اسلامک سیکولرزم کیا ہے؟

مسلمانوں کے خلاف گھڑی گئی دوروایات

  2023-02-06 04:07:50
  1193

ذخیرہ حدیث میں بہت سی مشہور روایتیں ایسی ہیں جنہیں محض گروہی اساس پر سیاسی حالات کے پیشِ نظر وقتی ضرورت کےلیے گھڑ لی گئی ہیں لیکن آگے جاکر ذخیرہ کتب میں وہ روایات کسی طرح سے جگہ پاگئی ہیں جس سے نہ صرف انہیں شُہرت ملی ہیں بلکہ بسا اوقات انہیں بطور احتجاج و استدلال بھی پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ وہ روایتیں من گھڑت ہیں اگرچہ کسی مستند ذخیرہ کے ذریعے ہی کیوں نہ ہم تک پہنچی ہوں، مثلاََ مثال کے طور پر ہم یہاں بطور نمونہ دو ایسی روایتوں کے بابت کچھ عرض کریں گے جوکہ نہ صرف مشہور ہیں بلکہ ذخیرہ کتب میں بعض صحاح نے بھی انہیں مستند سمجھ کر درج کی ہیں۔ ایک روایت ”عورت کی امارت“ کی ممانعت والی روایت ہے اور دوسرا ”قتل مرتد“ سے متعلق مشہور روایت ہے۔

جہاں تک قتلِ مرتد کا تصور ہے یہ معاملہ مذہبی کم اور سیاسی زیادہ ہے۔ پتہ ہے یہ روایت کس نے کیوں گھڑ لی تھی؟ ہمیں یہ جاننے سے پہلے خود محدثینِ کرام کی روایات پرکھنے کی اصول و معیار کو سمجھنا ہوگا۔ کیوں کہ جب تک ہم اُن اصول اور معیارات کا جائزہ نہیں لیں گے اس وقت کی سیاسی ضرورتوں اور مصالح کےلیے روایت سازی کے مزاج کی گہرائی کو نہیں سمجھ پائیں گے۔ اب محدثینِ کرام کی روایات پرکھنے کا معیار اور اصول کیا ہیں؟ اس سے کتابیں تو بھری پڑی ہیں۔ سردست ہم یہاں صرف ایک ہی اصول ذکر کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔

محدثین کرامؒ کا ایک متفقہ اصول ہے کہ چونکہ اہل بدعت نے اپنے مسلک کی تائید میں احادیث وضع کر رکھی تھیں اور وہ بھی ثقہ راویوں کے سلسلہ اسناد کے ساتھ جوڑ توڑ کر،محدثین کرامؒ کے اس فارمولے کی روشنی میں ایسی روایات کا پتہ چلتے ہی انہیں کتب میں تو شامل لیکر ذخیرہ استدلال سے باہر سمجھا جائے۔ اب ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اہل بدعت سے کون لوگ مراد ہوسکتے ہیں، شیعہ مراد تھے یا سنی؟ خارجی مراد تھے یا رافضی؟ اس لیے کہ اس بہتی گنگا میں تقریبا سب نے گروہی اساس کی بنیاد پر ہاتھ دھو لیے ہیں۔ اگر صرف شیعوں کو رد کریں گے تو ذخیرہ روایات سمٹ کر رہ جائے گی اور خود سنیوں کے پاس بھی کچھ نہیں رہ پائے گا۔ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ خود اہلسنت کے ائمہ رجال کا دعوی ہے۔ اس لیے کہ اہل سنت کی صحاح ستہ میں اس وقت بھی 16600 سے زائد روایتیں صرف شیعہ روایوں سے ہی منقول ہیں اور ان میں سے بہت ساری روایتیں شیعہ مسلک کی بھرپور ترجمانی میں بھی ہیں۔ سو ہم ہرگز کسی ایک طبقے کو بدعت کے ساتھ نتھی نہیں کرسکتے، ہمارا مقصود و مدعا یہ ہے کہ یہ سب مل کر گروہی اساس پر جو ہزاروں احادیث گروہی نظریے پر جنم دی گئی ہیں، چونکہ محدثین کرامؓ بھی انسان ہی تھے، انہوں نے اپنی فہم و اجتہاد پر بہت ساری روایتوں کو اپنے ذخیروں سے تاحیات ہر ایڈیشن میں تسلسل کے ساتھ نکالتے رہے اور بہت سی روایتوں کو کسی طرح سے جگہ مل گئی۔ جن کو جگہ دی گئی ان میں اب بھی بہت ساری روایتیں بدستور تشنہ تحقیق ہیں۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام کا سب سے قدیم گروہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کی ہے جسے عام طور پر ”شیعانِ علی“ کہا جاتا ہے۔ دوسرا گروہ خوارج کی ہے جو سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے روٹھ کر ان کی حیات میں مُتشکل ہوکر ان ہی سے برسرِ پیکار ہوئی تھی۔ تیسرا گروہ اہل سنت کی ہے جو قریب قریب 150 برس بعد وجود پذیر ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مبادی علوم کے ائمہ پہلے گروہ سے ہیں اور روایات کے بیشتر راوی دوسرے گروہ سے ہیں۔ جب کہ مجموعی طور پر روایات جمع کرنے کا کارنامہ تیسرے گروہ کا ہے۔ چونکہ محبانِ علی اور خوارج دو ہم عصر گروہ تھے اس لیے یہی دو باہم شدید سیاسی حریف بھی رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی احادیث نے جنم لی ہیں، جنہیں پہلے پہل سینوں میں پالا پوسا گیا، پھر چوری چپکے مستند حوالوں کے ساتھ جوڑ کر مجالس میں بیان کیا جاتا رہا جو بعد میں ذخیرہ کتب میں جگہ پاتے گئے۔

سیاسی روایت سازی کے مکروہ عمل میں شیعان علی اور خوارج ایک ہی کردار کے دو چہرے ہیں، وہ یوں کہ یہ دونوں گروہ اپنے اپنے گروہی وفاداری کی پیشِ نظر حمایت و مخالفت میں سیاسی مقاصد کے اہداف کی تکمیل اور مسلکی ضرورت کے پیشِ نظر روایت سازی کا کام کیا کرتے تھے جس کی ایک واضح مثال اصولین اور محققین نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا کے خلاف ایک روایت کی دی ہے اور دوسرا واضح مثال سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے خلاف دوسری روایت کی دی ہے۔ یہ دونوں روایتیں نہ صرف ذخیرہ کتب کی زینت بنی ہیں بلکہ یہ اس قدر زبان زد عام ہیں کہ ہم جابجا بطور استدلال آج بھی یہ روایتیں ممبر و محراب اور مجالس میں سنتے رہتے ہیں، ذیل میں وہ دونوں روایتیں ذکر ہوں گے۔

کہا جاتا ہے کہ جنگ جمل میں جب شیعانِ علی کو ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنھا کو سیاسی اُفق سے بے دخل و بے اثر کرنے کی سیاسی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوں نے یہ روایت گھڑ لی:

                         ”لن یفلح قوم وَلَّوا امرھم امراۃ“

(وہ قوم فوز و فلاح ہرگز نہیں پائے گی جس کی قیادت عورت کرے)

عقلی اور تاریخی طور پر یہ استقراء غلط ثابت ہوئی ہے۔ چونکہ اس روایت کے مرکزی راوی حضرت حسن بصری ہے، جن کے بارے میں حلیۃ الاولیاء (2-131) میں ہے کہ:

                       ”شَبَّ فی کنف علیؓ ابن ابی طالب“

      (وہ سیدنا علیؓ ابن ابی طالب کے آغوش میں ہی جوان ہوئے)

