مذہبی و تاریخی اختلافات

زوال یافتہ سماج میں بڑے القابات

  2023-02-12 03:03:30
  746

 

کوئ قوم عروج پرہو تواسکا مطلب ہے کہ اسکا ہرفرد، اپنے کام پہ فوکس کئے ہوا ہے اورجنکو "کام" سے غرض ہوتی ہے، انہیں "نام" سے غرض نہیں ہوا کرتی- نکمی قوموں کے ناکام لیڈروں کے "کام " چھوٹے" ہوتے ہیں توانکو" نام " بڑے چاہیئے ہوتے ہیں-

 

زوال یافتہ سماج کے خوشامد پسند "بڑوں" کو بکثرت ایسے خوشامدی میسر آجاتے ہیں تو انکو "بڑی شخصیت" باورکرانے کا فن جانتے ہیں- ایسے زوال پذیرسماج کے عوام بھی ان "مفروضہ بڑی شخصیات" کے ناموں کے ساتھ لگے جھوٹے سابقوں اور بے بنیاد لاحقوں کی پرستش کرنے لگ جاتے ہیں۔

 

 

اسلام کے دورِ عروج میں مفتی، مولانا، ملا، قاری، حاجی، نمازی، غازی، شہید وغیرہ، قدس سرہ، مدظلہ، دامت برکاتہ، حفظہ اللہ، آیت اللہ، حجۃ اللہ، ظل اللہ فی الارض، وغیرہ اور امیر شریعت، امام سیاست، قائد ابن قائد، قائد ملت، رہبرِ امت، امام المسلمین، خلیفۃ المسلمین، امام الاتقیاء، مرشد الموحدین، خطیب اسلام، علامۃ الدھر و القہر، سفیر اسلام، جانشین فلاں، گدی نشین فلاں، محبوب العلماء و الصلحاء، شیخ القرآن، شیخ التفسیر، شیخ الحدیث، مفتی اعظم، جیسے بے بنیاد القابات و خطابات کا کوئی وجود نہیں حالانکہ وہ ہر حوالے سے ہم سے بہتر تھے، یہ سب چیزیں دورِ زوال کے ایجادات و اختراعات ہیں جن کے ایجاد و اختراع کا مقصد اُمت مرحومہ کو بیوقوف بنانا اور خود کو تسلی دینا ہوتا ہے۔ 

 

 

اس سلسلے میں مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب ”قرآن کا قانونِ عروج و زوال“ میں نہایت دلنشین پیرائے میں لکھا ہے۔

مولانا آزاد لکھتے ہیں: 

 

”کلمات تعظیم و تجلیل عجیب و غریب ہیں جو بڑوں کے نام کے ساتھ لگائے جاتے ہیں، اسلام میں اسماء پرستی نہیں اگر مثال دھونڈنا ہے تو خلافت کے دور میں دیکھ لیں کہ ایک ادنٰی سا مسلمان آتا ہے اور یا ابابکر اور یاعمر کہہ کر پکارتا ہے وہ بھی خوشی خوشی جواب دیتے ہیں۔“

 

مولانا آزاد لکھتے ہیں:

”نبی کریم صلی الله عليه وسلم اپنے لئے آقا و سید کا لفظ سننا پسند نہیں فرماتے تھے۔ ایک معمولی بدوی آتا تھا اور یا محمد کہہ کر خطاب کرتا تھا۔ ایک بار ایک بدوی حاضر ہوا اور ڈرتا ہوا خدمت نبویؐ میں آگے بڑھے تو آپ نے فرمایا : تم مجھ سے ڈرتے ہو، میں اس ماں کا بیٹا ہوں جو ثرید کھاتی تھی۔

مولانا آزاد ایک جگہ لکھتے ہیں:

”ایک صحابی نے اپنے بیٹے کو خدمت نبویؐ میں بھیجنا چاہا، اس نے اپنے باپ سے پوچھا کہ اگر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہوں تو میں انکو کس طرح پکارا کروں؟ باپ نے کہا، جانِ پدر! کاشانہ نبوت دربارِ قیصر و کسری نہیں ہے۔ حضورۖ کی ذات تفضّل و تکبّر سے پاک ہے۔ آپ اپنے جانثاروں سے کسی قسم کی توقع نہیں کرتے ۔ تو یا محمد کہہ پکارنا۔“

 

ایک اورجگہ لکھتے ہیں:

 

