مذہبی و تاریخی اختلافات

ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کی صحیح عمر بوقت نکاح

  2023-04-20 05:06:33
  1156

 

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے نزدیک ہر وہ روایت ناقابل اعتبار ہے جو خلافِ قرآن ہو، جو وہم پر مبنی ہو، جو فطری قوانین سے متصادم ہو، جو معمولات دین اور ضروریاتِ شرعِ متین کے منافی ہو، جو عظمت انسانی کے خلاف ہو، جو خلاف عقل و درایت ہو۔ اب خود ام المؤمنینؓ کی صغر سنی میں نکاح اور رخصتی سے متعلق ہشام اور زہری کی روایت (جوکہ بخاری و مسلم سیمت دیگر کتبِ حدیث میں بھی اپنی متابعات کے ساتھ مذکور ہیں، جس پر ہم نے پہلے بھی تین لمبی تحریریں لکھی ہیں) جس میں 6 برس کی عمر میں ان کی نکاح ہوئی ہے، 9 برس کی عمر میں رخصتی اور 18 برس کی عمر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے پردہ فرمانے کا سامنا کرتی ہے، کا تذکرہ ملتا ہے۔ یہ روایت ان تمام اصولوں میں سے کسی ایک اصل پر بھی پورا نہیں اترتا جو ام المؤمنینؓ کے ہاں کسی بھی روایت کی استنادی حیثیت کےلیے بنیاد، اساس، اصول، کسوٹی اور معیار مقرر ہے۔ 

ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ کی صغر سنی میں نکاح پر مشتمل درج بالا روایت قرآن کریم کی ان دس آیتوں کی صریح مفاہیم کے بھی علی الرغم ہے جن میں انسان کی پیدائش سے بھی قبل حالات سے لیکر وفات تک فطری اور بشری زندگی کے تمام مراحل کا تذکرہ ہے۔ 

فقہاء اربعہؒ کے دور میں شاید یہ روایت ایجاد نہیں ہوئی تھی یا انہوں نے دانستہ طور پر اس روایت کو اس قابل نہیں سمجھا کہ اسے فقہی استدلال کےلیے ماخذ بنائیں، ان کی فقیہانہ بصیرت نے اس وضعی روایت کے خود ساختہ غیر شرعی مفہوم کو تاڑ لیا تھا، یہی وجہ ہے کہ امام اعظم سراج الملۃ امام ابوحنیفہؒ نے نکاح کےلیے بلوغت کو لازمی شرط قرار دیا ہے اور بلوغت کی حد مرد کےلیے 18 برس اور عورت کےلیے 17 برس مقرر کردیا ہے۔ آپ کے بعد امام مالکؒ بن انس کا علمی و فقہی مقام ہے، انہوں نے بھی بلوغت کےلیے معیاد 18 برس عمر کو معیار قرار دیا ہے مگر چند اضافی ضروری شرائط کے ساتھ، ان کے بعد امام محمد بن ادریس الشافعیؒ اور امام احمدؒ بن حنبل کے نزدیک کم سے کم عمر 15 سال شرط ہے لیکن سن رُشد (عقلی بلوغ جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے) اسے بہرحال وہ بھی 18 برس ہی تسلیم کرتے ہیں۔ حیرت ہے کہ ام المؤمنینؓ کا نکاح 6 برس کی عمر میں ہوئی، رخصتی 9 برس اور پھر 2 ہجری میں غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئیں جہاں سن بلوغت سے محض ایک دو سال کم ہونے کے بنا پر کئی نوجوان صحابہ کرامؓ کو جنگ میں شرکت سے روک دیا جاتا ہے۔ اس روایت کی رو سے ام المؤمنینؓ جیسے ہی سن رشد میں داخل ہوئیں، نبی کريم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے پردہ فرما گئے۔ عجیب بات ہوئی! 

آپ دنیا کی عظیم ترین شخصیات کی تاریخ کا مطالعہ کیجیے تو کسی نے بھی اتنی کم عمر بچی سے شادی نہیں کی ہے۔ انسانی تاریخ میں تو عورت کا بھی ایک بہت بڑا کردار ہے۔ ملوک و سلاطین کی شہنشاہیت کے نشیب و فراز میں سب سے اہم رول عورت ہی کا ہے۔ ان تمام حالات و واقعات میں آپ کو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں عورتیں ملیں گی لیکن کسی بھی کردار کے پیچھے کوئی کم سن بچی کا کوئی تذکرہ نہیں ملے گا جس نے اس عمر میں کسی سے شادی کی ہو جس کی نسبت ام المؤمنینؓ کی طرف کی گئی ہے۔ اس نسبت کی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس روایت کا آڑ لیکر ملحدین و مستشرقین کی طرف سے سب سے زیادہ طعن و توہین کا ہدف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عالی ذات بابرکات و صفات کو بناکر ان کی پاکیزہ شخصیت کو داغدار اور عصمت نبوتؐ کو تار تار کرنے کی ناپاک جسارت ہوتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ آپ علیہ السلام کی عزت و ناموس پر جس کسی بدنصیب نے جب بھی دریدہ دہنی کا ارتکاب کیا ہے، اس کےلیے یہی اور اس جیسی دیگر وضعی، بے بنیاد اور خود ایجاد روایتیں سہارا بنتی ہیں۔

