اسلامک سیکولرزم کیا ہے؟

مترفین (سرمایہ داروں اور مولویوں) کا دیرینہ اتحاد

  2023-06-16 07:06:15
  1129

 

حضرت عیسی علیہ السلام کو مسیح انسانیت کہا جاتا ہے، ان کی دعوتی مشن کے ہدف میں دو ظالم تھے۔ ایک ظالم معاشی استحصال کا استعارہ تھا اور دوسرا ظالم استبداد و تسلط جمائے بیٹھا تھا۔ معاشی استحصال سود خور یہودی کرتے تھے جو خود تو سامنے نہ آتے بلکہ سرمایہ پرست یہودی مولویوں (جنہیں قرآن کریم میں احبار و رُھبان کہا گیا ہے) کو اپنے آگے رکھتے تھے، یہی وہ مولوی تھے جو حضرت مسیح کی مخالفت کرتے تھے۔ جہاں تک استبداد و تسلط کی بات ہے وہ روم کی سلطنت تھی۔ آپ ذرا اس سے بھی پیچھے چلے جائیں تو یہی کشمکش اپ کو حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں بھی نظر آئے گا کہ انہوں نے جب فرعون کو حق و صداقت کی دعوت دی تو فرعون نے ایک مذہبی بہروپیے ہامان کو اُن کے مقابلے میں آگے کرکے میدان میں اتارا۔ اس سے بھی آگے چلیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے نمرود کے معاملے میں جو کشمکش ملے گی، وہاں بھی ایک مذہبی پیشوا آزر کی صورت میں آپ کو ایک سرمایہ پرست پیشوا ملے گا۔ غرض یہ کہ ہر دور میں سرمایہ دار اور مذہبی پیشوا حق کے مقابلے میں ایک ہی اسٹیج پر آپ کو نظر آئیں گے، آپ سیرت طیبہ کی کتابیں اٹھا کر دیکھ لیں تو خود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں بھی آپ کو مشرکین مکہ سے جو لوگ ملیں گے، وہاں بھی حق اور سچ کے مقابلے میں یہی پیشوا اور سردار آگے آگے نظر آرہے ہیں کہ آپ ہمیں ہمارے آباؤ اجداد کے مذہب سے ہٹا رہے ہیں، حق کے مقابلے میں جب ان سے رہا نہیں جاتا تو پہلے آپ کو مال و دولت میں حصہ داری کی پیشکش کرتے ہیں کہ ہمارے معبودوں کی مخالفت نہ کریں، جب لالچ کے فارمولے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو العیاذ باللہ آپ کے قتل کے درپے ہوجاتے ہیں، یہاں تک کہ ہجرت کا حکم آتا ہے، یہی رویہ ہر دور کے سامراج کا ہے کہ لالچ دیکر خاموش کراؤ، اگر لالچ میں ناکامی ہو تو راستے سے ہٹاؤ، آپ علیہ السلام کی سیرت ہمارے لیے ماڈل ہے، اسی ماڈل کو اسوہ حسنہ کہا گیا ہے۔ (احزاب21) آپ علیہ السلام جب ہجرت کرکے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ تشریف لے جاتے ہیں تو وہاں ایک بار پھر آپ کو وہی سرمایہ پرست یہودی مولویوں اور سرمایہ داروں کے گٹھ جوڑ پر مشتمل سامراج کا سامنا رہتا ہے۔ 

قرآن کریم حکایات کی کتاب نہیں بلکہ اس میں ہر دور کےلیے واضح احکام و ہدایات بیان کی گئی ہے، اس میں اُمم سابقہ سے متعلق جو کچھ واقعات ذکر ہیں اس کے مصداق  بھی بن سکتے ہیں، یہ صرف پڑھنے اور ٹائم پاس کرنے کےلیے ماضی قصے کہانیاں نہیں ہیں بلکہ ان میں اصل بات یہ ہے کہ یہ تو ہمارے لیے تنبیہ کے طور پر بیان ہوئے ہیں کہ آپ اس روش سے مکمل محترز رہیں ورنہ آپ کا بھی وہی انجام ہوگا جو اُن اقوم و ملل کے علماء و عوام کا ہوا۔ 

