مذہبی و تاریخی اختلافات

مولانا مودودیؒ کی تفہیم دین و شریعت میں تضاد

  2023-03-10 07:35:06
  1175

اس میں کوئی شک نہیں کہ پاک و ہند میں لکھنے پڑھنے والا ایک بہت بڑا طبقہ مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ کی فکر و نظریہ سے حد درجہ متاثر ہے۔ ایک اتنے بڑے علمی سوچ رکھنے والے طبقہ کے متعلق یہ گمان کرنا کہ وہ بلاوجہ متاثر ہوئے ہوں گے، یہ شاید قرین انصاف نہیں۔ کسی انسان کی سوچ و فکر کی گہرائی اور گیرائی بولنے اور لکھنے سے ہی متعدی ہوسکتی ہے، مولانا مودودیؒ سے اس طبقے کا متاثر ہونا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مولانا مودودیؒ بولتے تو بہت کم تھے لیکن لکھتے کچھ زیادہ تھے۔ ان کے لکھنے سے ہی ایک بہت بڑے حلقے نے انہیں مقام پذیرائی بخشی۔ تاہم کسی صاحبِ فکر عالم کے قلم کی سیاہی جب تک قلم کے اندر رہے تو اس پر گفتگو نہیں کی جاسکتی، یہی سیاہی کے قطرے جب کاغذ پر حروف، الفاظ اور جملوں کی صورت ٹپکنے لگتے ہیں تو ان پر تبصرہ کرنا پبلک پراپرٹی کہلاتی ہے، اب کوئی ان کے ساتھ اتفاق کرکے وہ باتیں قبول کرے یا اختلاف کرکے مسترد کرے، یہ عوام کا حق ہے۔ کوئی پڑھ کر ساکت و صامت رہے یا کھل کر تنقید و احتساب کرے، اس عمل سے کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی دوسرے کو روک دے، خصوصا مولانا مودودیؒ کے حلقے کو، اس لیے کہ مولانا نے اپنی تحریرات میں ان لوگوں کا بھی احتساب کیا ہوا ہے جن کے حق ہونے کی گواہی خود قرآن کریم نے یہ کہہ کر دی ہے:

ُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ امۡتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ لِلتَّقۡوٰى‌ؕ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ (حجرات، 49)

یعنی وہ جن کا امتحان خود خدا نے لی اور وہ کامیاب ٹھہرے، امتحان بھی کیسے؟ پیپر کی نہیں بلکہ دلوں کے، میری مراد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی عظیم جماعت ہے۔ 

اسی طرح دوسری جگہ ذرا تفصیل سے ارشاد ہے:

 

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَهَاجَرُوۡا وَجٰهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوۡۤا اُولٰۤئِكَ هُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا‌ ؕ لَّهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّرِزۡقٌ كَرِيۡمٌ  

(اور جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی، یہی لوگ پکے مومن ہیں۔ ان کے لیے مغفرت اور باعزت روزی ہے۔)

پس مولانا کے وارثینِ فکر اور حاملینِ جماعت ہماری تنقید کو بھی خود مولانا کے ترازو اور مقرر کردہ اس قانون کی روشنی میں گوارا کرلیں جو مولانا نے دوسروں کے احتساب کےلیے پسند کیا ہے۔ تنقید میں کوئی لفظ ناگوار گزرے تو پیشگی معذرت! 

زیرِ نظر کتاب ”مسئلہ ملکیتِ زمین“ مولانا مودودیؒ کی ابتدائی تصانیف میں سے ایک ہے جو انہوں نے تقسیم ہند سے کم و بیش 16 برس قبل سلسلہ وار مضامین کی صورت میں لکھی تھیں، تقسیم کے بعد انگریز جب یہ خطہ چھوڑ کر چلے گئے تو جاگیرداروں میں بانٹی گئی زمینوں کی ملکیت کا مسئلہ درپیش ہوا کہ انگریز کی تقسیم کردہ زمینوں کی شرعی حیثیت کیا ہوگی، مولانا نے ان ہی مضامین کو ایام اسیری (1950ء) میں ملتان سنٹرل جیل کے اندر قطع و برید کرکے نظرثانی کے بعد کتابی شکل میں شائع کردیا۔ اب یہ کتاب کئی بار چھپ چکی ہے۔ میرے پیشِ نظر اس کا ابتدائی ایڈیشن یعنی اصل ماخذ کے کچھ حوالہ جات ہے۔ ایڈیشنوں کے فرق سے صفحات کی ترتیب شاید متاثر ہوجائے اس لیے حوالہ جات اگر متعلقہ صفحات میں نہ ملیں تو قارئین سے پیشگی معذرت ہے! 

