مذہبی و تاریخی اختلافات

کیا قرآن میں منسوخ شدہ آیات بھی شامل ہیں؟

  2022-07-04 06:12:27
  3049

 

سوال یہ ہے کہ کیا قرآن کی آیتیں ایک دوسرے کو منسوخ کرتے ہیں؟ جواب نہیں۔ اس لیے کہ ناسخ و منسوخ کا عقیدہ کتبِ الٰہی کی عظمت کو متاثر کردیتی ہے جو مامور بہ ایمان ہیں۔ نسخ و تضاد کے خود ایجاد عقیدہ نے قریب قریب نصف قرآن کو منسوخ، متضاد و متخالف اور بے اثر و بےکار کردیا ہے جس کا برقرار رہنا مزاحم اور یاد کرنا فضول، پڑھنا بے مقصد ہوجاتا ہے اور اس میں تدبر و تفکر کرنے میں پہاڑ حائل ہوجاتا ہے۔ 

ہمارے یہاں خیر سے ناسخ و منسوخ کی بحث اب تو ایک مستقل علم قرار پایا ہے، اس بحث کی رموز سے ناواقفیت یعنی یہ جانے بغیر کہ کونسی آیت ناسخ اور کونسی منسوخ ہے کی وجہ سے قرآن پڑھ کر سمجھنے کو گمراہی خیال کیا جاتا ہے۔ اس عقیدہ نے قرآن کریم کو وید اور گرنتھ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اختلافِ آرا کی کھچڑی پکانے والے علماء نے فہمِ قرآن کے راستے پر سانپ کی طرح ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ ایک آیتِ قتال سے تین سو آیتیں منسوخ قرار دی گئی ہیں۔ معلوم نہیں کہ آخر یہ نازل ہی کیوں کی گئی تھیں اور پھر نزول کے اتنا عرصہ انہیں گوارا کیوں کیا گیا؟ کیا ان آیتوں کو الگ کردینا، علیحدہ فہرست بنا لینا، انہیں واضح کردینا اور اصلاح کےلیے ان کی تبلیغ کرنا خود رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کےلیے لازم تر اور آسان نہ تھا جنہوں نے اس معاملہ سے یکسر چشم پوشی کی۔ یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عقیدہ من جانب اللہ نہیں ہے اس لیے اس کے ذمہ دار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین بھی نہیں ہیں۔ اس عقیدہ کے رو سے جن آیتوں کو منسوخ گردانا جاتا ہے وہ احکام و ہدایات کے باب میں احکم الحاکمین کے یہاں فریاد کر رہی ہیں۔ ناسخین قرآن کم و بیش ایک ہزار آیتوں کو منسوخ مانتے ہیں، اُن کے پاس دلیل کیا ہے؟ اس سلسلہ تحریر میں اُن دلائل کا احاطہ کرکے ایک ایک دلیل پر تفصیل سے عرض کریں گے۔ ان شاءللہ

اب سوال یہ ہے کہ نسخ کے اس مفہوم سے صحابہ کرام واقف تھے؟ اس کا جواب علامہ ابن القیمؒ نے ”اعلام الموقعین“ میں بتصریح لکھا ہے کہ:

”نسخ کا عقیدہ متاخرین کی ایجاد ہے۔ سلف میں اس عقیدے کا تصور نہیں البتہ وہ ایسی آیتوں کےلیے تخصیص و استثناء کا اصطلاح استعمال کرتے تھے۔“

علامہ ابن القیمؒ کی اس جواب کی روشنی میں اگر دیکھا جائے تو جن صحابہ کرام کو اسبابِ نزول کا ذمہ دار ٹھہرا کر نسخ کے اس باطل نظریہ اور خود ایجاد عقیدہ کے دلیل کےلیے بطور آلہ کار استعمال کرنے کی جسارت کی جاتی ہے، اُن کا مقصود، رائج فکر کی مفہوم کے اعتراف و تصدیق ہرگز مراد نہ تھا ورنہ نسخ کےلیے ایک بار جب دروازہ کھول دیا جائے تو قرآن میں کچھ بھی باقی نہیں رہتا، ہر ایک اپنی نشتر چلا کر آیتیں نسخ کرتا جاتا ہے۔ پھر نسخ و تحریف میں لفظی فرق کے سوا اور کونسی امتیاز باقی رہ جاتا ہے؟ 

ہم دیکھ لیں کہ سورہ نساء کی آیت ”والّٰتی یاتین الفاحشۃ من نساء کم“ الخ میں دو ہم جنس پرست عورتوں کی سزا بیان کی گئی ہے اور آگے ”والذان یاتینھا منکم“ الخ میں دو ہم جنس پرست مردوں کی سزا بیان کی گئی ہے۔ ان دونوں آیتوں کو زنا کی آیت سے منسوخ کرنا حکم عدولی نہیں؟ زنا میں تو مرد و عورت مل کر باہم جرم کا ارتکاب کرتے ہیں یہ تو اپنی جگہ قطعی ہے۔ یہاں پر تو ہم جنس پرستی کی جرم اور سزا کی بحث ہے۔ پہلی آیت میں تثنیہ کی ضمیر مؤنث کےلیے اور دوسری میں مذکر کےلیے اس پر دال ہے۔ہم جنس پرستی کی سبب سے قوم لوط کی غارت ہوگئی جو فطرتی زراعت کے تُخم کےلیے تباہ کن ہے۔ کیا ایسی قبیح جرائم بغیر سزا کی چھوڑے گئے؟ کیا ایسے گناہوں کی سزا پر قرآن حکیم صامت و ساکت رہ سکتا ہے؟ پھر جو بیان ہو اسے منسوخ قرار دینا یہ ظلم نہیں؟ جب کہ سورہ انعام آیت 38 میں اللہ تعالی فرماتے ییں کہ ہم نے قرآن میں دین کے متعلق کچھ بھی تشنہ بیان نہیں چھوڑا۔ 