ہمارے علماء کرام نے صحاح ستہ کے راویوں کے دفاع میں اس روایت کی من پسند جھوٹی تاویل و تشریح کرکے اسے بچانے کےلئے عنکبوتی سہاروں کے بنیاد پر بچانے کا پروگرام تو پیش کیا ہے لیکن سب سے خطرناک پہلو جو سازش کے طور پر اس میں شامل کی گئی ہے، اس جانب ان سادہ لوح علماء نے دھیان ہی نہیں دیے ہیں۔ اندازہ کیجیے کہ اس عمر کی بچی سے نکاح رچانا ایک عظیم ہستی کے کردار کے منافی نہیں؟ نکاح کا یہ معیار تو شریعتِ مطہرہ کے مسلمہ اصول کے خلاف ہے ہی، فقہاء اربعہ کے نزدیک بھی درست نہیں اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند ہمتی و شرافت طبع کے مطابق یہ عمل صحیح ہے۔ کتب سابقہ میں ماضی کے بہت سے شواہد ملتے ہیں، ان شواہد میں بھی کہیں کسی کم سن بچی سے نکاح یا تقارب کی کوئی آیت کسی بھی کتاب میں مذکور نہیں، عجیب بات ہے کہ ایک طرف سب سے زیادہ روایتیں ام المؤمنینؓ سے منقول ہیں جو ان کی ذہانت و قابلیت کےلیے دلیل ہے تو دوسری طرف ان ہی روایات کا شاخسانہ یہ ہے کہ واقعہ افک گھڑ کر آپ کو ذہنی اعتبار سے اتنا غبی اور جسمانی اعتبار سے کمزور و لاغر ثابت کیا جاتا ہے کہ کا طرح آپ کی فقاہت و ثقاہت اور عظیم الشان علمیت کو کیسے مشکوک ثابت کیا جائے۔ کبھی غور کیا ہے کہ اس روایت کے مطابق ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں سن رُشد کو ہی نہیں پہنچی ہے لیکن وہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ سے کھل کر علمی و عملی اختلاف رائے کا اظہار کرتی ہیں؟ اپنی رائے کے حق میں قرآن کریم سے زبردست استدلال بھی پیش فرماتی ہیں، کیا یہ ممکن بھی ہے؟ ہمارا دعوی ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ بوقت نکاح ہرگز چھوٹی بچی نہ تھیں، یہ روایت جھوٹی ہے، سازش کے طور پر گھڑ لی گئی ہے تاکہ آپ کی علمیت کو وقتی ضرورت کےلیے مشکوک ثابت کرکے پیش کیا جائے، یہی روایت اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔ ذیل میں ہم اس خود ایجاد روایت کی وضعیت سے متعلق چند قرائن ذکر کریں گے۔

پہلا قرینہ یہ ہے کہ مؤرخین سابق بالایمان مسلمانوں کی فہرست میں ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ کو دسویں نمبر پر ذکر کرتے ہیں، بعض نے انسیویں نمبر پر ان کا تذکرہ کیا ہے۔ سیرت ابن اسحاقؓ کے مطابق ام المؤمنینؓ نے سن یکم نبویؐ (یعنی بعثت کے سال ہی) ایمان لائیں تو اس وقت جوان تھیں۔ اس اعتبار سے ہجرت کے وقت تو پورا عاقلہ بالغہ قرار پاتی ہیں، یہی عمر ”حیات سید العرب“ ، سیرۃ ابن ہشام، زرقانیؓ کی شرح مواہب لدنیہ نے بھی ذکر کیا ہے، اب اس قرینہ کے ہوتے ہوئے دو ہجری کو بوقت رخصتی انہیں ہشام ابن عروہ اور ابن شہاب زہری کی روایت کے مطابق گڑیوں سے کھیلنے والی کم سن کھلنڈری بچی کیسے مانا جاسکتا ہے؟

