اردو ادب اور سماجیات

گھرداماد"- بنئے/بنائیے-

  2023-12-27 06:26:05
  477

عورت،عورت کی دشمن ہوتی ہے(اوربہت ظالم دشمن ہوتی ہے)- خاص طورہمارا"ہندوانہ سماج " جہاں مشترکہ خاندانی نظام موجود ہے، یہاں اکثر گھرانے، ساس نندوں کے ہاتھوں برباد ہوئے ہیں-یوں تومسلمانان ہند، اپنی فکری وتہذیبی جڑیں، عرب کلچر سے جوڑنے میں بڑا فخرمحسوس کرتے ہیں مگراس روایت کونہ جانے کیوں فالو نہیں کرتے کہ عرب سماج میں میاں بیوی، الگ گھر میں رہا کرتے ہیں۔( اورآج کے جدید مغربی سماج میں بھی)-

2- سانپ اورنیولے کی دشمنی کی طرح، ساس بہو کی مخاصمت بھی فطری چیز ہے-اس میں پڑھے لکھے یا آسودہ وخوشحال خاندان ہونے کی کوئ تخصیص نہیں- ساس ، چاہے انڈیا کی وزیراعظم اندراگاندھی بھی ہوتواپنی بہو مانیکا گاندھی کی زندگی اجیرن کرنے کوتیارہوگی- چاہے انگلستان کی ملکہ ہو مگرجب ساس ہوتو ڈیاناجیسی بےضرربہوکو قتل بھی کیا جاسکتا ہے- کل کی بات ہے کہ پاکستان کی امیرترین فیملی کی نام نہادسیاستدان، مریم نواز نے اپنے اکلوتے بیٹے کی شادی کو چھ ماہ میں ہی تباہ کردیا ہے- پس ساس اوربہوکو ایک ساتھ رکھنا، ایک غیرفطری اریجمنٹ ہے- 

3- پاک وہندکے والدین، اپنی بیٹی کو بیٹے سے زیادہ نازوں سے پالتے ہیں- پھرلاکھوں روپے اسکی شادی وجہیزپرلگا کر، اس بیچاری کو یک وتنہا، ایسے گھر بھیج دیتے ہیں جہاں ہرطرف وہ دشمن کے محاصرے میں ہوتی ہے-منطق یہ کہتی ہے کہ جب خود ہی بیٹی پرلاکھوں روپے لگا رہے ہو توکم ازکم اسکے لئے الگ گھرکا مطالبہ توکرو-  کسی نبی یا صحابی سے ثابت نہیں کہ اس نے اپنی بیوی کواپنی ماں، بہنوں کے ساتھ ایک گھرمیں رکھاہو- لیکن اگرآپ کے داماد کی اتنی استطاعت نہیں کہ وہ الگ گھرارینج کرسکے تو داماد کو اپنے گھرمیں کیوں نہیں رکھتے؟- گھرکاسارا سامان تو ویسے بھی تم نے ہی دیا ہوا ہے- داماد اگر خوددار ہوا توآپکوگویا ایک بیٹا مل گیا-  لیکن اگر بے غیرت ہوا تو کم ازکم تمہارے سامنے تو تیری بیٹی پرہاتھ نہیں اٹھائے گا-

4- پوچھا جائے کہ گھرداماد کیوں نہیں بنانا؟ جواب آتا ہے کہ یہ "غیرت" کے خلاف ہے- حالانکہ قرآن میں لکھا ہے کہ ایک نبی (حضرت موسی)، ایک اورنبی کا گھرداماد بنا تھا(حضرت شعیب کا)- بندہ پوچھے کہ بھائ، ساری دنیا کے سامنے جب اپنی بیٹی ، ایک غیرمرد کے ساتھ نکاح کرکے خود روانہ کردی تواب کون سی غیرت یا بے غیرتی باقی رہ گئی؟-" اجی، ہمارے گھر میں رہ کرہمارے جوان بیٹوں کے سامنے ہماری بیٹی کے ساتھ عین غین کرے گا"- یہ کیسی لعنتی سوچ ہے- میاں بیوی کا ملنا، حق حلال کام سہی مگرکون کسی کے سامنے کچھ کرتا ہے بھائ ؟- اچھا، ایسی باتیں کرنے والوں کے ہاں اگر داماد جی کبھی ایک رات سسرال رہنے آئیں تو ساس جی خود ہی بیٹے سے کہہ رہی ہوتی ہے کہ اوپروالا کمرہ ذرا باجی اوربھائ کیلئے سیٹ کردوتاکہ کوئ انکو ڈسٹرب نہ کرے-

