جدید مسائل اوراسلام

دوبارہ شادی کیلئے"حلالہ "لازمی نہیں ہے

  2023-01-15 04:33:49
  3407

کوئ بھی "قانون" کسی "اصول" کی بنیاد پرتشکیل دیا جاتا ہے-اور کوئ بھی "اصول" کسی "علت"(یعنی ریزن)کی بنیادپروضع کیا جاتا ہے-"حلالہ" کا قانون ، کس اصول اورکس علت کے تحت وجود میں آیا؟ اس بارے وضاحت دینا، مذہبی طبقہ کی ذمہ داری ہے-اس مضمون میں کل سات (7) عدد قرآنی آیات پیش کی گئی ہیں-

 

ظاہر ہے کہ اس مضمون میں ہم نے قرآن سے "حلالہ"والی قبیح رسم کو غلط ثابت کرنا ہے مگرپہلے اس موضوع بارے کچھ ابتدائ گفتگوہوجائے توبہتر ہے-

آپکو یاد ہوگا کہ 2017 ء میں انڈین سپریم کورٹ نے بیک وقت تین طلاق کو ایک جرم قراردیا تھا جس پرحنفی مولوی صاحبان نے دنیا بھرمیں اودھم مچایا تھا- سپریم کورٹ کی اس مشہور رولنگ کی بنیاد ایک واقعہ بنا تھا- جےپور میں ایک 50 سالہ شخص نے اپنے دوست سے کوئ شرط لگائ تھی اوراپنی بیوی ہار بیٹھا تھا- چنانچہ اس نےاپنی بیوی کو طلاق دے دی اورپھربیوی کو" حلالہ" کروانے اپنے دوست کے ساتھ سونے پرمجبورکیا- بیوی اپنی یہ بے عزتی برداشت نہ کرسکی، پولیس کے پاس چلی گئی اورپھرملک بھرمیں اس موضوع کو انسانی حقوق کی تنظیموں نے اٹھالیا- بات سپریم کورٹ میں چلی گئی اورمودی سرکار کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ مسلمانوں میں قرآن کے مطابق طلاق کےپروسیجرکوقانونی شکل دے دی گئی-

عورت پرظلم، روزازل سے ہی مذہبی مافیا کا مشغلہ رہا ہے- کہاجاتاہے کہ مسلمانوں کے عروج کے دور میں مصر فتح ہوا تو وہاں کے لوگ، اپنی کسی مذہبی رسم کے تحت، ہرسال ایک لڑکی کودریائے نیل کی بھینٹ چڑھاتے تھے- مسلمان تومظلوموں کے پشتیبان ہوا کرتے تھے لیکن لوکل مذہبی مافیا کے اثررسوخ کے مدنظر، اس بارے مرکزی حکومت سے ڈائرکشن مانگی گئی اورحضرت عمر نے حکما" یہ ظالمانہ رسم بند کروائ تھی-

پھریہ ہوا کہ اسلام میں ملوکیت آگئی-مسلمان بادشاہوں کا فوکس، انسانیت کی بجائے اپنی کرسی پرہوگیا- مسلمانوں کے آٹھ سوسالہ اقتدار کے دوران، ہندوستان میں "ستی" کی رسم ہواکرتی تھی-(ہندومذہب کی رسم"ستی" یہ تھی کہ جب خاوند مرجاتا اوراسکی لاش جلائ جاتی تواسکی بیوہ کو بھی ساتھ ہی آگ میں ڈال دیا جاتا تھا)- ہندومذہب کی اس غیرانسانی رسم کو ختم کرنے کا حوصلہ مسلمان بادشاہوں کونہ ہوسکا- اس ظالمانہ رسم کوختم کیا تو سیکولرانگریزحکومت نے ہی ختم کیا-

کسی عورت کا حلالہ کروانا، کسی عورت کوستی کرنے جیسا ہی ہے کہ خاوندنےطلاق دی اورخاوند کی غلطی کی پاداش میں، اس بیچاری کو کسی غیرمردکے ساتھ ہم بستری پرمجبورکیاجائے- افسوس کہ ہندوستان کے 25 کروڑ مسلمانوں میں پائ جانے والی اس غیرانسانی رسم کو ختم کرنے کیلئے آواز، ایک ہندوحکومت نے اٹھائ ہے-

ایک دورتھا کہ دنیا کے مظلوموں کا آسرا، مسلمان ہواکرتے تھے- آج یہ دن ہے کہ مسلم مظلوموں کو کفارکا سہارادرکار ہے-

تلک الایام ندوالھا بین الناس

مسلم دنیا میں "حلالہ" کے نام پہ کیا دھندا چل رہا ہے؟ لندن میں کتنے حلالہ سنٹر موجود ہیں؟ کراچی میں کہاں کہاں کرائے کے مولوی برائے حلالہ دستیاب ہیں؟ انڈیا میں کس جگہ"بیوی بدل حلالہ" کی سہولت موجود ہے؟ یہ سارا کچھ ذرا سی گوگل سرچ سے آپکو معلوم ہوسکتا ہے-

مگراس کے جواب میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اجی، شریعت میں اصل حلالہ کا طریقہ اورہے- اوروہ طریقہ یہ ہے کہ کسی میاں بیوی میں طلاق ہوجائے اورپھروہ دوبارہ شادی کرنا چاہیں تواسکے لئے ضروری ہے کہ عورت پہلے کسی غیرمرد سے شادی کرکے اس سے ہم بستری کرے- پھراگرنیا خاوند، اپنی خوشی سے کبھی اس عورت کو طلاق دے(یا وہ خاوندفوت ہوجائے) تو پھریہ عورت واپس اپنے پہلے والے خاوند سے شادی کرسکتی ہے-اس کوشرعی "حلالہ" کہتے ہیں-

ہم عرض کرتے ہیں کہ یہ قرآن کی نہیں بلکہ آپکی خودساختہ شریعت ہے اوراسی نے آگے مروجہ گندے دھندے کوبنیاد فراہم کی ہے-

یہ توایک کامن سینس کی بات ہے کہ جب کسی میاں بیوی میں طلاق ہوجاتی ہے تووہ دوبارہ زیروپوزیشن پرچلے جاتے ہیں یعنی طلاق کے بعد، دونوں فریق ایک دوسرے کے لئے ویسے ہی اجنبی بن جاتے ہیں جیسا کہ شادی سے پہلے ہوتے تھے-

اب دواجنبی افراد اگرآپس میں شادی کرنا چاہیں توکس بنیاد پران پریہ قدغن لگائ جائے کہ نہیں جی، یہ عورت پہلے کسی اورمرد سے شادی کرے گی تب اسکےمطلوبہ مرد سے شادی حلال ہوگی؟ کیا طلاق کے بعد بھی انکا کوئ رشتہ ابھی باقی ہے کہ انکی شادی کیلئے سپیشل شرائط لاگو کی جائیں؟- 

قرآن میں اس ایشو بارے  کیا کچھ راہنمائ دی گئی ہے؟ اس پربات شروع کرتے ہیں- 

میاں بیوی میں طلاق کیوں کرہوتی ہے؟                                          

ہم نے ایک تفصیلی میں عرض کیا ہے کہ طلاق دینے کی اتھارٹی شوہرکے پاس نہیں ہے بلکہ یہ "جرگے" یا"قاضی " کے پاس ہے- اس بارے تفصیلی پروسیجرقرآن نےبتادیاہے-(مضمون "پاک سیکولرز" ویب سائٹ پرموجود ہے)-

میاں بیوی میں طلاق کیوں کرہوجاتی ہے؟ 

یہ توظاہرہے کہ طلاق خوشی سے نہیں واقع ہوتی بلکہ فریقین کی آپس میں خفگی یا جھگڑے کی بنیاد پرہی طلاق تک نوبت پہنچتی ہے- اس خانگی جھگڑے کی دووجوہات ہوسکتی ہیں-

1۔ ایسی طلاق جوغلط فہمی کی بنیاد پرہو-

بعض اوقات بہت معمولی سی بات پرجھگڑا ہوجاتا ہے مگردرمیان میں کچھ لوگ جلتی میں تیل  ڈال دیتے ہیں ( پاک وہندکے جوائنٹ فیملی کلچرمیں عموما" ایسا ہوتا ہے)، یاپھرکوئ فریق خود ہی ایسا تیزمزاج ہوتا ہے کہ چھوٹی بات کوبہت سیرئس لےلیتا ہے-