جس پر بحث کرتے ہوئے سیرت نگاروں نے دعوی کیا ہے کہ وہ جمل میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے خلاف تلوار لیے جنگ میں بھی شریک ہوئے تھے۔ ان ہی قرائن کو بنیاد بنا کر بعض محققین اس روایت کو سیاسی ضرورت کےلیے ایک وقتی ایجاد کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں، اب یہی روایت ہمارے دور میں سب سے زیادہ محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ کے خلاف استعمال کی گئی اور استعمال کرنے والے میاں نواز شریف کے حاشیہ نشین مولوی اور کفش بردار خطیب ہوا کرتے تھے، باوجود اس کے کہ محترمہ اپنے دور میں تمام سیاسی لیڈروں بشمول سیاسی افق پر نمودار مولوی صاحبان سے نہایت جری، زیرک، سنجیدہ، جہاندیدہ، باصلاحیت، مخلص اور بہتر تھیں۔

 اب ذرا ایک ایسے ہی گھڑی ہوئی دوسری روایت (جو سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے خلاف ہے۔) جسے بامِ عروج کی حد تک شہرت ملی ہے۔ آئیے ذرا اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں! 

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ روایت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ خلاف گھڑلی گئی ہے :

                            ”من بدل دینہ فاقتلوہ“

                 (جس نے اپنا دین بدل دیا اسے قتل کردو)

سوال یہ ہے کہ کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ واقعی دین سے پھر گئے تھے؟ جواب ہرگز نہیں بلکہ یہ روایت خوارج نے تحکیم (ثالثی) کے جرم میں ان کے خلاف وضع کی تھی۔ مزاج شناسانِ رسول محققینِ عظام نے اپنی تحقیق و استدلال کے زور پر اس روایت کو بھی ایک سیاسی ضرورت کےلیے گھڑی گئی حدیث قرار دیا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یوں بیان کی جاتی ہے کہ خوارج اگرچہ بڑے پاک باز اور متقی تھے لیکن سیاسی حالات نے انہیں کذب تراشی اور روایت سازی جیسے مکروہ عمل پر مجبور کیا تھا۔ اسلام کے صدر اول میں جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان سے تاریخ کا کون سا طالب علم ناواقف ہوگا۔ یہی وہ جنگیں ہیں جن میں راویوں کی دبستانوں کا سراغ لگا کر محدثین عظام نے ان کی روایات کو معیارِ درایت پر پرکھا ہے۔

متذکرہ بالا روایت کے مرکزی راوی عکرمہ بن خالد ہے جو شروع میں سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ سیاسی وفاداری کی دم بھرتے تھے۔ جنگ صفین کے موقع پہ جب تحکیم کا معاملہ پیش آیا تو اس نے ہمارے پاکستان کے پارٹی سسٹم کی طرح سیاسی وفاداری تبدیل کرتے ہوئے اپنا ایک الگ گروہ تشکیل دیا۔ اس گروہ نے مطالبہ رکھا کہ مسئلہ تحکیم کے معاملے میں سیدنا علی کرم اللہ وجہہ مجرم ہیں، جب تک معافی نہیں مانگیں گے مرتد شمار ہوں گے اور شریعت میں مرتد کی سزا قتل ہے، دلیل یہی روایت ہے من بدل دینہ فاقتلوہ۔

عکرمہ بن خالد نے اس روایت کے آڑ میں قتل کے تین منصوبے بنائے۔ بالفاظِ دیگر یہ روایت تحکیم ایشو سے متعلق تین بڑی شخصیات کے خلاف گھڑ لی گئی۔ اس روایت کی ایک ٹارگٹ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ بنے تھے جو عراق میں تھے، دوسرا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بنے تھے جوکہ شام کے گورنر تھے اور تیسرا سیدنا عمرو ابن العاص نشانہ بنائے گئے تھے جو کہ مصر کے گورنر تھے۔ عکرمہ نے یہ منصوبہ یکم رمضان المبارک 40ھ کو بنایا جس پر فورا عمل در آمد ہونا شروع ہوا۔ یوں ان تینوں حضرات کے خلاف خوارج نے تین بڑے لشکر تشکیل دیے جنہوں نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے اہداف کو پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا۔

