سیاسیات حاضرہ

جائز اورناجائزدہشتگردی

  2023-11-01 04:15:42
  1058

گئے دنوں کا قصہ ہے۔ ایک کانفرنس کے لیے امریکہ میں موجود تھا۔ کانفرنس کے بعد ایک ریڈیو سٹیشن کے ساتھ ایک انٹرویو طے تھا۔ انٹرویو میں کانفرنس کے موضوعات پر سیر حاصل بحث ہو چکی تو بات گھوم پھر کر پاک امریکہ تعلقات پر جا رکی۔ میزبان یہ جاننا چاہتا تھا کہ بے پناہ سویلین اور فوجی امداد لینے کے باوجود پاکستان کا عام شخص امریکہ کے بارے میں مثبت خیالات کیوں نہیں رکھتا۔ کچھ ادھر ادھر کی گول مول باتیں کر کے میں راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش میں تھا کہ مہمان کے منہ سے سخت بات اچھی نہ لگتی مگر جب میزبان نے اس رویے کا سراسر الزام پاکستانی عوام کی کج فہمی کو ٹھہرایا تو پھر ضبط کرنا مشکل ہو گیا۔

امریکی پالیسیوں کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد میں نے اس کی توجہ میڈیلین البرائٹ کے اس وقت کے ایک مشہور بیان کی جانب مبذول کرائی۔ عراق کی جنگ پر امریکہ میں ایک شدید بحث چھڑی ہوئی تھی۔ اسی دوران ایک انٹرویو میں البرائٹ سے پوچھا گیا کہ عراق میں مرنے والے پانچ لاکھ بچوں کے بارے میں وہ کیا کہتی ہیں۔ یہ ہیروشیما میں مرنے والے بچوں سے بھی زیادہ ہیں۔ کیا ان کے نزدیک جنگ کی اس قیمت کا دفاع ممکن ہے۔ البرائٹ نے جواب دیا کہ گو یہ ایک مشکل انتخاب ہے لیکن پانچ لاکھ بچوں کی لاشوں کے بدلے جو اہداف حاصل ہوئے اس کے تناظر میں یہ قیمت بہت بڑی نہیں ہے۔ کولیٹرل ڈیمج یعنی باہمی نقصان میں ایسا ہو ہی جاتا ہے۔

”جسے آپ کولیٹرل ڈیمج کہہ کر ایک معمول کی بات سمجھتے ہیں وہ ایک خاندان کے لیے، ایک کمیونٹی کے لیے عمر بھر کا غم ہوتا ہے۔ جنگ کیسی بھی ہو، کتنی بڑی اور کتنی ہی بھیانک کیوں نہ ہو۔ اہداف کتنے ہی عظیم کیوں نہ ہوں، کوئی بھی قیمت ایک معصوم انسانی جان کے برابر نہیں ٹھہرتی۔ پھر بھی یہ ممکن ہے کہ بے گناہ جنگ کی بلی چڑھ جائیں پر اس پر ندامت کے اظہار کے بجائے اگر آپ اس کی توضیحات دینا شروع کر دیں تو پھر کوئی کیسے آپ سے محبت کرے گا۔ پاکستان کا عام شخص اپنی گلیوں میں خون بہتے دیکھ چکا ہے۔ اپنے پڑوسی افغانستان کو بار بار تباہ ہوتے اس نے دیکھا ہے۔ اب وہ عراق کے اجڑنے کا تماشہ دیکھ رہا ہے۔ وہ اتنا کم عقل نہیں کہ یہ نہ سمجھ سکے کہ دنیا کی یہ تمام جنگیں مفادات کی جنگیں ہیں۔ یہ جنگیں امن کے لیے نہیں برپا ہوئیں۔ آزادی اور حریت کے نام پر بیچے گئے نعروں سے اب اس کا خون نہیں گرماتا۔ جو آگ آج بلاد عرب میں لگی ہے یہ کچھ دن بعد ہمارے دروازے چاٹ رہی ہو گی۔ ہمارے بچوں کی معصوم جانیں بھی اسی طرح جائیں گی۔ اور آپ کے پالیسی ساز اسی طرح اس کا بھونڈا دفاع کریں گے۔ پھر آپ حیران ہوتے ہیں کہ لوگ آپ پر صدقے واری نہیں جاتے“ میرے الفاظ سخت تھے اور آواز بلند اس لیے میزبان نے انٹرویو جلد ہی لپیٹ دیا۔