سب سے پہلے جاگیرداری نظام سے متعلق اسلام کی روح کو سمجھنا چاہیے کہ قرآن کریم کے مطابق زمین فقط خدا کی ملکیت ہے۔ اب خد کی اس ملک میں خلقِ خدا کو کیسے تصرف کرنا ہے؟ یہ اسلامی نظام مملکت کی ذمہ داری اور حاکم وقت کا فریضہ ہے۔ قرآن کریم کی سورہ اعراف میں آیت ہے:

اِنَّ الۡاَرۡضَ لِلّٰهِ ۙ يُوۡرِثُهَا مَنۡ يَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِهٖ‌ ؕ 

(زمین اللہ کی ہے وہ جس کو اپنے بندوں میں سے چاہتا ہے اس کو اس کا وارث بناتا ہے)

وارث بننا اگر بحیثیت اقتدار و حاکمیت ہو تو خلافت و حکومت کی صورت میں ہے اور اگر بحیثیت انفرادی افادہ و استفادہ ہو تو الہی قوانین کی روشنی میں خلافت و حکومت کی ذمہ ہے کہ وہ رعیت میں بقدر ضرورت حصص بانٹ دے۔ اگر حکومت اسلامی ہو تو اس کےلیے اپنے احکام ہیں اور اگر غیر اسلامی ہو تو اس کے اپنے احکام ہیں۔ غیر اسلامی حکومت کی اراضی بانٹنے کا نظام اگر شریعت سے متصادم نہ ہو تو اس کے ساتھ تعرض نہیں اور اگر تقسیم خلاف شریعت ہو تو اس میں شرعی پیوندکاری درست نہیں، ”مسئلہ ملکیت زمین“ کتاب بنیادی طور پر انگریز گورنمنٹ کی طرف سے جاگیرداروں میں تقسیم ہونے والی زمینوں کی ملکیت کے شرعی جواز کےلیے ایک اسلامی پیوندکاری کا ایک مجموعہ ہے جیسے کہ نظام زر و سرمایہ کے شرعی جواز اور سرمایہ دارانہ نظام کے سودی سسٹم کے بقا اور فروغ دینے کےلیے بعض حضرات نے ”غیر سودی اسلامی بینکاری“ کے نام سے کتابیں لکھ ڈالی ہیں، یہ بھی اسی نوعیت کی ایک کاوش ہے۔ یہاں سب سے پہلے اسلام کے اراضی نظام کا جائزہ لیتے ہیں۔ اور پھر موقع بموقع تبرکات مودودیؒ ذکر کرکے دلائل کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔

دورِ نبوی میں ”خود کاشتی“ اراضی کی تقسیم سے متعلق اسلام کا ایک انقلابی نظریہ ہے۔ اسی سلسلے کو آپ کے بعد خلفائے راشدین نے بھی جاری و ساری رکھا لیکن موقع بموقع اس میں اصلاحات بھی کرتے رہے۔ مثلا ایک واقعہ ہے جسے محدث اعظم یحی بن آدم (818ء وفات) نے زراعت سے متعلق اپنی مشہور کتاب ”الخراج“ میں ذکر کیا ہے، ذیل میں بغرضِ اختصار اس کا اردو ترجمہ نقل کرتے ہیں:

”حضرت ابوبکرؓ کے فرزند عبداللہ سے روایت ہے کہ مزنی قبیلہ کے بلال بن حارث آپ علیہ السلام کے پاس کاشت کےلیے زمین کے ایک قطعہ کا سوال کرنے آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لمبا رقبہ عطا فرمایا۔ جب حضرت عمرؓ کا دور آیا تو انہوں نے بلال کو بلاکر یوں مخاطب کیا کہ :

اے بلال! تمہیں معلوم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ خلقِ عظیم کے مالک تھے، جو چیز پاس ہوتی اس سے سائل کو ہرگز خالی ہاتھ رد نہ کرتے، آپ کو لمبے چوڑے اراضی اسی سلسلے میں عطا کی تھی۔ یہ حقیقت ہے؟ 

بلال: جی ہاں! 

