جدید مسائل اوراسلام

سفرمیں نمازکی چھوٹ ہے یا رکعات کی؟-

  2022-12-28 09:04:19
  2648

                                                                                                                                      

اس مضمون میں قرآن پاک کے تناظر میں چارباتیں ثابت کی گئی ہیں-

 1۔ آجکل 99 فیصداسفار میں نماز قصر کی اجازت نہیں لھذا سفر میں نارمل نماز پڑھیں-

2-اگر کسی سفر میں قصر کرنا ہوتو اسکا حکم نہیں بلکہ صرف اجازت دی گئی ہے- پس وہاں بھی نارمل نماز پڑھنا بہتر ہے-

3-اگرکوئ سفر قرآن کے حساب سے خطرناک ہے تو پھر قصر کا مطلب آدھی نماز نہیں ہوتا بلکہ اس وقت کی نماز کو چھوڑدینا ہوتا ہے-

4۔ سفرمیں قصر کا تعلق،صرف سفرکے دورانئے تک ہے نہ کہ اس کے بعد یا پہلے تک-

اب آپ  تفصیلی مضمون ملاحظہ کیجئے-

 

پس منظر:

نماز قصر سے سیکولرز کا کیا تعلق ہے بھائ؟-اسکا پس منظر سنئے-

 

چند ماہ قبل سوشل میڈیا پر فیصل موورزکے خلاف ایک ٹرینڈچلاتھا جس میں ہم نے بھی حصہ لیا تھا- ہوا یوں تھا کہ ایک سٹاپ پربس رکی جہاں ایک مسافر، نمازپڑھنے کیلئے چلا گیا توبس والے اسکو وہیں چھوڑ کر، چلے گئے- سوشل میڈیا پرلوگوں نے فیصل موورز پرلعن طعن کی کہ نمازکیلئے وقت کیوں نہیں دیا جبکہ ہم نے اس بنا پرآوازاٹھائ تھی کہ ایک مسافرکوکسی بھی صورت میں راستے میں نہیں چھوڑنا چاہیئے تھا-

ہماری تجویزیہ تھی کہ ہربس روٹ پر، ہرتین گھنٹے سفرکے بعد،ایک دس منٹ کا سٹاپ رکھا جائے تاکہ بزرگ یا بیمارمسافرواش روم اٹینڈ کرسکیں- مزید یہ کہ ان سارے سٹاپ کا نام اوران پرمدت قیام ، شروع سے بس کی ٹکٹ پردرج ہونا چاہیئے تاکہ مقررہ مدت سے لیٹ ہونے کی ذمہ داری مسافرپرڈالی جاسکے- 

بہرحال، جو واقعہ اس مضمون کا سبب بنا، وہ صرف ایک مسافرکا ایشونہیں ہے- جب سے ماشاءاللہ تبلیغی جماعت کی محنت عام ہوئ ہے، ہرمسافربس میں نماز بارے کچھ نہ کچھ پھڈا ہوتا رہتا ہے- تبلیغ والے، ہرنمازکیلئے عین وقت پرسواری رکوانے کی ضد کرتے ہیں( حالانکہ ایسی ویڈیوزبھی موجودہیں کہ تبلیغ والے ریلوے سٹیشن پرباجماعت نمازکررہے کہ اچانک ٹرین چلنے کی وسل بج جاتی ہے اور وہ بیچارے نمازتوڑ کربھاگم بھاگ ٹرین پرجاچڑھتے ہیں)-

 

چنانچہ،  مسلم سیکولرز اس لئے نمازقصر کو ڈسکس کرنے لگے ہیں کہ اب یہ امن عامہ کا ایشو بنتا جارہا ہے وگرنہ فردی عبادات وعقائد ہمارے سکوپ میں نہیں آتے-

مذہبی طبقہ کا موقف یہ ہے کہ سفرکے دوران ، دس روپے کی سواری چڑھانے اتارنے میں چاہے ڈرائیورصاحب دس بار راستے میں بریک لگائے مگرنمازکیلئے دس منٹ کو رکتے اسے موت پڑتی ہے- مزیدیہ کہ اگرنمازکیلئے روکنا بھی ہو تو ڈرائیورصاحب راستے کے اس مخصوص ہوٹل تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں اسے فری کھانا ڈکارنا ہوتا ہے، چاہے نماز قضا ہی ہوجائے-

 بس ڈرائیورزکا موقف یہ ہے کہ شہری آبادی میں نمازکیلئے بس روکنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا کہ رش کا فئدہ اٹھاکرکوئ بھی غیرمتعلقہ بندہ بس میں داخل ہوسکتا ہےلھذا بس کو راستے کے ویران ہوٹل پرٹھہرانا بہت ہوتاہے- دوسرا یہ کہ بس مسافر، وضو استنجاء نمازمیں کم ازکم آدھا گھنٹہ لگادیتے ہیں- اس لئے راستے کے ٹرک ہوٹل پرسٹاپ کیا جاتا ہے تاکہ نماز نہ پڑھنے والے مسافر، اس دوران اپنے کھانے پینے یا چائے وغیرہ کا تقاضا پورا کرلیں- 