”کیا دنیا بدل گئی کہ مسلمانوں نے اپنے رسول اور خلفائے رسول کو کن ناموں سے پکارا اور اپنے خلفاء کو بات چیت پر ٹوکا۔ ان پر سخت اعتراض کئے۔ ان کو خطبہ دیتے ہوئے روک دیا اور اس وقت تک خطبہ نہیں دینے دیا جب تک خلیفہ اپنی صفائی نہیں پیش کرچکے۔ اپنے خلفاء کو تلوار کی دھار، نیزہ کی آنی اور تیر کے پھل سے درست کرنے کی دھمکی دی۔ اور خلفاء نے ان باتوں کا پر بجائے ناراض ہونے کے فخر کیا اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے خدا کا شکر ادا کیا کہ الحمدللہ ایسے حق گو امت میں موجود ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے ہیں آج بادشاہوں اور ریاستوں کو چھوڑ صرف اپنی قوم کے ان لوگوں کی دیکھو جن کے پاس جائیداد کا کوئی حصہ یا چاندی، سونے کا کچھ حصہ جمع ہوگیا ہو، ان میں بہت سے لوگ دولت کو تمام فضیلتوں کا منبع قرار دیتے ہیں اور یہ اس لیے لیڈر ہیں اور پیشوائی کے مدعی ہیں۔“

 

مولانا آزاد جھوٹے فخر و اعزازی القابات و خطابات سے متعلق مزید لکھتے ہیں: 

”ان میں بہت سے فراعنہ اور نماردہ  تم کو ایسے ملیں گے جن کا نام اگر خطابوں سے الگ کرکے زبان سے نکالا جائے جو ان کے شیطانی خبث و غرور نے گھڑ لئے ہیں یا حکومت کی خوشامد اور غلامی کے اصطباغ لے کر حاصل کئے ہیں تو ان کے چہرے مارے غضب کے درندوں کی طرح خونخوار ہوجاتے ہیں اور چارپاوں کی طرح ہیجان و غصہ پر غلاظت کو روک نہیں سکتے۔ اس بد ترین نسلِ فراعنہ سے کوئی نہیں پوچھتا کہ کیا یہ نمرودیت، فرعونیت و شیطانیت نہیں ہے؟ کیا ہے جو ان کے نفسوں کو مغرور کر رہا ہے؟ اور وہ کونسا ورثہ عظمت و جلال ہے جو تکبر اور غرور کی طرح ان کو اپنے مورثِ اعلیٰ فرعون اور نمرود سے ملا ہے؟ اگر دولت کا گھمنڈ ہے تو مجھے اس میں شک ہے کہ ان کے پاس جہل کی طرح دولت بھی کثیر ہے اور اگر ان پرستاروں کو مصاحبوں کا انہیں غرور ہے جو غلامی اور دولت پرستی کے کپڑے ہیں تو میں باور کرنے کے لئے کوئی وجہ نہیں پاتا کہ دنیا کے مغرور و مستبد بادشاہوں سے بھی بڑھ کر اپنے پرستاروں اور غلامی کا حلقہ اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں۔ بہر حال کچھ بھی ہو مگر میری آواز کو ہر سامع آج انہیں ان کی قوتِ ناکامی کا پیام پہنچادے۔ اب ان کی تباہی و بربادی کا آخری وقت آگیا ہے۔“

 

مولانا آزاد نے یہ ساری باتیں قریب سو برس پہلے کی ہیں، جب اتنے زیادہ القابات و خطابات ایجاد بھی نہیں ہوئے تھے۔ اب ایسے ایسے القابات و خطابات ایجاد کیے گئے ہیں کہ بندہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ اتنا بڑا آدمی اس امت میں موجود ہے اور ہم فکر مند ہے کہ ہماراکیا بنے گا؟ یہ جھوٹے القابات اور مفروضہ خطابات دیکھ کر ایک عام آدمی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ بھلا اس "عجوبہ" سے بڑھ کربھی کوئ زیادہ بڑا آدمی دنیا میں پایا جاتا ہے؟ ناموں کے آگے پیچھے تقدیس کی خاطر اداراتی، خانقاہی، مفروضہ رسمی و فنی اور علمی نسبتیں چسپاں کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو خدا کی پیروی کرنے سے روک کر ان بندوں کی بندگی کی طرف کیسے متوجہ کیا جائے؟ اس کے علاوہ اور کیا مطلب ہوسکتا ہے؟ 

 

 

آپ خیر القرون اور بعد ازاں صدرِ اسلام میں مرتب ہونے والے اسلامی ذخیرہ کتب اٹھا کر دیکھ لیجیے! ان میں خلفائے راشدین سمیت جملہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی عظیم جماعت میں کسی بھی نام کے ساتھ آپ کو خطابات کے سابقے اور القابات کے لاحقے لکھے ہوئے کہیں نہیں ملیں گے۔

 