کہا جاتا ہے کہ جب دو آیتیں باہم متخالف ہوں تو ایک ناسخ دوسرا منسوخ، وجہ نسخ اختلاف بتایا جاتا ہے جب کہ یہ تو ہمارا عقیدہ و ایمان ہے کہ قرآن کریم میں کیا دیگر کسی بھی آسمانی کتاب میں اختلاف کا پایا جانا ممکن نہیں بلکہ محال ہے۔ کیوں کہ من عنداللہ کسی بھی الہامی کتاب میں کوئی اختلاف نہیں ہوسکتا جیسے کہ سورہ نساء کی آیت 82 میں ہے کہ اگر یہ مُنزَّل من غیر اللہ ہوتا تو آپ اس میں اختلاف کثیر پاتے۔ اس پر آخر میں ذرا تفصیل سے عرض کریں گے کہ قرآن کریم کتبِ سابقہ کےلیے ناسخ ہے یا مصدق؟ ذیل میں صرف اجمالی طور پر بطور نظیر خود قرآن کریم سے کچھ حوالہ نقل کرتے ہیں۔

قرآنی آیات سے متعلق عقیدہ نسخ ایک خام خیالی، دلائل سے خالی اور بے بنیاد نظریہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا دین الہی ایک ہے یا متعدد؟ ایک ہے تو کیا ہے؟ متعدد ہیں تو ایک دوسرے کی مصدق ہیں یا منسوخ کرنے والی؟ مصدق ہیں تو کیسے اور منسوخ کردینے والی ہیں تو کتنے؟ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ اللہ ایک ہے۔ اللہ کے یہاں دین ایک ہی اسلام ہے۔ تمام انبیاء و رُسل بھی بلا تفریق ایک اسلام کے داعی اور پیغمبر ہیں۔ مااَرسلَ یعنی کتابیں بھی بلا اختلاف ایک ہی ہیں جیسے کہ امام اعظم ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ ان میں محض زبانوں کا فرق ہے عبرانی میں ہو تو توریت کہلاتا ہے، سُریانی میں ہو تو انجیل اور عربی میں ہو تو قرآن، تمام آسمانی کتابیں ایک دوسرے کی مُصدق ہیں جس کی تفصیل سورۃ شوری کی آیت 13، بقرہ : 136، یونس: 37، مائدہ : 48، مومنون 68، نساء 26، حم سجدہ 42،43۔ نحل 44، احقاف 12، شعراء 196 میں اجمالی طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔

عموما قائلین نسخ سورہ بقرہ کی آیت 106 کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں:

مَا نَنۡسَخۡ مِنۡ اٰيَةٍ اَوۡ نُنۡسِهَا نَاۡتِ بِخَيۡرٍ مِّنۡهَآ اَوۡ مِثۡلِهَا ‌ؕ اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

(جو کوئی آیت ہم تے ہیں یا اس کو نظر انداز کراتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کے مانند دوسری لاتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔)

اس آیت کی روشنی میں اگر ہم دیکھ لیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی تمام انبیاء کرام علیہم السلام اقوام و ملل کو خداوندِ عالم ہی کا پیغام لاتے رہے ہیں۔ اس پیغام میں جو حصہ دین کا ہوتا تھا وہ تو مستقل اور غیر متبدل ہوتا تھا لیکن جو حصہ شریعت کا ہوتا تھا اس میں بعض چیزیں وقتی طور پر نافذ العمل ہوتے بعد والے نبی کی آمد پر انہیں منسوخ قرار دے دیا جاتا تھا اور بدلے ہوئے زمانہ کے مطابق بہتر احکام دیے جاتے تھے ایک نظریہ یہ ہے جب کہ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ انبیاء سابقہ پر نازل شدہ وحی اپنی اصلی حالت میں تادیر موجود نہیں رہتی تھی ان میں کچھ اُن شرائع کے مولوی حضرات تحریف و الحاق کرتے تھے بعض حصے حوادث سماوی یا انسانی دسیسہ کاریوں کی نذر ہوکر ذہنوں سے فراموش ہوجایا کرتے تھے۔ آنے والا رسول فراموش کردہ یا ضائع شدہ حصہ کو من جانب اللہ حاصل کرکے لوگوں کو دے جاتا تھا۔ رسول اکرم آخری نبی اور قرآن کریم آخری کتاب ہے۔ اس لیے گزشتہ کتابوں کو منسوخ کرکے ان کی جگہ اصولی احکام دیے گئے جو مستقل رہنے کےلیے ہے۔ 