علیم وخبیرخدا نے شاید پاکستان کے الٹرا سپرمسلمانوں کیلئے ہی مسافرکی نماز بارے قرآن میں ایک الگ شق نازل فرمائ ہے- چنانچہ اس مضمون کی تھیم یہ ہے کہ پاکستان کے مسلمان، سفرکی نماز بارے قرآنی ہدایات جان لیں تاکہ نہ خودپریشان ہوں اورنہ ہی دوسرے لوگوں کو پریشان کریں- مسافرت آجکل ویسے بھی عام ہوگئی ہے- پھرسردیوں کے چھوٹے دنوں میں نمازوں کے اوقات قریب ہوجاتے ہیں- مختلف وجوہ کی بناپر، ایک مردمسلمان مسافر کیلئے دوران سفر نمازکا اہتمام کرنا مشکل ہوگیا ہے-(مسافرمستورات کیلئے بدرجہا مشکل ہے)-

 

سفر کی قصر کرنے کی علت:

 

علت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں وہ" خاص حالت سفر" کیا ہےجس میں خدانے نماز کا رعایتی پیکج دیا ہوا ہے (بالفاظ دیگر، اسکی "لوجک" کیا ہے؟)-

نمازقصر بارے، آجکل کےنوجوان ایک عمومی سوال پوچھتے ہیں کہ اب نہ تو اونٹ گھوڑے کا زمانہ رہا نہ ہی سفرکی طوالت ومشقت رہی- آجکل تو ایک بزنس مین ، کراچی سے دوبئی تک دوہزار کلومیٹرکا سفرکرتا ہے، صبح جاتا ہے اور میٹنگ کرکے رات کوواپس گھرآجاتا ہے- اسے کس وجہ سے نماز میں رعایت دی جائے؟-

 

اسکے جواب میں مذہبی دوست جو لوجک پیش کرتے ہیں، وہ معقول نظر نہیں آتی- 

بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے مسافرکو یہ رعایت اس لئے دی ہے کہ کوئ بھی شخص ،اپنے گھربار سے دور ہوکرپریشان ہوجایا کرتا ہے(چاہے جہاز سے جائے یا موٹرسائیکل پر) پس اس پریشانی کی وجہ سے اسکو یہ رعایت دی گئی کہ وہ پوری کی بجائے آدھی نماز پڑھ لے-

اس منطق پرچار سوال اٹھتے ہیں-

 

1- گرمیوں میں نوجوان خود کو ریلکس کرنے شمالی علاقہ جات کوپکنک ٹور پرجاتے ہیں( اپنی خوشی سے گھربارچھوڑ کر)- توکیا یہ پریشان ہوتے ہیں کہ ان پرآدھی نماز لاگو کردی گئی؟-اچھا پھرچارکی بجائے دورکعت پڑھتے ہوئے کیا مسافرکواپنی فیملی کاخیال نہیں آئے گا؟-

2- ایک بندہ اپنی فیملی سمیت ہی پشاورسے کراچی کوگیا ہوا ہے – فیملی سے جدائ والی پریشانی تو اب رہی نہیں مگر آپ نے تو اسکی فیملی پربھی آدھی نماز لاگو کردی کہ خواتین بھی اسکے ساتھ آدھی نماز پڑھیں گی-

 

3- اچھا اگرفیملی سے جدائ پرپریشان ہونا ہی نمازمیں رعایت کا سبب ہے تو کیا یہ پریشانی 80 کلومیٹر کے بعد شروع ہوتی ہے؟- ہوسکتا ہے کہ گھر سے نکلتے ہی وہ پریشان ہوجائے اورساتھ ہی نمازکا بھی ٹائم ہوجائے- مگرآپ نے توفرمایاکہ نہیں، ابھی آپ پریشان نہیں ہوسکتے جبتک کہ 48 میل تک سفر نہ ہوجائے-

 

4- ایک مزدور، اپنے بال بچوں سے جدا ہوکرسعودی عرب گیا توظاہرہے کہ وہ بچوں بارے سوچ کرہمیشہ پریشان رہے گا- آپ نے مگریہ قانون بنا دیا کہ صرف 15 دن تک ہی پریشان ہونا ہے اوراسکے بعد آپ نے پریشان نہیں ہونا- چنانچہ اگر 14 دن تک سعودی عرب جارہے تو آدھی نماز پڑھنا ہے اور16 دن کیلئے جارہے تو پہلے دن سے ہی پوری نماز پڑھنا شروع کردو-(یعنی آئندہ چونکہ پریشان نہیں ہونا تو ابھی والی پریشانی بھی کینسل سمجھو- سبحان اللہ)-

مذہبی احباب کی "لوجک" انکا مسئلہ ہے- 

 

قرآن میں مگرخود خدانے بھی "قصر نماز" کی ایک لوجک بیان کی ہوئ ہے- اس پر توجہ کیجئے( اوریہ بھی نوٹ کیجئے گا کہ پورے قرآن میں نماز قصر بارے صرف یہی ایک آیت ہے)-

 

وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنْ الصَّلاَةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمْ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُبِينًا

ترجمہ: جب تم سفر پر جا رہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے ، یقیناً کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں ۔(سورہ نساء آیت 101)-

یعنی خدایہ فرماتا ہے کہ صرف اسی سفرمیں قصر نماز کی اجازت ہے جس میں دو شرائط پائ جائیں-

1۔ مسافر کو اپنے جان ومال بارے اندیشہ ہو-

2- یہ اندیشہ من جانب کفار ہو-( کیونکہ کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں)-