حضرت عمرؓ : تو کیا یہ حقیقت نہیں کہ زمین کی مقدار جتنی تم نے حاصل کی تھی۔ وہ تمہاری قوتِ کاشت سے زیادہ ہے؟ 

بلال: جی ہاں یہ بھی حقیقت ہے۔

حضرت عمرؓ : تو پھر دیکھو تم جتنی زمین آباد کرسکتے ہو اتنی ہی رکھ لو اور جو تمہاری قوتِ کاشت سے زیادہ ہے اسے مسلمانوں میں تقسیم کرنے کےلیے ہمارے حوالے کردو! 

بلال: اے ابن خطاب! بخدا یہ نہیں ہوسکتا۔ یہ قطعہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عطاء فرمایا تھا، یہ ہرگز واپس نہ ہوسکے گا۔

حضرتِ عمرؓ: بخدا زمین کی جس زائد مقدار کو تم آباد کرنے سے عاجز ہو وہ واپس ہوکر رہے گی!!

راوی کا بیان ہے کہ ”فاخذ منہ“، یعنی حضرتِ عمرؓ نے اضافی قطعہ ان سے ضبط کر ڈالا اور ضبطی پر کسی نے اعتراض بھی نہیں کیا۔“ 

حضرت عمرؓ کا ضبط اراضی کا یہ انقلاب آفرین فیصلہ ان کی قرآنی بصیرت اور وحی رسالت سے براہ راست مستفید ہونے کا نتیجہ تھا۔ اسلام کا روح اجتماعیت ہے انفرادیت نہیں، آپ رضی اللہ عنہ بھی اسی روح کی روشنی میں اجتماعی تقاضوں کو نظر انداز کرکے فرد کی خواہش کو عملی صورت دینے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ آپ کا یہ فیصلہ جاگیرداری نظام کےلیے ایک دھماکہ خیز فیصلے کا درجہ رکھتا ہے۔

دورِ نبوی میں ملکیت زمین کا مشن ایک انقلابی مشن تھا۔ وہ مشن غربت، بھوک اور افلاس کے خاتمے کا ذریعہ تھا۔ پاک و ہند کی زمینوں کی ملکیت کا مشن انگریزی مشن ہے، یہ مشن بھوک و افلاس، غربت و بے چینی، اقتصادی بدحالی اور معاشی ناہمواری کا سرچشمہ ہے۔ انگریزی مشن کو نبوی مشن پر قیاس کرنا سنۃ اللہ کا مقابلہ کرنا ہے، یہ نبوی مشن کے اصلاحی پروگرام کے راستہ میں رخنہ ڈالنے کا ایک ذریعہ ہے۔ زمانہ سلف کے چند قصبوں اور مربع جات کی زمینوں کو بنیاد بناکر دورِ حاضر میں انگریز سے وفاداری کے بدلے معاوضہ میں زمینیں پانے والے جاگیرداروں اور زمینداروں کو سندِ جواز مہیا کرنا ایک انسانیت کش معاملہ ہے۔ سنۃ اللہ یہ ہے کہ زمین آباد رہے اور اس کا انتفاع عام ہو جب کہ جاگیرداری نظام میں ہزاروں ایکڑ زمین کا مالک فردِ واحد ہوتا ہے جو خود آباد بھی نہیں کرسکتا دوسروں کو کرایہ پر دیتا ہے جو شرعا ناجائز ہے، سنۃ اللہ کی رو سے اس زمین کا انتفاع بھی عام نہیں ہوتا۔ جو کچھ آباد ہوتا ہے وہ شرعا غلط ہے۔ نبوی مشن میں زمیندار نگران ہوتا ہے اور انگریز کی سامراجی مشن میں مالک اور جاگیردار، یہ ملکیت نسل در نسل منتقل ہوتا چلا جاتا ہے، محنت کش پوری زندگی جاگیردار کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں، شرعی اصول کی روشنی میں نگراں کو ضبطی کا اندیشہ لاحق رہتا ہے لیکن سامراجی نظام میں ملکیت پانے والے کو ضبطی تحفظ ملتا ہے۔ غرض یہ کہ انگریزی مشن جاگیردارانہ نظام کی ہزار خوبیوں پر یہ ایک خامی زیادہ بھاری ہے کہ اس میں معاشرتی انصاف نہیں، اسلام تو معاشرتی انصاف کا علمبردار ہے۔ خصوصا پاک و ہند کی زمینوں سے متعلق (جہاں مولانا بیٹھ کر یہ مضامین اور بعد ازاں کتاب لکھ رہے ہیں۔) تو احکام ہی الگ ہے۔ ہمارے اس خطہ کی زمینیں نہ عشری ہیں اور نہ ہی خراجی، بلکہ مفتوحہ ہیں۔ مفتوحہ زمینوں سے متعلق صحابہ کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ مسلمانوں کا ہر مفتوحہ علاقہ بیت المال کی ملکیت ہے۔ اراضی ہند بھی مفتوحہ ہیں انگریز کے دور میں اور اگر پاکستان دارالاسلام ہے تو بھی یہ افراد و اشخاص کی ملکیت نہیں بن سکتے بلکہ وقف للمسلین ہیں اور اگر دارالاسلام نہیں تو جاگیرداری نظام کو برقرار رکھنے کےلیے شرعی اصولوں سے اتنا کھینچ تھان کرنے ضرورت نہیں۔

