اسلامک سیکولرزم کیا ہے؟

حسبنا کتاب اللہ

  2024-02-11 04:02:01
  625

پس منظر:

 

محترم قارئین-

بعد دعائے صحت وسلامتی-

مسلم سیکولرزکا یہ ماٹوہے کہ قرآن ایک کامل کتاب ہے جس میں پورا دین اسلام بیان ہوا ہے-ہمارابنیادی مقدمہ یہ ہے کہ ہم صرف"قرآن" کو ہی دین اسلام کا ریفرنس سمجھتے ہیں جبکہ اسکے ساتھ "غیرقرآن" کو دین کا حوالہ نہیں مانتے - 

 

ہمارے اس مضمون کے مخاطب تین فریق ہیں-

 

ایک فریق تو "اہل حدیث" ہیں( ہماری مراد "مسلک اہلحدیث" نہیں بلکہ اس میں وہ سارے گروہ شامل ہیں جو قرآن کے علاوہ "غیرقرآن" کو بھی اسلام کا ماخذ مانتے ہیں- یعنی شیعہ، سنی، چاروں مذاہب کے مقلد اورانکے ذیلی مسالک، بشمول غامدی صاحب وغیرہ)-آئندہ ہم ان کو ایک ہی نام یعنی " مولوی صاحبان " کہہ کرمخاطب کریں گے-

 

دوسرا فریق "اہل قرآن " ہیں جو صرف قرآن کودین اسلام کا حوالہ مانتے ہیں- یہاں ہم خود کو "مسلم سیکولر" کے نام سے ڈیفائن کریں گے کیونکہ "اہل قرآن" میں بھی بہت سارے "مسالک" ہیں جیسا کہ مصر کے "قرآنیئن" اورپاکستان کے پرویزی احباب وغیرہ-(چونکہ ان حضرات سے ہم کلی طورپرمتفق نہیں ہیں تواپنی شناخت جداکرلی ہے)-

 

تیسرا اوراہم ترین فریق، وہ عام مسلمان ہیں جو ہمارے اس "مناظرے" کے خاموش شاہد ہیں اوردلائل کی بنیاد پرکسی ایک طرف ہونے کی امید لگائے بیٹھے ہیں-

 

اس تیسرے فریق یعنی عام قارئین کی خدمت میں اہم گذارش کرنا ہے-

 

دیکھئے، مولوی صاحبان ہم سے الجھتے ہیں تو انکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ "اکابرکے مقابل کھڑی ہونے والی ہرآواز، دین کیلئے ایک فتنہ ہے اوراس فتنہ کوجڑہی میں پکڑلینا چاہیئے تاکہ "اصل اسلام" محفوظ رہ سکے"-

 

اسی طرح، ہم جب مولوی صاحبان سے الجھتے ہیں توہمارا ہدف یہ ہوتا ہے کہ " قرآن کے علاوہ جتنے ماخذ دین اسلام کیلئے وضع کئے گئے ہیں، انکی وجہ سے دین کا حلیہ بگڑ گیا ہے پس قرآن ہی طرف پلٹیں گے تو"اصل اسلام " محفوظ رہ سکے گا"-

 

خدا کرے کہ مذکورہ بالا دونوں فریقین میں اخلاص موجود ہو تودونوں میں سے جو بھی جیتے یا ہارے مگراصل جیت "اسلام" ہی کی ہوگی- (کوئ اس بدگمانی میں نہ رہے کہ خدانخواستہ، کوئ بھی ہما شما اٹھ کر، اسلام کوختم کرنے میں کامیاب ہوجائے گا)-

 

ہماری آئندہ بحث میں، میری خواہش ہوگی کہ مولوی صاحبان ، خاکسارکے دلائل سے متفق ہوکر، اپنی روایات چھوڑ دیں- مولوی صاحبان بھی یہ چاہیں گے کہ میں انکے حوالہ جات سے متفق ہوکر"راہ راست" پرآجاؤں- 

 

مگرایسا ممکن نہیں ہوگا-

اس لئے کہ مناظرے اوردلائل سے مذاہب اورنظریئے نہیں منوائے جاسکتے-(اگردلائل اورمناظروں سے کسی کومطمئن کیا جاسکتا توآج دنیامیں ہندوازم کا کوئ پیروکارموجودنہ ہوتا)-

 

پس، آپ ہماری سن لیں- ہم آپ کی سن لیں گے- باقی ٹنشن نہ لیں- پوری انسانیت کاایک مزاج پرپہ اکٹھا ہوجانا، خدائ سکیم میں شامل ہی نہیں- 

 