نزولِ قرآن کی وقت اہل کتاب کی حالت یہ تھی کہ وہ قرآن میں بعض باتیں ایسی پاتے تھے جو ان کے احکام کے خلاف جاتی تھیں۔ وہ اس کیفیت کو بطور اعتراض پیش کرتے تھے کہ اگر قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے تو بعینہ ان کتابوں جیسی کیوں نہیں؟ اسی کی جواب میں ذکر بالا آیت نازل ہوا کہ ہم جن احکام سابقہ کو منسوخ کردیتے ہیں ان کی جگہ نبی کی وساطت سے بہتر احکام بھیج دیتے ہیں۔ فراموش شدہ کی جگہ اس کی مثل لے آتے ہیں۔ آگے سورہ نحل میں اس اعتراض کا جواب ذرا تبدیل کرکے واضح طور پر دیا گیا ہے جس نے عقیدہ نسخ کی رائج ذہنیت کے تار و پود ہی بکھیر کر رکھ دیا ہے۔

وَاِذَا بَدَّلۡنَاۤ اٰيَةً مَّكَانَ اٰيَةٍ‌ۙ وَّ اللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يُنَزِّلُ قَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُفۡتَرٍؕ بَلۡ اَكۡثَرُهُمۡ لَا يَعۡلَمُوۡنَ‏ ۞

(اور جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت بھیجتے ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ اتارتا ہے تو یہ کہتے ہیں کہ تم تو اپنے جی سے گھڑ لینے والے ہو۔ بلکہ ان میں کے اکثر علم نہیں رکھتے)

سبحان اللہ وحی کا کیا اسلوب ہے؟ کیا اتنی وضاحت کے بعد بھی عقیدہ نسخ پہ ڈٹے رہنا ہٹ دھرمی نہیں؟ اول الذکر آیت کا دوسرا حصہ اوننسھا (فراموش شدہ حصہ) کے متعلق دوسری جگہ واضح ارشاد ہے:

يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ‌ۙ وَنَسُوۡا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوۡا بِهٖۚ

(وہ یعنی اہل کتاب کلام کو اس کے موقع و محل سے ہٹاتے ہیں اور جس چیز کے ذریعے سے ان کو یاد دہانی کی گئی تھی اس کا ایک حصہ وہ بھلا بیٹھے)

آگے عیسائیوں کے بارے میں ہے کہ وہ پیغام خدواندی میں تحریف کرتے تھے:

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّلَا نَبِىٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰٓى اَلۡقَى الشَّيۡطٰنُ فِىۡۤ اُمۡنِيَّتِهٖ ‌ۚ فَيَنۡسَخُ اللّٰهُ مَا يُلۡقِى الشَّيۡطٰنُ ثُمَّ يُحۡكِمُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَكِيۡمٌ ۞

(اور ہم نے تم سے پہلے جو رسول اور بنی بھی بھیجا تو جب بھی اس نے کوئی ارمان کیا تو شیطان نے اس کی راہ میں اڑنگے ڈالے۔ پس اللہ مٹا دیتا ہے شیطان کے ڈالے ہوئے وسوسوں کو، پھر اللہ اپنی باتوں کو قرار بخشتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے)

اس آیت کی تفسیر میں ہمارے مفسرین نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب ایسی لغو باتیں منسوب کی ہیں جن سے روح کانپ جاتی ہے۔ 

اگر ان آیتوں کو اصول تفسیر کی روشنی میں ”القرآن یفسر بعضہ بعضا“ قاعدے کی رو سے دیکھا جائے تو عقیدہ نسخ سر تا سر غلط اور بے اصل نظریہ قرار پاتا ہے کہ قرآن کا بعض حصہ بعض کو منسوخ کرتا ہے یا بعض آیتیں ایسی ہیں جو قرآن میں نہیں ہیں۔ یا بعض آیتیں حکماً منسوخ تلاوتاً باقی ہیں یا اس کے برعکس یعنی تلاوتاً منسوخ اور حکماً باقی ہیں، اس عقیدہ سے خود خدا کے بارے میں کیا تصور قائم ہوجاتا ہے؟ کیا غیرِ خدا کی لکھی ہوئی کتابوں کے حوالہ جات کی بھرمار ہمارے لیے سند ہیں لیکن خود خدا کا کلام محض مُردوں کی ایصالِ ثواب اور دم چُف کےلیے رہ گیا ہے؟ قرآن تو ایک زندہ جاوید کتاب ہے۔ یہ ایک ابدی قانون ہے، کامیاب زندگی گزارنے کےلیے ایک مکمل گائیڈبک ہے۔ اس کے کسی بھی حصہ بلکہ لفظ کو غیر الٰہی ضابطے کی تحت تحریف شدہ یا منسوخ کردہ نہیں مانا جاسکتا۔

قرآن کریم ہر قسم کے اختلاف و تضاد سے مبرا کتاب ہے لہذا نسخ وہاں ممکن ہے جہاں اختلاف ہو۔ ایک آیت دوسری آیت سے متصادم ہو، جس آیت کو دلیل نسخ کےلیے پیش کیا جاتا ہے ہم نے اس کے متعلق عرض کیا کہ وہ قرآنی آیات کا نسخ نہیں بلکہ یہود کی اُن خود ساختہ آیتوں اور احکام کی نسخ اور تبدیلی مراد ہے جو یا تو مولویوں نے اپنی حماقت سے اغلال بنا لیے ہوئے تھے جیسے کہ اونٹ کا گوشت نہ کھانا یا ہفتہ کے دن شکار نہ کرنا یا تالمود (نہ کہ توریت) کی شہادت دیتے ہوئے یہ کہنا کہ سود جائز ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے ان تمام باتوں کو خود ساختہ قرار دیتے ہوئے منسوخ گردانا ہے۔ اس آیت سے یہی نسخ مراد ہے خود توریت کی منسوخیت بھی مراد نہیں۔

