہ پراپرٹی میں بھی شاید پاؤں کی جوتی کی حیثیت رکھتی ہے)-

 

قرآن کہتا ہے کہ کسی کے جرم کی سزا کسی اور شخص کونہیں دی جاسکتی مگرمولوی صاحبان نے ایک ایسی شریعت تخلیق کی ہوئ ہے کہ عورت کو بغیرکسی جرم کے بھی اسکا شوہر، طلاق کی تاعمر سزا دے سکتا ہے-

 

چنانچہ، کسی کی نیکوکاروفادار بیوی بیچاری گھرمیں بیٹھی، اسکے بچوں کیلئےکھانا بنا رہی ہے مگرشوہرصاحب، بازار میں کسی بندے سے گرم سرد ہوگئے تو وہیں سے فقط تین لفظ طلاق کے نکالے اور یہاں بیوی کو انجانے میں ہی ساری عمرکیلئے طلاق "مغلظہ" مل گئی، بغیرکوئ جرم کئے- 

 

پچھلےدنوں کسی مولوی صاحب نےاپنے "علماء" کی بصیرت کی داد دینے ایک پوسٹ شیئر کی جسکے مطابق ایک پٹھان طالبعلم کراچی کے کسی مدرسے میں داخلہ لینا چاہتا تھا مگراسکے نمبر کم تھے- اس طالبعلم نے قسم کھالی کہ اگر مجھے داخلہ نہ ملا تو میری بیوی کو طلاق ہو- علماء نے اسکو داخلہ دے دیا مگرایک ہفتہ بعد خارج کردیا- اس طرح، اسکی بیوی بھی بچالی اوراپنا معیار بھی-

 

یعنی اندازہ کیجئے کہ یہ بڑے علماء یہی سمجھتے تھے کہ داخلہ نہ دیا گیا توواقعی اسکی بے گناہ بیوی کو طلاق ہوجائے گی-(اوراگر وہ طالب علم یہ قسم کھالیتا کہ اگر اس مدرسے سے فارغ التحصیل نہ ہوا تو بیوی کو طلاق تو پھرعلمائے کرام کی بصیرت شاید کوئ اورحیلہ ڈھونڈتی)-

 

اچھا، خداکی شریعت کے ساتھ کھلواڑ کرنے، ان لوگوں نے ایک اورقانون بنایا ہوا ہےجسے "طلاق معلقہ" کہتے ہیں- اسکا واقعہ سنئے اورسردھنیئے-

 

کئی برس پہلے، تبلیغی جماعت کے ساتھ کشمیرکو تشکیل ہوئ تو ہمارے ساتھ لکی مروت کےایک مفتی صاحب تھے جو "ایک سال" کی تشکیل میں چل رہے تھے- انہوں نے واقعہ سنایا کہ انکے ایک کلی وال ، کراچی کے کسی دینی مدرسے میں چوتھے درجہ میں طالبعلم تھے- انکے رومیٹ نے اس زمانے میں ایک موبائل لیا تھا جواس لڑکے نے چوری کرلیا- ساتھی طالبعلم کو شک گذرا تواس نے ان سب کو طلاق"معلقہ" کا حلف دیا- (قسم قرآن اس لئے نہیں اٹھوایا ہوگا کہ اسکو معلوم ہوگا کہ مولوی کیلئے یہ آسان بات ہے)-

 

یہ چاروں طالبعلم چونکہ کنوارے تھے تو یوں حلف اٹھایا گیا کہ "جس کسی نے موبائل چوری کیا ہو تو شادی ہوتے ہی اسکی بیوی اس پرطلاق ہوجائے"- اس وقت تو شرماشرمی، مفتی صاحب کے کلی وال نے حلف اٹھا لیا مگربعد میں جب اسکی شادی ہوئ تو نکاح ہوتے ہی اعلان کیا کہ میری بیوی مجھ پر طلاق ہوگئی ہے- سب باراتی بھی روتے پیٹتے رہے مگراللہ کے حکم کے سامنے کسی کی کیا مجال تھی؟-

 

قارئین کرام- اگر کسی کےسینے میں انسان کا دل ہو(مولوی کا نہیں) تو خودمحسوس کیجئے گا کہ عین رخصتی کے وقت جس لڑکی کو بلاکسی جرم کے طلاق دے دی گئی تو اسکے اوراسکے والدین کے دل پہ کیا گذری ہوگی؟-

 

میں نے مفتی صاحب سے پوچھا کہ آپ نے اسے روکا نہیں؟- کہنے لگے میں نے اس کو بہت برابھلا کہا کہ تم نے اس وقت طلاق والاحلف کیوں اٹھایا تھا؟- سبحان اللہ-

 

یہ تو آج کے زمانہ کے مولوی صاحبان کا حال ہے- انکے اسلاف کے ہاں تو بیوی کی حیثیت، پاؤں کی جوتی نہیں بلکہ" لڈو"والی گیم میں  ایک گوٹی جیسی ہوتی تھی-

 

امام ابوحنیفہ کے فہم وفراست کے واقعات پڑھ لیجئے اوراندازہ کیجئے کہ انکی  شریعت میں بیوی کی کیا حیثیت ہوتی تھی- ایک آدمی سیڑھی پرچڑھ رہا تھا- اس نے سیڑھی کے درمیان پہنچ کراعلان کیا ، اگر میں ایک قدم آگے چڑھا تو میری بیوی مجھ پرطلاق- ایک قدم نیچے اترا توبھی طلاق- یہاں کھڑا رہا تو بھی طلاق-

 

امام ابوحنیفہ صاحب کو بلایا گیا تو انہوں نے اسکا حل نکالا کہ ایک اورسیڑھی ساتھ رکھ دیں اوریہ بندہ سائیڈ پرہوکردوسری سیڑھی سے اترے تو اسکی بیوی طلاق سے بچ جائے گی-

 

میں نے ایک مولوی صاحب دوست کو یہ واقعہ سنایا تو فرمایا کہ آپکی غلط بیانی تو یہاں سے ظاہر ہوجاتی ہے کہ یہ واقعہ امام ابویوسف صاحب کا ہے نہ کہ امام ابوحنیفہ کا- 

 

بیوی تو ایک الگ جیتا جاگتا آزاد انسان ہوتاہے- جبکہ اسلام نے خود اپنی جان کو سزا دینے کا اختیار بھی فرد کے حوالے نہیں کیا- اس لئے تو خود کشی کرنا حرام ہے اور ہرانسانی معاشرے میں قابل سزا جرم ہے- حالانکہ خودکشی کرنے والا بندہ، صرف اپنی جان پر ظلم کررہا ہوتا ہے نہ کہ کسی اور انسان پر- غیرمذہبی معاشروں میں خودکشی اس لئے ناگوار ہے کہ ایک انسان سے کئی انسان جڑے ہوتے ہیں جنکو اسکی موت سے نقصان سے پہنچتا ہے مگراسلام میں اس لئے خودکشی حرام ہے کہ جان خدا کی امانت ہے اور اس میں خود بندہ بھی خیانت نہیں کرسکتا- سوچیئے کہ جب اپنی جان کو ہلاک کرنے کا اختیار شریعت نے نہیں دیا تو ایک دوسرے انسان کو "روحانی" طور پرہلاک کرنے کا اختیار کیسے حاصل ہوسکتا ہے؟-