معذرت خواہ ہوں کہ تمہید ذراطویل ہوگئی مگرایسےسنجیدہ موضوع پر گفتگو سے قبل طرفین کی باہمی مزاج آشنائ مناسب معلوم ہوتی ہے-

 

دیکھئے، جب کبھی بھی "صرف قرآنی" راہنمائ بارے بات چلے گی تودوسوالات ایسے ہیں جن سے واسطہ ضرور پڑے گا اورجب تک ان دوسوالات کا جواب ہم نہیں دے لیتے، تب تک صرف نمازبارے قرآنی تفصیل بتانے کا کوئ فائدہ نہیں ہوگا-

 

پہلا سوال : اگر حدیث رفرنس نہیں ہے تو قرآن پھرکیسے "مستند" رفرنس قرارپاسکتا ہے جبکہ قرآن بھی تو انہی انسانوں کے واسطے سے ہم تک پہنچا جنکے واسطے سے حدیث پہنچی ہے؟-

 

دوسرا سوال: قرآن کو ہی فالو کیا جائے تو خود قرآن میں " اطاعت رسول یعنی حدیث" اور" اتباع رسول یعنی سنت " کا حکم دیا گیا تو حدیث کورفرنس نہ ماننا، کیا خود قرآن کا انکار نہیں ہے؟-

 

لیجئے، رب کا نام لےکربات کا آغازکرتے ہیں-

 

خدا کا وجود:

 

مسلم سیکولرزکا عقیدہ ہے کہ خدائے واحد، اس کائنات کا خالق ومالک ہے- ہمارے اس "تصورخدا" کی دلیل کیا ہے؟ اس کاجواب دینے سے قبل کچھ مختصرگذارشات- 

 

دیکھئے، اس کرہ ارض پرآج(2024) تقریبا" 8ارب انسان بستے ہیں -اس آبادی میں سے، خداکے وجودکونہ ماننے والے (یا اس بارے متشکک)  لوگوں کی معلوم تعداد16 فیصد سہی مگریہ بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں-

 

باقی آبادی کے 84فیصد "ڈکلئرڈ"مذہبی لوگوں میں سے بھی اندازا" دوتہائ لوگ صرف "کاغذی" مذہبی ہیں-آج کا انسان، فکرمعاش میں سرگردان اوراپنی سرووائیل کیلئے اتنا پریشان ہے کہ اسے خدا یا کسی مذہب بارے سوچنے کایاراہی نہیں ہے،چاہے ڈاکومنٹ میں اسکی شناخت مذہبی ہو-

 

چنانچہ انسانی آبادی میں اب ایک بہت چھوٹی سے اقلیت بچتی ہے جنہیں اس معنی میں"مذہبی کارکن" کہا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ اپنے مذاہب کوبرترثابت کرنے کیلئے وقت نکالتے ہیں-

 

ان تمام مذہبی لوگوں کا اگرچہ مشترکہ مقدمہ یہ ہے(یا ہونا چاہیئے) کہ وہ کسی خالق وخداکے وجود کو ثابت کرکے دکھائیں، تاہم ان لوگوں کا اکثروقت ایک دوسرے کے مذہب کوغلط ثابت کرنے میں صرف ہوجاتا ہے(اور"وجود خدا" کی بات کہیں دوررہ جاتی ہے)-

 

گوگل کے مطابق اس وقت دنیا میں 4200 مذاہب موجود ہیں حالانکہ یہ تعدادلاکھوں میں بنتی ہے- گوگل بیچاری کوکیا پتہ کہ جس "اسلام" کو وہ ایک ہی مذہب قراردیتی ہے، اسکے اندرسینکڑوں "ذیلی مذاہب " بھی موجود ہیں جواپنے سوادیگرمسلمانوں کو" خارج ازاسلام" قراردیا کرتے ہیں-

 

بہرحال، کسی بھی مذہب، مسلک یافرقے کی حقانیت کی دلیل یہ نہیں ہوسکتی کہ اسکے پیروکاروں کی تعداددوسروں سےزیادہ ہے یا اسکا مذہب ومسلک زیادہ قدیم ہے- دستیاب ڈیٹا کے مطابق، دنیا کی آبادی میں عیسائ 35 فیصد، مسلمان 25 فیصد اورہندو 16 فیصد ہیں- (کثرت میں عیسائ آگےہیں توقدامت میں ہندومگر"علمی مباحث " میں یہ کرایٹیریا کوئ دلیل نہیں ہوتا)

 

مذہبی دنیا میں ایک خدا کو پوجنے والے، دوخداؤں کے ماننے والے اورسینکڑوں خداؤں کو تسلیم کرنے والے بھی موجود ہیں مگراہل علم جانتے ہیں کہ دراصل صرف دوہی مذہبی دھڑے ہیں-