ایک انقلاب آفرین روایت:

معروف صحابی رسول حضرت رافع بن خدیج کی ایک مشہور روایت ہے جو تقریبا چھ دیگر جلیل القدر اصحابِ رسول اللہ سے بھی منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بٹائی پر زمین دینے کو جائز قرار نہیں دیتے تھے بلکہ فرماتے تھے کہ یا تو خود کاشت کرو، یا کسی کو بلا معاوضہ کاشت کرنے دو یا خالی ہی پڑے رہنے دو۔ یہ روایت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی نے ”اسلام کا اقتصادی نظام“ میں بھی ذکر کیا ہے۔ اس روایت کو تاریخ اسلام میں مولانا مودودی سے پہلے کسی نے بھی چیلنج نہیں کیا ہے، یہی روایت ہے جس کو امام مالک، امام شافعی، امام ابن سیرین، امام مجاہد، امام حسن بصری، امام طاؤس بن کیسان، امام مکحول، امام مسروق، امام عکرمہ، امام قاسم بن محمد بن ابوبکر، امام عطاء اور امام شعبی زمینداری اور مستاجری کے خلاف دلیل مانتے ہیں۔ (تفصیل، المحلّٰی، جلد 8، صفحہ:312) امام اعظم ابوحنیفہ نے بھی اسی روایت کو مقتدا بنا کر بٹائی پر زراعت کو ناجائز قرار دیتا ہے۔ (کتاب الاعتبار، ابوبکر محمد بن موسی الحازمی، ص: 134) امام اعظم کے شاگرد اور بغداد کے چیف جسٹس امام ابو یوسف اپنی کتاب ”اختلاف ابی حنیفہ و ابن ابی لیلی“ میں بھی اپنے استاذ گرامی کی اس دلیل کی تصریح اور اعادہ کرتے ہیں، یہی اسلام کا انقلابی مزاج اور خداوند عالم کی سنت ہے کہ رزق کے سرچشمے کسی کی ذاتی ملکیت تسلیم نہ کیے جائیں، انہیں ذاتِ خداوندی کی ملک سمجھ کر انسانوں کے انتفاع کےلیے یکساں طور پر عام اور وقف کردیے جائیں، بدقسمتی سے ہمارا جاگیرداری نظام انگریز کی تشکیل کردہ ہے اور اس نظام کو اسلامی سہارا ہمارے بعض علماء نے جوڑ توڑ کر اور توڑ مروڑ کر فراہم کی ہے اور انسانوں کی عظیم جماعت کو سامراجی نظام کے مطابق چند افراد کا غلام بناکر محتاج، مفلس اور بے دست و پا غلام بنانے کا جواز فراہم کیا ہے۔

مولانا مودودی، صحابی رسولۖ حضرت رافع بن خدیج کی مذکورہ بالا روایت کو کیسے چیلنج کرتے ہیں؟ یہ بھی قابلِ غور نکتہ ہے۔ فرماتے ہیں کہ:

”رافع کی عمر نبی کریم صلی اللہ علیہ کی وفات کے وقت بمشکل 22 سال تھی۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ایک بیس سال کے نوجوان کا آنحضرت ۖ کی بات کو سننے، سمجھنے اور دوسروں کو جاکر نقل کرنے میں تھوڑی بہت غلطی کرجانا کچھ بہت زیادہ مستعبد امر نہ تھا۔“ (ملکیت زمین، ص: 57) 