 

بہرحال، آگے ہم اس ایشو پراپنی قرآنی تفہیم پیش کرتے ہیں-

 

 

2- حضرت خولہ کی طلاق

 

زمانہ جاہلیت میں،عرب میں سخت ترین طلاق اسکومانا جاتا تھا جب کوئ شوہراپنی بیوی کوماں برابرکہہ دیتاتھا-

دراصل جوجملہ اس موقع پربولاجاتا تھا وہ کچھ زیادہ ہی "نامناسب" تھا تو قرآن نے اشارتا" اس جملے کویوں نقل کیا کہ جب شوہراپنی بیوی کویہ کہتا تھا کہ"  تمہاری پشت مجھ پرایسے ہے جیسا کہ میری ماں کی پشت ہے" توبیوی کوگویاایسی سخت ترین طلاق ہوجاتی جس میں رجوع کی گنجائش نہیں ہوتی تھی- 

 

حضرت اوس ایک صحابی تھے جومزاج کےتیز تھے- انہوں نے اپنی بیوی حضرت خولہ کو یہی جملہ بول کرطلاق دے دی-(چونکہ پرانے رسم ورواج کی عادت پوری طورختم نہیں ہوئ تھی)- 

 

عرب معاشرے میں طلاق کوئ اتنی بڑی بات نہیں تھی مگرایک تو حضرت خولہ کی عمرزیادہ تھی، دوسرے وہ غریب بہت تھیں توگویاشوہرکے گھر سے نکل کرمکمل بےگھرو بے آسرا ہوجاتیں- چنانچہ یہ روتی ہوئ جناب رسول اکرم کے پاس شکایت کرنے آئیں کہ اس طلاق کوروک دیں( رسول کیوں روک سکتے تھے اگرخدانے طلاق کی اتھارٹی شوہرکودے رکھی تھی؟)- 

 

خیر،رسول اکرم نےجب یہ جملہ سنا(جوکہ عام جملہ نہیں تھا) تو انہوں نے یہ سمجھ کراب سمجھانے بجھانے سے مصالحت کا امکان ختم ہوگیا(یا پھر پرانے رواج کے مطابق) یوں فرمایا کہ طلاق توہوگئی( گویا سپریم کورٹ نے اس طلاق کو ویلیڈیٹ کردیا)- 

 

مگراس غم کی ماری بیچاری کے پاس سپریم کورٹ سے اوپربھی ایک اتھارٹی تک رسائ کی سبیل موجود تھی-چنانچہ، وہیں زمین پربیٹھ کرجھولی پھیلائ اور رب محمد کے حضوراپنی بےبسی وبیچارگی کی فریادکی-(یہ بتا کرکہ تیرے رسول سے بھی میری دادرسی نہیں ہوئ)-

 

رب العالمین نے اپنی غمزدہ بندی کا استغاثہ سنا-فورا"جبرائیل امین، امرملکی لیکررسول امین کے پاس پہنچے کہ نہ صرف اس سخت ترین طلاق کو کالعدم قراردیا جاتا ہے بلکہ اس عورت کی برکت سے تاقیامت، اس قسم کی طلاق کو بیہودہ گوئ قراردیا جاتا ہے(یعنی اس قسم کی طلاق کو قاضی تک لانے کی ہی ضرورت نہیں ،اسکولایعنی قراردیاجاتا ہے-اوراگرقاضی کو رپورٹ ہوجائےتوشوہرکوسزادی جائے)-

 

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر طلاق دینے کی اصل اتھارٹی صحابی کے پاس تھی اورقاضی کے پاس نہیں تھی توحضرت خولہ کوطلاق تو پڑگئی تھی- اب اگررسول اکرم نے طلاق کوشوہرسے ہی کینسل کروانا تھا تب بھی قرآن کی رو سے پہلےحلالہ ہوتا پھروہ عورت واپس جاتی- مگریہاں تورسول نے صحابی کی دی ہوئ طلاق کوسرے سے ہی کینسل کردیا تو بتایئے کہ طلاق کی اصل اتھارٹی کس کے پاس ہوئ؟- شوہرکے پاس یا قاضی کے پاس؟-(حلالہ والی بات جمہورکی تفیسرمطابق عرض کی ہے)-

 

مندرجہ بالا واقعات تومسلمانوں کی متفقہ تفاسیر سے اخذ کئے گئے ہیں مگرقرآن کی آیت کا ٹیکسٹ آپ خود ملاحظہ کرلیجئے گا تاکہ ابہام باقی نہ رہے- یہ سورہ مجادلہ ہے جسکی پہلی دو آیات ہمارے موضوع سے متعلق ہیں-

پہلی آیت میں لکھا ہے" بیشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے معاملے میں آپ سے بحث کررہی ہے اور اللہ کی بارگاہ میں شکایت کرتی ہے اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے، بیشک اللہ خوب سننے والا،خوب دیکھنے والاہے"۔

 

اس ٹیکسٹ سے اتنا معلوم ہوا کہ کوئ عورت اپنا مقدمہ لیکررسول کرم کے پاس آئ تھی اور اللہ نے اسکی بات سن لی یعنی اسکا مطالبہ پورا ہوگیا-

 

مطالبہ کیا تھا؟- اس بارے اگلی دوآیات دیکھتے ہیں- آیت نمبر دو میں درج ہے" وہ جو تم میں اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہہ بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں اور وہ بےشک بُری اور نِری جھوٹ بات کہتے ہیں اور بےشک اللہ ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے"-

اس آیت سے اتنا پتہ چلا کہ اس عورت کے خاوند نے اسکو ماں کہہ دیا تھا یا ماں قراردے چکا تھا اورقرآن نے واضح کیا کہ زبانی رشتہ بنانے سے اصل رشتہ نہیں بنتا-

 

آیت نمبر تین دیکھئے- "اور وہ جو اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہیں پھر وہی کرنا چاہیں جس پر اتنی بڑی بات کہہ چکے تو ان پر لازم ہے ایک بردہ(غلام) آزاد کرنا قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں یہ ہے جو نصیحت تمہیں کی جاتی ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے"-

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جوخاوند، بیوی کو ماں قراردینے کے بعد پھراسکو بیوی بطور ٹریٹ کرے تو اس پراس بیہودہ بات کرنے کا جرمانہ یہ ہوگا- (مگریہ کہ بیوی کی طلاق نہیں ہوگی- صرف غلط بات کہنے پرجرمانہ اداکرنے کے بعد ہی اس بیوی سے صحبت کی اجازت حاصل ہوگی)-

 

چوتھی آیت میں دوسری آیت والی سزا کی مزید تفصیل ہے- لکھا ہے" پھر جسے بردہ نہ ملے تو لگاتار دو مہینے کے روزے قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں پھر جس سے روزے بھی نہ ہوسکیں تو ساٹھ مسکینوں کا پیٹ بھرنا یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے"- 