 

ایک دھڑا وہ ہے جو"توحیدی مذاہب " ہیں- اس میں ابراہیمی مذاہب ،ہندوازم اوربدھ مت بھی آتا ہے(ہندومذہب میں اگرچہ سینکڑوں "پتھرکے اوتاروں" کی پوجا کی جاتی ہے مگرانکے ہاں "ایشور" ایک ہی ہے)-

 

مذہبی دنیا کے دوسرے دھڑے کی شناخت وہ قلیل مذہبی گروہ ہےجو"دوخداؤں" کا تصورمانتا ہے-یعنی انکے خیال میں  نیکی کا خدا الگ ہے اوربرائ کاخدا الگ ہے-(دیکھا جائے توآج کے حالات کے تناظرمیں اسی گروہ کی بات ہی زیادہ منطقی معلوم ہوتی ہے)-

 

قارئین شایدحیران ہونگے کہ ہندوازم بھلا کیونکرتوحیدی مذاہب میں شامل ہے جبکہ وہ سینکڑوں بتوں کوپوجتےہیں-یہ بات درست ہے کہ ہندولوگوں نے مختلف کاموں کیلئے مختلف بت مخصوص کررکھے ہیں مگریہ ایسے ہی ہے جیسے مسلمانوں نے ،اولاد اورصحت وغیرہ کیلئے مختلف علاقوں میں مختلف مزارات (دربارشریف) مختص کررکھے ہیں- اصل عقیدہ دونوں کا توحیدی ہی ہے-

 

ہندوفلسفہ یہ ہے کہ بظاہرجس پتھرکےبت کے سامنے ماتھا ٹیکا جاتا ہے، اس سمے اس پتھرمیں "ایشور" آکرموجود ہوجاتا ہے-یہ بعینہ وہی فسلفہ ہے جو مسلمان لوگ، ہرسال حج کے موقع پرپتھرکو"سنگسار"کرتے کہتے ہیں کہ اس پتھرکو"رمی " کرتے ہوئے، شیطان اس میں بند ہوجاتا ہے- (مسلمانوں کا حج بھی کل "چارپتھروں" کی کہانی ہے-ایک کوچومنا ہے اورباقی تین کو مارنا ہے)- 

 

جملہ معترضہ کے طورپرعرض ہے کہ ہم مسلم سیکولرز"حج" کواسلام کا ایک رکن مانتے ہیں (کیونکہ قرآن نے" صاحب استطاعت" لوگوں بارے یہ حکم دیا ہے) مگرہم "پتھربازی" کو حج کا جزونہیں مانتے- 

 

خدانے قرآن میں حج کے ارکان کی تفصیل بتادی ہے-جوخداعرفات ومزدلفہ کے قیام کی بات قرآن میں لکھ سکتا تھا تووہ "منی" میں جاکر، تین پتھروں پرسنگساری کی ہدایت بھی لکھ سکتا تھا(مگرقرآن میں یہ بات نہیں لکھی)- "حجراسود" کے بالکل ساتھ ایک اورپتھربھی موجود ہے جس کو"مقام ابراہیم" کہتے ہیں- جوخدااس پتھر(یعنی مقام ابراہیم ) پرنماز پڑھنے کاحکم قرآن میں لکھ سکتاہے تووہ "حجراسود" نامی پتھر کوچومنے کا حکم بھی قرآن میں لکھ سکتا تھا( مگرپورے قرآن میں حجراسود کا تذکرہ ہی نہیں)- جس خدانے حاجی کے گنجا ہونے یا بال چھوٹے کرنے تک کی ادا قرآن میں درج کی ہے، اس خدانے پورے قرآن میں "آب زم زم" نامی چیز کا تذکرہ ہی نہیں کیا- (اگر کوئ مسلمان "زم زم" میں کینسرکی شفاکا عقیدہ رکھے توہمیں کوئ اعتراض نہیں مگرہمارے لئے یہ ایک غیرمتعلقہ چیز ہے کیونکہ قرآن میں اسکا تذکرہ نہیں ہے)- خیر، کبھی توفیق ملی تو قرآنی حج وعمرہ پربھی تفصیلی مضمون پیش کریں گے-

 

تھوڑی سی گفتگو، "رد الحاد" بارے بھی کرلیتے ہیں-

 

آج کا انسان، غم امروزمیں یوں غرق ہے کہ اسے خدا، مقدر، حشر، اورملائک وابلیس کے نظام پربحث کی نہ فرصت ہے نہ ذوق- آج کے انسان کی اصل ضرورت، ایک مبنی برامن معاشرہ ہے جہاں ٹیلنٹ دکھانے کے یکساں مواقع میسرہوں- 