اس کے بعد زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب پاکستان میں ڈرون حملوں میں مرنے والے بچوں کے لیے محترمہ کونڈولیزا رائس کے منہ سے پھر اسی منحوس ترکیب کولیٹرل ڈیمج کی تکرار سنی۔ ڈرون کا حملہ تو پھر ایک مرکزی ہدف پر ہوتا تھا پر ہمارے اپنے طیارے وزیرستان میں بمباری کرتے رہے۔ یہ حیرت انگیز بمباری رہی کہ اس کی زد میں نہ کبھی کوئی ہائی ویلیو ٹارگٹ آیا اور نہ کبھی کوئی شہری۔ مرے تو صرف بے نام دہشت گرد۔ اب برسوں بعد کہانی کھل رہی ہے کہ کتنی ہی معصوم جانیں بھی گئیں پر کوئی اس بارے میں بات نہیں کرتا۔ شاید یہ کولیٹرل ڈیمج بھی نہیں ہے۔ کچھ جانیں اتنی بے قیمت ہوتی ہیں کہ انہیں معمولی نقصان سمجھنا بھی ممکن نہیں ہے۔

اب ایک لمحہ توقف کیجیے کہانی اتنی سادہ نہیں ہے۔ استعمار اور سامراج پر سارا الزام دھرتے ہوئے ایک نظر چاک گریباں پر بھی کر لیجیے۔ حماس کے راکٹ حملے میں مرنے والے اسرائیلی بچے اور اسرائیلی جیٹ بمباری میں مرنے والی بچی میں کوئی فرق نہیں ہے پرکیا آپ یہ فرق روا نہیں رکھتے۔ کابل کے بازار میں سو لوگ طالبان حملے میں ”اڑا“ دیے جاتے ہیں احمدی عبادت گاہ پر حملے میں سو افراد ”ہلاک“ ہوتے ہیں۔ ہزارہ بچیاں ”قتل“ ہوجاتی ہیں۔ لیکن بمباری سے افغان طالبان ہمیشہ ”شہید“ ہی ہوتے ہیں۔ کشمیر کی جنگ آزادی کی جنگ کے سوا کچھ نہیں مگر بہت سی اور ایسی لڑائیاں دہشت گردی کے سوا کچھ نہیں۔ بابری مسجد گرانے والے انتہا پسند ہوتے ہیں پرلاہور کا سنہری کلس والا مندر گرانے والے غم سے نڈھال ایمان پسند ہوتے ہیں۔

سومنات ڈھانے والا محمود غزنوی ہیرو ہے۔ ٹیمپل ماؤنٹ پر مسجد اقصی بنانے والے اموی ہیرو ہیں۔ ستائیس مندروں کو گرا کر قطب مینار کھڑا کرنے والا قطب الدین ایبک ہیرو ہے۔ آیا صوفیہ کو کلیسا سے مسجد بنانے والے عثمانی ترک ہیرو ہیں پر مسجد قرطبہ میں نماز سے روکنے والے ہسپانوی حکمران ولن ہیں۔ بلجیم میں مینار بنانے کی اجازت نہ دینے والی پارلیمنٹ ولن ہے۔ قرون وسطی میں بازاروں میں لونڈیوں کو سینہ ڈھانپنے کی بھی اجازت نہ دینے والے ہیرو ہیں پر حجاب پر جزوی پابندی لگانے والے فرانسیسی ولن ہیں۔ ہم حکیم اللہ محسود اور عمران نقشبندی جیسے لوگوں کو بھی جنت میں دیکھتے ہیں پر روتھ فاو، سر گنگا رام اور عبد الستار ایدھی کو خدا کی بے پایاں رحمت کا احساس کیے بغیر جہنم کا مژدہ دیتے ہیں۔ ہم کسی آفاقی اصول کے نہیں محض اپنے اندھے تعصب کے اسیر ہیں۔ اس تعصب کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے شدید ترین احساس کمتری میں گندھا مذہبیت اور قومیت کا منجن بھی ہر موقع پر بیچنا  ہے۔ 