 

اب یہاں تک پہنچ کربھی ہمیں قرآن سے تو معلوم نہیں ہوتاکہ اس عورت کا اصل مطالبہ کیا تھا؟- کیا اسکوخاوند اسکو طلاق دے چکا تھا جسکوواپس کروانے وہ قاضی کے پاس آئ تھی یا خاوند کی دی ہوئ گالی اسکو بری لگی تھی اور وہ اس گالی کی سزا دلوانے اسکے پاس آئ تھی؟-

 

ہم دونوں کیس لے لیتے ہیں- 

سارے مسلمان مفسرین یہ اخذ کرتے ہیں کہ وہ عورت اپنی طلاق واپس کروانے آئ تھی اور خدا نے اس طلاق کو کینسل کردیا- ثابت ہوا کہ اتھارٹی خاوند کے پاس نہ تھی- اس لئے کہ خاص اسی ایک عورت کیلئے اگرخدا نے طلاق واپس کی ہوتی تو بھی قرآن ہی کے دوسرے قانون مطابق اسکو "حلالہ" کا کہا جاتا (جسکے بعد رجوع ممکن ہوتا) مگریہاں تو ایسی کوئ بات ہی نہیں بلکہ خاوندکی دی ہوئ طلاق کوسرے سے ہی کالعدم کرکے اسکو سزا دی گئی-

 

ان آیات سے ایک دوسرا کیس بھی لیا جاسکتا ہے(جوکہ کسی بھی مفسر نے نہیں لیا) اوروہ یہ کہ عورت صرف اپنے خاوند کواس گالی کی سزا دلانے آئ تھی (جسکی سزا پہلے سے کہیں رواج میں نہیں تھی)- پس خدانے اس عورت نے مطالبے پراس خاوند کوگالی کی سزا سنا دی-ایسا مفہوم اگر لے لیں تو طلاق والی بات سرے سے ختم ہی ہوگئی اورپھر یوں ثابت ہوا کہ خاوند کو اجازت نہیں کہ بیوی کو گالی دے- اس تشریح کو ماننے سے قباحت یہ ہوگی کہ قرآن کی ہی ایک اور شق میں خاوند کوبیوی پر غصہ کرنے بلکہ ہلکا تشدد کرنے کی بھی اجازت ہے توغصہ کرنےمیں منہ سے گالی نکل جانے پراس قدر بھاری تاوان کرنا، لوجیکل نہیں لگتا-

 

چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کا ہی کیس تھا جسکو قاضی نے اپنی اتھارٹی سے ختم کردیا- 

 

بھائ دوستو!

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ عرب جاہلیت میں جہاں عورتوں پردیگرمظالم روا تھے، وہاں یہ رواج بھی تھا کہ طلاق کا اختیار شوہرکے پاس ہوتا تھا- (ہوسکتا ہے اسلام کے شروع ایام میں یہ رسم باقی رہی ہوجیسا کہ وراثت وغیرہ رواج بھی عرصہ تک باقی تھے)- مگرہم یہ عرض کرتے ہیں کہ صحابہ کرام کے پاس جب قرآن کی سورہ نساء کی آیات 34 اور35 پہنچ گئیں توانکومعلوم ہوگیا کہ اب طلاق کو"ولیڈیٹ" کرنے کی اتھارٹی، رسول کے پاس ہے- اسکے بعد جب بھی کوئ طلاق کا کیس ہوتا تھا، تو قاضی(یعنی رسول) کے پاس لایا جاتا تھا –

 

ہمیں اس سے انکار نہیں کہ بنوامیہ اوربنوعباس کےعیاش خلفاء کی خاطر جب نئی نئی احادیث گھڑی گئیں توقرآن کے متوازی ایک اورشریعت وجود میں آگئی جو سینکڑوں سال رواج پانے کے بعد"تواتر" کا درجہ اختیارکرگئی ہے مگرخدا کا شکرہے کہ قرآن نامی کتاب ، ابھی تک محفوظ موجود ہے- یہ وہ زندہ کتاب ہے جوہردور میں اپنا آپ منواتی رہتی ہے جیسا کہ آج ہم اسی کتاب کی مدد سے ببانگ دہل یہ عرض کررہے ہیں کہ طلاق دینے کی اتھارٹی شوہرکے پاس نہیں بلکہ قاضی یا جرگہ کے پاس ہے- 

 

3- ٹیکنیکل ڈاکومنٹس کو پڑھنے کا طریقہ:

 

ٹکنیکل اورلیگل ڈاکومنٹس کو پڑھنے کاایک خاص طریقہ ہوتا ہے،جسے غوروتدبرکرنے والابندہ ہی سمجھ سکتا ہے- اس کے لئے ایک مثال پیش کرتا ہوں-

انجنئرZafar Iqbal Wattooصاحب نے ایک پراجیکٹ کیلئےSKB کمپنی کو ہائرکیا-اگرچہ وٹو صاحب اورکمپنی، دونوں ایک ہی فیلڈ (کنسٹرکشن انڈسٹری )سے تعلق رکھتے ہیں تاہم اس پراجیکٹ پرانکارول اورذمہ داری الگ الگ ہے-ان دونوں کو عالمی معاہدات کی مقدس کتابFIDIC کے تحت باہمی معاملات چلانےہوتے ہیں-(اگرچہ وٹوصاحب سینئرسٹیک ہولڈر ہیں)- 

معاہدہ کی کتاب میں وٹو صاحب کو خطاب کرکے مندرجہ ذیلClauses موجود ہیں۔جو کہ الگ الگ جگہ پرمختلف نمبروں میں موجود ہیں-مثلا":

1- آپ کوشش کریں کہ کمپنی کو ساتھ چلاتے رہیں ،اگر وہ کوئ کام غلط کریں تو انکو نوٹس دیکرمتوجہ کریں-زیادہ گڑبڑکریں تو انکو Fine بھی کرسکتے ہیں-

2- اگرکمپنی آپکو فالو نہیں کرتی اور آپ اسکو بالاخرTerminate کریں تواچھے طریقے سے کریں- اسکے سارے واجبات اداکریں-

3- جب آپ کمپنی کو Terminate کریں گے تواس کیلئے،دونوں فریقین کے نمائندوں پرمشتمل Arbitration boardکےسامنے معاملہ رکھا جائے گا –یہ بورڈ اگرTermination کا فیصلہ کردے تو اتنے دن کے نوٹس پر، کمپنی کو اس پراجیکٹ سے الگ کردیا جائے گا-

4-پراجیکٹ سے علیحدگی کے بعد، آپ کمپنی بارےNegative propaganda 

نہیں کریں گے اورمارکیٹ میں اسکی Reputation خراب نہیں کریں گے-

اوپردی گئی، چاروں شقوں کو جب ایک ماہرٹیکینیکل بندہ پڑھے گا تواسے فورا" دوباتوں کی سمجھ آجائے گی :