اسی وجہ سے قرآن نے طلاق کی اتھارٹی "جرگہ یا قاضی" کے پاس رکھی ہے کہ وہ فریقین میں اصلاح کی کوشش کریں- جرگہ اگرفیصلہ کرے توطلاق روکی جاسکتی ہے تاہم ایسے رشتے زورزبردستی سے نہیں چلا کرتے-ہوتامگر یوں ہے کہ طلاق کے کچھ ہی عرصہ بعد فریقین کودرمیانی سازش کا پتہ چل جاتا ہے یا پھراپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے اوروہ دوبارہ مصالحت کرنا چاہتے ہیں(پھرمگراس آیت کو اڑبنایا جاتا ہے)-

طلاق کی اس سچوئشن کو ہم "عمومی طلاق" کا نام دے لیتے ہیں-

2۔ایسی طلاق جو سازش کی بنیاد پرہو-

گاہے ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک فریق، دوسرے فریق سے جان بوجھ کرجان چھڑانا چاہتا ہے (کسی تیسرے فردکی خاطریا مال بٹورنے کی خاطر) اورطلاق لینے دینے کیلئے دوسرے فریق پرکوئ الزام تراشی کرتاہے-

یورپ میں چونکہ طلاق کی صورت میں خاوند کی نصف پراپرٹی بیوی کو ملتی ہے تووہاں مال بٹورنے کی خاطرعورتیں سازشی طلاق لیتی ہیں( اس لئے وہاں کے مرد اب شادی سے کترانے لگے ہیں)- اپنے ہاں عموما" خاوندصاحب جب کسی غیرعورت کے چنگل میں پھنس جائے اوراسکی محبوبہ کا مطالبہ ہو کہ پہلی سے جان چھڑاؤ تووہ کوئ سازشی سکیم بناتا ہے(اگرچہ بعض عورتیں بھی کسی اورکے عشق میں اپنے خاوند کو زہرتک دے دیتی ہیں)-

ایسی سچوئشن کو ہم" سازشی طلاق " کا نام دے دیتے ہیں-

جہاں تک پہلی سچوئشن کا تعلق ہےجس میں دونوں میاں بیوی اپنی غلطی کا احساس کرکے، واپس خوشی برضا آپس میں ملنا چاہتے ہیں توان پر کیوں قدغن لگائ جائے؟- 

البتہ دوسری سچوئشن میں چونکہ ایک فریق نے دوسرے فریق پرجان بوجھ کرظلم کیا ہوتا توایسی طلاق میں "جرگہ یا قاضی" کو چاہیئے کہ قصوروار فریق پرکچھ جرمانہ ضرورعائد کرے-

ہم عرض کرتے ہیں کہ قرآن کی رو سے"عمومی طلاق" کیلئے "تحلیل نکاح" والی آیت لاگو نہیں ہوتی بلکہ یہ شق' سازشی طلاق" پرلاگو ہوتی ہے- 

 

قرآن میں تضاد نہیں ہوسکتا:

 

جوطلاق غلط فہمی کی بنیاد پرہوئ(سازش پرنہیں) اوربعدمیں فریقین بخوشی واپس شادی کرنا چاہتے ہیں تو"تحلیل نکاح" والی آیت ایسی سچوئشن کیلئے ویلڈ نہیں ہے-اس لئے کہ اگربخوشی رجوع والوں پرقرآن کی یہ آیت (سورہ البقرہ 230) نافذ کی جائے تو پھریہ شق، قرآن ہی کی دومزید شقوں سے متضاد ہوجائے گی- وہ دونوں شقیں (یعنی آیات) بھی سورہ البقرہ میں موجود ہیں-ایک ہے آیت 224 اور دوسری ہے آیت 232۔

پہلے ہم آیت 224 کی بات کرتے ہیں-(یہ آیت خداکےکلام کی حقانیت کا ایک اورثبوت ہے)-

جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ "مولوی صاحب، ہم دونوں میں طلاق ہوچکی ہے مگراب ہم دوبارہ یکجا ہونا چاہتے ہیں"- توجواب آتا ہے" بھائ، ہمیں توکوئ اعتراض نہیں مگرخدانے قرآن میں منع کیا ہوا ہے کہ اب آپ دوبارہ یکجا نہیں ہوسکتے"-

یعنی بات خدا پہ ڈال دی گئی- سبحان اللہ، غورکیجئے کہ ڈیڑھ ہزارسال قبل خدا نے کیا فرمایا تھا:

وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ

ترجمہ: اور اپنی قسموں کی وجہ سے اللہ کے نام کو احسان کرنے اور پرہیزگاری اختیارکرنے اورلوگوں میں صلح کرانے میں آڑنہ بنالواوراللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔

 

اس آیت میں خدا نے صلح کرانے میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو وارننگ دی ہے اورمزےکی بات یہ ہے کہ یہی خاص وہ موقع ہے جہاں صلح میں رکاوٹ ڈالنے کیلئے خدا کے نام کوآڑ کو بنایا جاتا ہے-

چنانچہ، بخوشی رجوع کرنے والوں پرآیت 230 لاگو کرنے سے آیت 224 کی خلاف ورزی ہوتی ہے-

اب ہم دوسری آیت (البقرہ آیت 232) پربھی بات کرتے ہیں مگر بنیاد بنانے کیلئے دودیگرآیات بھی پیش کردیتے ہیں(اوروہ بھی سورہ البقرہ کی ہی آیات ہیں)- اس دوران آپ آیت 232کو بھول نہ جانا کہ ان دوآیات کے بعد اسکولیں گے-

سورہ البقرہ  آیت 229 اور آیت 231 کو دیکھئے گا-

اَلطَّـلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَاِمْسَاكٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌ بِاِحْسَانٍ ۗ(229)

ترجمہ: طلاق دو مرتبہ ہے، پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نیکی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے-

 

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَـهُنَّ فَاَمْسِكُـوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ( 231)

ترجمہ: اور جب عورتوں کو طلاق دے دو پھر وہ اپنی عدت کو پہنچ جائیں تو انہیں حسن سلوک سے روک لو یا انہیں دستور کے مطابق چھوڑ دو-

مذکورہ دونوں آیات میں ایک ٹیکسٹ مشترک ہے یعنی " فَاَمْسِكُـوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ سَرِّحُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ" جسکا معنی ہے " انہیں حسن سلوک سے روک لو یا انہیں دستور کے مطابق چھوڑ دو"-جو بات دونوں آیات میں مختلف ہے وہ یہ ہے کہ پہلی آیت میں دوطلاق کے بعد "رجوع" کی بات کی گئی اوردوسری آیت میں  طلاق تو کیا، عدت کا وقت گذرنے کے بعد بھی "رجوع" کی اجازت دی گئی ہے- اس میں حلالہ کہاں گیا؟-

دونوں آیات میں سیدھا خطاب شوہرصاحب کوہے- ایک میں ہے کہ دوطلاق کے بعد بیوی کو رکھ لو (واپس رکھ لو) یا چھوڑدو- دوسری آیت میں ہے کہ تین طلاق ہونے کے بعد اسکو رکھ لو(واپس رکھ لو) یا چھوڑ دو-

اگرچہ مذکورہ بالا آیات سے بھی ہمارامقدمہ ثابت ہوجاتا ہے لیکن اب ہم آیت 232 کی طرف آتے ہیں (جسکا ذکرپہلے کرچکے ہیں)- قرآن کی یہ شق اورزیادہ واضح ہے- فرمایا:

وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَـهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ يَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَـرَاضَوْا بَيْنَـهُـمْ بِالْمَعْرُوْفِ ۗ ذٰلِكَ يُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۗ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَاَطْهَرُ ۗ وَاللّـٰهُ يَعْلَمُ وَاَنْتُـمْ لَا تَعْلَمُوْنَ

ترجمہ: اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو پس وہ اپنی عدت تمام کر چکیں تو اب انہیں اپنے خاوندوں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ آپس میں دستور کے مطابق راضی ہو جائیں، تم میں سے یہ نصیحت اسے کی جاتی ہے جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، یہ تمہارے لیے بڑی پاکیزی اور بڑی صفائی کی بات ہے، اور اللہ ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

