اپنی تحریر بھیجیں

بعد دعائے سلامتی وصحت!

ہم "پاک سیکولرز" سائیٹ پر پوسٹ کرنے والے محترم احباب کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں- پوسٹ کرنے والے دوستوں سے گذارش ہے کہ اپنی اردو تحریرکی فائل (یونی کوڈ فونٹ) کو مندرجہ ذیل ایک میل پراٹیچ کرکے ارسال کریں-(ای میل کے سبجیکٹ میں اپنے مضمون کا عنوان درج کیجئے)-
kulachidik@hotmail.com
اسکے ساتھ اپنی تصویربھی لازمی بھیجیں-(اگرآپ پہلے اسی ای- میل سے مضمون بھیج چکے ہیں تو آپکو دوبارہ تصویر اٹیچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے)- اگرچہ سائیٹ کے منتظمین، نہ تو یہاں کی جانے والی پوسٹوں کے متن کی سچائ کے ذمہ دار ہیں اورنہ ہی صاحب پوسٹ کے خیالات کی تائید کے پابندہیں تاہم، پوسٹ کرنے والے احباب سے امید کرتے ہیں کہ وہ مندرجہ ذیل ضابطہ اخلاق کی پابندی کریں گے- ہم امید کرتے ہیں کہ آپ تحریر بھیجنے سے قبل ہمارا مندرجہ ذیل "ضابطہ اخلاق " نوٹ فرما چکے ہونگے اور اس سے متفق ہونگے-

ضابطہ اخلاق:

مذہبی ودینی موضوعات پر پوسٹ کرنے والے احباب کیلئے بہتر یہ ہوگا صرف اپنا دینی موقف ہی بیان کریں-تاہم ،اگر بوجوہ، کسی دوسری رائے کا رد کرنا ہو تواس بارے اظہار خیال کرتے ہوئے، تہذیب وسلیقے کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے- کسی مذہبی، مسلکی، قومی ، لسانی یا گروہی اشتعال انگیز پوسٹ سے گریز کرنا چاہیے-

بالخصوص تاریخی مضامین بارے، غایت دیانت اورتہذیب کا خیال رکھاجائے- سیاسات حاضرہ کے ضمن میں مضامین اور تبصرہ جات بھیجنے والے اہل قلم سے ہم یہ امید کرتے ہیں کہ ممکنہ حدتک وہ ایسے موضوع کا انتخاب کریں گے جو حقیقت سے قریب تر ہو-بہتر ہے کہ حالاتِ حاضرہ، سماجی مسائل، سیاسی واقعے و پیش رفت، اور ملکی و غیر ملکی حالات پرسنجیدگی سے لکھا جائے-قلم کار حضرات سے خوش گمانی ہے کہ وہ اپنی تحریرات میں صرف مسائل کا تذکرہ نہیں فرمائیں گے بلکہ ان مسائل کا حل بھی ساتھ ہی پیش فرمائیں گے- ( مسائل کی فہرست بنانا اوراس بارے واویلا کرنا آسان ہوتا ہے مگرمسائل کا عملی و فکری حل پیش کرنا ہی اصل دانش کہلاتی ہے)-سیاسیات حاضرہ پہ لکھتے ہوئے پیمرا قوانین کا اجترام کیاجائے-ملکی دفاعی ادارے، عدلیہ وغیرہ بارے ایسی ذمہ دارانہ گفتگوکی جائے جس سے قوم اور ملک میں انتشارکی بجائے یکجہتی کو فروغ ملے-

آزادی اظہار کا حق سب کو حاصل ہے- اسے نہ تو اتنا تنگ ہونا چاہیے کہ انفرادی حقوق کے تحفظ کے وعدے پر حرف آئے اور نہ ہی اتنا پھیلایا جائے کہ یہ آزادی اظہار کے ساتھ غیر ضروری خلل پیدا کرے یا شائع شدہ مواد کو عوامی مفاد سے دور رکھے۔ قلم کار پر لازمی ہے کہ وہ ہر شخص ( خواہ مرد ہو یا عورت) کے نجی اور خاندانی معاملات، گھریلو، صحت اور ڈجیٹل روابط سمیت دیگر رابطوں کا احترام کرے-(پرائیوٹ مقامات پر کسی شخص کی اجازت کے بنا اس کی تصویر لینا بھی کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں)۔کسی مرد و زن کو اس کے مذہب، رنگ و نسل، ذات، کسی ذہنی اور جسمانی مرض کی بنا پر تعصب اور تفریق کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔ جب تک رپورٹنگ میں اس کی حقیقی ضرورت نہ ہو اس وقت تک کسی فرد کے مذہب، رنگ و نسل، جنس، ذات اور کسی ذہنی اور جسمانی مرض کو ظاہر کرنے سے گریز کیا جائے۔

یہ بہت ضروری ہے کہ مذکورہ بالا ضابطہ اخلاق کے نہ صرف الفاظ بلکہ اس کی مکمل روح کا بھی احترام کیا جائے-
ہماری ترجیح یہ ہے" پاک سیکولرز" پرسوشل میڈیا کے معروف لکھاریوں کو جمع کیا جائے تاکہ قارئین کواچھا مواد پڑھنے کو ملے- تاہم نئے لکھاریوں کو بھی خوش آمدید کہاجاتا ہے-

دیکھئے، جو شخص سوچ سکتا ہے، وہ لکھ بھی سکتا ہے۔ بس مشکل یہ درپیش ہوتی ہے کہ اپنے خیالات کو الفاظ میں ڈھال کر مضمون کی شکل میں کیسے رقم کرے؟۔تحریر اور خیالات میں بہتری لانے کا طریقہ یہ ہے کہ ذاتی تجربہ اور مشاہدہ کے علاوہ "زیادہ سے زیادہ مطالعہ" کی عادت بھی ڈالی جائے کیونکہ اگر آپ کا ذخیرہ الفاظ وسیع ہوگا تو آپ اپنے خیالات، جذبات اور محسوسات کو بہ آسانی ضبط تحریر میں لے کر دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں-

کوشش کیجیے کہ مثبت تحریر لکھیے جو معاشرے میں سدھار لائے اور انسانیت و ملک کے بہترین مفاد میں ہو۔ ہم آپ سے اس بات کی اجازت چاہتے ہیں کہ آپکے بھیجے ہوئے مضمون کے عنوان کوبدل سکیں یا چند ایسے الفاظ یا جملےایڈیٹ کرسکیں جس سے آپ کے مضمون کے مجموعی پیغام پرکوئ اثر نہ ہو-
خیر اندیش

"پاک سیکولرز" اداراتی ٹیم