ایک یہ کہ شق نمبر 1،2، اور4 صرفTerminationکےپہلے اوربعدکی صورتحال بیان کرتی ہیں مگرTerminationہوگی کیسے؟ اسکا پروسیجر شق نمبر تین میں درج ہے-

دوسری بات یہ کہ Terminationکا اصل اختیار Arbitration boardکو حاصل ہے نہ کہ وٹو صاحب کو- وٹو صاحب کونام لیکرجو خطاب کیا گیا، وہ مجازا" کیا گیا کیونکہ وہ سینئرسٹیک ہولڈر ہے– Arbitration board جسے پشتو میں "جرگہ" اورپنجابی میں "پنچایت" کہتے ہیں، وہ اسی لئے ہوتا ہے کہ جھگڑے کواچھے طریقہ سے حل کرےتاہم ہر فیصلے کااختیار اسی "جرگے" پاس ہوتا ہے(جسے پشتو میں " واک دینا " کہتے ہیں)- 

اگر کوئ بندہ کسی ایشو پر ایک جرگہ بلا نے کے بعد یہ بھی کہے کہ فیصلہ کا اختیار میر ےاپنے پاس ہوگا، تو نرا احمق ہی ہوگا-

مزید آگے چلیں:

اسی FIDIC میں آگے جاکر،ایک اورشق لکھی ہوئ ہے –جو مندرجہ ذیل ہے:

5-اگر آپ کمپنی کو غیرقانونی سرگرمی میں ملوث پائیں تو فورا"عدالت یا جج سے رجوع کریں- جج صاحب ،تفتیش کے بعد یاتو کمپنی کو حکومت کے قانون کے مطابق سزادیں گے یا پھراسے بری کریں گے –مگرچونکہ بات ایک دوسرے کے خلاف ایف آئ آر تک پہنچ گئی تواب جج صاحب،اس کمپنی کو آپکے پراجیکٹ سے الگ کردیں گے"- 

اس شق سے بھی معلوم ہوا کہ وٹو صاحب، غصہ میں آکر،خود اس کمپنی کو Terminateنہیں کرسکتے بلکہ جج صاحب یا پھر جرگہ ہی یہ کام کرے گا جیسا کہ اوپرشق نمبر 3 میں گذرچکا ہے-وٹو صاحب کو خطاب کرکےیہ کہنا کہ "جب تم اسے ٹرمینیٹ کردو" کا مطلب یہ ہے کہ جب Due process of terminationہوجائے تو پھر اسکے بعد یہ یہ کام کرناہوگا-

یہ ہوتا ہے، کسی ٹکنیکل ڈاکومنٹ یاکسی معاہدہ کو پڑھنے کا طریقہ- صرف پہلی شق پڑھ کر، یہ سمجھ لینا کہ Termination کا اختیار وٹوصاحب کے پاس ہے، نہ صرف ڈاکومنٹ کی روح کے خلاف ہے بلکہ پراجیکٹ کی روح کے بھی خلاف ہے-

اب آپ قرآن نامی کتاب کی طرف آیئے- یہ کتاب، انسانی سماج کے معاہدات کی الوہی مقدس کتاب ہے- اس کتاب میں نکاح وطلاق بارے بھی مختلف Clausesموجود ہیں- 

واضح ہوکہ عربی لفظ نکاح کا ترجمہ Contractاور طلاق کا ترجمہ Termination ہوتا ہے-

جب عورت اورمردکے درمیان شادی کا معاہدہ ہوتا ہے (جس کے بعد، وہ دونوں بیوی اورمیاں کاسٹیٹس مل جاتا ہے )تو اس کتاب کی رو سے، ان دونوں میں شوہر، سینئرپارٹنرقرارپاتاہے(سورہ نورآیت 34) – شادی کا یہ معاہدہ اگر TERMINATE کرنا ہو تو قرآن نامی کتاب میں طلاق کے ایشو پرمندرجہ ذیل CLAUSES موجود ہیں جو اس کتاب میں مختلف جگہوں پرلکھی ہوئ ہیں- 

1- جب تم عورتوں کو طلاق دوتو عدت کے موقع پر طلاق دو اور عدت کے ایام گنتے رہو-(سورہ طلاق آیت نمبر1)

2-اگر انہوں نے طلاق کا عزم کرلیا تو اللہ سننے والا ہے-اورطلاق دی ہوئ عورتیں ایسا ایسا کریں- طلاق کے عمل میں اس طرح لین دین کرنا ہوگا-طلاق کے بعد، ایسی ایسی شرائط لاگو ہونگی-اتنے دن کی عدت ہے اوراتنا ٹائم رضاعت کرنا ہے-( سورہ بقرہ آیات 227 تا 234 تک)-

3- اگرمیاں بیوی میں جھگڑا بڑھ جائے اور باہمی طور پرحل نہ ہوسکے تو پھر شوہرکے خاندان میں سے ایک "حکم" مقررکیا جائے اور بیوی کے خاندان میں سے بھی ایک حکم "مقرر" کیا جائے-(حکم یعنی جج یا ثالث)-ان دونوں کا کام تو یہ ہے کہ آپس میں انکی اصلاح کی کوشش کریں مگریہ لوگ بھی اسی نتیجہ پرپہنچیں کہ طلاق ہی دینی ہے تو پھرطلاق دی جائے گی-(سورہ نساء آیت 35)

4- طلاق کےبعد دوبارہ شادی کیلئے اس طرح کاپروسیجراپنا یا جائے یعنی حلالہ-(سورہ بقرہ آیت 230)

اوپردی گئی، چاروں شقوں کو جب ایک ماہرٹیکینیکل بندہ پڑھے گا تو اسے فورا"دوباتوں کی سمجھ آجائے گی :

ایک یہ کہ شق نمبر 1،2، اور4 صرف طلاق کےپہلے اوربعدکی صورتحال بیان کرتی ہیں مگر"طلاق "ہوگی کیسے؟ اسکا پروسیجر شق نمبر تین میں درج ہے-

دوسری بات یہ کہ طلاق کااصل اختیار ثالث" یعنیArbitration boardکو حاصل ہے نہ کہ شوہر صاحب کو- شوہرصاحب کونام لیکرجو خطاب کیا گیا،وہ مجازا" کیا گیا کیونکہ وہ سینئرسٹیک ہولڈر ہے – Arbitration board جسے پشتو میں "جرگہ" اورپنجابی میں "پنچایت" کہتے ہیں، وہ اسی لئے ہوتا ہے کہ جھگڑے کواچھی طرح سے حل کرےتاہم ہر فیصلے کااختیار اسی "جرگے" پاس ہوتا ہے(جسے پشتو میں " واک دینا " کہتے ہیں)-

اگرکوئ بندہ ،کسی ایشو پر ایک جرگہ بلانے کے بعد یہ بھی کہے کہ فیصلہ کا اختیار میر ےاپنے پاس ہوگا، تو نرااحمق ہی ہوگا-