اسکے علاوہ کسی اور ٹائپ کے سفرمیں قصر نماز ہے ہی نہیں- (کیا یہ قرآن کی  نص صریح نہیں ہے؟- پھراس اصول کو کس نے "سپرسیڈ" کیا اورکیوں؟)-

اب مزے کی بات یہ ہے کہ آجکل جن "کافر" یورپی ممالک میں مسلمان مسافر جایا کرتے ہیں، وہاں تو انکو دوران سفر،نماز پڑھتے سمے نہ کسی حملے کا اندیشہ ہوتا ہے اورنہ ہی وہ کفار آپکے دشمن ہوتے ہیں ( بلکہ وہ تو آپ کو اپنے ملک  میں جاب بھی دیتے ہیں اورشہریت بھی)- دوسری طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان (جہاں ہرطرف رنگارنگ عاشقان رسول پھررہے ہیں)، وہاں مسافر توکیا، مقیم نمازی بھی جان ومال کے اندیشے سے محفوظ نہیں-(صرف اہل تشیع کی مساجد میں ہی دھماکے نہیں ہوئے بلکہ مزعومہ"قائد سندھ" ڈاکٹرخالد سومروکو بھی مسجدکے اندرعین حالت نماز میں شہید کیا گیا)-

بہرحال، قرآن میں بیان کی گئی واضح شرائط کے تحت تو موجودہ دنیا میں "نمازقصر" کا کانسپٹ ہی ختم ہوجاتا ہے-اس لئے کہ 55 اسلامی ممالک میں "اصولی" طور پراورباقی کافردنیا میں "حقیقی" طور پرمسافر نمازی کواندیشہ مال وجان نہیں ہونا چاہیے-

 

لیکن ہم بات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں (کیونکہ اسی آیت میں دومزید "رموز" بھی موجودہیں ،جوقرآنی بلاغت کا نمونہ ہیں)-

پس اس آیت میں لفظ " کافر" سے مراد، دہشت گرد، ظالم، راہزن، ڈاکو وغیرہ لے لیتے ہیں توپھردوسری شرط برائے نماز قصر رہ جائے گی "سفرکی ہولناکی"-

چنانچہ ہراس سفر میں قصر کی نماز کی اجازت ہوگی جس کے دوران ایک مسافر، اپنے جان ومال بارے مسلسل تشویش میں مبتلا ہو- اس "ریزننگ" کو لےکر، اب ہم اآگے بڑھتے ہیں-

 

سفرکی ہولناکی کیسے طے ہوگی؟-

 

کون سا سفر، کسی مسافرکیلئے کتنا تشویشناک ہے؟ اسکے لئے کوئ عمومی فارمولا نہیں بنایا جاسکتا بلکہ یہ خودمسافرہی فیصلہ کرےگا- 

 اس بات کو پوری طرح سمجھنے کیلئے آپ مندرجہ ذیل چار سیناریو ذہن میں لائیں-

 

1-ایک مسافر"رات کے وقت" پشاور سے 500 کلومیٹر دور لاہورکا سفر کرتا ہے جبکہ دوسرا مسافر"رات کے وقت " پشاور سے صرف  40 کلومیٹردور درہ آدم خیل کوسفر کرتا ہے- ان دونوں میں سےکون مسافرزیادہ تشویش میں ہوگا؟-

 لھذا، نماز میں قصر کا تعلق ، فاصلے سے نہیں ہے(کہ کتنے کلومیٹر تک کا سفرکرنا ہے) بلکہ اس بات سے ہے کہ کون سا سفر تشویشناک ہے؟- 

2- ایک مسافراپنی گاڑی میں" دوستوں کے ہمراہ" لمبا سفرکررہا ہے جبکہ دوسرا مسافر "بیوی بچوں کے ہمراہ" اکیلاڈرائیو کررہا ہے- ان میں سے کون زیادہ تشویش میں ہوگا؟-

پس سفرکی تشویش بارے، مسافرخود جانتا ہے اوراسی بنا پرقصر ہوگی نہ کہ فاصلے کی بنیاد پر-

3- ایک مسافر پشاور سے متنی تک "پبلک بس" میں سفرکررہا ہے اور جبکہ دوسرا مسافر"اپنے موٹر سائیکل" پر- ان میں کون زیادہ تشویش میں ہوگا؟- کون نماز کیلئے رک سکتا ہے اورکون نہیں؟- 

 پس سفرکی طوالت اورمنزل چاہے ایک ہی ہو مگرمسافرکی اپنی کیفیت کی وجہ سے تشویش کا پیمانہ بدل جاتا ہے-

4- ایک آدمی ایک محفوظ شاہراہ پرلمبا سفرکررہا ہے مگر اپنی ذاتی گاڑی میں(یعنی جہاں چاہے جتنا چاہے سٹاپ کرسکتا ہے)- دوسرا آدمی پبلک بس میں سفر کررہا، اسکا قیمتی سامان بس میں پڑا ہے اوربس نے چند منٹ کوہی رکنا ہے-اس دوران یہ نماز پڑھنے جاتا ہے تو اسکو اطمینان نہیں کہ بس والا اسکا انتظار کرے گا یا نہیں؟- خود سوچیں کہ راستہ، فاصلہ اورمنزل ایک جیسی  ہونے کے باجود،"تشویش" کی کیفیت مخلتف ہوگی-