مجھے شک ہے کہ ہم انسانیت سے کوئی ہمدردی رکھتے ہیں۔ ہمارا دکھ کا اظہار کبھی ذاتی نہیں ہوتا۔ جب تک اس غم میں دشنام، طعن و تشنیع اور نفرت کا تڑکا نہ لگ جائے ہم اسے کسی کو پیش نہیں کرتے۔ہر المیہ واقعے پر پہلے ہم سوشل میڈیا کا ایک طواف مکمل کرتے ہیں۔ اپنے نوٹس لیتے ہیں کہ کس کس نے ابھی تک اس پر سٹیٹس نہیں لگایا۔ پھر اس خبر پر جو کہ ہمیں میڈیا ہی کی وساطت سے ملتی ہے کہ ابھی فرشتوں نے کانوں میں سرگوشیاں کرنا شروع نہیں کی ہیں، ہم میڈیا کی خاموشی اور بے حسی پر صف ماتم بچھاتے ہیں۔ بہت سے نابغے اسی میڈیا پر بیٹھ کر اسے دجالی میڈیا، کارپوریٹ طوائف اور بکاؤ کہہ کر داد سمیٹتے ہیں۔ اس کے بعد ہر اس شخص کے خلاف بھڑاس نکالی جاتی ہے جو جذباتی سوچ اور سطحی نکتہ نظر سے اختلاف رکھتا ہے۔

موم بتی مافیا، دیسی لبرل، این جی او زدہ، بکے ہوئے دانشور، ڈالر کے پجاری، سیکولر ملحد اور ایسے بہت سے القابات ایسے مواقع کے لیے الگ باندھ کر رکھے جاتے ہیں کہ حسب وحشت ان کا استعمال کیا جا سکے۔ قوم کی غیرت کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر خواب خرگوش سے بیدار کیا جاتا ہے۔ جہاد کی تاکید اور قتال کی تلقین اس جوش اور جذبے سے کی جاتی ہے کہ گمان گزرتا ہے کہ صاحب پوسٹ اور ہمنوا ابھی کپڑے پھاڑ کر برہنہ ہو جائیں گے پھر پیروں میں جاگرز پھنسائیں گے اور جناب بلال قطب کی اقتدا میں کچن کی چھری لے کر ایسے باہر نکلیں گے کہ کابل، سری نگر یا تل ابیب سے پہلے رکیں گے نہیں۔

اس کے بعد نام لے لے کر کوسنے دیے جائیں گے یا فرمائشی نوحہ خوانی کی اجتماعی اپیل کی جائے گی۔ ان میں وہ ذہین بھی ہوں گے جو پھر ملالہ کو گھسیٹ لائیں گے۔ وہ الگ بات ہے کہ انہوں نے کبھی سکول میں ہونے والی مینڈک دوڑ میں بھی حوصلہ افزائی کا انعام نہیں جیتا ہو گا پر پاکستانی ملالہ سے یہ مطالبہ ضرور کریں گے کہ احتجاج کرتے ہوئے وہ ناروے میں جیتا ہوا نوبیل انعام امریکہ کو واپس کر دے۔ ان کا عبداللہ ہر بیگاںی شادی میں آپ کو دیوانہ حال ہی ملے گا۔ ایک دن گزرے گا۔ خبر پر ذرا سی گرد پڑے گی تو یہی خراب حال واٹس ایپ گروپوں میں پھر سے فحش لطیفے بانٹتے یا کچھ فیس بک سپر سٹارز کی تقریبا پورنو گرافک پوسٹس پر داںت نکالتے ملیں گے تاوقتیکہ پھر کسی ایسی جگہ پر جسے یہ گوگل میپ میں بھی ڈھونڈنے کے لائق نہیں، ان کے کسی ہم مسلک پر کوئی آفت نہ ٹوٹے۔

پر سوال وہیں کھڑا ہے۔ کیا کسی ایک معصوم بچے کی زندگی بھی کولیٹرل ڈیمج کے نام پر لی جا سکتی ہے چہ جائے کہ سینکڑوں بچوں کی۔ جواب بھی وہیں کھڑا ہے کہ ہر گز نہیں۔ ریاست اور دہشت گرد میں یہی تو فرق ہے۔ اگر یہ بھی نہ رہے تو پھر ہر وہ ملک بھی دہشت گرد ہے جو انسانی جان کی حرمت کو سب سے مقدم نہیں جانتا۔ جہاں ان کے دوغلے پن پر بات کریں وہاں ان ظالموں کے ذکر سے بھی مجرمانہ غفلت مت برتیے جو معصوموں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ بچوں اور عورتوں کے پیچھے چھپنے والے اور ان کی جانوں کو داؤ پر لگانے والے یہ سفاک درندے بھی برابر کے مجرم ہیں۔


حاشرابن ارشاد کی دیگر تحریریں