یہاں ایک لطیف نکتہ نوٹ کیجئے گا-

قرآن نے میاں بیوی کو نصیحت کی ہے کہ جھگڑابہت بڑھ جائےتو اپنی اپنی فیملی میں سے کم ازکم ایک ایک بندہ نامزد کرکے،جرگہ تشکیل دیں- خدا نےان بندوں کوعربی اصطلاح " حکم" سے بیان کیا ہے جسکا معنی ہی "جج" ہوتا ہے- خدا چاہتا تو یہ کہہ سکتا تھا کہ "ایک ایک بندہ بلاؤ" جسکے لئے جملہ یوں بنتا کہ " الرجل من اھلہا و رجل میں اھلہ " مگرخدانے "حکم "کہا- خدا یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ ایک ایک گواہ بلاؤ جسکے لئے جملہ یوں بنتا کہ "شاھدمن اھلہا وشاہدمن اھلہ"مگرخدا نے"حکم" کا لفظ استعمال کیا- رشتہ دار بلانے کا کہا جاتا تو" قریب" کا لفظ استعمال ہوسکتا تھا مگرCategorically"حکم" یعنی جج کا لفظ استعمال کرنے کا مطلب ہی یہی ہے کہ فیصلے کا اختیار جرگے کے پاس ہوگانہ کہ شوہرکے پاس-(عربی میں Courtیعنی عدالت کو محکمہ کہا جاتا ہے)

مزید آگے چلیں:

اسی قرآن میں آگے جاکر(سورہ نور آیت 6 تا 10) ،ایک اورشق لکھی ہوئ ہے  جسکو "لعان کا قانون "کہتے ہیں–جو مندرجہ ذیل ہے:

5-اگر شوہراپنی بیوی کو غیراخلاقی سرگرمی میں ملوث پائیں تو فورا" عدالت یا جج سے رجوع کریں- جج صاحب ،تفتیش کے بعد یا تو عورت کو شریعت کے قانون کے مطابق سزادیں گے یا پھراسے بری کریں گے –مگرچونکہ بات ایک دوسرے کے خلاف ایف آئ آر تک پہنچ گئی تواب جج صاحب ، اس عورت کو شوہر سے الگ کردےگا"- 

اس شق سے بھی معلوم ہوا کہ شوہر صاحب، غصہ میں آکر، خود اس بیوی کو طلاق نہیں دے سکتابلکہ جج صاحب یا پھرجرگہ ہی یہ کام کرے گا جیسا کہ اوپرشق نمبر 3 میں گذرچکا ہے-

شوہر کو خطاب کرکےیہ کہنا کہ "جب تم اسے طلاق دو" کا مطلب یہ ہے کہ جب Due process of divorceہوجائے تو پھر اسکے بعد یہ یہ کام کرناہوگا-

یہ ہوتا ہے، کسی ٹکنیکل ڈاکومنٹ یا کسی معاہدہ کو پڑھنے کا طریقہ-صرف پہلی شق پڑھ کر،یہ سمجھ لینا کہ طلاق کا اختیارصرف ایک فریق یعنی شوہر کے پاس ہے، نہ صرف قرآن کی روح کے خلاف ہے بلکہ منطق کے بھی خلاف ہے

 

لعان کے قانون کا قرآنی ٹیکسٹ بھی ملاحظہ  کرلیجئے تاکہ اس پربھی کچھ بحث ہوجائے-

سورہ نور آیات 6 تا 10 میں درج ہے-

اور وہ جو اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور ان کے پاس اپنی ذات کے علاوہ گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ایسے کسی کی گواہی یہ ہے کہ اللہ کے نام کے ساتھ چار بار گواہی دے کہ بیشک وہ سچا ہے۔اور پانچویں گواہی یہ ہوکہ اُس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔اور عورت سے سزا کو یہ بات دور کرے گی کہ وہ اللہ کے نام کے ساتھ چار بار گواہی دے کہ بیشک مرد جھوٹوں میں سے ہے۔ اور پانچویں بار یوں کہ عورت پر اللہ کاغضب ہو اگر مردسچوں میں سے ہو۔ اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی اور یہ کہ اللہ بہت توبہ قبول فرمانے والا، حکمت والا ہے(تو وہ تمہاے راز کھول دیتا ) ۔

 

آیات پر غور کرنے سے مقدمہ یہ معلوم ہوا کہ کسی خاوند نے اپنی بیوی کوغیرمرد کے ساتھ ہمبستری کرتے پایا ہو– یہ بات ہم اس لئے کررہے کہ اس سے پہلی والی آیت میں اجنبی عورت پرزناکی تہمت اورقذف کا بیان ہوا اور زیرنظر آیت میں وہی بات اپنی بیوی کے لئے ہورہی ہے-

اب اگلی بات یہ کہ خاوند ، قاضی صاحب کے پاس آکرکیا چاہتا ہے؟- کیا صرف بیوی کو طلاق دلوانا چاہتا ہے یا زنا کی سزا دلوانا چاہتا ہے؟- 

 

یہاں پرہمارا موقف یہ ہے کہ یہ والا خاوند(جس کے پاس چار گواہ نہیں مگرزنا کرتا دیکھ چکا)، وہ قاضی کے پاس اس لئے آیا کہ اس عورت کواس سے طلاق دلوا دے (کیونکہ خود اس کے پاس ازخود طلاق دینے کی اتھارٹی نہیں ہے) –

ہمارے دوستوں کو موقف یہ ہے کہ وہ خاوندکے پاس طلاق دینے کی اتھارٹی تو ہے مگریہاں وہ قاضی کے پاس اس لئے آیا کہ بیوی کو زنا کی سزا دلوائے- ہمارے نزدیک یہ تعبیریا تشریح ناممکن العمل ہے-بلکہ قرآن کے اس قانون کے مطابق تو الٹا ، شوہر کو سزا ہونے کا زیادہ چانس ہے- 

 

 اس بارے ذیل کے پیراگراف پرغور کیجئے-

 

جب قاضی عورت سے حلف اٹھانے کا بولے گا تو اسکے جواب میں عورت، یا تو زنا کا انکارکرے گی یا اقرار کرے گی- دونوں صورتوں میں قاضی نے عورت کے حلف کوہی ثبوت تسلیم کرنا ہے(بحکم قرآن)-

منطقی طور پرعورت اس جرم سے انکار کرلے گی- اب اگر ایسا ہوا تولعان کے قانون مطابق، وہ بلاقصور ثابت ہوگئی- اس پاکیزہ عورت پرالزام لگانے والے مرد کوقرآن کی ایک شق کے مطابق کم ازکم 80 کوڑے لگائے جانے چاہیئں- 

 

یہ بھی ممکن ہے کہ عورت ، قاضی کے سامنے حلف اٹھاتے ہوئے جرم زنا کا اقرار کرلے- اس صورت میں بھی اسکو سزا نہیں دی جاسکتی- کیونکہ زنا ایسا جرم ہے جو دو بندوں کے ملوث ہونے سے وقوع پذیر ہوتا ہے نہ کہ صرف ایک بندہ اپنے ساتھ خود ہی زنا کرسکتا ہے- عورت کے اقرارکی صورت میں ، اسکے پارٹنرکو بھی بلایا جائے گا تاکہ زنا کی تفتیش کے سارے قانونی تقاضے پورے ہوں- اس دوسرے مرد کیلئے پھرچار بالغ مردحضرات کی گواہی درکار ہے(بحکم قرآن)- یہاں مگرایک پوری اورایک آدھی گواہی موجود ہے- پس دوسرا مرد زنا کا انکار کرے گا تولامحالہ اس عورت پربھی زنا کی سزا نہیں جاری کی جاسکتی البتہ اب اس عورت اوراسکے خاوند دونوں پرقذف کی سزا جاری ہوگی- 

