جدید مسائل اوراسلام

اسلام میں قیادتِ نسواں کا حکم

  2023-10-12 07:23:59
  652

آپ 90ء کی دَہائی کا جونسا اخبار، رسالہ، میگزین یا مذہبی اور سیاسی پارٹی کی کوئی کتاب اور لیٹریچر اٹھا کر دیکھ لیں، اس میں آپ کو کہیں نہ کہیں قیادتِ نسواں (عورت کی حکمرانی) سے متعلق کوئی نہ کوئی مواد لکھا ہوا ضرور ملے گا۔ جس میں سب سے زیادہ یہی ایک پہلو نمایاں ہوگا کہ” اسلام میں عورت کی حکمرانی ناجائز ہے، حاکم فقط مرد بن سکتا ہے عورت ہرگز نہیں، عورت صرف گھریلو ذمہ داریوں اور خانہ داری امور تک محدود ہے۔“ پھر جب خانگی امور کی بحث چھڑ جاتی ہے تو عورت کے ساتھ گھر پر بھی وہی معاملہ روا رکھا جاتا ہے جو قدیم مذاہب کے اندر ہمیں رہبانیت اور مشیخیت کی روپ میں نظر آتا ہے، اسلام نہ رہبانیت ہے کا مذہب ہے اور نہ ہی مشیخیت کا دین، اسلام تو ایک روشن خیال الٰہی پروگرام ہے، اسلام میں تنگی نہیں کشادگی ہے، عورت کی حکمرانی کا عدمِ جواز مسئلے کا یہ ایک پہلو ہے، اس مسئلے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ عورت نہ صرف حاکم بن سکتی ہے بلکہ تاریخ اسلام میں مختلف ادوار میں مختلف عہدوں پر فائز رہی بھی ہیں، بسا اوقات عورت کی کارکردگی مرد حکمرانوں سے بھی بہتر رہی ہے۔ اس لیے کہ فارسی کا مشہور محاورہ ہے کہ ”نہ ہر زن زن است و نہ ہر مرد مرد“ اگر اسلام میں یہ لچک نہ ہوتا تو ہمیں سیکڑوں ایسی نظیریں نہ ملتیں جو مختلف ادوار میں مختلف بڑی کامیابیوں کے پیچھے عورت کا کردار ہے (نظیریں ہم آگے دلائل کے بعد پیش کریں گے۔) 

عورت کی حکمرانی کی عدم جواز کا معاملہ بنیادی طور پر کلیسائی عقیدہ ہے جس میں شادی کے بعد عورت کی تمام ملکیت شوہر کی ملک بن جاتی ہے۔ سو ناپسندیدگیوں کے باوجود عورت کو متعلقہ شوہر سے علیحدگی کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان میں یہ بحث اس وقت چھڑ گئی جب محترمہ بینظیر بھٹو پہلی بار وزیر اعظم بنیں، یعنی ٹھیک ساڑھے چارعشرے تک عورت کی حکمرانی سے متعلق علماء کرام مکمل طور پر خاموش رہیں، جب 1988ء تا 1990ء سیشن میں پہلی بار محترمہ وزیر اعظم بنیں تو آئی جے آئی (میاں نواز شریف) کی طرف سے محترمہ کے خلاف اس کارڈ کو استعمال میں لایا گیا۔ پھر جب 1993ء تا 1997ء سیشن دوسری بار وزیر اعظم بنیں، تو عورت کی حکمرانی سے متعلق عدم جواز کی پروپیگنڈوں میں مزید شدت آگئی، چنانچہ آپ اس وقت کے اخبارات، انٹرویوز، میگزین، مضامین اور پروگرامات کے ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیجیے تو جابجا آپ کو یہی ایک بحث ملے گا کہ عورت حاکم بن سکتی ہے یا نہیں۔ 

بنیادی طور پر اسلام میں عورت کی حکمرانی اور قیادت سے متعلق دو قسم کے نظریے پائے جاتے ہیں لیکن اس پروپیگنڈہ نے دوسرے نظریے کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے، حالانکہ جواز کے متعلق دلائل عدم جواز کے استدلالات سے زیادہ وزنی لگتے ہیں۔ بوقت اختلاف اگر کوئی حقیقت پسند عالم آگے بڑھ کر اس دوسرے پہلو کو عوام کے سامنے پیش کرے تو یہ مولویوں کو خود پر الزامات لگانے کی دعوت کی مترادف ہے۔ کیوں کہ محترمہ بینظیر بھٹو پر میاں نواز شریف کا الزام تھا کہ انہیں انڈیا کی پشت پناہی حاصل ہے اور مولانا فضل الرحمن کہا کرتے تھے کہ محترمہ امریکی ایجنٹ ہے۔ ایسے میں کون آگے بڑھ کر عوام کو حقائق سے روشناس کرسکتا تھا؟ جو جو الزامات محترمہ پر لگائے جارہے تھے، وہی تمام الزامات حقیقت پسند عالم پر بھی لگنے تھے۔ نتیجہ کیا نکلتا کہ انہیں عوام کی نظر میں متنازع ثابت کرکے بے اثر کرنا تھا۔

عورت کی حکمرانی سے متعلق ہر دو نظریات کے حاملین اپنے لیے قرآن کریم سے استدلال پیش کرتے ہیں۔ جو طبقہ عورت کی حکمرانی کو ناجائز خیال کرتا ہے، اس کے پیشِ نظر سورہ نساء کی آیت 34 ہے۔ جس طبقہ کے ہاں شریعت میں عورت کے حکمران بننے میں کوئی حرج اور پابندی نہیں، وہ سورہ آل عمران کے آیت 110 کو دلیل بناتے ہیں۔ ذیل میں دونوں آیتیں قرآنی ترتیب کے ساتھ نقل کرکے اس بحث کو آگے بڑھاتے ہیں:

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں
اگلا صفحہ

اسماعیل حسنی کی دیگر تحریریں