 

اس آیت میں صاف بتادیا گیا کہ وہ میاں بیوی جن میں طلاق بھی ہوچکی ہو، پھرعدت بھی گذر چکی ہو(چاہے کئ سال بھی گذر چکے ہوں) اوراسکے بعد فریقین دوبارہ آپس میں نکاح پررضامند ہوں تو کسی کو حق نہیں کہ انکوآپس میں نکاح کرنے سے روکے-

اس آیت کی رو سے "حلالہ" نامی شوشے کی بیخ بنیاد ہی ختم ہوجاتی ہے-

نوٹ: اس آیت میں دو"ٹرمز" ہیں جن پرمختصر بات کرنا ضروری ہے- ایک تو لفظ" خاوند" ہے اوردوسرا" نکاح سے مت روکو" ہے-

خاوند سے کیا مراد ہے؟-

اس آیت میں لفظ" خاوند" پرغورکیجئے گا- طلاق ہونے کے بعد، پرانا خاوند توعورت کا خاوندنہ رہا اورنیاخاوند ابھی کوئ بنا نہیں توپھرخاوند کسے کہا جارہا؟-

یہاں "خاوند" کا لفظ سابقہ خاوند کے لئے رزومرہ محاورے بطوراستعمال ہوا ہے- جیسا کہ ایک ریٹائرڈ ملازم اپنا کوئ واقعہ بیان کرتے کہتا ہے کہ "میرے باس نےپھریوں کہا" تواسکا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آج بھی اسکا وہی باس ہے-سب سمجھ جاتے ہیں کہ پرانے باس کی بات کررہا ہے-

نکاح سے روکنا کیا ہوتا ہے؟- 

ایک توہوتا ہے زورزبردستی سے اوردوسرایوں کہ کوئ ایسی شرط لگادینا جوفریقین کیلئے سادہ ایجاب وقبول کومشکل بنادے-

توجہ فرمایئے-

 زید اورصفیہ میں طلاق ہوچکی ہے- کچھ عرصہ بعد دونوں نادم ہوگئے- اب واپس  نکاح کرنا چاہتے ہیں-خدا کہتا ہے نکاح ہونے دو- مگرمولوی صاحب کہتا ہے کہ پہلے صفیہ کیلئے ایک اورخاوند ڈھونڈو- 

چلیں ایک دوسرے کو دوبارہ پانے کی خاطر، صفیہ نے پہلےعمرنامی بندے سے شادی کرلی( نیا رشتہ ڈھونڈنے بنانے میں ایک دوسال نکل گئے)- اب صفیہ اورزیددراصل آپس میں ملنے کے منتظر ہیں مگراسکے لئے یہ شرط رکھ دی گئی ہے کہ اگرعمرصاحب، صفیہ کو بخوشی طلاق دے گا تو ہی دوبارہ زید سے شادی ہوسکتی ہے- 

ادھر شریعت کا مطالبہ ہے کہ بیوی اپنے خاوند کی وفادارواطاعت گذاررہے – اس بناپرصفیہ نے عمر کو کسی شکایت کا موقع بھی نہیں دینا – پس عمراسکو"بخوشی" طلاق کیوں دے گا؟-اسکا مطلب ہے کہ زید اورصفیہ کا تواس زندگی میں دوبارہ نکاح ہونے سے رہا- یہ رکاوٹ جو صفیہ اورزید کے دوبارہ نکاح میں ڈالی گئی، کیا یہ خدا نے لگائ؟-

 اگرجواب " ہاں " میں ہے توسورہ البقرہ کی آیت نمبر 232 کا کیا مطلب ہوا؟-

اگر جواب " نہیں " میں ہے تو پھر سورہ البقرہ آیت نمبر 230 کا کیامطلب ہوا؟-

آجکی گفتگوکا خلاصہ یہ ہے کہ "عمومی طلاق" والےکیس میں اگر آیت 230 والی شق نافذ کی جائے گی تواس ایک آیت کی وجہ سے دوآیات کی خلاف ورزی ہوجائے گی (جبکہ قرآن پاک میں تضاد نہیں ہوسکتا)-

پس ہم عرض کرتے ہیں کہ آیت نمبر 230 کا تعلق  صرف"سازشی طلاق" والی سچوئشن سے ہے- 

سازشی طلاق کیا ہوتی ہے؟-

پہلے عرض کیا جاچکا کہ کوئ بھی  طلاق، جرگہ یا قاضی کے بغیرویلڈ نہیں ہواکرتی-قاضی یا جرگہ کودوران جرح یہ علم ہوجاتا ہے کہ دوسرا فریق کیا کھیل کھیل رہا ہے؟- اس صورت میں انکے پاس اگرچہ یہ اتھارٹی ہوتی ہے کہ طلاق نہ ہونے دیں( عموما" فریقین کووقت دیا جائے توایڈجسٹ ہوجایا کرتےہیں)، تاہم بعض اوقات اس وجہ سے طلاق کا فیصلہ کردیاجاتاہے کہ مزیدساتھ رکھنے میں کسی فریق کی جان کوضررپہنچنےکااندیشہ ہوتاہے-

یہ ایک سادہ منطقی بات ہے کہ اس قسم کی سازشی طلاق کی صورت میں ، قصوروار فریق کو کچھ نہ کچھ سزا بہرحال ملنا چاہیے(چاہے یہ سزامعاشرتی ہو، مالی ہو یا کچھ اور)-

 دیکھئے، عورت اگرمردکے خلاف سازش کرنا چاہے تو اسکے پاس ایک ہتھیار ایسا ہےجسکا جواب قاضی کے پاس نہیں ہوتا- وہ یہ کہ "اجی میراخاوند نامرد ہے"-

اسی بارے ایک قدیم عربی حکایت آپکو سناتا ہوں-

ویسے توطلاق میں زیادہ تکلیف عورت کو ہوتی ہے مگرقدیم عربوں میں مطلقہ عورت کودوسری شادی کرنے میں بہرحال کوئ رکاوٹ نہیں ہوتی تھی-(بلکہ بعض اوقات مطلقہ یا بیوہ کی ڈیمانڈ زیادہ ہوتی تھی- وجہ یہ کہ  انکا"تجربہ" زیادہ اور" مہر" کم ہوتا تھا)-

 

یوں ہوا کہ زمانہ قدیم میں ایک عرب عورت کو طلاق ہوگئی تو اس نے دوسرے شادی شدہ مرد سے شادی کرلی- یہ دوسرا شوہر بہت اچھا آدمی تھا- مگرکچھ عرصہ بعد، اس عورت اور سابقہ شوہرکا دوبارہ چکرچل پڑا- اب اس عورت نے سازش کے ذریعہ موجودہ شوہرسے نجات کی ٹھانی- وہ قاضی کے پاس جاکربولی کہ میری طلاق کروا دیں کیونکہ میرا شوہر"نامرد" ہے-

 قاضی نے اس شوہرکو بلایا- شوہرکومقدمہ بارے پتہ چل چکا تھا چنانچہ وہ پہلی بیوی سےاپنے دوبیٹے بھی ساتھ لیکرآیا جوکہ بالکل اسکے ہم شکل تھے- قاضی نے بیٹوں کودیکھا توسمجھ گیا کہ یہ بندہ نامرد نہیں ہے بلکہ یہ عورت سازش کررہی ہے- اسکے شوہرنے بھی قاضی کو بتادیا کہ یہ عورت اپنے پرانے خاوند کے پاس واپس جانے کیلئے مجھے کالا کررہی ہے-

قاضی بہت حکیم تھا۔ اس نے عورت سےکہا کہ چلو تم کو اس خاوند سے طلاق دلوا دیتے ہیں لیکن تم پہلے خاوند کے پاس تبھی جاسکتی ہو جب کسی دوسرے خاوند نے تم سے بھرپورسیکس کیا ہوا ہو-(اتنا کہ دونوں ایک دوسرے سے سیٹسفائ ہوں)-