خلفائے راشدینؓ کے دور میں حاکم وقت، ان کے گورنرز اور نائبین نماز باجماعت کی اقتدا کرتے تھے، ناجائز قتل و قتال کے منصوبوں میں اکثر یہ ہوتا تھا کہ ٹارگٹس کو رات کی تاریکی میں نشانہ بنایا جاتا تھا جس کی ایک واضح مثال سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت ہے جو صبح کی نماز میں ہوئی۔ ایسی ہی عکرمہ کے اس منصوبے میں پہلا حملہ مصر کے گورنر سیدنا عمرو ابن العاص پر صبح کی نماز پہ ہوا جو اتفاق سے بسبب مرض شریک نہیں ہوسکے تھے، جس پر ان کے نائب کو قتل کیا گیا۔ دوسرا حملہ سیدنا امیر معاویہ پر رات کی تاریکی میں ہوا جو شدید زخمی ہوئے لیکن حملہ آور دھر لیے گئے۔ چلتے چلتے منصوبے کا تیسرا ٹارگٹ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ تھے، جن تک کم بخت خوارج نے 21 رمضان المبارک کو رسائی حاصل کرتے ہوئے شہید کیا۔ آپ کا قاتل عبدالرحمن ابن ملجم المرادی ایک خارجی تھے جو آپ کے لے پالک بھی رہے تھے، جنہوں نے عکرمہ کے ہمراہ سیدنا علیؓ سے ناطہ توڑ کر ان کے خلاف صف آراء ہوئے تھے۔

واقعہ تحکیم سے پہلے روایت ”من بدل دینہ ...... “ کا کوئی وجود نہیں اور جنگ صفین سے پہلے ”لن یفلح قوم ...... “ والی روایت کا کوئی ذکر نہیں، بتایا جاتا ہے کہ یہ روایتیں سیاسی اسباب و عوامل کی وجہ سے ہی گھڑ لی گئی ہیں، اندازہ کیجیے کہ ان روایات کو کتنی شُہرت ملی ہیں؟ اس شُہرت کیوجہ سے ایسی روایات کو درایت کی معیار پر کیسے پرکھا جاسکتا ہے؟ بہرحال یہ تو اجمال ہے۔ فرصت ملے تو تفصیلی بحث بھی آپ کی خدمت میں پیش کریں گے کہ ان روایات میں درایتی سقم کہاں کہاں پائے جاتے ہیں، یہ روایات قرآنی تعلیمات سے کیسے متصادم ہیں؟ اور کیوں کر یہ وضعی (من گھڑت) ہیں۔ یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ قتل مرتد کا یہ نظریہ غیر قرآنی نظریہ ہے، اس نظریہ کے بانی کون تھے؟ اولین نشانہ کون بنے تھے؟ یہ تو آپ نے پڑھ لیا۔ اب ذرا اس طرف آتے ہیں کہ بعد میں اس روایت کا استعمال کس نے کس کے خلاف کیسے کیا؟ آج کل اس روایت کے حاملین کون لوگ ہیں؟ لگے ہاتھ سرسری طور پر اس تمام صورت حال کا بھی مختصر طور پر تحقیقی و تاریخی جائزہ لیتے ہیں۔