حیرت ہوتی ہے کہ صحابی رسول کم فہم، عقلی طور پر نابالغ اور ناسمجھ ہے اور مولانا صاحب ایک عظیم مفکر اور مجتہد اعظم۔ احتجاجِ روایت میں یہ اصول ہے کہ کم از کم صحابی پر جرح نہیں ہوسکتی، صحابہ سب کے سب عادل تھے۔ یہ بھی کوئی اصول نہیں کہ 22 سالہ نوجوان کی روایت نقل نہیں کی جاسکتی۔ بعض نے احتیاطاً 15 سال کا شرط لگایا ہے بعض نے 13 سال کا جوکہ متفقہ علیہ مسلک یہ دونوں نہیں۔ جمہور کے نزدیک محض حضور علیہ السلام سے سماع شرط ہے عمر نہیں۔ خطیب بغدادی نے ایک مستقل عنوان میں چھ سالہ صحابہ کی روایتیں یکجا کی ہیں، سوال یہ ہے کہ مولانا کے اس اصول کی روشنی میں اہل جماعت ان روایات کے متعلق کیا کہیں گے؟ حضرت رافع کے علاوہ جن صحابہ کرام سے یہ روایت منقول ہے ان میں ابو سعید خدری اور حضرت عبداللہ بن عمر کی عمر 20 - 20 سال ہے، زید بن ثابت کی عمر 22 سال، جابر بن عبداللہ کی عمر 26 سال اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنھم کی عمر 31 سال۔ ستم ملاحظہ ہو کہ مولانا دوسرے جگہوں پر اپنے اس معیار کا کبھی لحاظ نہیں کرتے، یہاں جاگیرداروں کا دفاع مقصود تھا تو صحابی رسول کی عمر کو تختہ مشق بنا ڈالا۔ جب کہ ابن عباس کے حوالے سے لکھتا ہے کہ حدیث کا درست مفہوم وہی ہے جو ابن عباس نے سمجھا ہو، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت ابن عباس کی عمر 13 برس ہے۔ مزید ستم یہ کہ حضرت رافع صحابی رسول ہوکر بھی قابلِ اخذ نہیں لیکن ہشام کے والد عروہ بن زبیر زمین داری کے باب میں مولانا کےلیے قابل استدلال بن جاتا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وفات کے دس برس بعد 643ء میں پیدا ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عروہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہی نہ تھا اور پیدائش ہی رحلت کے دس برس بعد ہوئی ہے، یہ راز کیسے حل ہوسکتا ہے؟ مزید ستم بالا ستم ڈھاتے ہوئے صفحہ 54 میں مولانا لکھتے ہیں کہ: 

”دراصل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ تھا اور روایات میں کسی اور طرح ہوگیا۔“ 

مولانا کے اس شذرہ کے بعد احادیث رسول پر ایمان و یقین کی کونسی صورت باقی رہ سکتی ہے کہ فرمایا کچھ اور تھا اور روایت میں کچھ اور بیان ہوگیا۔ سوال یہ ہے کہ اصل فرمان مولانا پر کیسے منکشف ہوگیا؟ کوئی وحی نازل ہوا؟ خواب دیکھی؟ یا وہ خود کو مزاج شناسِ رسول سمجھتے ہیں؟ کیوں کہ یہ رائے کسی صحابی کا ہی ہوسکتا ہے۔ ان تصریحات کے بعد صحابی رسول کی فہم و بصیرت کےلیے ہمارے پاس کونسی گنجائش باقی رہ جاتی ہے؟ 

نافع سے رافع کی ایک اور دھماکہ خیز روایت:

حضرت نافع، عبداللہ بن عمر کا معمول واضح کرتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ آپ آنحضرت ۖ ، حضرت ابوبکرؓ، حضرتِ عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت معاویہ کے ابتدائی دور تک نقد لگان پر کاشت کراتے رہے پھر جب آپ کو پتہ چلا کہ رافع بن خدیج آنحضرت ۖ سے نقد لگان کی شدید مخالفت بیان کر رہے ہیں تو بقول نافع، ابن عمر، رافع کے پاس چلا گیا اور آپ کی مشہور حدیث کے متعلق استفسار کیا۔ جواباً رافع نے کہا جی ہاں بالکل درست ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نقد لگان سے منع فرماتے تھے۔ (بخاری)