قرآن کریم کی ایک آیت ہے:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ كَثِيۡرًا مِّنَ الۡاَحۡبَارِ وَالرُّهۡبَانِ لَيَاۡكُلُوۡنَ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ وَيَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ؕ وَالَّذِيۡنَ يَكۡنِزُوۡنَ الذَّهَبَ وَالۡفِضَّةَ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَهَا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِۙ فَبَشِّرۡهُمۡ بِعَذَابٍ اَلِيۡمٍۙ

(اے ایمان لانے والو بیشک اہل کتاب کے اکثر علماء اور مشائخ لوگوں کے مال غیر مشروع طور پر کھاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور اس سونے چاندی کو خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو اے پیغمبر آپ ان کو ایک دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے۔)

یہ ترجمہ سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی نے ”کشف الرحمن“ میں کی ہے جو حضرت شیخ الہند کے شاگرد خاص اور مولانا حسین احمد مدنی کے دور میں جمعیت علماء ہند کے ناظم اعلی رہ چکے ہیں، اس ترجمہ میں انہوں نے امم سابقہ کےلیے ”اہل کتاب“ کا لفظ استعمال کیا ہے، اہل کتاب عام ہے صرف یہود و نصاری کے ساتھ خاص نہیں، اس میں ہمارے مولوی اور پیر بھی آجاتے ہیں جو ہر دور میں مستبد قوتوں کا سہارا اور سرمایہ داروں کی پشت پناہی لیکر لڑتے ہیں، ان کی نشانی یہ ہے کہ یہ تعمیری کام نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ تخریبی عمل کےلیے کم داموں استعمال ہوتے ہیں، سرمایہ داروں اور سرمایہ پرست مولویوں کے اس گٹھ جوڑ کو قرآن کریم میں مُتۡرَفِيۡن کہا گیا ہے، مُتۡرَفِيۡن کا مطلب ہے دوسروں کی محنت پر عیش کرنا۔ (یعنی مفت خوری اور بغیر محنت کے زندگی گزارنا۔) 

سورۃ الواقعة میں ارشاد باری تعالی ہے:

اِنَّهُمۡ كَانُوۡا قَبۡلَ ذٰ لِكَ مُتۡرَفِيۡنَۚ 

(یہ لوگ اس سے پہلے بڑے خوش عیش وناز پرور تھے۔)

سرمایہ دار طبقہ محنت کش طبقے کی محنت کا استحصال کرکے عیاشیاں کرتا ہے اور سرمایہ پرست طبقہ صدقات، خیرات، زکوۃ اور فتوؤں کے عوض کرایہ وغیرہ کے نام پر سرمایہ داروں سے رقم وصول حقائق جانتے ہوئے بھی خاموش رہتے ہیں اور تاویلِ باطل کے زور پر انہیں کندھا پیش کرکے معاوضہ لیتے ہیں اور عیش و عشرت اور آرام و راحت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ 

قرآن کریم میں سورہ سباء کے اندر بھی ان مُتۡرَفِيۡن کا ذکر ہے:

وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا فِىۡ قَرۡيَةٍ مِّنۡ نَّذِيۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡـرَفُوۡهَاۤ ۙاِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡـتُمۡ بِهٖ كٰفِرُوۡنَ‏ 

(اور ہم نے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا رسول نہیں بھیجا مگر اس بستی کے خوش عیش لوگوں نے پیغمبروں سے یہی کہا کہ جو پیغام تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس پیغام کے منکر ہیں۔)

آپ انسانیت کی اسٹیبلش ہسٹری اٹھا کر دیکھ لیں، ہر دور میں ان دو طبقات کا زبردست قُرب و تعلق اور باہمی تعاون رہا ہے۔ انبیاء کرام کی مخالفت بھی ان ہی دو طبقات کی طرف سے رہی ہے۔ ختم نبوت کے بعد انبیاء کرام کا تسلسل تو نہیں رہا۔ اب ان دونوں کا مقابلہ سچائی کے ساتھ ہے، یہ جھوٹ کے تلوار میں سچ کا مقابلہ کرتے ہیں، سرمایہ داروں کی ضرورت ہوتی ہے کہ حق کو چھپایا جائے اور باطل کو حق بنا کر پیش کیا جائے۔ یہ کام دوسرے طبقے کا ہے۔ سرمایہ دار اس طبقے پر مال لگاتے ہیں اور سرمایہ پرست اس کے عوض حق کو باطل اور باطل کو حق بنا کر پیش کرتا ہے۔ 