عورت پھنس گئی- حالیہ خاوند بارے تووہ کہہ چکی کہ وہ نامرد ہے(یعنی اس سے یہ عورت سیٹفائ نہیں ہوئ)- اب قاضی کی شرط پورا کرنے ایک اور مرد سے شادی کرنا ہوگی(سابقہ خاوندسے ڈائریکٹ نہیں کرسکتی)- اچھا ایک اورشادی کےبعد وہ قاضی کو کہہ دے گی کہ اب میں نےمزہ لے لیا ہے- لیکن قاضی نے یہ شرط بھی ساتھ ہی لگائ کہ وہ دوسرا خاوندبھی آکرگواہی دے کہ وہ بھی اس عورت سے سیکشوئلی مطمئن ہوچکا- جب اس خاوند کو پتہ چلے گا کہ یہ گواہی اس لئے لی جارہی تاکہ عورت اس سے طلاق لیکرکسی اورمرد کے پاس جانا چاہتی ہے تو وہ بھلا کیوں قاضی کے سامنے اسکا اقرارکرےگا؟- چنانچہ یہ عورت خوداپنی چالاکی میں پھنس گئی-

 (اگرچہ یہ کہانی آپکو"سازشی طلاق" کی ایک صورت سمجھانے سنائ گئی ہے مگراس کہانی کو ذہن میں رکھئے گا کیونکہ  آخر میں دوبارہ اسکی ضرورت پڑے گی)- 

بہرحال، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ سازشی طلاق کی صورت میں قصوروار فریق پر کچھ تاوان عائد کرنا عین منطقی ہے اوسورہ بقرہ کی آیت 230(تحلیل نکاح) اسی قسم کی طلاق کیلئے ویلڈ ہے نہ کہ "عمومی طلاق "کیلئے- اسکی تشریح ہم اگلی قسط میں کریں گے-

 

قارئین کرام!

آگے بڑھنے سے قبل ایک اہم نکتہ عرض کرنا ہے- قرآن میں مذہبی احکام بھی بیان ہوئے اوردینی احکام بھی- 

مذہبی احکام(جوخدااورفردکےدرمیان ہوں) ان میں منطق نہیں ہوا کرتی( "صفا ومروہ" کے پھیرے کیوں کئے جائیں؟)۔ 

مگردینی احکام(جوسماج سے متعلق ہوں) ان کیلئے منطق یاعلت کا بیان کرناعلماء کی ذمہ داری ہے(" قذف" میں اسی کوڑے کیوں مارے جائیں)-

"حلالہ" والی آیت دینی احکام کے زمرے میں آتی ہے مگرمروجہ حلالہ کی جو"علت" ہمارے مذہبی دوست بیان کرتے ہیں، وہ کامن سینس قبول نہیں کرتی-

"حلالہ" کیوں ضروری ہے؟ اسکے لئے مذہبی طبقےکی طرف سے مندرجہ ذیل دو"علتیں" بیان کی جاتی ہیں- 

1۔ دراصل "حلالہ" مرد کو سزا دینے کیلئے لازم ہواہے کہ اسکی عورت کسی غیرمردکے ساتھ سوئے-

2-"حلالہ" نہ ہو تو مرد، اپنی عورت کواذیت دینے کیلئے طلاق کوکھیل بنالے گا -

 

مذکورہ بالا "وجوہات برائے حلالہ " پرمختصرتبصرہ  کرلیتے ہیں-

1۔ یہ خاصی احمقانہ تاویل ہے کہ جب مطلقہ کسی غیرمرد سے شادی کرتی ہے توپرانے خاوندکی غیرت کوٹھیس پہنچتی ہے-

 بھائ! جب وہ عورت اس مرد سے آزاد ہوگئی تو"اپنی عورت" کہاں رہی؟ اوراب وہ  کسی بھی مرد سے شادی کرے تواس میں پرانے خاوندکی غیرت کاکیا عمل دخل؟-

 کائنات کے جن غیرت مند ترین لوگوں کے کلچرکی بنیاد پرقرانی تفاسیرکی جاتی ہیں، ان لوگوں بارے توآپ ہی نے بتایاہوا ہے کہ صرف حضرت عاتکہ نامی صحابیہ کے تیس عدد نکاح ہوئے تھے- پھر توآپکی منطق مطابق ، گویا آدھا مدینہ غیرت کے مارے خالی ہوگیا ہوتا- آپ تو بلکہ یہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی کی دوبیویاں تھیں اوراس نے اپنے مہاجربھای سے کہا ان میں سے جون سی عورت آپکو پسند ہو، میں اسکو طلاق دے دیتا ہوں اور آپ اس سے شادی کرلو-

پس ہم ایسی کسی تاویل سے متفق نہیں ہیں کہ عورت کا حلالہ سے دراصل مرد کو سزا دینا مقصود ہوتی ہے-

2۔ جولوگ یہ منطق پیش کرتے ہیں کہ اگرحلالہ والی شق نہ ہو تو ایک خاوند،اپنی بیوی کو طلاق دے گا پھراسکو اذیت دینے دوبارہ اس سے شادی کرے گا پھردوبارہ طلاق اورپھرشادی -تو یہ الگ احمقانہ منطق ہے-

اگرعورت بہت بےکس ہے اوراسی خاص مردکیلئے اتنی مجبور ہے(جبکہ مرداسکواذیت دینا چاہتا ہے) تو مذکورہ کھیل تو آپکے فقہ کے مطابق بھی کھیلا جاسکتا ہے- 

مرد، اسکو "دوعدد" طلاق دے کرگھر بھیج دے- تیسری طلاق سے پہلے پھرسے نکاح پڑھوا کراپنے پاس لے آئے- اب نئے سرے سے گیم شروع ہوئ چنانچہ پھرکچھ دن بعد "دوطلاق" دیکرمیکے بھیج دے اور پھر نئے سرے سے واپس لے آئے – اس طرح چل سوچل-

بلکہ ایسی مجبورعورت کوتوآپکے فقہ کی آڑ میں زیادہ اذیت پہنچانا ممکن ہے- وہ ایسے کہ  مرد اسکو طلاق دے دے- پھرکسی دوست کے ساتھ حلالہ کروا کراسکا جسمانی وروحانی "ریپ" کروائے- پھراپنے گھر لائے- پھر طلاق دیکر، کسی اوردوست کے ساتھ سلائے- پھر اپنے پاس لائے-(ایسے کیس رپورٹ ہوچکے ہیں)-

 

بھائ دوستو! ایک عورت کو طلاق وحلالہ کی آڑمیں اذیت پہنچانا بھی اس لئے ممکن ہوا کہ آپ نے مردکے ہاتھ میں طلاق کی اتھارٹی رکھ دی ہوئ ہے- خدا کی شریعت میں طلاق کی اتھارٹی، خاوند کے ہاتھ نہیں بلکہ "جرگہ" یا"جج" کے ہاتھ میں ہے

"تحلیل نکاح" بارے ہماری تفہیم:

 

بیوی اپنا گھربچانے کی سرتوڑکوشش کیا کرتی ہے -پاک وہندمیں عموما" طلاق کا سبب شوہراوراسکی فیملی ہوتی ہے-(اگرچہ استثناء بھی ہوتا ہے)-جب میاں بیوی میں طلاق ہوجاتی ہےتوہمارے سماج میں سارے خسارے اورسارے المئے عورت کے حصے میں آتے ہیں جبکہ مرد کو فورا" دوسرارشتہ مل جاتا ہے-

 

چنانچہ چاہئے کہ شوہر کو اسکے قصورکی سزادی جائے- مگر"حلالہ" کی جو بھی صورت بتائ جائے، وہ تو عورت ہی کوگویا سزا دینا ہے-روحانی بھی اورجسمانی بھی- بلکہ مالی طوربھی عورت کوہی سزا ہوتی ہے کیونکہ ایک بارپھراسکےلئے جہیزبنانا پڑتا ہے-

یہ صورتحال توقرآن کےایک اورآفاقی اصول کے خلاف ہے جو سورہ النجم آیت 38 میں بیان کیا گیا-جس میں فرمایا:

 

اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۙ

ترجمہ: (وہ بات یہ ہے) کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔

یعنی کسی کے جرم کی سزا، کسی دوسرے کو نہیں دی جاسکتی- اب شوہرکے جرم کی سزا، بیوی کو کیسے دی جاسکتی ہے(البتہ بیوی قصوروار ہو تو اس پرکوئ سزا یا تاوان مقررکیا جاسکتا ہے-مگراسلام کا عمومی مزاج یہ ہے کہ عورتوں کے معاملے میں خاصی نرمی برتی جاتی ہے)-