مذہبی تشدد، فکری تصلب اور اسلام کے اندر سامراجی تسلط کے تصور فکر کے حامل نقیبوں اور درباری شیخ الاسلاموں نے ہر دور میں اس روایت کا آڑ لیکر مسلمانوں میں قتل و غارت کا ایک طوفان برپا کیا ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے کہ امام اعظم ابوحنیفہؒ، امام مالک بن انسؒ، امام احمد بن حنبلؒ بھی اس گروہی فکر کے نشانہ بن کر اپنے اپنے ادوار میں فسق و فجور اور تضلیل و تکفیر کے فتوے سہے تھے، ان پر یہ فتوے ارتدادی نفسیات کے مطابق وقت کے خوارج نے لگائے، آگے جاکر خود ان ائمہ اربعہؒ کے متبعین علماء نے شعوری لاشعوری میں فقہ کی تبدیلی پر بھی اس روایت کا آڑ لیکر فردِ جرم عائد کرنے کی سزائیں تجویز کیں، جس سے اجتہاد و استنباط کا سلسلہ تو ویسے ہی بند ہونا تھا سوچ و فکر کے دورازوں پر بھی تالے پڑگئے۔ چونکہ سلاطین جن کے استحصالی مقاصد کی تکمیل کا راز بھی اسی میں تھا کہ جو ان سے اختلاف کرتے وہ کفار و مرتدین میں شامل ہوتے۔ یوں فقہی مذاہب کی تقلید ایمان کا درجہ پانے لگا، صرف اسی پر بس نہیں ہوا بلکہ اس تصور کو آئین کا بھی حصہ سمجھا جانے لگا۔ مزید برآں فقیہ شہر کی مہربانی سے حاکمِ وقت کا تیور شریعت کا درجہ اور حکمرانوں کے فیصلے دین کا عکس سمجھا جانے لگے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تاریخ اسلام میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے لیکر اب تک اس روایت کا نشانہ سب سے زیادہ خود مسلمان علماء بنے ہیں ، یہاں ہم صرف دو مسلمان علماء کے ایسے واقعات کا احاطہ کرتے ہیں جو مسلم حکمرانوں کے قہر و غضب کا نشانہ بن کر اسی نظریہ کے بھینٹ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں۔

علامہ یعقوب ابن السکیتؒ کے نام سے لغت و ادب کے کونسے شناور لاعلم ہوگا، خلیفہ متوکل عباسی بھی ان کے خاص معتقدین میں سے تھے، خلیفہ نے اپنے دونوں شہزادوں المعتز اور المؤید کو آپ کی نگرانی میں تعلیم و تربیت دے رہے تھے۔ ایک دفعہ یوں ہوا کہ متوکل نے ابن السکیت سے دریافت کیا کہ معتز اور مؤید اچھے ہیں یا حسنؓ اور حسینؓ؟ یہ سن کر ابن السکیتؒ نے وہی کہا جو میں اور آپ سوچتے ہیں۔ انہوں نے بے ساختہ کہا:

”خدا کی قسم تم اور تمہاری اولاد سے علیؓ کے خادم قنبر بھی اچھے تھے“

(الاعلام۔ زرکلیؒ، ج:9، ص: 355)

یہ سن کر خلیفہ نے وہی کیا جو اس کے مزاج نے انہیں اجازت دی۔ ہوا یوں کہ اس واقعہ کو آڑ بناکر ابن السکیت پر شیعیت کی فرد جرم عائد کرکے ارتداد کے جرم میں محافظوں کو حکم دے دیا کہ ان کا کام تمام کردے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ جب محافظ ان پہ ٹوٹ پڑے تو سب سے پہلے بحالت ہوش و حواس اس کی زبان کھینچ لی گئی۔ پھر پیٹ چاک کرکے آنتیں باہر نکال ڈالے۔ جب تڑپنے لگے تو وہاں سے انہیں اٹھوایا گیا۔ انہیں راستے میں لے جایا جارہا تھا کہ گھر پہنچنے سے پہلے دم توڑ چکے تھے۔ ایمان سے بتائیں کہ مطلق اس جرم کی یہی سزا ہے اگر اس کے پیچھے نظریہ ارتداد کا تصور نہ ہو؟ 