انبیاء و رُسل انسان ہی تھے مگر عظیم اور کامل انسان، وحی الہی کے تابع انسان، خدائی احکام کے کامل پیروی کرنے والے انسان، قرآنی تعلیمات کی روشنی اور اسلام کے تمام بنیادی اور اساسی لیٹریچرز میں ان کے اسمائے گرامی آپ کو مفرد ملیں گے مرکب نہیں، یعنی آدم کا نام آدم ہی ہوگا، اس میں کہیں کوئی مفتی اور قاری کا ذکر نہیں، ابراہیم کا نام ابراہیم ہے اس میں کوئی شیخ الاسلام اور مفتی اعظم وغیرہ کا تذکرہ نہیں، اسماعیل کا نام مطلق طور پر اسماعیل ملے گا اس میں کوئی قائد ملت اسلامیہ اور امام سیاست کی پیوند کاری نہیں ملے گی، عیسی و موسی کے تذکرے علی الاطلاق ہوں گے ان میں بھی پیر طریقت، رہبر شریعت، قاطع شرک و بدعت آگے اور علیہ السلام، نوراللہ مرقدہ، قدس اللہ سرہ وغیرہ پیچھے لکھے ہوئے نہیں ملیں گے، علی ھذا القیاس دیگر پیغمبراں عظام کے ساتھ ۔ خود نبی اکرم اللہ علیہ وسلم کا نام نامی اسم گرامی مفرد ہے مرکب نہیں (جن پر ہم اور ہمارے ماں باپ قربان ہوں) یعنی جابجا آپ کو محمد ذکر ملے گا، قرآن میں اس مبارک نام پر ایک سورۃ بھی ہے۔ کسے شک ہے کہ یہ تمام حضرات کائنات کے عظیم انسان تھے اورہیں؟

 

اس وقت پاکستان میں کیا صورت حال ہے؟ آپ خود جائزہ لیجیے! ناقص سے ناقص آدمی اور کردار و عمل کے اعتبار سے کمزور اور معاملات میں بددیانت آدمی ہوگا لیکن نام کے آگے پیچھے آپ کو اتنے سارے القابات لکھے ہوئے ملیں گے جیسے کہ یہ پوری کائنات اس ہی کے رہینِ منت ہے۔ یہ نہ ہوتا تو شاید کائنات ہی نہ ہوتی۔ یہ ہے تو صفحہ عالم موجود ہے اور اگر خدانخواستہ یہ نہیں رہتا ہے تو قیامت برپا ہوسکتی ہے۔ ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے کہ خدا کے خزانے میں گویا کہ یہی ایک عجوبہ باقی تھا۔ یہ نہیں ہوگا تو خدا کی خدائی خطرے میں پڑ جائے گا۔ (العیاذ باللہ)

 

میرا اپنا طریقہ یہ ہے کہ میں بڑے بڑے القابات اور جھوٹے خطابات سے بالکل متاثر نہیں ہوتا۔ جس نام کے ساتھ بڑے بڑے القابات و خطابات پہلی بار لکھے ہوئے ملیں تو مجھے یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس میں ضرور بالضرور کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ میرے خیال میں یہ ناقص کو کامل بنا کر پیش کرنے کا ایک مذموم حربہ ہے۔ القابات و خطابات کا یہ وطیرہ ایک طرف خدا کے راستے میں روک بننے کا ذریعہ ہیں تو دوسری طرف بندوں کو اپنے بڑوں کی بندگی کی طرف بلانے کا غیر شعوری بنیاد پر ایک مؤثر وسیلہ ہے۔

 

میرے نزدیک کسی قوم پر زوال اور پستی کے بادل چھا جاتے ہیں توانکے عوام کے دماغوں پر جھوٹے ہائ پروفائل لیڈروں کو مسلط کردیا جاتا ہے- ایسی قوم کے زوال کو کون روک سکتا ہے جہاں خدا کی بجائے ایسی شخصیات کی پیروی کی جائے جنکے ناموں کے ساتھ ایسے بے بنیاد القابات وخطابات جوڑے گئے ہوں جوصرف انبیاء ورسل کا خاصہ ہوں- پاکستان کے سیاسی لیڈروں کو قائدانقلاب اورمسیحائے قوم ثابت کرنے والے جاہل سیاسی ورکروں سے کیا گلہ جب مذہبی کارکنان کے شائع کردہ پوسٹروں پر، آپکو قصہ گوچمونوں اورخوش گلو مذہبی اداکاروں کے ناموں کے ساتھ "مناظر اسلام" اور" قائد ملت اسلامیہ" جیسے خطابات لکھے نظر آئیں-  یہی زوال ہے، یہی پستی کی سب سے بڑی نشانی اور پسماندگی کی سب سے بڑی علامت ہے۔ فکر و کردار کے اعتبار سے بھی اور نفسیات و اعمال کے لحاظ سے بھی۔

 


اسماعیل حسنی کی دیگر تحریریں