اس حدیث کے مطابق ابن عمر نے رافع کی حدیث سن کر اپنے موقف سے رجوع کیا۔ مولانا مودودیؒ نے اس روایت کو یوں رد کردیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لیکر حضرت معاویہ کے دور تک پچاس برس تک پانچ چھ صحابہ کے علاوہ کسی کو بھی یہ معلوم نہیں تھا کہ بٹائی پر زمین کاشت کرنے کےلیے دینا ممنوع ہے؟ (ملکیت زمین، ص: 45) 

مولانا کو اعتراض ہے کہ حضرت رافع نے اتنا عرصہ بعد کیوں لوگوں کو اس حدیث سے روشناس کرایا؟ سوال یہ ہے کہ یہ کیسے پتہ چلا کہ حضرت رافع نے قبل ازیں یہ روایت بیان ہی نہیں کیا؟ اگر ایک واقعہ نامعلوم عوامل کی وجہ سے ذرا تاخیر سے منظرعام پر آئے تو کیا تاخیر ہی اس کی وجود سے عدم کےلیے دلیل ہے؟ مولانا مودودیؒ سامراج کے مسلط کردہ مروجہ زمینداری اور جاگیرداری نظام کے بقا کےلیے بالکل یوں پیش پیش نظر آتے ہیں جیسے کہ یہ نظام خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آغوش میں ہی پروان چڑھتی رہی ہو۔ اندازہ کیجیے اگر یہی رویہ کوئی اور اپناتا تو کب کے منکرِ حدیث ٹھہر چکا ہوتا مگر مولانا بدستور اس فتوے سے محفوظ ہے الحمدللہ ۔ اب جب ابن عمر نے حضرت رافع کی حدیث سن کر اپنے موقف سے رجوع کیا تو وہ بھی مولانا مودودیؒ کے نشانے پہ آگئے۔ ابن عمر کے احتساب میں مولانا نہایت خفگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ دماغی عارضہ اور وہم میں مبتلا تھے جس کی وجہ سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔ (ملکیت زمین، ص: 47) 

عجیب بات نہیں ہوئی کہ حضرت رافع کی پہلی حدیث ان کی اپنی کم عمری کی بنا پر مسترد کردیا کہ 22 سالہ نوجوان ہے اور دوسری حدیث ابن عمر کی ضعیف العمری اور دماغی توازن کھو جانے کی بنا پر قابلِ استرداد ٹھہرا، مولانا کے پاس معیار کا آخر کونسا ”ترازو“ ہے جس میں وہ یہ خود ساختہ اصول وضع کرکے صحابہ کرام جیسے عظیم رجال کی شخصیت اور اعتماد و عدم اعتماد کو تولتے ہیں۔ مسئلہ کیا ہے کہ مولانا کے نشترِ قلم سے نہ چھوٹے اصحابِ رسول محفوظ ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑے عظیم المرتبت اور جلیل القدر اصحاب رسول مامون، حالانکہ ابن عمر بھی تو مدینہ کے جلیل القدر سات فقہاء میں سے تھے، یہاں وہ بھی مولانا کی عدالت میں مجرم ٹھہرائے جاتے ہیں۔

حضرت رافع کی دوسری حدیث پر بحث کرتے ہوئے مولانا مودودیؒ بالکل ”عذرِ گناہ بدتر از گناہ“ محاورہ کے مصداق نظر آتے ہیں، پہلے ابن عمر کو عارضہ وہم کا شکار قرار دینے لگتے ہیں اور پھر ایک تاویل تجویز کرکے فرمانے لگتے ہیں کہ جی ابن عمر نے جب حضرت رافع کی حدیث سن لی تو از راہ تقوی و ورع اپنے سابقہ عمل سے دستبردار ہوگئے۔ (ص:47)

لگتا ہے بخاری شریف کے سب سے بڑے شارح علامہ ابن حجر کو پہلے سے ہی پتہ تھا کہ آئندہ کسی بھی وقت کوئی مجتہد زمان حضرت رافع کی ذات کو کوئی مطعون بنا سکتا ہے اس لیے انہوں نے اسی روایت کے گرد پیشگی حصار لگاتے ہوئے بند باندھتے ہیں، علامہ ابن حجر لکھتے ہیں:

”امام بخاری حدیث رافع کی تائید میں جابر بن عبداللہ اور ابوہریرہ کی حدیثیں روایت کرتے ہوئے ان لوگوں کے غلط عقیدے کا رد کرجاتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ مزارعت کے امتناعی حکم کا راوی تنہا رافع ہے۔ اور یہ کہ اس روایت میں اضطراب ہے۔“

مزید لکھتے ہیں کہ:

”رافع چونکہ صحابی رسول تھے۔ ان کی روایت براہ راست ہو خواہ اپنے چچا کی توسط سے۔ دونوں طرح کی روایتیں بالکل صحیح اور مکمل غیر مجروح ہیں۔“ 

(فتح الباری شرح بخاری)

ابھی تھوڑی دیر پہلے آپ نے پڑھ لیا کہ حضرت رافع کی روایت سن کر موقف سے رجوع کرنے پر مولانا نے ابن عمر پر دماغی توازن کھو بیٹھنے کا فرد جرم عائد کیا تھا، پھر جب ان ہی ابن عمر سے جب مزارعت اور جاگیرداری کے دفاع میں استدلال کی ضرورت پڑتی ہے تو مولانا لکھتے ہیں:

”دیکھیے! عبداللہ بن عمر وہ شخص ہے جن کی حقیقی بہن رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی نکاح میں تھیں جن کے والد حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکرؓ کے معتمد ترین وزیر رہے اور پھر خود دس برس تک خلیفہ رہے۔ کیا یہ ممکن تھا کہ ان کو پورے زمانہ خلافت راشدہ میں یہ خبر نہ ہوئی کہ زمینوں کے بارے ميں اسلام کا قانون کیا ہے؟“ (ملکیت زمین، ص: 46)

مولانا مودودیؒ کی فکر میں سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ ”خلافت و ملوکیت“ میں وہ فی الواقع مجروح راویوں پر ممکنہ جرح کا راستہ روکتے ہوئے لکھتے ہیں:

”بعض حضرات تاریخی روایات کو جانچنے کےلیے اسماء الرجال کی کتابیں کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فلاں فلاں راویوں کو ائمہ رجال نے مجروح قرار دیا ہے اور فلاں راوی جس وقت یہ واقعہ بیان کرتا ہے اس وقت وہ بچہ تھا یا پیدا ہی نہیں ہوا تھا اور فلاں راوی ایک روایت جس کے حوالے سے بیان کرتا ہے اس سے ملاقات ہی نہیں۔ اسی طرح وہ تاریخی روایات پر تنقید حدیث کے اصول استعمال کرتے ہیں اور اس بنا پر ان کو رد کردیتے ہیں کہ فلاں واقعہ سند کے بغیر نقل کیا گیا ہے اور فلاں سند میں انقطاع ہے۔ یہ باتیں کرتے وقت یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ محدثین نے روایات کی جانچ پڑتال کے یہ طریقے دراصل احکامی احادیث کےلیے ہی اختیار کیے ہیں۔“

پھر جب مولانا نقد حدیث کی یہ خود ساختہ معیار اختیار کرنے پر اتر آتے ہیں تو صحابہ کرام کا بھی احتساب کرنے بیٹھ جاتا ہے کہ فلاں صحابی کم عمر و کم فہم تھے اور فلاں صحابی وہم کے عارضے میں مبتلا تھے۔ خلافت و ملوکیت میں سیدنا عثمان پر فرد جرم میں جو جو الزامات عائد کی گئی ہے کہ وہ اقربا پروری کرتے تھے، اپنے خوشامدیوں پر دھن دولت کے دروازے کھول بیٹھے تھے، امیہ نواز تھے۔ گن گن کر مولانا مودودیؒ عوام مسلمانوں کو یہ باور کراتا ہے اور پھر جب انہیں سامراج نواز جاگیرداروں کا دفاع کرنا مقصود ہوتا ہے تو اسی حضرت عثمان کے عہد سے متعلق طاؤس سے منقول ایک مضطرب روایت کو دلیل بناتا ہے جس میں ہے کہ حضرت معاذ بن جبل اپنی زمین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے حضرت عثمان کے زمانے تک تہائی اور چوتھائی پیداوار کی بٹائی پر زراعت کےلیے دیتے رہے۔ (ملکیت زمین، ص: 50)