لھذا جولوگ کہتے ہیں کہ لعان کے قانون سے زنا کی سزا دلوانا مقصود ہے تووہ اپنی بات ثابت نہیں کرسکتے- ہم کہتے ہیں کہ اس قانون کے بیان سے اتنا مقصود ہے کہ قاضی صاحب دونوں میاں بیوی میں ایسی طلاق کروا دے جس میں شوہرصاحب کو ہرجانہ وغیرہ نہ پڑے اورجان چھوٹ جائے-(ہم کہتےہیں کہ انہی آیات کے تحت، اسی پروسیجرکے مطابق، بیوی بھی اگر چاہے تو اپنے خاوند سے جان چھڑانے قاضی کے پاس جاسکتی ہے جو پھرحلف اٹھوانا شوہرسے شروع کرے گا)-

 

بہرحال، ہم قرآن سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ طلاق دینے کی اتھارٹی صرف قاضی یا جرگہ کے پاس ہے، اورعدالت یا جرگے کے فیصلے کو تسلیم کرنا ہر دوفریقین پرلازمی ہے– البتہ قاضی یا جرگہ کو قرآن نے یہ پابندکیا ہے کہ اگر طلاق کے فیصلے کے باوجود، ایک خاص مدت کے اندر، ہر دوفریقین دوبارہ صلح کرکے ساتھ رہنا چاہیں تو قاضی انکو درمیان نیا معاہدہ کروا کر، انکو یکجا کردے-

مسلم سیکولرز،بوجوہ ،احادیث ورویات کو دینی قوانین کیلئے ریفرنس نہیں مانتے مگرروایات سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام بھی جب بیوی کو طلاق دیتے تھے تو اسکوValidate کرنے حضور کے پاس آتے تھے اور نبی کریم ، بطور قاضی، کبھی اس طلاق کی تصریح فرمادیتے تھے اورکبھی اس کو کینسل کردیتے تھے- چنانچہ اس تعامل سے بھی معلوم ہوا کہ اصل اتھارٹی، قاضی یا حکم کے پاس ہے-(باردگرعرض ہے کہ ہمارے لئے قرآن پاک ہی ریفرنس ہے)- 

 

4- ہماری FIDIC والی مثال پراعتراض:

 

ہمارے ایک محترم دین دار دوست جو FIDICایکسپرٹ بھی ہیں، انہوں نے ہماری اس FIDIC والی مثال پرکچھ اعتراض اٹھایا ہے- دیکھئے کوئ بھی مثال صرف سمجھانے کیلئےدی جاتی ہے جسکا علی کل اطلاق مقصود نہیں ہوتا بلکہ بات کا ایک زاویہ سمجھانے کی کوشش ہوتی ہے- یہ طریق قرآن میں بھی اپنایا گیا ہے- اگر مثال کاکلیہ اطلاق مان کر، اسکی تحلیل کی جائے تو قرآنی مثالوں پربھی انگلی اٹھ سکتی ہے- تاہم، مذکورہ دوست کے احترام میں انکے اعتراضات کوسنجیدہ لے کر، انکا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں-

 

پہلااعتراض: FIDIC کے مطابق انجنئر کوبھی اور کمپنی کو بھی معاہدہ Terminate کرنے کا اختیار حاصل ہے-

دوسرا اعتراض: FIDIC کے مطابق Arbitration Board بنانا ضروری نہیں ہے-

تیسرا اعتراض: اس Arbitrationبورڈ کا فیصلہ ماننا ضروری نہیں ہے-  

 

ہمارا جواب:

FIDIC میں اس لئے انجنئر کومعاہدہ ٹرمینیٹ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے کیونکہ معاہدہ کے شروع ڈاکومنٹ میں ان غلطیوں shortcomings کی فہرست درج ہے جو کمپنی سے سرزد ہوں تو ان کی بنا پرانکا معاہدہ منسوخ ہوسکتا ہے- قرآن میں بیوی کی غلطیوں کی فہرست موجود نہیں ہے جن کی بنا پر، دوسرے فریق کو بغیرجرگہ بلائے ازخود معاہدہ تنسیخ کرنے کی اتھارٹی حاصل ہو- FIDIC کے مطابق، کمپنی کو بھی یہ سہولت حاصل ہے کہ انجنئر کی بعض درج شدہ کمزوریوں کی بنا پر، وہ بھی ازخود معاہدہ ختم کرسکتا ہے- بات وہی ہے کہ یہ والی شق قرآن میں ہوتی (یعنی غلطیوں کی تفصیل) تو پھراس پر غورکیا جاسکتا تھا-

 

دوسری بات یہ کہ FIDIC کے مطابق تب تک arbitration بورڈ بنانے کی ضرورت نہیں جبتک غلطی کرنے والا فریق، معاہدہ کی شق کے مطابق ، اپنی غلطی کوتسلیم کرکے سزا کیلئے تیار ہوتا ہے- لیکن اگر وہ اپنی غلطی ماننے پرتیار نہیں ہوتا تو لازمی طور پربورڈ بنانا پڑے گا- ہم طلاق کے ضمن میں مگریہ کہتے ہیں کہ میاں بیوی، دونوں اپنی خوشی سے بھی طلاق دینے لینے پرتیار ہوں مگرپھربھی قاضی یا بورڈ بنانا ضروری ہے تاکہ مصالحت کا موقع میسر ہوسکے-

 

تیسری بات کہ بورڈ کا فیصلہ ماننا ضروری نہیں، غلط ہے- یہ توہوسکتا ہے کہ ایک فریق ، بورڈ کا فیصلہ ماننے سے انکار کردے اور سپریم کورٹ چلا جائے مگریہ نہیں ہوسکتا کہ بعدمعاشی کرتے ہوئے یک طرفہ طور پرثالث کا فیصلہ ماننے سے انکار کردے- چنانچہ تیسرا اعتراض غلط ہے- 

 

5-خلع کا "قانون"-Gender Discrimination

 

مسلم سیکولرز کا موقف ہے کہ اسلام میں ، شوہراوربیوی کواپنی شادی ختم کرنے کا برابرکاحق حاصل ہے-اسکی تشریح تو ہم آگے کریں گے مگرپہلے ایک مشہور مغالطہ پرتبصرہ کرلیں-

مولوی صاحبان فرماتے ہیں کہ طلاق دینے کا حق صرف شوہر کو حاصل ہے- ہاں اگر نکاح کی شرائط میں عورت کو "خلع" لینے کا اختیارلکھ دیا جائے تو پھراسکو "خلع" دی جاسکتی ہے(یعنی پھرشوہرکومجبورا"طلاق دینا پڑے گی)-