چنانچہ ہم آیت 230(البقرہ) کی یہ تشریح کرتے ہیں کہ اس آیت میں"قصوروار" مردکیلئے مالی تاوان کا اصول بیان کیا گیا ہے-

 

سوال: جناب آپ نے یہ تفسیرکیسےنکال لی ہے؟

جواب: ہم عرض کرتے ہیں کہ اس آیت کی تشریح قدیم عرب سوسائٹی کے تناظر میں ہی کرنا پڑے گی(بصورت دیگریہ آیت خودقرآن سے متضاد ہوجائے گی جیسا کہ قسط سوم میں بیان ہوچکا ہے)-

سوال: کیا قرآن کی تشریح کو قدیم عرب کلچرکے تناظر میں ہی دیکھنا پڑتا ہے؟-

جواب: سارے قرآن کو نہیں مگرقرآن کی کئی آیات کی تشریح کیلئے ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے- مثلا" قدیم عرب سماج کو نہ دیکھا جائے توپوری "سورہ قریش" بے معنی ہوجاتی ہے جس میں خدانے قریش مکہ پراپنی ایک نعمت بیان کی کہ وہ گرمیوں میں ملک شام کواور سردیوں میں ملک یمن کوتجارتی سفرکرنے میں آزاد ہیں-

آج( 2023ء میں) مکہ شہربھی موجود ہے اوروہاں قریش بھی موجود ہیں- مگرنہ انکو سردیوں میں سفرکی حاجت اورنہ گرمیوں میں - نہ ہی یمن یا شام سے تجارت انکے لئے آج خدائ نعمت ہے- پس اس سورت کی تفسیر، قدیم سماج کے تناظر میں ہی ہوگی-

سوال: قدیم عرب سماج بارے ہمیں کہاں سے پتہ چلے گا؟

جواب: ویسے توہردور میں مورخین نے خاصا کام کیا ہوا ہے مگر"ہسٹری" ایک سیکولرسبجیکٹ ہے لھذا اس بارے ان عالمی معروف ہسٹورینز کا کام دیکھا جائے جوکسی خاص گروہ کا تعصب نہ رکھتے ہوں- قدیم عرب رواجات بارے، مسلم مورخین کے علاوہ یورپی مورخین کا کام بھی انٹرنیٹ پردستیاب ہے-

سوال: مگرآیت کے الفاظ میں تو صاف لکھا ہوا ہے کہ مطلقہ عورت، کسی دوسرے مردسے نکاح کرے گی تو تبھی پہلے کیلئے حلال ہوگی؟

جواب: یہاں ہم آیت کے ٹیکسٹ کی بجائے، اس میں پنہاں اصول کو دیکھ کراسکی تشریح کریں گے-اس آیت میں اصول یہ ہے کہ"مجرم" فریق پرتاوان رکھا جائے-

سوال: کیا قرآن میں کوئ اورآیت بھی ایسی ہے کہ اسکے ٹیکسٹ کو اگنور کرکے، اس میں پنہاں اصول کی بنیاد پرتفسیرکی گئی ہو؟

جواب: جی ہاں، ایک سے زیادہ مثالیں ہیں- ایک مثال یہاں پیش کی جاتی ہے-

 

قدیم عرب سماج میں لوگوں کی "پرائیویسی" کے تین اوقات ہوتے تھے-پہلا وقت-عشاءکی نماز کے بعدسے لیکر تہجد کی نماز تک (جسکے لئے وہ مسجد میں آتے تھے-بتایاگیاہےکہ تہجد کی اذان بھی دی جاتی تھی) -دوسرا وقت: تہجد سے لیکرپھر فجرکی نماز تک- اورتیسراوقت: دوپہرکو قیلولہ کیا جاتا تھا-

چنانچہ قرآنی"ٹیکسٹ" میں پبلک کو نصیحت کی گئی کہ مذکورہ تین پرائیوٹ اوقات میں ایک دوسرے کے گھرنہ جایا کریں-ایک، بعد نماز عشاء- دوسرے، قبل نماز فجر- تیسرے، ظہرکے وقت-

اب یہاں پرآیت میں پنہاں اصول کو دیکھا جائے گانہ کہ اسکے ٹیکسٹ کو-

مثلا" آج کے زمانے میں نمازفجرسے لیکر دس بجے دن تک لوگ گھرمیں ہوتے ہیں جبکہ ظہرکا وقت،بزنس ٹائم ہوتا ہے-اب آپ 2023 میں یہ قانون نہیں بناسکتے کہ ظہرکے وقت کسی سے ملنے مت جاؤکیونکہ قرآنی ٹیکسٹ میں اس وقت ملاقات سے منع کیا گیا ہے- اوریہ کہ آپ فجرکے بعدہی کسی کے گھرکا وزٹ کرو(اوراگلا چیں بجبیں کرنے لگے تو اس پرتوہین قرآن کی دفعہ لگاؤ)کیونکہ قرآنی ٹیکسٹ میں فجرکے بعد ملنے کی اجازت دی گئی ہے-

 

عام فہم بات ہے کہ اس آیت میں ایک اصول بیان کیا گیا(جوکہ ٹیکسٹ میں لکھا ہوا نہیں) اوروہ اصول یہ ہے کہ کسی بھی سماج میں لوگوں کے پرائیوسی کے اوقات کا خیال رکھا جائے- ایسے اوقات میں، کسی ایمرجنسی صورتحال میں توملنے جایا جاسکتا ہے مگرعام میل ملاقات سے اجتناب کیا جائے-

یہی بات آپ کی تفاسیرمیں بھی لکھی گئی ہے کیونکہ یہ اصول عین منطقی ہے-

 

سوال: چلیں اب آپ آیت 230 کی تشریح قدیم عرب کلچرکے تناظرمیں کیجئے-

جواب: قدیم عرب سماج میں شادی کے سب اخراجات صرف مرد کے ذمہ ہوتے تھے(حق مہر، نان ونفقہ)- عام غربت کا یہ عالم تھا کہ پہلی شادی کیلئے بھی چندے کرنا پڑتے تھے-یعنی بیوی کا حصول خاصا مہنگا کام تھا-

چنانچہ مرداگر بیوی کوطلاق دے دیتا تو اسکوخاصا مالی نقصان ہوتا تھا جبکہ مطلقہ عورت کوفورا" ہی دوسرا رشتہ مل جایا کرتا تھا- (خود حضور نے 55 سالہ بیوہ عورت سے بھی شادی کی ہوئ ہے)-

طلاق دینے کی صورت میں مرد کو حق مہرکے علاوہ، وہ سارے گفٹ بھی عورت کوساتھ دیناپڑتے جواس نے اس عورت کیلئے لئے تھے- اسکے علاوہ اگر اس عورت کے پاس اسکا دودھ پیتا بچہ ہوتا تو بچے اورماں دونوں کا نان نفقہ کم ازکم دوسال تک دینا پڑتا- مزیدیہ کہ نئی شادی کیلئے الگ سے حق مہروجہیز کا بندوبست مرد ہی کو کرنا ہوتا- یعنی مردکیلئے اچھی خاصی مصیبت کھڑی ہوجاتی تھی-

مگراس عام غربت کے سماج میں بھی طلاق بہت عام ہواکرتی تھی-اس لئے بھی کہ طلاق کو"ہندوکلچر"کی طرح نحوست نہیں سمجھا جاتاتھا)- اوراس لئے بھی کہ عربوں میں شہوت بہت تھی(یہی ایک انٹرٹینمنٹ تھی)-

طلاق کی پانچ بڑی وجوہات پیش کردیتا ہوں-

پہلی وجہ: عورت کی طرف سے- 

دوسری وجہ: مردکی طرف سے-

تیسری وجہ: مزاجی آہنگی نہ ہونا- 

چوتھی وجہ: ساس نندوں کی طرف سے-

پانچویں وجہ: پارٹنرکی جنسی بے راہ روی-

 

ان سارے کیسز میں، ایک "معقول طریقہ" ہوتا ہے اورایک "نامعقول طریقہ "ہوتا ہے طلاق کا-ہم عرض کرتے ہیں کہ آیت 230 کا تعلق، طلاق کے" نامعقول طریقہ کار" سے ہے-

