ثقافت اور سیاحت

سیدوشریف عجائب گھر

  2023-12-27 06:14:07
  501

سوات میں سیدوشریف میوزیم کی داخلہ ٹکٹ 50 روپے ہے مگراسکے اندرجاکرفوٹوبنانے کی فیس 500 روپے ہے- ہمیں یہ حکمت، میوزیم کے اندرجاکرسمجھ آئ- کیونکہ اگرآپ نے میوزیم کی اندرونی تصاویرشیئرکردیں توپھرکوئ داخلے کے پچاس روپے بھی نہیں بھرے گا-میوزیم، تقریبا" خالی پڑا ہے-

میں اس عجائب گھرکیوں گیا تھا؟- گندھارا تہذیب ( سوات ومالاکنڈ)، ہزاروں سال قبل بدھ مت کا مرکز رہی ہے تو یہاں جابجا، بدھ سٹوپا کے آثارقدیمہ موجود ہیں- میرے حالیہ آفس کے بالکل ساتھ، سیدوشریف آثارقدیمہ موجود ہے، جسکی تصویریہاں لگائ ہوئ ہے- (افسر کالونی، عقب سیدوہسپتال)-  سیدوشریف سٹوپا، مکہ میں اسلام کی ابتداء سے تین صدیاں قبل کی تعمیر ہے- میں نے سٹوپا کی سیڑھیوں کی اٹھان(ٖflight) اور Risers, treadsماپے ، چاروں کونوں کے زاویے پرکھے، سب ستونوں کا یکساں قطرملاحظہ کیا اورحیران ہوا کہ دوہزارسال قبل کی اس تعمیر میں الجبراکے سارے فارمولوں کامکمل لحاظ کیونکررکھا گیا تھا جبکہ مسلمانوں کا دعوی ہے کہ الجبرا، الخوارزمی کی ایجاد ہے؟- 

بطورسول انجنئر، مجھے ہمیشہ یہ جستجورہی کہ ہزاروں سال پرانی شاندارعمارات کا آرکٹکچر، کیونکرترتیب دیا گیا ہوگا جبکہ اس وقت جیوٹکنیکل اورسٹرکچرل فارمولے، سروے اورپیمائش کے جدیدآلات بھی ایجادنہیں ہوئے تھے؟- بہرحال، اس قدیم سٹوپا کی مکمل عمارت کا ماڈل دیکھنے ہی سوات عجائب گھرگیا تھا(جسکی یہاں تصویرلگائ ہوئ ہے)-باقی، یہ کہ عجائب گھرمیں ہرطرف بدھا کے چھوٹے چھوٹے مجسمے رکھے ہوئے ہیں جوکھدائ میں برآمد ہوئے تھے- البتہ بڑے مجسموں کی جگہ خالی ہے- عجائب گھرکے ذمہ داران سے معلوم ہوا کہ بڑے مجسمے، لاکھوں ڈالرکے عوض چین والے "مستعار" لے گئے تھے مگرنہ تو ڈالرآئےاورنہ ہی وہ مجسمے واپس آئے-

سٹوپا کی عمارت کے تناظر میں ایک بات اورعرض کروں گا-

ہماری سول انجنئرنگ کاسکوپ بہت متنوع ہے-ہماری کمیونٹی میں، بلڈنگ کے انجنئرکو"کمتر" دیکھا جاتا ہے جبکہ میگا انفراسٹکچر(جیسا کہ ڈیم، ٹریٹمنٹ پلانٹ، موٹرویز) کے انجنئرزکو معتبرگردانا جاتا ہے- خاکسارنے سول انجنئرنگ کے ہرشعبہ میں کام کیاہوا ہے اوراس بنا پرعرض ہے کہ ہائ رایزبلڈنگ بنانا، ایک پراجیکٹ منیجرکیلئے کہ بہت سردردی ہوتی ہے کیونکہ چھوٹی چھوٹی باریک تفصیلات (الکٹریکل، ڈرینیج، ہیووک وغیرہ)، بہت زیادہ باریک بینی کی متقاضی ہوتی ہیں- جدہ میں کنگ عبداللہ میڈیکل سٹی کی فقط پانچ منزلہ لیبارٹری بناتے ہوئے، کئی جگہ اکھاڑپچھاڑکرنا پڑی تھی حالانکہ تفصیلی شاپ ڈاریئنگز وغیرہ بھی موجود ہوتی تھیں- اب میں سوچتا ہوں کہ صدیوں پرانے محلات اورقلعے وغیرہ ، جنکی کھڑکیاں، محرابیں اورگنبدایک جیسی ترتیب میں ہوا کرتے ہیں، تب توانکی کوئ ڈرائنگ پہلے سے موجود ہوتی نہیں ہوگی تو کیا یہ سارے سٹرکچر، اس زمانے کے سپروائزر کے ذہن میں موجود کنسیپٹ کی بنیاد پرہی بنتے چلے جاتے تھے؟- 

بہرحال، حاصل اس پوسٹ کا یہ ہے کہ ریاضی اورمیڈیکل وغیرہ جیسے سیکولرعلوم، کسی مذہب کی وراثت نہیں ہوا کرتے بلکہ یہ علوم و فنون، جمیع انسانیت کا مشترکہ علمی اثاثہ ہیں جسکوایک قوم نے دوسری قوم اورایک سماج نے دوسرے سماج کی طرف منتقل کیا ہوتا ہے- رہے وہ لوگ جو عرب کلچرسے مذہبی عقیدت رکھنے کی بنیاد پراحساس کمتری میں مبتلا ہیں (اور دوسروں کو بھی عربوں کا ذہنی غلام بنانا چاہتے ہیں)، انکی خدمت میں عرض ہے کہ ہزاروں سال قبل جب عرب لوگ خیموں میں رہائش رکھتے تھے توانکے ہاں کسی نے پتھرکا ایک خالی کوٹھا بھی تعمیرکیا تو مارے حیرت کے اسکو خداکا گھرکہنے لگے تھے توعین اسی زمانے میں ہمارے خطے کے لوگ "سٹوپا" جیسی حیرت انگیزتعمیرات بنانے کا ملکہ رکھتے تھے-

اپنی جڑوں کو دریافت کیجئے اوراپنی اصل پہ فخرکرتے ہوئے، موجودہ زمانے کے اہل علم وہنرکو انکا جائز مقام دیجیے- انسانی اخلاق کا یہی تقاضہ ہے-


سلیم جاوید کی دیگر تحریریں