قصر کا تعلق سفرکے دورانیہ سے ہے-

بہرکیف، جس قدر بھی کسی مسافر کو تشویش ہومگراسکا تعلق "دوران سفر" سے ہے نہ کہ "سفرختم  ہونےکے بعد"-اس لئے کہ قرآن نے یہی نکتہ بتایا ہے(اذاضربتم فی الارض- یعنی جب آپ حالت سفرمیں ہو)- اس سادہ قرآنی اصول کوسمجھ جائیں توستم ظریفوں کا ایجاد کردہ سارا "طول طولانی لٹریچر" صفرہوجائے گا-

صرف نماز قصر کے ٹاپک کو ہی دیکھ لیجئے کہ جونہی آپ قرآن کے رفرنس سے باہرہوتے ہیں،آپ کوایک نئی پیچیدہ شریعت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس میں بھاری بھرکم عربی ٹرمینالوجی (وطن سکنی، وطن اقامت، وطن اصلی) اورالم غلم میتھمیٹکس (اتنے کلومیٹر اوراتنے دن وغیرہ) کامصالحہ ڈالا گیا ہے-

 

"فلیس علیکم جناح"-

 

چلیئے، آگے بڑھتے ہیں اورآیت میں موجود، دوسرے رمز کی بات کرتے ہیں جو ہے"فلیس علیم جناح"-(یعنی تم پرگناہ نہیں ہوگا اگرقصرکرلو)-

جس زمانے میں یہ آیت نازل ہوئ، اس زمانےکا تصورکیجئے کہ ایک بادیہ نشین مسلمان ہے جو تن تنہا صحرا میں سفر کررہا ہے جبکہ ماحول میں ہرطرف اسکے جانی دشمن پھررہے ہیں-

اس قدر تشویش ناک صورتحال میں بھی خدا نے اسکو"حکم" نہیں دیا کہ ضروراپنی نماز میں قصر کرو بلکہ صرف"اجازت" دی ہے- 

یعنی اگرکوئ مسافرہمت وحوصلہ والا ہے تووہ نارمل نماز پڑھے اوراگردل میں خوف محسوس کرتا ہے تو پھرنماز میں قصر کردے -ایسا کرنے سے اس پرگناہ نہیں ہوگا-

 

ہمارے آجکل کے اسفارتو بہرحال اس قدرہولناک نہیں ہیں جیسے اس زمانے میں تھے - پھرکس نے ہم پریہ "حکم" لاگو کردیا کہ بہرصورت سفرمیں قصر نمازپڑھی جائے ورنہ نماز نہیں ہوگی؟-

آپ نے بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ پاکستان میں دوران سفرجہاں بس سٹاپ کرے اورباجماعت نمازہونے لگے تو ایک عددشیدمذہبی بندہ اعلان کرتا ہے کہ بھئ امام مسافر ہے- (بلکہ مسافرامام صاحب بھی سلام پھیرتے ہی جلدی سے پیچھے منہ کرکے دوبارہ اعلان کرتا ہے کہ امام مسافر تھا اور جو لوگ مقیم ہیں، وہ اپنی نماز پوری کرلیں)- یہاں بیچارے سادہ لوح مقیم مقتدی کنفیوز ہوتے رہتے ہیں-  

ارے مسافرامام صاحب- آپ پوری نمازکیوں نہیں پڑھ لیتے تاکہ مقتدی کنفیوزنہ ہوں؟ آپکو قصرکرنے کا "آرڈر"تونہیں دیا گیا تھا بلکہ "چوائس" دی گئی تھی- 

سفرکے دوران ساتھی مسافروں کی نمازبارے مذہبی دوستوں کا ریڈار خاصا ایکٹیو رہتا ہے- کرید کرید کرپوچھتے ہیں "آپ کہاں سے کہاں تک جارہے؟ کتنے دن  کیلئے؟ وغیرہ- اگرآپ نے غلطی سے پوری نماز پڑھ لی ہےتو آپ کوبتایا جاتا ہے کہ"آپکی نماز نہیں ہوئ"- 

خداکی شریعت کے ساتھ عجیب کھلواڑہے کہ سفر بارے قرآن میں  جس جگہ خدا نے "حکم" دیا ہواہے، اسکو ستم ظریفوں نے "چوائس" بنادیا ہے-اور جس جگہ خدا نے "چوائس "دی ہوئ ہے، اسے خدا کا "حکم" بنادیا ہے-

مسلمان مسافر کوخدا نے حکم دیا ہے کہ رمضان کے فرض روزے بعد میں رکھ لینا- یہاں مولوی صاحبان فرماتے ہیں کہ نہیں جی، اگر آپ سفرمیں روزہ رکھ سکتے ہوتوافضل بات ہے-

مسلمان مسافرکو خدا نے "چوائس" دی ہے کہ نمازمیں قصر کرلو-  یہاں وہ فرماتے ہیں کہ نہیں جی ،اگرسفرمیں پوری نماز پڑھ لی تو آپ کی نماز ہوگی ہی نہیں- 

سفرمیں نمازکی چھوٹ دی گئی ہے- 

 

قرآن میں موجود، نمازقصربارے واحد آیت (سورہ نساء آیت 101) میں تین رموز ہیں-

1۔ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمْ

2- فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ

3- تَقْصُرُوا مِنْ الصَّلاَةِ

ان میں سے دوکواوپرڈسکس کرلیا گیا- اب تیسرے پواینٹ کو لیتے ہیں کہ "نماز میں کمی کرلو"-