 

ایسی نفسانفسی کی فضامیں اگرچند لوگ ،اپنی توانائ اوروقت، خداکے وجودکو ثابت کرنے پرصرف کرتے ہیں توہم انکے لئے دعا گوہیں مگرہمیں اس میدان سے کوئ دل چسپی نہیں ہے-

 

اسکی ایک وجہ تویہ ہے کہ "ملحدین" (جسکا معنی غلط فہمی میں "منکرین خدا"کیا جاتاہے)، انسانی سماج کیلئے مضرنہیں ہیں بلکہ "مشرکین" زیادہ مضرہیں- اس لئے قرآن کا ٹارگٹ، "شرک" رہا ہے نہ کہ "الحاد"- (یہ ایک گہری بحث ہے جو ایک الگ مضمون کی متقاضی ہے)-

 

دوسری وجہ یہ کہ خداکا وجود، عقل ومنطق سے نہیں منوایاجاسکتا- خدا کو ماننا ہے توبلادلیل (یعنی بالغیب) خداکے وجود کومانا جائے- یہ گمان، ایقان اوروجدان کا معاملہ ہے- یہ"دل" کا میدان ہے نہ کہ عقلیات کا-

 

اس سے قطع نظر کہ تبلیغی جماعت کا منہج درست ہے یا نہیں؟ مگریہ بات ہرشخص تسلیم کرے گا کہ مسلمانان عالم کے خواندہ وناخواندہ طبقات میں یہ جماعت یکساں مقبول ہے- اس مقبولیت میں علی گڑھ کالج کے طلباء کا بنیادی حصہ ہے- تبلیغی جماعت پاکستان کے امیر، حاجی عبدالوہاب مرحوم سے خاکسارکی بڑی نیازمندی تھی- ایک بار انہوں نے فرمایا کہ جب پہلی بار علی گڑھ کالج سے بیان کا تقاضہ موصول ہوا تو حضرت جی مولانا یوسف (امیرثانی) نے نظام الدین (دہلی) میں مشورہ کیا کہ علی گڑھ کےطلباء  میں بیان کون کرے؟- احباب شوری میں سے کسی نے ڈاکٹرذاکرحسین(جوبعدمیں صدرہندبنے)، کسی نے پروفیسرمنظور اور کسی نے اورکوئ نام پیش کیا- میری باری آئ تومیں نے میاں جی محراب صاحب کا نام دیا(جو ایک ان پڑھ میواتی تھے)- اس پرحضرت جی نے فرمایا کہ عبدالوہاب، تمہارے مشورہ کی دلیل کیا ہے؟ -میں نے عرض کیا" حضرت، جیسے دیگرنے مشورہ دیا، میں نے بھی دیا-آپ چاہے قبول کریں یاردکردیں"- لیکن حضرت مصر ہوئے کہ اپنے مشورہ کی دلیل پیش کرو- میں نے عرض کیا کہ جتنے حضرات کا نام لیا جارہا ہے، وہ سب پڑھے لکھے لوگ ہیں اوریہ علی گڑھ کے طلباء کو عقل کی بنیاد پربات سمجھائیں گے جبکہ میاں جی محراب، ان پڑھ بزرگ ہیں جو دل کی بنیاد پر بات کریں گے- عقل، عقل کا مقابلہ کیا کرتا ہے جبکہ دل، دل کو انکارنہیں کیا کرتا- پس اسی پرفیصلہ ہوا اورپھرعلی گڑھ سے پہلی نقد جماعت تیار ہوئ-

 

پچھلے دنوں "یو-ٹیوب" پرایک مناظرہ دیکھا جس میں ایک مسلمان دانشور، کسی ملحد کے ساتھ "خداکے وجود" پربحث کرتے ہوئے "ایوالوشن" وغیرہ جیسے سائنسی دلائل کا سہارالے رہا تھا- 

 

مجھے دونوں صاحبان پرحیرانی ہوئ-

 

ملحد،اگر واقعی سچا ملحد ہے توچند روزہ زندگی کو "خداومذہب" کے مناظروں میں کیوں ضائع کرے؟- اسکی وجہ سے کوئ بندہ ملحدبن بھی جائے توتواسے کیا اجروثواب؟(الا یہ کہ اس کام کی پیمنٹ کہیں سے ہوتی ہو)-

 