 

اگرچہ بات طویل ہوگئی ہے مگرمذکورہ کیسزکی کچھ وضاحت کرناضروری ہے- غورکیجئے گا-

 

پہلا کیس: عورت کی طرف سے-

قدیم عرب میں کسی عورت کواپنے مردسے تسکین نہ ملتی تووہ طلاق لے سکتی تھی(جسے زمانہ جاہلیت میں خلع کہتے تھے)- 

اسکی "معقول صورت" یہ تھی کہ عورت اپنے مالی حقوق معاف کرکے مردسے فارغ ہوجاتی- جبکہ "نامعقول صورت" یہ ہوتی کہ مال ہڑپ کرنے کیلئے مرد پر"نامردی" وغیرہ کا الزام لگاتی-

اب سوچیئے کہ اگرتوعورت نے ازخود معقول صورت میں طلاق لی تو بھلا واپس کیوں اس خاوندکی طرف آنا چاہے گی؟- اس صورت میں آیت 230کی کیا منطق بنتی ہے؟-

البتہ اگر" نامعقول صورت" میں طلاق حاصل کی توقاضی کو چاہیئے کہ اس عورت پرکوئ تاوان مقرر کرے(یہاں پرآیت 230 اصول مہیا کرتی ہے)-

 

دوسرا کیس: مردکی طرف سے-

قدیم عرب میں کسی مردکو اپنی عورت سے تسکین نہ ملتی (یا ذائقہ بدلنا چاہتا) تواسکو مزیدشادیاں کرنے کی اجازت تھی- لیکن اگرایک جھونپڑی کا مکان ہوتا تو ذائقہ بدلنے جس عورت کو لایا جاتا، اسکوگھردینےکی خاطر پہلی کورخصت کردیا جاتا-

 

اسکی "معقول صورت" یہ ہوتی کہ عورت کے مالی حقوق اداکرکے اسکو رخصت کیا جاتا- جبکہ "نامعقول صورت" یہ تھی کہ اسکے مالی حقوق ہڑپ کرنے کی خاطراس پرکوئ براالزام لگا کرطلاق دی جاتی(یا اسکو اتنی اذیت دی جاتی کہ وہ خود ہی حقوق چھوڑکرطلاق لے)-

 

غورکیجے کہ اگر"نامعقول صورت" میں عورت کوطلاق دی گئی تو وہ ایسے کمینے خاوند کے پاس واپس کیوں آنا چاہے گی جبکہ عرب سماج میں تواسکو اگلا خاوندملنے والی کوئ مجبوری بھی نہیں؟- پس یہاں عورت پرآیت 230 نافذ کرنا توبےمطلب ہی ہوا (کہ جبتک تم دوسری جگہ شادی نہ کرلو، پہلےکے واپس نہیں جاسکتی)-

 

البتہ ایسا بخیل خاوند،طلاق دینے کے بعد جب نئی عورت کامہردینے کے قابل نہ ہواتو واپس پرانی عورت کو رجھانے کی کوشش کرے گا(پرانی واپس آئے تومہرکی رقم ہوگی)- چنانچہ معافی تلافی کی کوشش کرے گا- عورتیں ویسے ہی نرم دل ہوتی ہیں، باتوں میں آجاتی ہیں-

مگرخدانے اس شاطرمرد کوسبق سکھانے کیلئے یہ اصول بتایاکہ یہ عورت اب اس مردکی بجائے کسی اورمرد سے شادی کرے گی- اگراس شاطرمردکی قسمت اچھی ہوئ یعنی وہ عورت اس خاوند سے فارغ ہوگئی(بیوہ ہوگئی یا مطلقہ ہوگئ) اورپھروہ عورت بھی اس سے شادی کو رضامند ہوئ تو پھرکرلے اس سے شادی-

مسلم سیکولرز یہ عرض کرتے ہیں کہ شاطرمرد کیلئے مذکورہ سزا جو اس آیت میں بیان ہوئ، وہ بھی حتمی نہیں ہے بلکہ قاضی کو گائیڈ لائین دی گئی ہے- قاضی اس آیت میں پنہاں اصول کومدنظررکھ کر، کیس ٹوکیس فیصلہ دے سکتا ہے-

تاہم، اگرعورت کو معقول طریقے سے طلاق دی(یعنی اسکے حقوق پورے اداکئے)توگویا رضامندی سے طلاق ہوئ- یہ دونوں دوبارہ اجنبی بن گئے اورکچھ دنوں بعد دوبارہ نیا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں تو کیوں صرف عورت پرہی یہ تاوان رکھا جائے کہ پہلےکسی غیرمرد سے ہم بستری کروتبھی اس مرد کیلئے حلال ہوگی(جبکہ سابقہ خاوند بھی اب "غیرمرد"ہی ہے)-

 

تیسراکیس: مزاجی آہنگی نہ ہونا-

 طلاق کی ایک صورت یہ بھی ہے جس میں میاں بیوی کوآپس میں جنسی تسکین کا پرابلم نہیں ہوتا مگرآپس میں مزاجی ہم آہنگی نہیں ہوتی( ہروقت توتو،میں میں)- ان حالات میں فریقین کو(بالخصوص مرد کو)کو نصیحت کی گئی کہ برداشت کرو-تاہم، گذارانہ ہوسکے توجدا ہوجاؤ-(جرگہ یا قاضی کے ذریعہ)-

اسکا معقول طریقہ یہ ہے کہ ایک دوسرے کیلئے اجنبی بن گئے توایک دوسرے کو معاف کرکے، اپنی اپنی زندگی شروع کردو- نامعقول طریقہ یہ ہے کہ جدا ہونے کے بعد بھی دوسرے کی نئی زندگی کیلئے رکاوٹ بنے رہیں- مثلا" ایک دوسرے کے خلاف چارج شیٹ لئے پبلک میں پھرتے رہیں تاکہ کہیں اوربھی دوسرے فریق کا رشتہ نہ ہوسکے- (چارج شیٹ سے مراد حقیقی الزامات ہیں نہ کہ بہتان طرازی- بہتان طرازی ایک الگ جرم ہے جسکی سزا قرآن میں مذکور ہے)-

اب اس کیس میں ہم یوں تشریح کرتے ہیں کہ آیت 230 یہاں بھی نامعقول طریقہ والی طلاق کیلئے اصول بیان کرتی ہے-

یہاں پر مردکو(خصوصا' قدیم عرب مردکو) یہ بتایا گیا کہ اگر تم پرانی بیوی کواس لئے بدنام کررہے کہ اسکا کہیں اوررشتہ نہ ہوبلکہ تیرے لئے ہی مجبور ہوجائے توتمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ اب تیرے لئے یہ حلال نہیں ہے جبتک کہ کسی دوسرے سے شادی کرکے اس سے فارغ نہ ہوجائے- 

اچھا ، عورت بھی ایسا کرسکتی ہے کہ پرانے خاوند کواس لئے بدنام کرے کہ اسکا کہیں اوررشتہ نہ ہو اوراسی عورت کیلئے مجبور ہوجائے توایسی عورت کوبھی یہی وارننگ ہےکہ تم جب تک کہیں اورشادی کرلو، اس سابقہ مردکے پاس واپس نہیں جاسکتی-

البتہ ایسے کیس میں اگر"معقول" طریقہ طلاق اپنایا گیاجسکے بعد دونوں اپنی اپنی زندگی میں مشغول ہوگئے (ایک دوسرے کے خلاف سازشوں میں نہیں لگے) اورکچھ عرصہ بعد دونوں نے سمجھا کہ اگر اپنی اصلاح کرلیں ایک دوسرے کیلئے بہترثابت ہوسکتے ہیں تو اب ان دو"اجنبی افراد" کو کس منطق سے آپس میں شادی کرنے سے روکا جائے گا؟-

 