یعنی خدایہ فرماتا ہے کہ کسی کو ایسا ہولناک سفردرپیش ہو جس میں جان ومال کا خطرہ لاحق تو وہ دروان سفر اگر نماز میں کمی کرلے تو اسکو گناہ نہ ہوگا-

نماز میں کمی کا مطلب "نمازوں کی تعداد" میں کمی بھی ہوسکتا ہے( یعنی نماز چھوڑ دو) اور نماز میں کمی کا مطلب " نماز کی رکعات " میں کمی بھی ہوسکتا ہے- (یعنی چارکی بجائے دوپڑھ لو)

ہم پہلے والے معنی کو ترجیح دیتے ہیں جسکی دووجوہات ہیں-

پہلی وجہ تو قرآن ہے کہ قرآن میں نماز کی رکعت کا ذکر ہی نہیں (جبکہ نماز کی تعداد کا ذکرموجود ہے)- تو قرآن اس چیزمیں کمی کو مشورہ کیسے دے سکتا ہے جسکو قرآن میں "ڈیفائن" ہی نہیں کیا گیا؟

دوسری وجہ "لوجک" ہے- جس قسم کے ہولناک سفرکیلئے خدا نےرعایتی پیکج دیا ہوا ہے، ایسے ویران راستے میں اگریہ لازم کردیا گیا کہ  مسافرنے نماز کیلئے رکنا بھی ضروری ہے اوروضو وغیرہ میں وقت بھی لگانا ہے تو پھردورکعت کی بجائے چار رکعت پڑھتے مسافرکو کیا تکلیف ہوگی؟- یہ کس قسم کی رعایت ہوئ؟-

ایک بار پھر اس بات پرغور کیجئے گا-

دیکھئے، نمازاہم ترین عبادت ہے جسکے لئے قرآن میں سینکڑوں بارحکم دیا گیا- قرآن میں ایک قانونی شق موجود ہے کہ مسلمانوں پرنمازیں، اپنے مخصوص (یعنی متعین اوقات) میں فرض کی گئی ہیں- (اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے متعین کردہ اوقات میں نماز ادا نہ کرنے سے بندہ گناہگارہوجاتا ہے)-

جب خدا نے قرآن میں بولاکہ "متعین وقت پرنماز پڑھو" تویہ بھی خداکے ذمہ تھا کہ قرآن میں وہ متعین وقت بھی خود بتائے(جیسا کہ رمضان کے روزہ کی سحری وافطاری کا متعین وقت خود بتایا ہوا ہے)-

چنانچہ، قرآن نے ہمیں نمازوں کے متعین اوقات بارے بتادیا ہوا اوراسی سےروزانہ کی ٹوٹل فرض نمازوں کی تعداد بارے بھی معلوم ہوگیا ہے-

تاہم، پورے قرآن میں نمازکی رکعتوں بارے کوئ حکم ہی نہیں موجود- توجب قرآن یہ کہتا ہے کہ نمازمیں کمی کرسکتے ہوتووہ "رکعتوں" بارے کیسے کہہ سکتا ہے کہ جسکا قرآن میں تذکرہ ہی نہیں ہے- ظاہرہے کہ وہ نمازکی تعداد میں کمی بارے بات کررہا ہے-

ایک معقول سوال سوال کیا جاتا ہے کہ جب حالت جنگ میں نماز معاف نہیں توسفرمیں کیسے معاف ہوسکتی ہے؟-

عرض یہ ہے کہ سورہ نساء آیت 102 کو شایدپوری طرح سمجھا نہیں جا رہا- انسان کی سلامتی ہرچیزسے مقدم ہے(جان بچانے کواسلام سے انکارکرنا بھی جائزہے)- چنانچہ مذکورہ آیت میں خدا نے مسلمانوں کومتوجہ کیا کہ جنگ کےدوران کہیں نماز کے شوق میں اپنے سیکیورٹی نظام کواگنورنہ کردینا-

پس خود خدا نے یہ طریقہ سمجھایا کہ جنگ کے دوران، آپ لوگ دوچار کی ٹولی میں الگ الگ جماعت کرلومگراس اندازمیں کہ ڈیفنس میکنزم متاثرنہ ہو-

 

جہاں تک "حالت سفر" کا تعلق ہے تو گاہے یہ "حالت جنگ" سے بھی زیادہ ہولناک اور "رسکی "ہوجاتا ہے-

 

جنگ میں تربیت یافتہ فوجی بمعہ اسلحہ شریک ہوتے ہیں اورانکا دشمن ظاہرو باہرہوتا ہے- 

جبکہ ویران اورخطرناک راستے کا تنہا مسافرجوکہ نہتا اوران ٹرینڈ ہوتا ہے، اسکاپوٹنشل دشمن بھی پوشیدہ ہوتا ہے- ایسے مسافرکے سرپرایک ہی دھن سوارہوتی ہے کہ جلدازجدکسی آبادی میں پہنچ جائے- چنانچہ خدا نے اسکورعایت دی ہے کہ دوران سفر، نمازکا وقت ہوجائے اوریہ بندہ رکنے میں خوف محسوس کرتا ہوتواس نمازکو چھوڑنے پراسے گناہ نہیں ہوگا- یہی بات منطقی بھی ہے-

 