ناسخین قرآن میں سے اکثر آیۃ ”ماننسخ“ کو بطورِ استدلال پیش کرتے ہیں، امام رازی جو اپنی جلالت شان کے مطابق مبداء نسخ کے قائلین میں سے ہیں، لیکن اس آیت کی ذیل میں وہ بھی نسخ سے ہاتھ اٹھا کر لکھتے ہیں:

”پہلے میں بھی اثبات نسخ کےلیے اس آیت کی طرف رجوع کیا کرتا تھا لیکن تفسیر لکھتے وقت مجھ پر یہ حقیقت عیاں ہوگئی کہ میرا استدلال کمزور تھا۔ کیوں کہ ”ماننسخ“ کی “ما“ شرط و جزا کا فائدہ دیتی ہے۔ عربی میں کہتے ہیں ”من جاءک فاکرمہ“ یعنی جو بھی آئے اس کی تکریم کرو۔ اب اتنا کہنے سے کسی کا تشریف لانا بھی حاصل ہو، یہ ضروری نہیں۔ پس اس آیت سے دلیل نسخ متشرح نہیں ہوتا۔“

امام رازی کے اس قول کی تشریح یوں کی جاسکتی ہے کہ:

1) اگر آپ کی یہ چیز ضائع ہوگئی تو

2) آپ اس سے بہتر یا اس جیسی اور نئی چیز مجھ سے لے لیں۔

پہلا فقرہ شرطیہ اور دوسرا جزائیہ کہلاتا ہے اور اصول یہ ہے کہ شرط کی فقدان کی صورت میں جزا کا وجود ہی غیر ضروری ہوجاتا ہے۔ اس نحوی قاعدہ کی روشنی میں آیۃ ”ماننسخ“ کی تعبیر یہ ہوگی:

1) نہ کسی آیت میں تغیر و تبدل واقع ہوا اور نہ ہی فراموشی لاحق ہوگئی۔

2) نہ ہی اس کے بدلے میں پہلے سے بہتر یا اس جیسی آیت کی ضرورت پیش آئی۔

خلاصہ یہ کہ اس آیت کو بطور استدلال پیش کرنا سراسر زیادتی ہے اس لیے کہ نسخ کی تشریح میں آیت اپنی سیاق و سباق سے کٹ جاتا ہے۔ قائلین نسخ اس آیت کےلیے جو شانِ نزول بتاتے ہیں سیرت نبوی کے لاکھوں صفحات اور تاریخ اسلام کے سینکڑوں مجلدات میں اس شان نزول کی اشارہ تک نہیں کہ مشرکین مکہ کو کوئی ایسا معارضہ یا وہم گزرا تھا۔ اسی طرح ابتداء اسلام میں کبھی بھی کوئی ایسی آیت نہیں اتری جس کا تعلق پہلے ”حلت“ سے پھر اسے حرام کردیا گیا۔ نہ مکہ میں اور نہ ہی مدینہ میں۔ جب ایسا کچھ تھا ہی نہیں تو فرضی آیت کا نزول کیوں کر ہوسکتا ہے؟ 

آیت ”ماننسخ“ کی صحیح تعبیر کیا ہے؟ مقام کی مناسبت سے آگے جامعۃ الازہر مصر کے شیخ علامہ مفتی محمد عبدہ الحنفیؒ (متوفی 1905ء) کی تفسیر سے ایک جھلک پیش کرتے ہیں تاکہ اہل علم اور تشنگانِ علوم قرآنی اس آیۃ کریمہ کی درست تفسیر معلوم کرکے خود بھی تحقیق و جستجو کرسکیں اور یہ بھی جان سکیں کہ ناسخینِ قرآن کا موقف کتنا بودا، کمزور اور بے اصل ہے۔

 

امام العصر مفتی محمد عبدہؒ مصری الحنفی آیۃ ”ماننسخ“ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

دلیل، حجت اور کسی چیز کی صحیح تلاش کرنے کی علامت کو لغت عرب میں آیت یعنی نشانی کہتے ہیں اور قرآنی فقروں کو بھی اس معنی میں آیات کہا جاتا ہے۔ یہ در اصل اپنی اعجازی صلاحیتوں کی وجہ سے نبی کریم علیہ السلام کی صداقت کےلیے دلائل اور براہین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ دلائل ناطقہ ہیں اس بات پر کہ نبی کریم علیہ السلام کو اللہ کی طرف سے وحی کی شکل میں تائید و نصرت حاصل ہے۔

امام العصرؒ کی اس فکر انگیز تعبیر کا مطلب یہ ہے کہ آیت کو عام کہہ کر خاص مراد میں استعمال کیا گیا ہے یعنی مقصود تو نبی کریم علیہ السلام کی تائید و نصرت تھی لیکن تعبیر کےلیے عام انداز اختیار کیا گیا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ کیسے پتہ چلا کہ اس آیت سے نبی کریم علیہ السلام کی تائید و نصرت مطلوب تھی؟ اس سوال کا جواب یہودی مضمرات میں ہی تلاش کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ یہود کو رسالت محمدیہ پر شک اور بدگمانی تھی۔ وہ نبوت کے منصب کو صرف بنی اسرائیل کے حصے کی خاص چیز سمجھتے تھے۔ اسی تناظر میں انہوں نے:

لَوۡلَاۤ اُوۡتِىَ مِثۡلَ مَاۤ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى‌ ؕ 

(جس طرح کی چیز موسیٰ کو ملی تھی اس طرح کی چیز ان کو کیوں نہ ملی؟)

اعتراض اٹھایا، جس پر انہیں اِن الفاظ میں الزامی جواب ملا:

اَوَلَمۡ يَكۡفُرُوۡا بِمَاۤ اُوۡتِىَ مُوۡسٰى مِنۡ قَبۡلُ ‌ۚ

(کیا اس طرح کے لوگوں نے اس چیز کا انکار نہیں کیا جو اس سے پہلے موسیٰ کو دی گئی تھی؟)

یہود کے اس قول میں آیات، دلائل و براہین کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ زیر بحث آیت میں مومنوں کی اس جماعت سے خطاب ہے جن کے دل و دماغ کو یہودی ریب و تشکیک میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اللہ سبحانہ و تعالی چاہتے تھے کہ میری قدرت کاملہ نہ زمانوی لحاظ سے محدود ہے اور نہ دلائل کے اعتبار سے کسی خاص دلیل کی پابند، میں اس پر قادر ہوں کہ جو آیات موسٰی علیہ السلام کو عطاء ہوئی تھیں ان سے بہتر دلائل آج بھی لاسکتا ہوں یا اُن جیسے ہی سہی۔ یہ کرنے میں میری قدرت میں عجز نہیں آسکتی اور نہ ہی میری حکمرانی سے کوئی نکل سکتا ہے۔ اس کی رحمت کسی قوم کے ساتھ خاص نہیں کہ انبیاء و رُسل اس ہی قوم سے ہوتے چلے آئیں۔ اللہ کی رحمت نے کائنات کے ہر گوشے کو گھیر رکھا ہے۔ 

(تفسیر المنار، جلد : 1 ، ص: 417)

اللہ نے انسان کو عقلِ سلیم عطا کیا ہے، عقلِ سلیم کا مطلب یہ ہے کہ بندہ فطری نظر سے چیزوں کا مشاہدہ کرے متاثرہ ذہن کے ساتھ نہیں۔ جس کے مزاج میں کج فہمی نہیں وہ اس آیت کو ماقبل آیت سے ملا کر پڑھے تو مطلب صاف طور پر سمجھ سکتا ہے۔ پہلی آیت میں ہے:

مَا يَوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَلَا الۡمُشۡرِكِيۡنَ اَنۡ يُّنَزَّلَ عَلَيۡڪُمۡ مِّنۡ خَيۡرٍ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ يَخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ 

(جن لوگوں نے کفر کیا، اہل کتاب ہوں یا مشرکین، نہیں چاہتے کہ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف سے کوئی رحمت نازل ہو۔ اور اللہ اپنی رحمت کے لیے خاص کرتا ہے جن کو چاہتا ہے، اللہ بڑے فضل والا ہے)

اہل کتاب کی اس ناپسندیدگی کی صرف دو ہی وجہیں تھیں، پہلی وجہ یہ کہ اس سے پہلے تمام انبیاء و رسل بنی اسرائیل میں گزرے تھے اور وہ بنی اسماعیل کو بالطبع حقیر جانتے تھے۔ اب نبی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں نبی کا پیدا ہونا انہیں گوارا نہ تھا جس پر اللہ نے فرمایا:

”اللہ اپنی رحمت کے لیے خاص کرتا ہے جن کو چاہتا ہے“

دوسری وجہ یہ تھی کہ شریعتِ محمدی اور شریعتِ موسوی قدرے مختلف تھے اور یہود کا خیال تھا کہ ہماری شریعت ابدی ہے۔ کبھی اس کا کوئی حکم نہیں بدلتا۔ جس پر اللہ نے ماننسخ نازل کرتے ہوئے فرمایا:

”جو آیتیں ہم منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں اس کی جگہ اسی کی مانند یا اس سے بہتر آیت دے دیتے ہیں۔“

اس تعبیر سے صاف صاف پتہ چلتا ہے کہ اس مقام پر لفظ آیت سے قرآنی آیت مراد نہیں بلکہ شریعتِ موسویؑ کے وہ احکام جو شریعتِ مصطفویؐ میں تبدیل ہوگئے یا جن آیتوں کو یہود نے بھلادیا تھا، وہی آیتیں ہی مراد ہیں۔