چیف جسٹس بدرالدین محمودؒ تاریخ اسلام کا ایک روشن مینار ہے، وہ سلطان برقوق کے بیٹے سلطان فرح کے استاذ تھے، فکری لحاظ سے وہ معاشی مساوات کے زبردست علمبردار تھے، ایک دفعہ یوں ہوا کہ فاتح ایشیاء سلطان تیمور لنگ نے آپؒ کی خدمت میں سونے اور جواہرات کے نذرانے پیش کیے (جیسے کہ ہمارے دور میں حکمران طبقہ درباری علماء کے ٹولہ کو ان کی حیثیت کے مطابق بلٹ پروف گاڑیاں، بےنامی بنگلے، آئی فون موبائل، سوٹ کیس، مہنگی گھڑیال اور ہاتھ کی قیمتی چھڑی کے تحفے سے راضی رکھتے ہیں) شیخ بدالدینؒ نے تیمور کی اس پیشکش کو یہ کہہ کر ٹھکرا دیا کہ اس مال کا مالک نہ تنہا آپ ہیں جو مجھے دے رہے ہو اور نہ میں ہوں جو آپ سے لے لوں، اس کا مالک عوام ہے۔ درباروں میں ہرجگہ یہی رسم جاری تھا حکمران علماء کو ہدایا عنایت کرکے قابو میں رکھے ہوتے تھے۔ چنانچہ شیخؒ کے اس نعرے کی گونج سیروز میں بھی گونجنے لگا جس سے وہاں کے حاکم اور درباری علماء کو شدید پریشانی لاحق ہوگیا۔ سلطان بایزید یلدرم کے بیٹے سلطان محمد کو یہ جواب نہایت ناگوار گزرا تھا۔ انہوں نے وہاں کے چیف جسٹس حیدر الہروی کے ساتھ مل کر کسی طریقے سے شیخؒ کو سیروز بلوایا اور ایک علمی بحث کو نزاعی معاملہ بناکر نظریہ ارتداد کے آڑ میں علم و تقوی کے اس عظیم ستون کو پھانسی کے پھندے پر چڑھا کر ڈھادیا۔

فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین یوسف ایوبیؒ کے زہد و تقوی سے کون انکاری ہے اور شجاعت و بہادری سے کون لاعلم ہے؟ لیکن اس جیسے عالمگیر فاتح سلطان بھی فقہی تنگ نظری اور فرقہی تعصب میں زبردست مبتلا واقع ہوئے ہیں۔ سلطان ایوبیؒ نے خالص گروہی اساس پر اسی نظریے پہ مصر کے الازہر یونیورسٹی کو مخالف فقہ سے چھین کر شافعی المسلک مکتب فکر کے درس گاہ میں تبدیل کردیا۔ اس فتح کے بعد انہوں نے صرف اسی پر بس نہیں کیا بلکہ شافعیت کو پھیلانے کےلیے تلوار کے استعمال سے بھی گریز نہیں کیا۔ چنانچہ ایوبی جب فقہی تعصب میں مبتلا ہوئے تو شام، عراق اور حجاز (موجودہ سعودی عرب) کے حنفیوں کو زبردست تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے شافعی مسلک اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ ایسے ہی ترکی کے سلطان سلیم اول کی تعصب نے بھی انگڑائی لی، انہوں نے اپنے دور میں شام و عراق، فلسطین و حجاز سے شافعیت کو چلتا کرکے اقتدار کے زور پر زبردستی حنفیت کو رائج کردیا۔ جس حکمران کو جس فقہ کے اندر اپنے اقتدار کی بقاء اور تسلط محسوس ہوئی، اسی کو زبردستی نافذ کردیا۔ آج حالت یہ ہے کہ ہم مسلمان، مستشرقین کے سامنے ان باہمی جنگوں اور مسلمان سلاطین کی مذہبی بنیادوں پر مسلم کشی سے صاف انکار کرتے ہوئے نہ صرف حقائق چھانے کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ ان کے ایک دوسرے کی فتوحات پر بھی پردہ ڈالنے کا مجرم بنتے ہیں، خلاصہ یہ کہ ارتداد کے اس تصور فکر نے اتنا نقصان غیر مسلمانوں کا نہیں کیا ہے جتنا کہ خود مسلمانوں کا کیا ہے۔ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے لیکر آج تک تاریخ اسلام میں سب سے زیادہ خود مسلمان اس نظریے کی بھینٹ چڑھے ہیں، آج بھی ارتداد کے اس نظریے کے حاملین کی تنگ نظری، کوتاہ بینی اور فرقہی تعصب کا جائزہ لیں تو ان میں بھی خوارجِ عکرمہ کا مزاج ہی کارفرما نظر آئے گا۔


اسماعیل حسنی کی دیگر تحریریں