دوسرا قرینہ یہ ہے کہ ہم روز تلخ واقعات پڑھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ کسی جنونی شخص نے دس بارہ سالہ لڑکی کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا، نتیجے میں وہ بچی فوت ہوگئی یا بیہوش ہوگئی۔ یہاں چھ برس کی عمر میں نکاح اور نو برس کی عمر میں رخصتی کو جس زور و شور سے ہمارے مولوی اور پیر و فقیر حضرات مریدنیوں، شاگردنیوں سے رشتے رچانے کے جواز میں بیان کرتے ہیں، کیا عقل و قیاس بھی اس عمر میں رخصتی کو تسلیم کرتی ہے؟ بالکل نہیں بلکه ہرگز نہیں۔ افسوس کہ اس روایت کو بیان در بیان کرنے سے مسلم و غیر مسل معاشروں میں جو تاثر قائم ہوا ہے اس کا درست ادراک مولوی حضرات بالکل نہیں کرپا رہے، ہماری کوشش ہے کہ ہر ایسی خود ساختہ روایت کے بارے میں کھل کر شعور اجاگر کریں، اب ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ آج سے جو بھی مولوی کم سنی میں نکاح سے متعلق استدلال میں یہ روایت بطور مسئلہ بیان کرے تو آپ حضرات سب سے پہلے خود ان کا گریبان پکڑ کر کہیں کہ آپ بھی ذرا اس سنتِ صدیقیؓ پر عمل پیرا هوکر دکھائیں تو لگ پتہ جائے گا۔ 

ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی کم سنی کی رد میں تیسرا قرینہ یہ ہے کہ علامہ ابن سعدؒ نے اپنی ”طبقات“ میں ایک روایت نقل کیا ہے جوکہ مسند احمد میں بھی ذکر ہے کہ حضرت اسامہ بن زیدؓ ایک دفعہ دروازہ کے چوکھٹ پر گر پڑے، چہرے پر زخم آیا۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اس زخم کی دھلائی کی، ناک سے خون بہنے لگا تو ناک بھی صاف کی۔ امام ذہبیؒ کی مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وقت حضرت اسامہؓ کی عمر 18 برس ہے۔ (سیر اعلام النبلاء) خطیبؒ نے ”اکمال فی اسماء الرجال“ میں 20 برس لکھا ہے، ابن کثیرؒ سے ”بدایہ“ میں 19 برس منقول ہے، اس اعتبار سے حضرت اسامہؓ کی ولادت نبوتؐ کے یکم دوم یا سوم ہی کو ہوئی ہوگی۔ متنازع فیہ روایت کی ترازو میں تو یهاں ام المؤمنینؓ کی عمر حضرت اسامہ سے بھی کم قرار پا رہی ہے۔ یہ نہایت عجیب بات نہیں؟ 

چوتھا قرینہ یہ ہے کہ تمام محدثین کا اتفاق ہے کہ حضرت عائشہؓ اپنی بڑی بہن حضرت اسماءؓ سے عمر میں دس برس چھوٹی تھی۔ (دیکھیے تقریب التہذیب، جلد 2، صفحہ: 565۔ سیر اعلام النبلاء، جلد 2، صفحہ: 213) یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت اسماءؓ کی رحلت سن 73 ہجری میں 100 برس کی عمر میں ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے بوقت ہجرت حضرت اسماءؓ کی عمر 27 یا 28 برس کے لگ بھگ ہے، اس عدد سے دس کا ہندسہ منہا کردیا جائے تو حضرت عائشہؓ کی عمر 19، 20 بن جائیگی۔ مزید براں یہ بھی قابل غور نکتہ ہے کہ امام طبریؒ جو خاص الخاص شیعہ ہے، وہ بھی اپنی تاریخ میں یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ کی ولادت بعثت سے قبل زمانہ جاہلیت میں ہی ہوئی ہے۔ (دیکھیے تاریخ طبری، جلد 4، صفحہ: 50) 

عرب دنیا میں کم سنی بچیوں کی نکاح کا رواج ہی نہ تھا جب کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عقد نکاح میں آنے سے پہلے مکہ کے ایک مشہور رئیس جبیر بن مطعم کی عقد میں تھیں۔ کم سن بچیوں کے ساتھ نکاح کرنا عرب دستور میں تو ویسے ہی مروج نہ تھا لیکن ایک عرب رئیس زادہ کےلیے تو نہایت معیوب عمل تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تو مکہ کے ان رؤساء سے کہیں گنا زیادہ بلند و بالاتر، افضل و اشرف تھا۔ اس تاریخی حقیقت کے رو سے جبیر بن مطعم سے ام المؤمنینؓ کی یہ نکاح قبل از اسلام ہوچکی تھی جسے امام طبری نے بھی تسلیم کیا ہے۔ (تاریخ طبری ،جلد1، صفحہ: 493) اور علامہ ابن سعدؓ نے بھی طبقات میں اس نکاح کا تذکرہ کیا ہے۔ (طبقات،جلد 8، صفحہ 58) امام احمدؓ ابن حنبل نے اپنی مسند میں تو اس پر باضابطہ ایک مسکت روایت بھی لایا ہے، میرے خیال میں اس روایت کے بعد مزید کسی بحث کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ (روایت مفہوم یہاں درج کرتے ہیں)

 

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں
اگلا صفحہ

اسماعیل حسنی کی دیگر تحریریں