ظاہرکہ جس ٹائپ کے سفرپرقرآنی رعایت دی گئی ہے تو زمانہ موجودہ کے 99۔99 فیصد اسفارپہ قصرنمازلاگو ہی نہیں ہوتی- 

 

اچھا، ایک اور نکتے پربھی غورکیجئے گا-

سفرمیں نمازکے قصر کا اصول بیان کرتے ہی اگلی آیت میں جنگ کی نمازکی بات خدا نے کی ہے- چونکہ جنگ کی نماز کا سٹرکچر، نارمل نماز سے الگ ہے تو خدا نے تفصیل سے اسکا طریقہ کاربھی بیان کیا- مگرسفرکی نمازمیں طریقہ نہیں بدلنا بلکہ یا نماز چھوڑنی ہے یا پڑھنی ہے، اس لئے یہاں پرخدا نے کوئ الگ قصرنمازکا طریقہ نہیں بیان کیا( کہ آدھی یا چوتھائ پڑھ لو)-

چنانچہ، جب کوئ سفرایسا ہوجس میں آپ کو جان ومال کاخطرہ ہواورآپ راستے میں سٹاپ کرنے کا حوصلہ نہ رکھتے ہوں تو آپ اس وقت کی نمازچھوڑ دیں، اس پرآپ کو گناہ نہیں ہوگا- اوراگرآپ کا سفرایسا تشویشناک نہیں کہ جس میں جان ومال کا خطرہ ہوتوآپ نے قرآن میں دی گئی تعداد اوروقت پرہی نمازادا کرنا ہوگی(چاہے آپ مقیم ہوں یا مسافر)-

 

فرض نمازوں کی تعداد کیا ہے؟

 

اب سوال یہ ہے کہ  قرآن نے مسلمان پرروزانہ کتنی نمازیں فرض کی ہیں اورکن اوقات میں؟- 

اس بات کی آپ خود تحقیق کرلیجئے- قرآن بہت واضح ہے- ہم مسلم سیکولرز کے پلیٹ فارم سے اس خالص مذہبی ایشو پرکمنٹ نہیں کرسکتے-(ہمیں کسی پرکوئ اعتراض نہیں چاہے وہ دن میں تین، پانچ یا اٹھ نمازوں کا پڑھنا لازمی سمجھے یا بالکل ہی نہ پڑھے)-

 

البتہ "اہل قرآن" کا موقف یہ ہے خدا نے روزانہ تین نمازیں فرض کی ہیں- مزید وہ قرآن سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ خدا نے دن کومعاش کیلئے بنایا ہے چنانچہ دن کے وقت کوئ نمازفرض نہیں کی سوائے جمعہ والے دن کے- 

مجھے ذاتی طور پرانکے دلائل بہت مضبوط لگے ہیں- لیکن آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ قرآنی آیات کی مختلف تشریحات اورمعانی ممکن ہیں( یہ بھی قرآن ہی نے سمجھایا ہے)- 

چنانچہ اگر کوئ دوست، قرآن سے "صلوات خمسہ" ثابت کرسکیں توہم انکے دلائل پربھی ضرورغورکریں گے- اگرانکی دلیل مضبوط ہوئ توہم بلاتامل انکی بات تسلیم کرلیں گےاوراگرانکی دلیل کمزورہوئ توبھی مسلم سیکولرزکی طرف سے کوئ طعنہ زنی نہ ہوگی- (تاہم،  قرآن سے ہٹ کرکسی اورکتاب سے پانچ نمازوں کی فرضیت کا حوالہ دیا جائے گا تووہ حوالہ ہمارے لئے حجت نہیں ہوگا)-

 

دوست پوچھتے ہیں کہ پھرپانچ نمازوں والی فرضیت کہاں سے آگئی ؟- اسکا جواب ہمارے ذمہ نہیں- البتہ کہنے والے یہ کہتے ہیں کہ ایران کے زرتشی مجاوروں کی مہربانی ہے- زرتشت کا مذہب دنیا کے قدیمی مذاہب میں ہے( ہزارسال قبل مسیح)  جس میں روزانہ پانچ بار نمازاداکی جاتی ہے- مسلمانوں نے جب ایران فتح کیا تواکثرزرتشی مسلمان ہوگئے- کہا جاتا ہے کہ خلفائے راشدین کے دورتک "تین نمازیں" ہی روزانہ اداہوا کرتی تھیں- مگرحضرت علی کے بعد تقریبا" ہزارسال تک فارس ہی مسلمانوں کا مذہبی وسیاسی مرکزبنا رہا تودین میں دیگراختراعات کے علاوہ، نمازیں بھی تین سے پانچ کردی گئیں-(عراق پرانے فارس کا صوبہ تھا)-

ہمیں مگر ان قصے کہانیوں سے کوئ غرض نہیں- یہ ایک خالص علمی موضوع ہے جس میں صرف قرآن پہ فوکس ہونا چاہیئے- کبھی فرصت میسر آئ (اوراسکی ضرورت محسوس ہوئ) تو ان شاء اللہ بڑے سادہ اندازمیں قرآن آپکے سامنے پیش کردیں گے-

 