پس ہم سمجھتے ہیں کہ یہاں بھی آیت 230 صرف "نامعقول" طلاق کے تناظرمیں ہے-

چوتھا کیس: ساس نندوں کی طرف سے-

طلاق کی ایک اوروجہ بھی ہوتی ہے جوپاک وہند میں ہی رائج ہے اوروہ ہے ساس ، نندوں ، دیور بھابھی کی وجہ سے طلاق ہونا(ایسی طلاق عرب سماج میں اس لئے نہیں ہوتی کہ وہاں "جواینٹ فیملی "والا ہندوانہ کلچرنہیں ہوتا)- چنانچہ پاک وہند میں ایسی "سازشی طلاق" واقع ہونے پرعدالت کو چاہیئے کہ اسی آیت 230میں پنہاں اصول کے تحت قصوروارپارٹی پرکوئ سزا عائد کرے-

 

پانچواں کیس: پارٹنرکی جنسی بے راہ روی-

طلاق کی پانچویں وجہ "پارٹنرکی بے وفائ" یعنی اسکا کسی غیرفریق کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنا- ایسے کیس کیلئے آیت 230 لاگونہیں ہوتی بلکہ اسکے لئے قرآن میں ایک اور شق ہے جسے "لعان" کا قانون کہتے ہیں- قدیم عرب سماج میں" رنگے ہاتھوں" پکڑی جانے والی بیوی کو شوہرقتل کردیا کرتے تھے- قرآن نے پابند کیا کہ عدالت میں جانا پڑے گا جوعورت کے حلفیہ بیان کی بنیادپر،اسے سزا دے گا یا آپس میں طلاق کروادے گا-

 

سوال: آپ اس آیت کی جو تفسیرکرتے ہیں، ہم متفق نہ ہوں توآپ کیا کہیں گے؟-

جواب: جیسے ہم آپکی تشریح سے متفق نہیں ویسے آپکو بھی پورا حق حاصل ہے- ہم نےآیت 230 کی تشریح، ایک علت کو لیکرکی ہے اوراس سے اصول اخذ کیا ہے جو آپکے سامنے رکھا ہے- دیگرلوگوں نے یقینا" کسی "علت" کی بنیاد پراسکی تفسیر کی ہوگی – اس علت سے اصول اخذ کیا ہوگا اورپھر اس اصول پرقانون بنایا ہوگا- آپ اپنے اورہمارے دلائل کاخود اپنی عقل سے جائزہ لےکرجس کو بھی ترجیح دیں گے آپ خدا کے ہاں مجرم نہیں ہونگے- مجرم تب ہونگے جب اپنی عقل کواس بارے استعمال ہی نہیں کریں گے-

 

سوال : آپ کا اس موضوع پراصل مطالبہ کیا ہے؟-

جواب: ملکی قوانین بنانا، پارلمنٹ کا کام ہوتا ہےمگراسلام بارے اسکی راہنمائ ایک ادارہ کیا کرتا ہے جسے "اسلامی نظریاتی کونسل"کہتے ہیں-ہم سمجھتے ہیں کہ سماجی ایشوز پرفتوی سازی کا حق صرف اسی ادارے کو حاصل ہے- ہماری اس ادارے سے درخواست ہے کہ ایسے ایشوزپر ہماری معروضات کو بھی سن لیا جائے اسکے بعد جوبھی فیصلہ کیا جائے گا، ہم خود کو اس فیصلے کا پابند سمجھتے ہیں-

 

آخری سوال: اگر ہم آیت 230کے الفاظ پرہی قانون سازی کرلیں توکیا حرج ہے؟-

جواب: اگر اس آیت کے ٹیکسٹ کی بنیاد پربھی قانون سازی کی جائے توپھربھی "حلالہ" ثابت نہیں ہوتا-

 

آیت 230 کے ٹیکسٹ سے "حلالہ" ثابت نہیں ہوتا-

 

بعض دوست اصرارکرتےہیں کہ قرآنی ٹیکسٹ پررکھ کرہی قوانین بنائے جائیں(حالانکہ گاہے ایسا ممکن نہیں ہوتا ورنہ پوپلے منہ والا بڈھا اگرکسی جوان کے دانت توڑ دے تو" قرانی ٹیکسٹ" کی بنا پرقصاص ممکن نہیں ہوگا)-ایسے دوستوں کی خدمت میں عرض ہے کہ آیت کے الفاظ سے بھی"حلالہ" جیسی غلیظ رسم کو ثابت نہیں کیا جاسکتا-

آیت کے ٹیکسٹ پردھیان دیجئے جس میں صرف نکاح یعنی اگریمنٹ کی بات کی گئی ہے( نہ کہ کسی کے ساتھ رات گذارنے اورہم بستری کرنےکی) -فرمایا:

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَـهٝ مِنْ بَعْدُ حَتّـٰى تَنْكِـحَ زَوْجًا غَيْـرَهٝ ۗ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يَّتَـرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّـآ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّـٰهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ 

ترجمہ: "پھر اگر اسے طلاق دے دی تو اس کے بعد اس کے لیے وہ حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ وہ کسی اور خاوند سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں رجوع کر لیں اگر ان کا گمان غالب ہو کہ وہ اللہ کی حدیں قائم رکھ سکیں گے، اور یہ اللہ کی حدیں ہیں وہ انہیں کھول کر بیان کرتا ہے ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں"۔

 

یعنی اگرصفیہ اورزید، طلاق ہونے کے کچھ عرصہ بعد دوبارہ آپس میں شادی کرنا چاہتے ہیں اور اس آیت کے ٹیکسٹ کو بھی فالو کرنا چاہتے ہیں توصفیہ کو چاہیئے کہ ایک اورشخص سے نکاح کے بول پڑھوائے اوروہ بندہ ایجاب وقبول ہوتے ہی،اسکو دوبارہ طلاق دے دے-

جولوگ یہ سمجھتے ہیں کہ "نکاح" کا مطلب ہم بستری کرنا ہوتا ہے اوربغیرہم بستری کے نکاح نہیں ہوسکتا ہے تووہ غلط سمجھتے ہیں-(اگرچہ عربی میں "ہم بستری" کے عمل کو"جماع" کہتے ہیں مگرقرآن نے اس کےلئے زیادہ باوقار لفظ "لمس" استعمال کیاہے)-

واضح ہوکہ بغیرجسمانی لمس کےبھی نکاح منعقد ہوجایا کرتا ہے اور یہ قرآن ہی نے بتایا ہے- سورہ احزاب آیت 49 میں فرمایا:

 ترجمہ: "اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انھیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمھاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے، جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو‘‘۔ 

 

 ثابت ہواکہ بغیرہمبستری کے نکاح بھی ہوجاتا ہے، طلاق بھی ہوجاتی ہے اوراس طلاق کی کوئ عدت بھی نہیں(یعنی طلاق کے اگلے ہی لمحے وہ عورت دوسری شادی کرسکتی ہے)-

 

ایک دوست نے کمنٹ لکھا کہ ایک خاص مدت اورکوئ خاص شرط لگا کر، نکاح کرنا حرام ہے(نہ جانے کیوں احباب یہ بھول جاتے ہیں کہ حرام وحلال طےکرنے کا اختیار صرف خدا کے پاس ہے؟ یعنی قرآن کے پاس)-

 

عرض یہ ہے کہ نکاح توہوتا ہے کسی شرط پرہے(بلکہ اسکے لئےبعض شرائط خود خدا نے طے کردی ہیں)- ایجاب وقبول، حق مہراور گواہان کے علاوہ بھی اگرشرائط رکھنا چاہیں تورکھ سکتے ہیں-

رہی دوسری بات یعنی "نکاح برائے مخصوص مدت" تو اس بارے میں قرآن پاک میں کوئ ممانعت درج نہیں ہے-

اہلسنت اوراہل تشیع اس پرمتفق ہیں کہ رسول اکرم کے آخری زمانے تک"مخصوص مدت"والے نکاح ہوا کرتے تھے- اسکےبعد سنی حضرات کا موقف یہ ہے کہ رسول اکرم نے اسکوحرام قراردیا(کیا رسول خداکے پاس حرام قراردینے کا اختیار ہے؟ قرآن کی روسے تونہیں ہے)-

ہم سمجھتے ہیں اخلاقا" یہی بات درست ہے کہ نکاح، کسی مدت کے تعین کے ساتھ نہ کیا جائے(بلکہ عمربھرکابندھن ہو) مگرقانونا" متعین مدت والے نکاح کو حرام قرارنہیں دیا جاسکتا(قانون کا حوالہ  ہمارے لئے صرف قرآن پاک ہے)-