5- بعض لوگوں کے ہاں بیٹیاں ہی ہوتی ہیں، انکا بیٹا کوئ نہیں ہوتا- میں نوجوانوں سے کہتا ہوں کہ اگرآپ کے سسرکاکوئ بیٹا نہیں تو اپنی خودداری برقراررکھتے ہوئے، آپ انکا بیٹا بن کردکھاؤ- اس میں کوئ بے غیرتی نہیں- آگرآپ "مرد" ہوتو آپ نے ہی اپنی بیوی کو پالنا ہے، چاہے آپ کہیں پربھی رہو- بےغیرتی تویہ ہے کہ اپنی شادی کی پہلی رات بھی بیوی کے دیئے ہوئے بسترپرگذاری جائے اوراپنے مہمانوں کی خاطرتواضع کیلئے برتن مانجھے بھی بیوی کے عطا کئے ہوئے استعمال کئے جائیں-

6- لڑکی کے باپ کی خدمت میں عرض ہے کہ اگربیٹی کولاکھوں کو جہیزدے رہے تو بیٹی کی شادی پراسکےلئے الگ گھر کا مطالبہ کرو- اگرخدا نے وسعت دے رکھی ہو تو داماد کو اپنے گھرکا ایک پورشن دے دو- وہ خوددار ہوا تو آپ کواسکا کرایہ بھی دے گا ورنہ آپ نے بیٹی کو وراثت میں بھی تو حصہ دینا ہی ہے نا-  لڑکے کی ماں کےسرپریہ بھوت سواررہتا ہے کہ بہومیرا بیٹاچھین کرنہ لے جائے- ایسی ماؤں سےعرض کرتا ہوں کہ اگرخدانے آپ کو زیادہ بیٹے عطا کئے ہیں توایک آدھ بیٹا، کسی اورکودے ہی دیں- بیٹا، سعادت مند ہوا تو سسرال میں رہ کربھی آپکا خدمت گذارثابت ہوگا(بلکہ بہو بھی آپکی اطاعت شعار بنے گی)- اوراگربیٹا " بائ ڈیفالٹ بے غیرت" ہو تو والدین کےگھرمیں رہ کربھی سگی ماں کو دھکےدینے والے دیکھے ہوئے ہیں-

7- آخری گذارش یہ ہے کہ کوئ صاحب دل، خدا ترس اورامانتداردوست، ہمت فرماکر، مذکورہ بالا نکات کے تناظرمیں ایک سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنالیں- یعنی ایک ایسا رشتہ گروپ بنا لیں جس میں ایسے خوددار نوجوانوں کوڈیٹاجمع کریں جو کسی بیٹیوں والے گھر کا سہارا بننے کو تیارہوں- اسی طرح، ایسے والدین کا ڈیٹابھی جمع کرلیا جائے جواپنی بیٹی داماد کو گھرمیں جگہ دینے پرآمادہ ہوں- پھراس ڈیٹا کے مطابق، جوحضرات " کفو" کے آفاقی اصول پرپورا اترتے ہوں، انکا باہمی رابطہ کرالیا جائے تو یہ ایک بڑی خدمت ہوگی- 

یہ خاکسار، اپنی مصروفیات سے زیادہ اپنی نااہلی کے علی الرغم، اس بڑے کام کیلئے خود کو پیش نہیں کرسکتا- تاہم، کسی دوست کو خداتوفیق اورہمت عطا کرے تورہبری ومشاورت کیلئے خاکسار کو ہردم اپنے ساتھ پائے گا- والسلام


سلیم جاوید کی دیگر تحریریں