مذہبی و تاریخی اختلافات

دنیا کا آخری نجات دہندہ کون ہوگا؟

  2023-02-06 04:43:15
  1530

 

آج دنیا  میں موجود  ایک ارب ہندو  لوگ، آخری زمانے میں ایک کلکی اوتار کے منتظر ہیں جو انہیں دنیا پر غالب کرے گا اور ہندوؤں کو ظلم و زیادتی سے نجات دلا دے گا۔ 

 

بدھ مت مذہب والے مہاتما بدھ کے متیا اوتار کے منتظر ہیں جو دنیا پر بدھ مت مذہب کو غالب کردے گا۔اسی طرح       

 

جین مت مذہب والے آخری مہادیر کے منتظر ہیں، جس کے ہاتھ جین مت مذہب کو دنیا پر غلبہ حاصل ہوگا۔

یہودی ایک آخری بنی اسرائیلی نبی کے منتظر ہیں جو یہودیوں کو تمام دنیا پر غالب کر دے گا۔ 

 

عیسائی خود سیدنا مسیح علیہ السلام کی آمد کے منتظر ہیں، جن کی آمد سے پوری دنیا پر عیسائیت کو تسلط ملے گا۔

 

مسلمانوں میں بھی دو آنے والے نجات دہندہ گان کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔ عیسی علیہ السلام اور امام مہدی جو آئیں گے اور دنیا پر مسلمانوں کو غالب اور کفار کو مغلوب کردیں گے۔

 

یہ قیامت سے پہلے قیامت کا ایک منظر ہوگا، ایک ہی زمانے میں یہ سارے لوگ آئیں گے، ہر ایک کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ دوسرے کو مغلوب اور اپنے مذہب کے پیروکاروں کو غالب کر دے۔

 

سب سے پہلے عیسائی مذہب کو لیتے ہیں جو بیچارے تقریبا 200 برس سے اس آنے والے کے سال کا اعداد و شمار بھی بار بار بتا رہے ہیں۔

 

عیسائی دنیا میں اس آنے والے کا سب سے پہلے آمد کا سال جرمنی کے ایک عیسائی مولوی، بنجل نے حساب لگا کر بتایا کہ مجھے مکاشفات یوحنا کے رو سے پتہ چلا ہے کہ اس آنے والے کی آمد کا زمانہ 1836ء ہے۔ یہ حساب بنجل نے 1740ء میں بتایا تھا۔ جیسے جیسے یہ زمانہ جب قریب آتا گیا تیسے تیسے عیسائی دنیا میں ایک زبردست ہلچل سی مچنے لگی۔ لیکن ہوا کچھ بھی نہیں۔

 

واشنگٹن کے اور بڑے عیسائی مولوی، ولیم ملر نے 1836ء سے پہلے پہلے باضابطہ اس پر تحریک چلایا۔ آنے والے کی آمد سے صرف تین سال پہلے (1833ء میں) بڑے بڑے مقالے، اعلانات اور بیانات شائع کیے گئے۔ یوں 1836ء تو آگیا لیکن وہ آنے والا نہ آیا۔

 

جب عیسائی دنیا سرجوڑ کر بیٹھ گئی از سر نو حساب لگایا تو پتہ چلا کہ بنجل کو اعداد و شمار سمجھنے میں غلط فہمی ہوئی تھی۔ اصل عدد 1843ء بن رہی ہے جس میں وہ آخری نجات دہندہ آئے گا۔ جب 1843ء بھی آگیا تو آنے والا پھر بھی نہ آیا۔

 

ایک بار پھر کہا گیا کہ اوہو ہم سے بھی تو عدد سمجھنے میں زبردست غلطی ہوگئی ہے، اصل عدد تو 1847ء بن رہا ہے۔ اس کے بعد 1852ء پھر 1857ء اس کے بعد 1859ء اور آخر میں 1861ء تک اس آنے والے کی آمد کو کھینچا گیا، لیکن وہ آنے والا ابھی تک نہ آیا۔ 