ہمیں معلوم ہے کہ مذہبی لٹریچر میں ایسی مزعومہ احادیث موجود ہیں جن میں " حلالہ" کے لئے  ہمبستری کو لازمی قراردیا گیا ہے-مثلا" ایک حدیث بیان کی جاتی ہے جس میں ایک عورت کوحلالہ کا حکم دیتے ہوئے رسول اکرم نے فرمایا کہ "تیرا شوہرتیرا شھد چکھے اور تو اسکا شھدچکھے"- 

اس حوالے کو ہم مندرجہ ذیل پانچ وجوہات کی بنا پرتسلیم نہیں کرتے-  

1۔تمام مسلمانوں نے قرآن نامی کتاب کو خدا کا کلام مانا ہواہے اور اس کتاب میں درج ہے کہ یہ کتاب رہبری، سلامتی اورہدایت کیلئے کافی ہے-

اسی کتاب میں یہ بھی درج ہے کہ "نبی کو فالو کرو"،چنانچہ رسول اکرم کی جن اہم باتوں اور عادتوں کو فالو کرنا ضروری ہے، وہ اسی کتاب کےاندرہی تاقیامت محفوظ کردی گئی ہیں(نہ کہ کسی لاہوری، بخاری، پشاوری کے ذمہ ڈالی گئی ہیں)- پس ہم نصیحت وموعظت کیلئے ہرقسم کی کتاب کا احترام کرتے ہیں مگراسلامی قانون سازی کیلئے ہمیں قرآن کافی ہے-(حسبنا کتاب اللہ)- قرآن کی مذکورہ آیت میں ہم بستری والے حکم کا ذکرنہیں ہے- 

 

2-ہم رسول اکرم جیسے معتبراورباوقار آدمی سے یہ گمان نہیں رکھتے کہ وہ کسی عورت سے ایسا کلام کرتے ہوں کہ تواسکا شھد چکھ اوروہ تیرا شھد چکھے-ہم سمجھتے ہیں کہ یا تو پوری بات ہی گھڑی ہوئ ہوگی یا پھرالفاظ میں کچھ آگے پیچھے ہوا ہوگا- دونوں صورتوں میں یہ"حدیث" ریفرنس نہیں بن سکتی- 

 

3- اگرفرض کرلیا جائے کہ مذکورہ حدیث لفظ بہ لفظ درست رپورٹ ہوئ ہے تو بھی ہم اسکو ایک خاص موقع اورخاص کیس کیلئے ویلڈ تصور کرتے ہیں- اس لئے کہ ایک اورحدیث میں بیان ہواکہ وہ عورت بڑی چالاک تھی اوراس کی کہانی، ویسی ہی ہے جو ہم نے قسط نمبر چارمیں بیان کی ہوئ ہے-اس صورت میں اس فرمان کو "عمومی قانون سازی" کیلئے ریفرنس نہیں ماناجاسکتا-

 

4۔منطقی طورپربھی مذکورہ بالا حدیث قابل عمل حل پیش نہیں کرتی- مثلا" مطلقہ کو دوتین سال بعد نیا خاوندملا اوروہ" نامرد" نکلا(چنانچہ شھد نہ چکھ سکا)- خدا خدا کرکے اس سے خلع لیا اورکچھ سال بعد ایک تگڑے مرد سے شادی کرلی مگراس خاوندکو رخصتی والے دن ہی "کورونا" ہوگیا اورآیسولیشن کے دوران وہ فوت ہوگیا-(چنانچہ اس نے بھی"شھد" نہیں چکھا)- اسکی عدت گذارنے کے کچھ برس بعد کوئ "شھدچکھنے" والامیسرآیا تووہ اسکو طلاق دینے پرراضی نہیں- جب تک وہ کسی طریقہ سے اس تیسرے خاوند سے جان چھڑاتی ہے، تب تک پہلے والا خداکے پاس پہنچ چکا ہوتا ہے- چنانچہ اگریہ عورت پرانے خاوند کے پاس"بروقت" جانا چاہتی ہے توپھر" کرائے کا حلالہ" ہی کرنا ہوگا-(جسکو ہم غیراسلامی ہی نہیں بلکہ غیرانسانی فعل سمجھتے ہیں)-

 

5- مذکورہ بالا حدیث سے زیادہ مضبوط حدیث تووہ ہے جس میں رسول اکرم نے فرمایا کہ عورت کا نکاح، "ولی الامر" کی اجازت کے بغیرباطل ہے- پھرفقہ حنفی والے اس حدیث کوریفرنس کیوں نہیں مانتے؟- اس لئےکہ وہ حدیث "خبرواحد" ہے-(حدیث احاد کو احناف والے قانونی ریفرنس نہیں مانتے)- ہماراسوال یہ ہے کہ "شھدچکھنے والی" حدیث بھی احاد میں ہے، اسے کیوں ریفرنس بنایا جاتا ہے؟- 

 

بھائ دوستو!

ہم چونکہ قرآن کو ناقص ونامکمل کتاب نہیں سمجھتے توہم ان بکھیڑوں میں نہیں پڑتے کہ "حدیث" کی دو اقسام ہیں( حدیث متواتر،حدیث احاد)، اور پھرآگے"حدیث احاد" کی تین اقسام ہیں ( حدیث مشہور، حدیث عزیز،حدیث غریب)،اور پھراس سے آگے چل سوچل-

ہمارے لئے یہ آیت (البقرہ-230) بہت واضح ہے اورہم اس سےدرج ذیل احکام اخذ کرتے ہیں-

 

1۔ایسے جوڑے جن میں طلاق کسی باہمی غلط فہمی یا تیسرے فریق کی سازش کی وجہ سے ہوئ ہواوروہ دوبارہ بخوشی آپس میں شادی کرنے کو رضامند ہوں تو بغیرکسی حلالہ کے وہ آپس میں دوبارہ شادی کرسکتے ہیں-

2۔ ایسے جوڑے جن میں کسی فریق نے خاص بدنیتی سے دوسرے فریق کو طلاق دی توعدالت یا جرگہ کو چاہیئے کہ اس آیت سے راہنمائ لیتے ہوئے، قصوروارفریق پرکوئ تاوان مقررکریں جسکو ادا کئے بغیراس فریق کو سوسائٹی میں اگلا پارٹنرچننے کااجازت نہ دی جائے-اسی کو"تحلیل نکاح" کہا جائے گا-

 

3۔اگرطلاق یافتہ جوڑا، واپس ملنا چاہتا ہے مگراحتیاطا" قرآنی ٹیکسٹ کو بھی فالو کرنا چاہتا ہے تواسکے لئے ایک"حیلہ" پیش کیا جاتا ہے-

زید اورصفیہ میں طلاق ہوئے کچھ عرصہ گذرگیا ہے اوروہ دونوں برضاورغبت دوبارہ شادی کے خواہاں ہیں مگراس آیت کے الفاظ پربھی عمل کرنا چاہتے ہیں تو اپنی اپنی فیملی میں سے کم ازکم ایک ایک بندہ لیکر"جرگہ" تشکیل دیں- یہ جرگہ، صفیہ اورعمر(تیسرا بندہ)کا ایجاب وقبول کروادیں بحق ایک لاکھ روپے مہرموجل( اپنی لوکل زبان میں دونوں سے پوچھاجائے کہ ایک دوسرے کو بطور میاں بیوی قبول کرتے ہیں تونکاح ہوجاتا ہے-عربی خطبہ پڑھنا یاسرکاری فارم بھرنا نکاح کیلئے لازمی نہیں ہوتا)-نکاح ہوتے ہی دونوں میں سے کوئ ایک فریق(مثلا" صفیہ)جرگہ سے بولے کہ وہ اپنے فیصلے سے مطمئن نہیں چنانچہ اس سے الگ ہونا چاہتی ہے- جرگہ ان دونوں میں طلاق کروا دے گا توعمرکے ذمہ حق مہرادا کرنا معاف اورصفیہ کیلئے عدت معاف ہوجائے گی اورصفیہ، واپس زیدسے نکاح کرنے کیلئے آزاد ہوجائے گی-(احباب چاہیں تومدارس میں پڑھائ جانی والی کتاب الحیل میں ہماری تجویزکااضافہ فرماسکتے ہیں)-والسلام

 


سلیم جاوید کی دیگر تحریریں