جدید مسائل اوراسلام

زکوٰۃ اور حج پر خرچ- دس نکات

  2023-03-07 02:17:35
  400

حج کی درخواستیں جمع ہو رہی ہیں اور رمضان سر پر ہے چنانچہ بے شمار لوگوں کے سوالات سے انباکس اور وھاٹس ایپ چیٹ بھرے پڑے ہیں۔ میری یہ پوسٹ صرف اور صرف اُن دوستوں کے سوالات کے جواب میں ہے جنھوں نے مجھ سے اِس بارے میں لکھ کر یا وائس نوٹ میں پوچھا ہے۔ کوئی اور شخص اِس پوسٹ کا مخاطب نہیں ہے۔ نیز واضح رہے کہ یہ پوسٹ زکوٰۃ و حج پر خرچ کے بارے میں میری رائے ہے اور مجھے عزیز ہے۔ کسی اور کی رائے میری رائے مختلف ہو تو مجھے اُس پہ کوئی اعتراض نہیں ہے۔ 

1۔ زکوٰۃ انکم پر نہیں بلکہ سب خرچے نکال کر باقی بچے ہوئے پیسے پر سال گزرنے کے بعد ہوتی ہے۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ خرچوں میں ہر طرح کے لگے بندھے خرچے، اچانک خرچے، بیمار رشتہ داروں کا دوا دارو، اور بچوں کی شادیاں وغیرہ شامل ہیں۔ موٹی بات یہ ہے کہ جب تک آپ کا اپنا گھر، اپنی سواری، اپنا کھانا پینا پہننا اور اپنی شادی، نہ ہوچکی ہو تب تک آپ پر نہ زکوٰۃ فرض ہے نہ حج۔ خدا کو ہمارے پیسے کی ضرورت نہیں ہے اور خدا ہمیں کنگال نہیں کرنا چاہتا۔ 

2۔ زکوٰۃ صرف اور صرف حکومت کا حق ہے۔ حکومت کو زکوٰۃ نہ دینے والوں پر اسلامی حکومت نے تلوار چلائی تھی۔ زکوٰۃ کسی صورت میں کسی بھی این جی او کو یا انفرادی طور پر نہ دی جائے بلکہ صرف انتظار کیا جائے کہ حکومت بینک میں رکھے پیسوں پر کاٹ لے، یا حکومتی فنڈز مثلًا سیلاب فنڈ یا زلزلہ فنڈ وغیرہ میں دے دی جائے۔ اگر آپ نے سیلاب فنڈ یا زلزلہ فنڈ قسم کی حکومتی سکیموں میں پیسہ دے دیا ہے یا آپ کی تنخواہ سے کاٹ لیا گیا ہے تو آپ کی زکوٰۃ ادا ہوچکی ہے۔ 

3۔ انفرادی طور پر یا کسی این جی او کی کوئی مالی مدد کرنا خیرات صدقات سے ہوتا ہے جس کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ خیرات صدقات جب چاہیں اور جتنا چاہیں دیں۔ یہ نیکی ہی نیکی ہے۔ 

4۔ قرآن مالی مدد کے لیے سب سے پہلے قریبی رشتہ دار کا حکم دیتا ہے۔ 

5۔ جو ملازمین یا تاجر حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں اُن پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ ٹیکس ہی زکوٰۃ ہے اور زکوٰۃ ہی ٹیکس ہے۔ 

6۔ زکوٰۃ کی شرح ڈھائی فیصد مقرر نہیں ہے۔ 

7۔ گھریلو زیور پر زکوٰۃ نہیں ہے بلکہ صرف تجارتی زیور پر زکوٰۃ ہے۔ عورت اگر خود نہیں کماتی اور اُس کے پاس بہت سا زیور رکھا ہے تو اُس پر کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔ عورت نے اپنا زیور بیٹیوں کو ڈالنے کے لیے رکھا ہوا ہے تب بھی اُس پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ عورت نے زیور اگر بینک میں رکھا ہوا ہے جو کبھی کبھی نکال کر پہنا جاتا ہے تو اُس پر بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔ 

8۔ آپ کے دو پلاٹ ہیں جن میں سے ایک کو بیچ کر دوسرے پہ گھر بنانے کا ارادہ ہے، تو اِن دونوں پلاٹوں پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ آپ نے اپنا گھر بنانے کے لیے قرض لے رکھا ہے اور گھر بنا رہے ہیں، تو جب تک یہ گھر مکمل نہیں ہوتا اور اِس کے لیے لیا گیا قرض ادا نہیں ہوتا تب تک آپ پر زکوٰۃ نہیں ہے۔ آپ اپنا گھر بنا لینے کے بعد قرض لے کے ایک اور گھر بناتے ہیں تاکہ آمدنی میں اضافہ ہو تو اِس گھر کے کرائے سے جمع ہونے والی رقم پر سال گزرنے کے بعد زکوٰۃ ہے۔ اگر اِس گھر کے کرائے کے علاوہ آپ کا کوئی مزید سورس آف انکم نہیں ہے تو اِس پر بھی زکوٰۃ نہیں ہے۔ 

9۔ آپ نے بچی بچے کی شادی کے لیے پیسہ جمع کرنے کی غرض سے جو پلاٹ خرید رکھے ہیں اُن پر زکوٰۃ نہیں ہے کیونکہ یہ پیسہ آپ اپنے فرائض ادا کرنے کے لیے جمع کر رہے ہیں۔ 

10۔ جس پر ایک روپیہ بھی قرض ہے اُس پر حج فرض نہیں ہے۔ حج صرف اپنے مال سے ہوتا ہے، یا جسے حکومت کسی کارِ منصبی سے بھیج دے۔ حج صرف اُس پر فرض ہے جو اپنے سارے مالی فرائض ادا کرچکا ہو اور ہر قسم کا قرض ادا کرچکا ہو، اور حج کے سفر پہ جانے اور واپس آنے کے بعد ایک سال کا گھر کا خرچ گھر والوں کو مہیا کرچکا ہو۔ ایک حج کے بعد دوسرا حج صرف شوق ہے، جسے پورا کرکے آپ خوش ہوسکتے ہیں۔ خدا نے اِس حج کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ فوت شدہ بزرگوں کی طرف سے حج کی کوئی اصل نہیں ہے۔ آدمی کو صرف وہی نیکی فائدہ دے سکتی ہے جو اُس نے خود اپنی زندگی میں کرلی ہو۔ 

تلک عشرۃ کاملہ

 


حافظ صفوان کی دیگر تحریریں