 

مزید اعداد و شمار عیسائی مولویوں کے پاس بھی نہ رہے اور نہ ہی عوام کو پیش گوئیاں سننے میں مزید دلچسپی رہی۔ بعض لوگ تو ان ہی پیشگوئیوں کی وجہ سے عیسائی مذہب سے ہی انکار کر بیٹھے کہ یہ کیا تماشا چل رہا ہے۔ بعض نے زمانہ کے تعین پر یقین تو نہیں کیا لیکن عقائدی طور پر بدستور آمد کے منتظر ہیں، اس معاملے میں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عیسائی دنیا میں کسی نے بھی ظاہری صفات و علامات کا آڑ لیکر ہماری طرح مہدی اور مسیح ہونے کا دعوی کبھی نہیں کیا جو اسلام کے شروع سے کچھ لوگ ہر صدی کے آغاز پر کرتے رہتے ہیں۔

 

ہندوؤں کا ایک عقیدہ ہے کہ وشنو (جو ہندو مت مذہب کے تین خداؤں میں سے ایک ہے) نو مرتبہ اوتار کی صورت میں مختلف حُلیوں میں دنیا میں آچکا ہے، آخر میں وہ مہاتما بدھ کی شکل میں بھی ایک بار نمودار ہوں گے، یہ تب ہوگا جب دنیا میں ویدوں کی تعلیم اور شاستروں پر عمل درآمد کا سلسلہ رک جائے گا، اس کے بعد عنقریب دنیا کا خاتمہ ہوجائے گا۔ تب وشنو آخری اوتار کی شکل میں ظہور کریں گے، وہ دنیا سے تمام چوروں، ڈاکوؤں اور ظالموں کا خاتمہ کردیں گے۔ دنیا میں امن قائم کریں گے۔

 

خود بدھ مت مذہب والے اس سے الگ سے ایک آنے والے کے منتظر ہے۔

 

بنیادی طور پر ان تمام مذاہب میں ان عقیدوں کا سرچشمہ مجوسیت (رزتشت ازم) ہے، اس عقیدے کو ہندوؤں کے ہاں ویاس جی نے لایا تھا۔ یہودیوں اور عیسائیوں میں یہ عقیدہ اسکندریہ کی لائبریری سے جنم لی تھی، جو ان خیالات و معتقدات کی نشر و ترویج کا ذریعہ بنی، عیسائی مذہب کی تو پوری عمارت کا مرچ مسالہ اسی لائبریری سے تیار کی گئی ہے، یہ لائبریری دو لاکھ کتابوں پر مشتمل تھی جو 47 قبل مسیح میں سات لاکھ تک جا پہنچی تھیں۔ جولیس سیزر نے اسے آگ لگائی، ان کے بعد جب قلوپطرہ آئے تو اس نے از سر نو اس لائبریری پر کام شروع کی اور بہت جلد 4 لاکھ کتابیں جمع کی، 390ء میں ایک بار پھر اسے شعلوں کی نذر کر دیا گیا۔

 

مسلمانوں میں بھی دو آخری نجات دہندہ کا تصور پایا جاتا ہے۔ چونکہ اسلام میں دو ہی بڑے فرقے ہیں، شیعہ سنی۔ دونوں کے ہاں اس عقیدے میں بھی کچھ کچھ فرق پایا جاتا ہے۔ سب سے پہلے ہم شیعہ حضرات کے انتظاری عقیدے کی تصور پر بات کرتے ہیں۔

 