سرمایہ داروں اور سرمایہ پرست مولویوں اور مشائخ کا درج بالا گٹھ جوڑ قرآن کریم میں سورہ بقرہ کے اندر یوں بیان ہوئی ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَكۡتُمُوۡنَ مَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ مِنَ الۡکِتٰبِ وَ يَشۡتَرُوۡنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ۙ اُولٰٓئِكَ مَا يَاۡكُلُوۡنَ فِىۡ بُطُوۡنِهِمۡ اِلَّا النَّارَ وَلَا يُکَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَلَا يُزَکِّيۡهِمۡ ۖۚ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ 

(اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی کتاب (احکام) کو چھپاتے ہیں اور اس چھپانے پر حقیر معاوضہ حاصل کرتے ہیں تو ایسے لوگ بس اور کچھ نہیں اپنے پیٹوں میں صرف آگ بھر رہے ہیں اور ایسے لوگوں سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نہ کلام کرے گا اور نہ ان کو پاک کریگا اور ان کو درد ناک سزا ہوگی۔)

ہمارے دوست مولانا محمود الحسینی اس آیت پر بحث کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ظاہر بات ہے کہ کتمان (چھپانا) وہی آدمی کرسکتا ہے جس کے پاس کچھ ہو، جس کے پاس کچھ نہ ہو تو چھپائے گا کیا؟ 

سورۃ آل عمران میں ہے:

يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَـقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوۡنَ الۡحَـقَّ وَاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ

(اے اہل کتاب! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں مخلوط کرتے ہو اور کیوں سچی بات کو جان بوجھ کر چھپاتے ہو؟ )

اب ذرا غور کریں کہ یہ کام کون آدمی کرسکتا ہے؟ عام آدمی تو بالکل یہ نہیں کرسکتا، صاف بات ہے کہ یہ کام وہی آدمی کرسکتا ہے جسے حق و باطل میں التباس و اختلاط (ملاوٹ) کا علم ہو یا کتمان حق اور تاویل باطل کا ماہر ہو، اب یہ یہ علم کس کے پاس ہے؟ ذرا سورہ اعراف کی یہ ملاحظہ کیجیے جس میں شیطان کہتا ہے:

قَالَ فَبِمَاۤ اَغۡوَيۡتَنِىۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَهُمۡ صِرَاطَكَ الۡمُسۡتَقِيۡمَۙ‏ 

(اس نے کہا: چونکہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے سو اس وجہ سے میں بھی تیری سیدھی راہ پر گھات لگائے بیٹھوں گا۔)

خود غیر مرئی (نظروں سے پوشیدہ) شیطان  تو گھات لگا کر نہیں بیٹھے گا بلکہ ان ہی علماء کے روپ میں گھات لگا کر لوگوں کو گمراہ کروائے گا جنہیں صراطِ مستقیم کا علم ہو۔ ظاہر ہے صراطِ مستقیم کا علم عوام الناس کے پاس تو ہے نہیں، بلکہ ان ہی خواص کے پاس ہے جن کا دعوی ہے کہ صرف ہم حق اور سچ پر ہیں، وہ لوگ جو اپنے علاوہ سب کو باطل سمجھتے ہیں، جو یہود و نصاری کے علماء کے اس دعوی کی مثل کہ ”ہم خدا کے بیٹے ہیں اور وہ ہم ہی سے محبت کرتا ہے۔“ (سورہ مائدہ 18) یہ بھی ”میراث نبوت“ کا آڑ لیکر امت کے کندھوں پہ سوار ہونے کے شوقین ہوتے ہیں۔ اب ہمیں دیکھنا چاہیے کہ دورِ حاضر میں ان قرآنی مصداق کے حامل یہ لوگ کون ہیں؟


اسماعیل حسنی کی دیگر تحریریں