فی الحال یہ کہ مسلمان امت چونکہ روزانہ پانچ نمازوں پرمتفق ہوچکی ہے تو ہم پھرکم ازکم اہل تشیع کی بات کووزن دینگے کہ وہ تین اوقات میں پانچ نمازیں پڑھتے ہیں(یعنی ظہروعصرکوایک وقت میں ملا کر"ظہرین" اورمغرب وعشاء کو ایک ساتھ ملا کر" مغربین" پڑھتے ہیں)-اہل تشیع اپنے مقام پر بھی تین اوقات میں نمازپڑھتے ہیں- اہل تشیع کے فقہاء اورانکی روایات بھی اہل سنت جتنی ہی قدیم ہیں توظاہر ہے انہوں نے بھی قرآن وحدیث سے ہی استنباط کیا ہوگا-

 

چنانچہ، اہل سنت مسلمانوں کو چاہئے کہ اپنے وطن میں نہ سہی مگرسفرمیں تو"جمع بین الصلوتین" کرلیا کریں-یہ انکے اپنے مسلک میں بھی جائزہے(البتہ "دونمازوں کو جمع" کرنے کیلئے جوایک ضمنی قانون سنی مولوی صاحبان نے بنایا ہوا ہے کہ ایک نماز کا آخروقت ہو اوردوسری کا شروع وقت، تو یہ ایک "خانہ زاد" تجویزہے جومسافرکو مزید دقت میں مبتلا کرنے والی ہے- اسکی ضرورت نہیں)-

 

خلاصہ: 

 

مضمون کے شروع میں عرض کیا ہے کہ اگر آپ صرف قرآن سے دین لیں گے تو نہ آپ خود پریشان ہونگے نہ آپکی وجہ سے کوئ اور-

مسلم سیکولرزکیلئے دینی قانون سازی کا ریفرنس صرف قرآن ہے- 

مثلا" ہم کہتے ہیں کہ وضو کرتے ہوئے اگردواعضاء کو دھولیا جائے(منہ اوربازو) اوردواعضاء پرمسح کرلیا جائے(سراورپاؤں) توقرآن کی روسے آپکا وضومکمل ہوگیا- اسی آیت کی تشریح اگرگرامرکی بنیاد پریوں کی جائے کہ تین اعضاء(منہ، بازو اور پاؤں) کو دھونا اور سر کو مسح کرنا ضروری ہے تویہ تشریح بھی اپنی جگہ درست ہے(اگرچہ قرآنی اعراب حجاج بن یوسف نے لگوائے ہیں)- 

اگراہلسنت علماء قرآن میں مذکور ان چار امور کے علاوہ یہ بھی بتائیں کہ وضو کے عمل میں 13 سنت ہیں، 65 مستحبات ہیں، 21 مکروہات ہیں تو ہمیں اس پربھی کوئ اعتراض نہیں- لیکن اگرکوئ شخص،  قرآن کے بتائے وضوکوناقص کہتا ہے توہم سمجھتے ہیں کہ وہ قرآن کو ہی ناقص کہتا ہے-

اسی طرح، ہمیں یہ قرآنی تفہیم زیادہ قوی لگتی ہے کہ روزانہ تین نمازیں فرض کی گئی ہیں- اب اگر کوئ یہ کہتا ہے کہ قرآن میں پانچ نمازیں فرض کی گئی ہیں تو ہمییں قرآن میں ایسی آیت دکھا دی جائے- ورنہ تین نمازوں کی فرضیت ماننے والے کو کوئ کافر قرارنہیں دے سکتا-

نماز کے سٹرکچر اوراسکی رکعات بارے قرآن نے واضح طورپر اس لئے نہیں بتایا کہ قرآن ہی کی ایک شق میں مسلمانوں کو"وارکعو مع الراکعین" کا حکم دے دیا گیا اوروہ کافی ہے- چنانچہ ہرزمانے کا مسلمان، جہاں بھی موجود ہو، اپنےساتھ والی مسجد کی جماعت کی نمازمیں شریک ہوجائے، اسکی نمازادا ہوجائے گی-

تاہم، قرآن سے استنباط کرتے ہوئے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ خدا نےہرنمازکیلئے صرف دورکعت ہی تجویز کی ہوئ ہیں- چنانچہ ہم ان اہل علم سے متفق ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ روزانہ کل تین نمازیں فرض ہیں اورہرنمازکی کل دورکعت ہوتی ہیں(بحسب قرآن)-

خلاصہ یہ کہ سفرنمازبارے ہماری تفہیم یہی ہے کہ بحسب قرآن ، احتیاط اسی میں ہے کہ آپ سفر وحضرمیں نارمل نماز ہی پڑھیں( اورنارمل نماز کا مطلب  دورکعت فرض پڑھنا ہوتا ہے)-

 

تاہم، پاکستان کے مسلمانوں کے جملہ مسالک کا احترام کرتے ہوئے، ایک مسلمان مسافر کیلئے مسلم سیکولرز کی طرف سے درج ذیل گائیڈ لائین تجویزکی جاتی ہے-(یہ گویا آخری مذہبی  حدود ہیں سفر میں رعایت کی) – 

1۔ دوران سفر،آپ ظہرین اور مغربین کی نمازیں یکجا پڑھ لیا کریں- اگرسٹاپ پرجماعت کی نماز ہو رہی ہو تو جیسے نماز امام پڑھے، آپ بھی ویسے پڑھ لیں- اکیلے پڑھنا ہے توہرنمازکیلئے فقط دورکعت (فرض) ہی پڑھ لیا کریں-(ہم تونمازمغرب کی بھی دورکعت کے قائل ہیں لیکن آپ مغرب کی تین رکعت پڑھ لیں)-