شیعوں کے نزدیک قربِ قیامت میں امام اخر الزمان تشریف لائیں گے اور شیعہ مسلک کو پوری دنیا پر غالب کردیں گے، پوری دنیا پر غلبہ اور تسلط حاصل کرنے کے بعد شیعوں کی تشریحِ اسلام کے مطابق دنیا پر حکومت قائم کریں گے۔ بعض شیعہ فرقوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ خلفائے ثلاثہ کو ایک بار پھر دنیا میں بلاکر قتل کردیں گے۔ (شیعوں کے اس طبقہ فکر کو ”رجعت پسند“ کہا جاتا ہے۔)

 

اہلسنت کے نزدیک بھی یہ عقیدہ ہے کہ قربِ قیامت میں امام مہدی آئے گا، چونکہ اہل سنت میں بھی دو بڑے مسالک ہیں۔ مقلد اور غیر مقلد۔ 

 

مقلدین میں فقہاء اربعہ کے مسالک شمار ہوتے ہیں اور غیر مقلد میں سلفی، اہل الحدیث اور ظواہر شمار ہوتے ہیں۔ 

 

اب سوال یہ ہے کہ امام مہدی کی متابعت فقہاء کریں گے یا غیر مقلد؟ 

 

غیر مقلد کریں گے تو ان میں سے اہل الحدیث کریں گے، ظواہر یا پھر سلفی؟ 

 

اگر مقلدین متابعت کریں گے تو خود امام مہدی حنفی ہوگا یا شافعی؟ مالکی مذہب پر ہوگا حنبلی؟ کیوں کہ علماء کے مزاج سے لگ رہا ہے کہ مسالک اور فرقوں نے تو کبھی بھی ایک نہیں ہونا ہے۔ 

 

یہ مسئلہ تھوڑی دیر کےلیے ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔

 

چونکہ مسلمانوں میں مہدی کے علاوہ مسیح کی آمد ثانی کا بھی عقیدہ پایا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حضرت مسیح کس فقہ کا اتباع کریں گے؟ 

 

اس حوالے سے شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی کا ایک کشف مشہور ہے جو انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام سے دریافت کیا تھا کہ حضرت مسیح کس مسلک پر ہوں گے؟ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا تھا کہ وہ حنفی مسلک پر ہوں گے۔ مجدد الف ثانی نے یہ نکتہ اپنی ”مکتوبات“ میں بھی ذکر کیا ہے۔ 

 

چونکہ حضرت مسیح کے متعلق یہ بھی عقیدہ ہے کہ اب کے بار وہ پیغمبر بن کر نہیں آئیں گے بلکہ امتی بن کر آئیں گے۔ اس آمد پہ وہ قیادت و سیادت کرنے کی بجائے امام مہدی کی متابعت کریں گے، اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو امام مہدی بھی حنفی مسلک پر ہوں گے۔ 

 

سوال پھر وہی ہے کہ حنفی میں دیوبندی ہوں گے یا بریلوی؟ 

 

چونکہ اس وقت برصغیر پاک و ہند میں احناف کے دو بڑے شاخ ہیں، دیوبندی اور بریلوی۔ 

 

اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو دیوبندی مسلک کا رجحان فقہاء کی طرف سے زیادہ ہے اور بریلوی مسلک کا میلان صوفیا کی طرف زیادہ ہے۔ امام آخر زمان ان میں سے کس پر ہوں گے؟

 

اگر شیخ محی الدین ابن عربی کے ”فتوحات مکیہ“ کی روشنی میں دیکھا جائے تو امام مہدی کا ظہور بریلوی مسلک میں ہوگا۔ دیوبندی ان کی مخالفت کریں گے۔ کیوں کہ ابن عربی نے ”فتوحاتِ مکیہ“ میں اس بات کی تصریح کی ہے کہ امام مہدی جب ظہور فرمائیں گے تو ان کی مخالفت سب سے زیادہ فقہاء کریں گے اور صوفیا ان کا اتباع کریں گے۔ احناف میں اولیاء و صوفیا کا سب سے زیادہ پرچار بریلوی مسلک میں پایا جاتا ہے۔

 


اسماعیل حسنی کی دیگر تحریریں