جب کہ حضرت معاذ عہد فاروقی میں ہی وفات پاگئے تھے، انہوں نے عہد عثمانی پایا ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ حضرت عثمان کے دور تک اپنی زمین کیسے کاشت کراتے رہے؟ اگر راوی نے اس بات کا خیال نہیں کیا تھا تو مولانا کم از کم اس جانب ذرا توجہ تو کرلیتے؟ اگر مولانا نے بھی توجہ نہیں کیا تھا تو جماعتیوں کی توجہ سے کیا امر مانع ہے؟ خود طاؤس حضرت معاذ کی وفات کے 15 برس بعد پیدا ہوئے۔ وہاں 22 سالہ صحابی کی روایت ناقابلِ استدلال ہے اور یہاں واقعہ سے 15 سال بعد پیدا ہونے والا تابعی قابل استدلال بن جاتا ہے؟ اصل میں مولانا کا مسئلہ کچھ اور ہے اور وہ یہ ہے کہ وہاں (خلافت و ملوکیت میں حضرت عثمان پر تنقید کرکے) اپنے ہیرو ابو مخنف (کذاب) کو علامہ تمنا عمادی اور علامہ محمود عباسی کی تنقیدات سے محفوظ رکھنا چاہتے تھے اور یہاں (حضرت ابن عمر اور حضرت رافع پر تنقید کرکے) سامراجی نظام کے تابع زمینیں پانے والے جاگیرداروں کو بچانا مقصود ہے۔ بہرحال مولانا کی فکر میں بہت ہی تضاد ہے۔ اللہ گواہ ہے کہ احترام اپنی جگہ لیکن ان تضادات کے ہوتے ہوئے ایک سنجیدہ اور سلیم الفطرت انسان مولانا کے اس زاویہ نظر کو ہرگز ہرگز قبول نہیں کرسکتا۔

ہمارے ملک کا %70 آمدن زراعت کے شعبے پر ہے، اس میں انگریز سے جاگیریں پانے والے جاگیرداروں نے کسانوں کو زرعی غلام بنا رکھا ہے۔ کوئی اس غلامی کے خلاف اور حریت و مساوات کےلیے آواز اٹھاتا ہے تو ہر طرف سے مولانا مودودیؒ کھل کر میدان میں اترتے ہیں ان حُریت فکر کے حاملین کو اشتراکیت کا نقّال قرار دیتے ہیں۔ جاگیردار بڑے شہروں میں واقع اپنے بنگلوں اور فام ہاؤس میں بیٹھے مزے اڑاتے ہوتے ہیں اور زمینیں آباد کرنے والے کسانوں کو لقمہ تر تک میسر نہیں۔ کیا یہی اسلام کا معاشی مساوات ہے کہ محنت کش خون اور پیسہ بہاتا رہے لیکن قرضوں کی عوض اپنی زندگی گروی رکھے اور جاگیردار شراب کے نشے میں دھت رزق کے سرچشموں پر قابض و غاصب ہوکر بغیر کسی مشقت کے حصہ بٹورتا رہے؟ علامہ اقبال نے اسی کسان کا درد لیکر شعر میں سمویا تھا کہ:

جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

علامہ اقبال سے ڈھائی تین سو برس قبل امام الحکمۃ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ”فک کل نظام“ کا نعرہ بلند کرکے اپنا ماٹو جاری فرمایا تاکہ انسانیت سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور صنعت کاروں کی غلامی سے نجات پاکر اسلام کے انقلاب انگیز نظام کے سائے میں آزادی، خوشحالی اور خودداری کی زندگی گزار سکیں۔ بدقسمتی سے امام شاہ ولی اللہ کے اس فلسفہ کو علماء نے آج تک قابل غور نہیں سمجھا ہے۔ شاہ صاحب کے بعد انگریز سامراج آیا، اس نے اپنے زرعی اصلاحات کی، سامراج چلا گیا لیکن پیچھے ایک پورا سسٹم چھوڑ گیا۔ اس سسٹم سے جڑے مولوی حضرات میں سے کوئی سرمایہ داریت میں اسلامی پیوندکاری کرنے کو ضرورت خیال کرتا ہے تو کوئی جاگیرداریت کی جڑیں مضبوط کرنے میں عافیت محسوس کرتا ہے۔

 


اسماعیل حسنی کی دیگر تحریریں