 

پہلی بات تو یہ کہ طلاق کی ٹرمینالوجی قرآن میں مذکور ہے جبکہ "خلع" نامی کوئ قانونی اصطلاح قرآن میں نہیں ہے-یہ مولوی صاحبان کی اپنی خودساختہ ایجاد ہے-اسکا معنی ہوتا ہے کہ "کسی  کے پنجے یعنی گرفت سے نکل جانا"-

 

دیکھئے، عورت اورمرد کا نکاح تبھی ہوسکتا ہے جب دونوں بالغ فریقین ایک دوسرے کو قبول کرنے پر رضامند ہوں-(نکاح کا معاہدہ ہوہی نہیں سکتا اگر دونوں میں کوئ ایک فریق بھی راضی نہ ہو)-

جب دونوں فریقین کی مرضی سے ایک معاہدہ ہواہوتو دونوں کے حقوق برابرہونگے-(بہت ہوا تو انیس بیس کا فرق ہوگا)- مگرکیا یہ کامن سینس میں آتا ہے کہ کسی متقفہ معاہدے کو ختم کرنے کیلئے، ایک فریق کو اسقدر اختیار کہ جب چاہے، معاہدہ ختم کردے جب کہ دوسرے فریق کو "اسکے پنجے سے نکلنے" کیلئے"راستے واسطے" تخلیق کرنے پڑیں؟- 

 

فقہاء فرماتے ہیں کہ عورت، مال دے کر"خلع" لے سکتی ہے مگرخاوندراضی ہوتوتب-

 

خدارا ذرا سوچئے ! جب کوئ باپ اپنی بیٹی کسی مرد کو بیاہتا ہےتو کیا وہ اسکو"لائف پارٹنر"دے رہا ہوتا ہے یا کوئ "زرخرید لونڈی" عطاکررہا ہوتا ہے کہ "وہ رقم یا مال دے کرخلع لے سکتی ہے" یعنی اس سے جان چھڑا سکتی ہے"؟- 

 

یہ خلع کا لفظ مولوی صاحبان نے کہاں سے نکالا؟ یہ بھی سن لیجئے-

 

قرآن میں اللہ نے موسی علیہ السلام سے فرمایا کہ وادی طورمیں آؤ تو"فاخلع نعلیک" یعنی "اپنی جوتی اتارکرآؤ" – 

یہاں سے مولوی صاحب نے لفظ "خلع" لیا کیونکہ اسکے نزدیک بیوی، شوہرکے پاؤں کی جوتی ہوتی ہے(حالانکہ طلاق کا مطلب بھی "معاہدہ ٹرمینیٹ کرنے کا ہوتا ہے- مگراس لفظ کو مرد کیلئے مختص رکھا گیا)-

 

بہرحال، ہم قرآن سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ نکاح کے معاہدے کو ختم کرنے کا حق(یعنی طلاق کا حق) مرد اور عورت کو برابرسرابرحاصل ہے- 

 

البتہ ہم قرآن ہی سے یہ اخذ کرتے ہیں کہ طلاق لینے دینے کا حق اگرچہ دونوں فریقوں کوبرابرحاصل ہے تاہم طلاق لینے دینے کی اتھارٹی کسی بھی فریق کے پاس نہیں ہے- یہ اتھارٹی ، جرگہ یا قاضی ہی کے پاس ہے(جیسا کہ پہلے مضامین میں تفصیل سے عرض کیا ہے)-

 

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن میں صرف مرد کو ہی مخاطب کرکے طلاق کا پروسیجر،اس سے بچنے یا اسکے مابعد کے اقدامات کا ذکرکیا گیا مگرہم کہتے ہیں کہ یہی ساری قانونی شقیں عورت کیلئے بھی بعینہ لاگو ہیں-

 

دیکھئے،"مذہب" میں سب سے بڑا حکم نمازکا ہے اور"دین" میں سب سے بڑا حکم زکواۃ کا ہے- قرآن میں سینکڑوں جگہ نماز کاحکم دیا گیا مگرایک باربھی عورت کو مخاطب کرکے حکم نہیں دیا بلکہ صرف مذکر کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے- اب سارے علماء اس پرمتفق ہیں کہ نماز، جیسے مرد پرفرض ہے ویسے ہی عورت پربھی فرض ہے- پوچھا جائے کہ حکم توصرف مرد کو مخاطب کرکے دیا گیا تو بتایا جاتا ہے کہ اسی حکم میں ضمنی طورپرعورت بھی مخاطب ہوتی ہے- 

 

اس بنا پرہم عرض کرتے ہیں کہ قرآن میں طلاق دینے بارے جو قانون مرد کومخاطب کرکے بتایا گیاہے وہی اس عورت کیلئے بھی ہے- جیسے نکاح کا معاہدہ کرتے وقت دونوں کی مرضی برابردرکار ہے، اسی طرح معاہدہ ختم کرنے میں بھی دونوں میں سے ہرفریق برابرکا حقدار ہے – فرق اتنا ہے کہ معاہدہ ختم کرنے کی اتھارٹی ، قاضی یا جرگہ کے پاس ہوگی کیونکہ ایسا معاہدہ ختم ہوتا ہی کسی جھگڑے کی بنا پرہے اورہرجھگڑے کا فیصلہ کرنے کیلئے تیسرے فریق کو بلایاجاتا ہے-

طلاق کے ضمن میں کچھ دیگرشقیں بھی قرآن میں مذکور ہیں مثلا" سورہ طلاق آیات 1 تا 7-یہاں شروع  میں نبی سے خطاب ہے کہ آپ کیسے طلاق دیں(یعنی یہ استثنائ حکم ہوا) اور پھرعدت بارے بیان ہے-

اسی طرح  سورہ احزاب آیت 49 میں ہے کہ اگر بغیرصحبت  کئے طلاق دی توپھرعدت نہیں ہوگی-

سورہ بقرہ کی آیت 226 میں ایک الگ مضمون بیان ہوا کہ اگر کوئ شوہر(یا بیوی) اپنے پارٹنرکے پاس نہ جانے کی قسم کھالے اورطلاق کا پراسس بھی شروع نہ کرے تو یہ شرعا" گناہ ہے- البتہ اس بائیکاٹ کی زیادہ سے زیادہ مدت چار ماہ تک ہے- اس دوران تعلقات بحال کرلئے تو خدا اس گناہ کو معاف کردے گا- تاہم اگر یہ بائیکاٹ اس  مصمم ارادے سے کیا ہے کہ طلاق دینا ہے( اس خدا چونکہ علیم وخبیرہے تو طلاق کی مناسب وجہ کو جانتا ہے) تو پھر طلاق کا پراسس شروع کرے گا - اسکے بعد کی آیات سے مطلقہ کی عدت بارے احکام ہیں جس پرہمارے عدت والے مضمون میں بحث کی گئی ہے- انہی آیات میں یہ بات بھی کہی گئی کہ مرد پربھی عورت کا اتنا ہی حق ہے مگربات مرد سے اس لئے شروع کی گئی کہ مرد کو خدا نے بطور مرد ایک سینارٹی اوربرتری عطا کی ہوئ ہے- 