ہمارے اکثر مفسرین کرام نے ایک دوسرے کی تتبع میں چل کر اس آیت میں لفظ ”آیۃ“ کو قرآن کریم کی آیتوں پر محمول کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک آیت دوسری آیت کو منسوخ کرتی ہیں۔ پھر صرف اسی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ ”ننسھا“ کے لفظ سے یہ تعبیر بھی نکالا کہ پیغمبر علیہ السلام بعض آیتوں کو بھول گئے تھے۔ اس تعبیر کےلیے مفسرین کرام کو جھوٹی روایتوں کا سہارا لینا پڑا جب کہ یہ تو ہماری یقین و ایمان جزؤ ہے کہ رسولِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے وہ بے کم و کاست موجودہ قرآن کریم میں ہیں جو درحقیقت آپ علیہ السلام کی حیاتِ طیبہ میں لکھی گئی اور کوئی بھی حرف اس سے لکھنے خارج اور باہر نہیں ہے، اس نظریے پر ہمارا کامل اعتقاد بھی ہے کہ قرآن کریم کی کوئی ایک آیت بھی منسوخ نہیں۔ یہی امام ابو مسلم اصفہانیؒ کا بھی قول ہے کہ پورے قرآن میں نسخ کا وقوع کہیں بھی نہیں ہوا نہ ہی کوئی آیت ناسخ ہے نہ منسوخ، ہم نے قبل ازیں علامہ ابن القیمؒ کے حوالہ سے نقل کیا تھا کہ متقدمین کے یہاں نسخ کی اصطلاح کے استعمال کا رواج ہی نہ تھا یہ بعد کی ایجاد ہے۔ بعد کے اس خود ایجاد اصطلاح کے ذریعے کم و بیش ایک ہزار آیتوں کو گروہی اساس پر منسوخ گردانا گیا ہے۔ متأخرین میں علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے صرف بیس آیتوں کو منسوخ مانا ہے، ان کے بعد حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے ان میں بھی تطبیق کی صورت پیدا کرکے صرف پانچ آیتوں کو منسوخ فرمایا ہے۔ اس کے بعد امام انقلاب مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے ان پانچ آیتوں میں بھی تطبیق پیدا کرکے عقیدہ نسخ کو جڑ سے اکھیڑ دیا ہے۔ تاہم عقیدہ نسخ کے حاملین نے صرف آیت ”ماننسخ“ کا سہارا نہیں لیا ہے بلکہ اس عقیدہ کے اثبات کےلیے کچھ روایتیں بھی پیش کی ہیں۔ آئیے سب سے پہلے اس آیت کے ذیل میں پیش کی جانے والی روایات کی خرافیانہ تفاسیر کا جائزہ لیتے ہیں۔

امام ابن ابی حاتمؒ سیدنا عبداللہ ابن عباسؓ سے منسوب ایک روایت نقل کرتے ہیں جسے علامه ابن کثیرؒ اور امام بغویؒ نے بھی درج کیا ہے۔ روایت کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اگر رات کو وحی کا نزول ہوتا تھا تو آپ دن کو بھول جاتے تھے۔ اس پر اللہ تعالی نے آیت ”ماننسخ“ نازل کرکے حقیقت حال واضح فرمادیا کہ نسخ و نسیاں کا کردار ہم خود ادا کررہے ہیں آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کیا اس روایت سے عصمت پیغمبری پر زد نہیں پڑرہی؟ اخذِ قرآن پر سوالات نہیں اٹھتے؟ پھر اس نسیان پر پردہ ڈالنے کےلیے تصدیق مزید کہ وحی کی نسخ و نسیان کی ذمہ دار خود ہم ہیں؟ ہماری ناقص رائے میں یہ روایت خود قرآن کریم کے صریح ارشادات کے منافی ہے۔ جس سے قرآن سے انحراف اور تکذیب لازم آتی ہے اس لیے کہ قرآن میں خدواندِ عالم خود فرماتا ہے:

سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰٓىۙ 

(ہم تمہیں پڑھائیں گے تو تم نہیں بھولو گے)

یعنی ہم اپنا کلام ناقابلِ فراموش بنا کر آپ کو تعلیم دیں گے۔ مزید برآں ذیلی آیت بھی اس پر شاہد و عدل ہے کہ:

اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّكۡرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰـفِظُوۡنَ

(یہ یاد دہانی ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں)

ان الہی ضمانتوں کے باوجود ابن عباس سے منسوب روایت پر عقیدہ رکھنا حقیقت کے سراسر منافی ہے، یہ میں نے کہہ رہا۔ مشہور حنفی عالم مفتی اعظم مصر علامہ محمد عبدہؒ فرماتے ہیں:

”ولا شک عندی ھذہ الروایۃ مکذوبۃ و ان مثل ھذا النسیان محال علی الانبیاء لانھم معصومون فی التبلیغ و الآیات کریمۃ ناطقۃ بذالک“

یعنی ایک تو یہ روایت جھوٹی اور باطل ہے۔ دوسرا یہ کہ انبیاء سے ایسی نسیان کا صدور ناممکن ہے اس لیے کہ تبلیغ رسالت میں محفوظ اور آیات حفظ کرنے میں معصوم تھے۔ (المنار، جلد اول، ص: 415)

امام طبریؒ نے حضرت ابن عباسؓ سے منسوب روایت پر جرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ سَنُقۡرِئُكَ فَلَا تَنۡسٰٓىۙ آیات وغیرہ کی موجودگی میں اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واقعی اپنی وحی بھول جاتے تھے تو اس کا معنی یہ ہے کہ فراموش شدہ آیتیں ہمیشہ کےلیے ذہنوں سے محو ہوگئیں اور قرآن میں بھی درج نہ ہوسکی۔ اگر اس معیار کو سامنے رکھا جائے تو صحابہ کرامؓ کو آیتیں کیوں فراموش نہیں ہوئیں۔ پس یہ تاویل سراسر غلط اور مردود ہے۔ آگے امام طبریؓ نے تین متروک اور غیر مندرج آیتیں ذکر کی ہیں کہ یہ ہے منسوخیت جو درج ہی نہ ہوسکیں۔ حالانکہ ایک طرف خود امام طبریؓ کا استدلال واضح کر رہا ہے کہ آیت ”ماننسخ“ کے نزول کا کسی ایسے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ استدلال عقیدہ نسخ کے خلاف ہے اور غیر متعلقہ آیتوں کی نظیریں عقیدہ نسخ کو دوام دینے اور قرآن کی صحت و کاملیت کو مشکوک قرار دینے پر دال ہیں۔