دوسری طرف، مسلمان دانشور کوخداکے ثبوت کیلئے سائنسی دلائل کیوں درکارہیں؟- اس لئے کہ جب اسکا دعوی ہے کہ قرآن، خدا کا کلام ہے توقرآن میں خدا نے خود اپنے وجود کیلئے جو دلائل دے رکھے ہیں توکیا وہ ناکافی ہیں؟ کیا تمہارا آئ-کیو، تمہارے خدا سے بھی زیادہ ہے کہ تم فزکس کیمسٹری کی مدد سے خداکیلئے دلائل مہیا کرو اوروہ دلائل نہ دوخودخدانے بیان کئے؟-

 

اہل علم جانتے ہیں کہ خداکے وجود پرقرآنی دلائل  پیش کئے جائیں توان دلائل کا بھی "کاونٹر- آرگیومنٹ" موجود ہے- زیادہ بات نہیں کروں گا مگراتنا اشارہ دے دیتا ہوں کہ خدا کے بتائے ہوئے دلائل کو خدا کے آخری رسول نے خود اپنی بلیغ زبان سے، اپنےزمانے کے ان مخالفین کوسنایا جن مخالفین کاعلم وعقل آج کے زمانے کے انسان سے کہیں کمترتھا، توپھربھی ایسے دلائل سے مخالفین متفق نہیں ہوسکے تھے-

 

ڈاکٹراسراراحمد مرحوم سے بھی خاکسارکا تعلق رہا ہے-انکا یہ موقف تھا کہ ہرسماج میں ایک "ذہین اقلیت" ایسی ہوتی ہے جو"جذبات" سے"بلیک میل"نہیں ہوتی بلکہ منطق سے قائل ہوا کرتی ہے-یہی ذہین اقلیت ، سماج کی مقتداء ہوتی ہے پس اس طبقہ کو قائل کرنا ضروری ہے- غالبا" 1988 میں ڈاکٹرصاحب " سپین جمات"(پشاور) تشریف لائے توخاکسارنے عرض کیا کہ فی زمانہ، پاکستان میں دوہی ذہین شخصیات موجود ہیں- ایک آپ اور دوسرے ڈاکٹرطاہرالقادری صاحب- دونوں لاہور میں ہیں اور"قرآن کالج" سے " منہاج کالج" کا فاصلہ بھی صرف چھ کلومیٹر ہے- اگر عقل ومنطق سے ہی ذہین لوگ قائل ہوتے ہیں تو آپ دونوں ایک دوسرے کو قائل کیوں نہیں کرلیتے؟- 

 

المختصر، مسلم سیکولرزکا عقیدہ ہے کہ انسانی عقل کی حد سے ماوراء، ایک ایسی ہستی ہے جونظام کائنات کی اصل مالک ہے- ہم اعتراف کرتے ہیں کہ خداکے وجود کو ثابت کرنے کیلئے ہمارے پاس حتمی منطقی دلائل موجود نہیں ہے- ساتھ ہی یہ دعوی کرتے ہیں کہ ملحدین، متشککین، مشرکین وغیرہ کے پاس بھی اپنے موقف کیلئے کوئ حتمی دلیل موجود نہیں ہے-اس لئے خاکسارکوجب بھی "ردالحاد"بارے کسی مناظرے کی دعوت دی گئی تومندرجہ ذیل مشہورشعرکی آڑلیکر جان چھڑالی-

 

آجاؤگے جب بھی کبھی حالات کی زدمیں

ہوجائے گامعلوم، خداہے کہ نہیں ہے؟-

 

قارئین کرام، زیرنظرمضمون،ان شاء اللہ منطق ودلیل کے ساتھ آگے چلے گا- تاہم ، کل تین باتیں ایسی ہیں جو ہم آپ سے "بالغیب" یعنی بلادلیل تسلیم کرنے کی گذارش کریں گے(آپ اگرنہ بھی تسلیم کریں توہمیں کوئ اعتراض نہیں)-یہ تینوں باتیں، فرد کے عقیدہ سے ہی متعلق ہیں-  

 

اس میں سے پہلی بات ہے "خدائے واحد "کی ہستی کوتسلیم کرنا-(آگہی میں اک خلا موجود ہے-

اسکا مطلب ہے، خدا موجود ہے)- 

 

باقی دوباتیں آگے عرض کریں گے ان شاء اللہ- 

 

نوٹ: کچھ برس قبل ایک مضمون لکھا تھا جسکا عنوان ہے " صرف اسلام حق نہیں ہے بلکہ حق، صرف اسلام ہے"- ہماری اسی ویب سائٹ پر"اسلام اورسیکولرزم" کی ونڈومیں دیکھ لیا جائے-

 

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں
اگلا صفحہ

سلیم جاوید کی دیگر تحریریں