 

سورہ بقرہ آیت 226 کا ٹیکسٹ ملاحظہ فرمائیں- لکھا ہے" اور وہ جو اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم کھابیٹھیں ان کیلئے چار مہینے کی مہلت ہے، پس اگر اس مدت میں وہ رجوع کرلیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے"۔

 

آگے آیت 227 میں درج ہے کہ "اور اگر وہ طلاق کاپختہ ارادہ کرلیں تو اللہ سننے والا، جاننے والا ہے"۔

ظاہر ہے کہ طلاق کا ارادہ کرنے کے بعد، طلاق کا قرآنی پروسیجراپنانا ہوگا- 

 

 

6-اختلاف کا حل

حنفی مکتب فکرکے مطابق، ایک ہی بار تین طلاق کہنے سے طلاق ہوجاتی ہے- اہل حیث مکتب فکرکے مطابق ایسے نہیں ہوتی بلکہ ایک ایک ماہ کا وقفہ دیکر طلاق ہوجاتی ہے- تاہم، دونوں مکاتب فکر اس بات پرمتفق ہیں کہ طلاق کی اتھارٹی، شوہر کے پاس ہے-

مسلم سیکولرز کہتے کہ قرآن کے مطابق طلاق کی اتھارٹی، شوہرکے پاس نہیں بلکہ جرگہ یا قاضی کے پاس ہے-

چلئے اس اختلاف کا ایک حل ڈھونڈتے ہیں-

 

دیکھئے، طلاق کا عمل، عورت کیلئے ایک سزا ہوتا ہے- قرآن میں بھی طلاق کا لفظ عورت کو دھمکانے کیلئے استعمال ہوا ہے( امت کی سب سے  زیادہ نیک خواتین نے جب اپنے بنیادی حقوق کیلئے زیادہ اصرارکیا تو انکو وارننگ دی گئی کہ انہیں "فارغ" کیا جاسکتا ہے جس کی وجہ سے وہ خواتین اپنے مطالبہ سے توبہ تائب ہوگئی تھیں)-

 

ہم امید کرتے ہیں کہ اہل اسلام اس بات پرہم سے اتفاق کریں گے کہ بغیرکسی قصور کے کسی عورت کو طلاق کی سزا نہیں دینا چاہیئے- کیا خیال ہے؟-

 

سوال پیداہوتا ہے کہ عورت کے کون سے قصور پراسکو طلاق کی سزا دی جائے گی؟-

ویسے تو قرآن نے جب بھی کسی سزاکا بیان کیا تو متعلقہ  جرم بھی ساتھ ہی بتایا مگرطلاق بارے عورت کی غلطیوں کی لسٹ  مہیانہیں کی ہے- 

 

تو عورت کے"قصور " کا تعین اب قاضی کرے گا یا شوہرخود کرے گا؟-

چلیں یہی مان لیتے ہیں کہ طلاق دینے کی اتھارٹی، شوہر کے پاس ہے-اب معاملہ یوں بن گیا کہ عورت کے قصورکا تعین بھی شوہرکرے گا، پھرجرح وتفتیش بھی خود کرے گا اور پھرفیصلہ بھی خود کرے گا-

 

چنانچہ اگرایک شوہراپنی بیوی کو اس قصور پرطلاق دے کہ یہ آٹا گوندھے ہلتی کیوں ہے؟ تو احباب کس برتے پرکہیں گے کہ یہ طلاق نہیں ہوئ یا شوہر کواسکا حق نہیں ؟– کیونکہ ساری اتھارٹی تو آپ نےشوہر کو دے دی ہے-

ہم توخیر، قرآن ہی کی آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ بھائ، طلاق دینے کی اتھارٹی، جرگہ یا قاضی کے پاس ہے مگراحباب یہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری خودساختہ اختراع ہے –

 

چلئے، یونہی سہی، اب ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ ہماری اس "اختراع" کو اگرمان لیا جائے تو آپ سب کا اختلاف حل ہوسکتا ہے- وہ کیسے؟-

 

وہ یوں کہ جب بھی شوہرطلاق دینا چاہے تو معاملہ قاضی کے سامنے پیش کیا جائے-

اگر شوہر حنفی ہے تو قاضی  اسے کہہ دے کہ اسکو یکبارگی تین طلاق دے دو، اور اگر شوہراہلحدیث ہے تو اسے کہہ دے کہ تین ماہ میں یہ عمل مکمل کردو- 

یعنی ہرقسم کے مسلک کے مطابق طلاق کا پروسیجر بھی  مکمل ہوجائے گا، احباب کے بقول شوہرکےپاس اتھارٹی بھی  رہ جائے گی اورمسلم سیکولرز کی " کورٹ اتھارٹی والی اختراع" بھی پوری ہوجائے گی- اس میں کوئ قباحت تو نہیں نا؟-

 

دیکھئے،- عرب میں ایسا ہوتا تو بیوی،ایسے شوہرکے منہ پراسکے بچے مارتی اوردوسری جگہ اسکی شادی ہوجاتی- زیادہ سے زیادہ اس عورت کو نفسیاتی گھاؤلگتا ہےتو وہ مقدر کا فیصلہ ہوتا مگرباقی اسکا کوئ مالی تاوان نہ ہوتا-مگر پاک وہند کے سماج میں ، طلاق کی صورت میں سارے خسارےعورت کے حصے میں ہوتے ہیں- اس لئے ہندوستان کے سماج میں ، طلاق کی اتھارٹی، قاضی یا جرگہ کے پاس ہونا ،عرب کلچرسے بھی زیادہ ضروری بات ہے-

 

بہرحال، ہم نے اس حساس مسئلہ پراپنا فہم قرآن آپ کے سامنے رکھ دیا ہے جو بہت واضح ہے- تاہم، اس ملک میں ایسے مسلمان بھی کثیرتعداد میں بستے ہیں جو قرآن کے علاوہ دیگر کتب کو بھی اسلامی قوانین کا ماخذ مانتے ہیں(بلکہ دیگر کتب کو قرآن پرفوقیت دینے والے مسلمان بھی موجود ہیں)، چنانچہ ہم اپنا پرانا مطالبہ دہراتے ہیں کہ سارے سماجی مسائل بارے اسلامی موقف بیان کرنے کا اختیار، صرف اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس ہونا چاہیئے- اس لئے کہ کوئ بھی Civilzed Society ایک متفقہ Official forum کے تحت ہی ڈسپلن میں لائ جاسکتی ہے- پھرپاکستان جیسے Multi cultural, Multi lingual , Multi religious معاشرے میں تو یہ کام ازحدضروری ہے-

اگرگلی محلے کے مسالک کے مفیتان کرام کو اسلام کی تشریح کا حق دے دیا گیا تو مسلمانوں کی زندگی اجیرن ہوجائے گی-

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں
اگلا صفحہ

سلیم جاوید کی دیگر تحریریں