آیت ”ماننسخ“ سے عقیدہ نسخ کے اثبات کے درج بالا روایت جو حضرت ابن عباس سے منسوب ہے، اس کی سند کے تمام راوی مجروح یا پھر مجہول ہے سوائے عکرمہ بن خالد کے، عکرمہ کے بارے میں حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اور علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں جو تاثر دیا ہے اس کی روشنی میں عکرمہ بڑا ہوشیار، چالاک اور مکار انسان تھا۔ خود ابن عباس کے فرزند ارجمند علیؒ حلفیہ طور پر کہتے تھے کہ یہ میرے والد کے نام پر اپنے جھوٹ کو حقیقت بنا کر پیش کرنے میں ایک خاص مہارت رکھتے تھے۔ عکرمہ حضرت ابن عباس کے با اعتماد شاگرد تھے اس لیے حضرت کی اُن اَن کہی باتیں بھی دہراتے تو لوگ اعتماد کی بنیاد پر یقین کرلیتے۔ چونکہ عکرمہ صحاحِ ستہ کے راوی ہیں اس لیے تمام تر کذب تراشی، جعل سازی اور جھوٹی روایتیں گھڑنے کے باوجود انہیں روایت کرنے میں ایک قابلِ اعتماد ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ عکرمہ کے بارے میں امام یحی بن سعید الانصاریؒ، عطاء بن ابی رباحؒ، ابراہیم بن میسرہؒ، محمد بن سیرینؒ، قاسم بن محمدؒ اور عبداللہ بن عمرؒ کا اتفاق ہے کہ یہ واضع حدیث (جھوٹی روایتیں گھڑنے) کے عادی تھے۔ (دیکھیے کوکب الدری، معرفۃ انواع العلوم، میزان الاعتدال) اسی طرح امام مالکؒ، خود امام بخاریؒ، سعید المسیبؒ، ابن ابی ذئبؒ اور مطرف بن عبداللہؒ بھی عکرمہ بن خالد کی تمام روایتوں کو ناقابلِ اعتماد سمجھتے تھے۔ جُوا اور قمار بازی روایت حدیث میں راوی کے چال چلن کے منافی ہیں جب کہ عکرمہ کے بارے میں حوالہ بالا میں بتصریح نقل ہے کہ وہ اس کے شیدائی تھے۔ اس کے باوجود اگر اس راویت کو تسلیم کرلیا جائے تو بھی نسیان انسان کے ایک اندرونی عیب ہے، العیاذ باللہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس عیب میں ملوث تھے تو اس کے ہہچاننے سے ابن عباس معذور تھے، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ابن عباس سے اس کا اعتراف کیا تھا؟ جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے پردہ فرمانے کے وقت ابن عباس کم سن بچہ تھے۔

آیت ”ماننسخ“ سے عقیدہ نسخ کے اثبات کےلیے ایک اور روایت سے بھی خرافیانہ تفسیر کی گئی ہے۔ روایت کا مفہوم یہ ہے کہ دو نامعلوم اشخاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کردہ دو ہی سورتیں ہمیشہ نماز میں تلاوت کرتے تھے، ایک روز صبح بیدار ہوکر پوری کوشش کے باوجود دونوں مل کر وہ دو سورتیں تلاوت نہ کرسکے۔ اس کے بعد رسول اقدس کے پاس آئے اور یہ ماجرا بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ سورتیں اس قُبیل کی تھیں جن کے متعلق نسخ و انساء کا قانون نافذ ہوا۔ یہ روایت بھی ابن کثیر اور بغوی نے اس آیت کے ذیل میں درج کرکے ساتھ میں یہ وضاحت بھی کردی ہے کہ اس کا ایک راوی سلیمان بن ارقمؒ ضعیف ہے۔ امام طبرانیؒ اس روایت کے دو راوی ابو سنبل عبداللہ اور عباس بن الفضل کے ضعف و گمنامی پر لکھا ہے کہ جملہ ائمہ رجال اور نقادانِ فن ان کے مجہول ہونے پر متفق ہیں۔ سلیمان بن ارقمؒ میں بہت ساری ”خوبیاں“ آگے جاکر ذکر ہوں گے یہاں پر امام شہاب زہریؒ کے بارے میں کچھ نقل کرتے ہیں جنہیں طبقات مدلسین میں شامل کرکے پرلے درجے کا مُدلّس (اساتذہ کو چھپانے والا) قرار دیا گیا۔ قاعدہ یہ ہے کہ مُدلّس جب اپنے کسی استاذ سے ”عن“ کے ساتھ روایت کرے تو وہ روایت مردود ہے۔ اس روایت میں زہریؒ اپنے استاذ سالم سے عن کے ساتھ روایت کرتے ہیں جو روایت کو مجروح قرار دینے کےلیے کافی ہے۔ سلیمان ابن ارقمؒ کو امام ترمذیؒ نے متروک الحدیث کہا ہے، امام احمد بن حنبلؒ نے لیس بشیءٍ قرار دیا ہے۔ یحی ابن معینؒ نے کہا ہے کہ اس کی روایتیں کوڑی کی برابر بھی نہیں، عمرو بن علی الباہلیؒ نے مجہول الحدیث کہا ہے۔ امام بخاریؒ نے ناقابل اعتماد اور ابوزرعہؒ نے ان کی روایتوں کو ”بیڑا غرق“ نوعیت کے قرار دیا ہے۔ آجریؒ، ابو حاتمؒ، ابن خراشؒ نے متروک، جوزجانیؒ، مستدرک حاکم، دار قطنیؒ، عمرو بن علی الفلاسؒ، ابن عدیؒ اور امام مسلم بن حجاجؒ القشیری النیشابوری ساقط الحدیث، پایہ اعتبار سے گرا ہوا اور منکر الحدیث کی سرٹفکیٹ سے نوازا ہے۔ سلیمان بن ارقم کو اگر حافظ شیرازیؒ سے شعر میں سننا چاہیں تو وہ یہ ہے:

چوں بہ خلوت می روند آں کارِ دیگر می کنند

(یعنی جب تنہائی میں جاتے ہیں تو کچھ اور کام کرتے ہیں)

کیا مطلب کونسے کام؟ درسِ حدیث کے ساتھ ساتھ مدرسی آرٹ، ذوقِ عجم یا علت مشائخ کا فیض بھی شاگردوں میں جاری کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ امام محمد بن عبداللہ الانصاریؒ فرماتے ہیں:

”ہم جب اَمرَد تھے تو لوگ ہمیں سلیمان بن ارقم کے پاس جانے سے روکتے تھے۔“

علامہ ابن حجرؒ نے کہا ہے کہ محمد بن عبداللہؒ نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ:

”سلیمان بن ارقمؒ خوب صورت لڑکوں سے.............. وذکر عنہ امرا عظیما“

(تہذیب التہذیب)

کتبِ رجال سے پتہ چلتا ہے کہ مشائخ میں یہ علت شروع سے چلی آرہی ہے۔ اس کےلیے نقد مثال یہی ہے جو ابھی بیان ہوا۔

آیت ”ماننسخ“ سے عقیدہ نسخ کے اثبات کےلیے دوسری سند سے بھی یہ روایت منقول ہے جسے امام ابن کثیرؒ اور امام بغویؒ نے اپنی اپنی تفاسیر میں درج کیا ہے۔ یہ سند بھی حرف ”عن“ کے ساتھ قائم ہے جو اصطلاح محدثین میں منقطع روایت ہے۔ اس سند کے پہلے دو راوی اتنے مجہول ہیں کہ ذخیرہ کتبِ رجال میں ان کا تذکرہ تک نہیں، ایک راوی ہے عبداللہ بن صالح المصریؒ جن کے متعلق ائمہ رجال کا اتفاق ہے کہ بڑھاپے کی وجہ سے اُن کا دماغی توازن بگڑ گیا تھا جس کی وجہ سے اکثر و بیشتر وہ غلط سلط روایتیں بیان کرتے تھے اور غیر ارادی طور پر کبھی کبھار جھوٹ بھی بولتے تھے۔ امام نسائیؒ نے اسے غیر ثقہ، یحی ابن سعیدؒ نے لیس بشیء، امام بخاریؒ نے تاریخ صغیر میں جھوٹا لکھا ہے۔ امام ابن ابی حاتمؒ نے لکھا ہے کہ خانہ پری کےلیے اِن کی روایتیں ٹھیک ہیں لیکن حجت و استدلال کےلیے نہیں۔ یہ امام مالکؒ کی سند سے من گھڑت روایتیں بیان کرتے تھے۔ اب اس روایت میں یہ لیث ابن سعدؒ سے راویت کرتے ہیں، جب کہ لیثؒ کی اپنی حالت یہ ہے کہ وہ اساتذہ کے انتخاب میں متساہل اور مجروح ہیں۔ آگے لیثؒ نے یونسؒ بن یزید الایلی سے متذکرہ بالا روایت نقل کرتے ہیں جب کہ یونسؒ کا اپنا حال یہ ہے کہ انہیں امام احمدؒ نے منکر الحدیث، علامہ ابن سعدؒ نے ناقابل حجت قرار دیا ہے۔ چونکہ یونسؒ بھی صحاح ستہ کے راویوں میں سے ہیں اور ہمارے یہاں صحاح ستہ کی روایات پر کلام کو کفر یا کفر کے قریب تر خیال کیا جاتا ہے لہذا ہم مذکورہ بالا روایت تک بحث کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ جملہ اہل فن کا اتفاق ہے کہ یونسؒ اگر ابن شہابؒ سے روایت کرے تو یہ سب سے کمزور اور بے بنیاد روایت ہے۔ جب کہ یہ روایت بھی یونسؒ نے بالواسطہ ابن شہابؒ سے ہی نقل کی ہے۔ امام انباریؒ نے دلیل نسخ کو سہارا دینے کےلیے عقیلؒ کی متابعت کو درمیان میں لایا ہے جب کہ عقیلؒ خود غالی درجہ کے مدلّس ہیں (دیکھیے طبقات المدلسین، ص:15) خلاصہ کلام کہ آیت ”مانآیا سے عقیدہ نسخ کے اثبات کےلیے تمام دلائل تارِ عنکبوت ہیں۔ اب اس کے علاوہ دلائل کا جائزہ لیتے ہیں۔

 

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں
اگلا صفحہ

اسماعیل حسنی کی دیگر تحریریں