 

2- ظہرین(یعنی ظہروعصر کی اکٹھی نمازیں) آپ دن کے ساڑھے بارہ بجے تا غروب آفتاب سے دس منٹ قبل تک پڑھ سکتےہیں تو اپنی سہولت دیکھ کرکسی بھی وقت پڑھ لیں- مغربین( یعنی مغرب وعشاء کی اکٹھی نمازیں) آپ غروب آفتاب کے بعد سے لیکر رات دوتین بجے تک کسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیں-

 

3۔اگرآپکو سفرمیں وضوکرنا ہوتوچہرہ اوردونوں بازو کودھو لیں اورسراورپاؤں پرمسح کرلیں- اگر آپ انگلش میں اپ"ٹو" اورببببببببالاننننننگ ود" کا معنی سمجھتے ہیں تو پھرجان لیجئے کہ بازودھوتے ہوئے، "کہنیوں سمیت" بازودھونا لازمی نہیں بلکہ "کہنی کی حد" تک دھونا ضروری ہے- تھوڑی بہت عربی جاننے والا بھی "الی الکعبین" اور" مع الکعبین "کا فرق جانتا ہے-

 

4۔ ہرقسم کی جراب بلکہ بوٹ کے اوپرسے بھی آپ مسح کرسکتے ہیں- اس بارے تفصیلی بحث کیلئے "پاک سیکولرڈاٹ کام" پرموجود ہمارے مضمون" وضو میں جرابوں پرمسح" کوبغورپڑھ لیں-

5۔۔ایسی سچوئشن ہوکہ گاڑی نہ رک سکتی ہوتو آپ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے نمازپڑھ لیں- حسب قرآنی استثناء (سورہ بقرہ آیت 239)

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًاۚ-فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ

 

ترجمہ: پھراگرتم خوف کی حالت میں ہوتوپیدل یا سوار (جیسے ممکن ہو نمازپڑھ لو) پھر جب حالت ِاطمینان میں ہوجاؤ تو اللہ کو یاد کرو جیسا اس نے تمہیں سکھایا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔

 

6۔ نمازمیں مکہ کی طرف (قبلہ) چہرہ کرنا ضروری ہے- اگرسفرکی ایسی سچوئشن ہو کہ کسی طویل ہوائ سفرمیں ( مثلا" پاکستان تا کینیڈا) کسی بھی وقت مکہ کی طرف منہ نہ کیا جاسکےتو پھرجس طرف بھی آپکی سیٹ کا رخ ہے، اسی طرف ہی نماز کی نیت کرلیجئے-حسب قرآنی استثناء( سورہ بقرہ ایت 115)

 

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُۗ-فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ

 

ترجمہ: اوراللہ کیلئے ہی مشرق ومغرب ہیں- پس جس طرف تم رخ پھیرو گے تو اسی طرف خدا کی ذات کو پالو گے- ببے شک اللہ کے پاس بہت وسیع علم ہے(یعنی وہ تمہاری مجبوری کو پوری طرح جانتا ہے)-

ویسے" فلیٹ ارتھ" ماننے والوں کی بات الگ لیکن زمین کو ایک گول کرہ ماننے والوں کےلئے یہ سمجھنا مشکل نہہں کہ آپ مکہ کی طرف پشت کرکے بھی کہیں کھڑے ہوجائیں تو دوسری طرف سے آپ کا چہرہ  مکہ ہی کی طرف ہوگا اگرچہ فاصلہ طویل ہوجائے گا-

 

7-اگرایسی سچویشن ہو کہ وضو کیلئے پانی کی دستیابی آسانی سے ممکن نہ ہوتو تیمم کرلیجئے- تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ کوئ بھی ایسی سطح دیکھیں جس پراتنی گرد پڑی ہو کہ آپ اگراس پرہاتھ لگائیں تو کچھ نہ کچھ گرد آپکی ہتھیلی پرلگتی محسوس ہوجائے- اس ہتھیلی کومنہ پرپھیرلیں اوراپنے دونوں بازوؤں پرپھیر لیں- منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکے متعدبہ حصہ تک ہی ہتھیلی پھیرنا ہوتا ہے(انگلیاں ناک میں گھسیڑنا ضروری نہیں ہوتا) اور بازو پردوسرا ہاتھ پھیرتے ہوئے بھی اسکے میجرپارٹ تک مسح کرنا ہوتا ہے( بازو کوکتھک ڈانس کی طرح گھمانا ضروری نہیں ہوتا)- واضح ہوکہ "تیمم" کا عمل  فقط ایک علامتی عمل ہے ورنہ مٹی منہ پرمل لینے سے کوئ صاف وپاک نہیں ہوا کرتا-

 

لیجئے، ہمارا مضمون ختم ہوا- ہم ہرگزنہیں چاہتے کہ آپ ضرورہم کو فالو کریں- آپ بے شک اپنے مسلک کو فالو کریں مگرصرف یہ چاہتے ہیں کہ اگرآپ سفر کے دوران کسی مسلمان مسافر کو ایسا کرتے پائیں جو ہم نے بیان کیا تو اس پرکوئ فتوی نہ لگائیں-اس لئے کہ یہ سارے نکات قرآن سے ہی ثابت ہیں-والسلام

 


سلیم جاوید کی دیگر تحریریں